تحریر : رسول بخش رئیس تاریخ اشاعت     13-04-2020

آفات میں سیاست نہیں‘ عقلمندی

عام لوگوں کو شاید یہ اندازہ یا ادراک نہیں کہ کورونا آفت کی وجہ سے دنیا میں کس قدر تباہی آ چکی ہے اور کتنا اس کے مزید برباد ہونے کا خدشہ ہے۔ عام آدمی کو نہ سہی‘ کم از کم پڑھے لکھے‘ جہاں دیدہ اور تجربہ کار سیاست دانوں کو تو ضرور اس کا اندازہ ہونا چاہیے کیونکہ اندازے اور ادراک کے بغیر کوئی فیصلہ کرنا مشکل بلکہ ناممکن ہوتا ہے۔ آج کی دنیا میں کچھ بھی پوشیدہ نہیں‘ اور نہ ہی رہ سکتا ہے۔ دیکھ لیں‘ امریکہ یعنی دنیا کی بہت بڑی طاقت بلکہ سب سے بڑی طاقت آناً فاناً کورونا وبا کا شکار ہو گئی اور آج ایک طرح سے بے بس نظر آتی ہے۔ تمام صنعتی ممالک کا اقتصادی پہیہ ایک بڑے جھٹکے کے ساتھ رک گیا۔ لوگ گھروں میں محبوس ہو گئے ہیں۔ باہر نکلنے یہاں تک کہ قریب کے پارک میں ٹہلنے تک کی اجازت نہیں۔ کچھ ممالک میں تو بلا جواز باہر قدم دھرنے پہ بھی چھ سو ڈالرز تک کا جرمانہ عائد کیا جا رہا ہے۔ طبی ماہرین اور اس شعبے سے وابستہ سائنس دان اور دوسرے لوگ اس بات پہ زور دے رہے ہیں کہ موجودہ حالات میں گھر کی چار دیواری میں رہنے میں ہی عافیت ہے۔ فی الوقت نہ کوئی مستند دوا اس مرض کے علاج‘ اور نہ ہی کسی قسم کی کوئی ویکسین اس مرض سے تحفظ کے حوالے سے دستیاب ہے۔
پہل کاری کے حوالے سے میں نے اپنے ایک گزشتہ کالم میں حکومتِ پاکستان کی جانب سے کئے گئے اقدامات کو سراہا تھا۔ انہی اقدامات کی وجہ سے ابھی تک کورونا کا پھیلائو زیادہ تیزی سے نہیں ہوا‘ اور ہمارے یہاں حالات خاصے بہتر ہیں‘ مگر اس کے باوجود ہمیں کسی مغالطے میں نہیں رہنا چاہیے‘ کہ ہم اس وبا پر قابو پا چکے ہیں اور ہمیں کچھ نہیں ہو گا۔ خدانخواستہ ہمارے ہاں اٹلی‘ فرانس اور امریکہ یا چین جیسی صورتحال پیدا ہو گئی تو نہ ہمارے پاس وسائل ہیں‘ اور نہ ہی باہر کی دنیا ہماری مؤثر طریقے سے مدد کر سکے گی۔ وبا سے تحفظ کے حوالے سے عام ماسک سے لے کر وینٹی لیٹرز تک کے حصول کیلئے ہر ملک میں‘ دنیا کی ہر مارکیٹ میں لوگ زرِ خرید لے کر گھوم رہے ہیں‘ مگر طلب رسد کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہے‘ اس لیے انہیں مطلوبہ اشیا نہیں مل رہی ہیں۔ اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ انسانی زندگی کو نا گہانی موت کے اس کی طرف بڑھتے ہوئے پنجوں سے کیسے آزاد رکھا جائے۔ فی الوقت ساری دنیا کی شماریات سامنے نہیں ہیں۔ دنیا بھر میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کے حوالے سے مکمل اعداد و شمار دستیاب نہیں‘ پھر بھی جس تیزی سے یہ وبا پھیلی ہے اور پھیل سکتی ہے‘ اس کا اندازہ لگانا کوئی مشکل کام نہیں‘ کئی جگہوں پہ صرف ایک متاثرہ شخص نے مقامی طور پر بیس فیصد آبادی میں وائرس کو پھیلا دیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ روزانہ‘ اس ماہ کے آخر تک ایک لاکھ افراد کی اموات کی بری خبر دے کر قوم کو ذہنی طور پر تیار کرتے رہتے ہیں۔دوسری جانب وبا ہے کہ تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہی۔اس کا دائرہ پھیلتا جا رہا ہے۔
پتا نہیں شام کے وقت ہمارے میڈیا میں بھاشن دیتے حکومتی کارندے اور دانش ور اس بات پر زور کیوں نہیں دے رہے کہ اگر کوئی شخص کورونا وائرس کا شکار ہے‘ مگر اس بیماری کی علامات ظاہر نہیں تو وہ بھی اس بیماری کو پھیلانے کا باعث بن سکتا ہے۔ اس نکتے کو سمجھیں تو معلوم ہو گا کہ کورونا ماضی کی تاریخ میں برپا ہونے والے وائرسوں کے مقابلے میں زیادہ مہلک کیوں ہے۔ اس آدمی کو خود معلوم نہیں جو نا دانستہ طور پر وائرس پھیلائے جا رہا ہے۔ اس پھیلائو میں رکاوٹ تو پھر صرف گھر میں محدود رہنے سے ہی پیدا کی جا سکتی ہے۔ خود بھی بچیں اور دوسروں کو بھی بچائیں۔ یہ بہت اچھا پیغام ہے۔ لوگوں کو اس پر سنجیدگی سے توجہ دینی چاہیے۔
تاریخ کا حوالہ دے کر میں یہ ثابت کرنا چاہتا ہوں کہ اس وقت احتیاط ہی سے وبا کے پھیلائو کو روکا جا سکتا ہے۔ ذمہ داری اور دانش مندی کا تقاضا یہ ہے کہ اس وقت جاری لاک ڈائون کی مدت مزید بڑھا دی جائے اور باہر چلنے پھرنے پر پابندیاں سخت ہوں۔ غربت ہے‘ لوگ بھوکے مر جائیں گے‘ ہماری صورت حال دیگر ممالک کے مقابلے میں مختلف ہے‘ یہ نعرے سیاسی نعرے ہیں۔ یہ وقت سستی سیاست کا نہیں‘ انسانی جانیں محفوظ کرنے کا ہے۔ اس موذی وبا کا پھیلائو روکنے کا ہے۔ سوچیں اگر غریبوں کی بستیاں‘ جہاں ہر گھر میں تنگ جگہوں اور کمروں میں دس سے کم افراد مکین نہیں‘ محفوظ نہ رہیں تو کیا آپ صرف خوراک فراہم کر کے بیماری اور موت سے بچا سکیں گے؟ دنیا بھر میں اس وقت پالیسی ساز ادارے انیس سو اٹھارہ کے انفلوئنزا کے بارے میں لکھی گئی کتابیں اور دستاویزات‘ شماریات کے ساتھ دیکھ رہے ہیں۔ چند دن پہلے جان بیری‘ جس نے اس موضوع پر ایک جامع کتاب تحریر کی ہے‘ کا ایک انٹرویو الجزیرہ پر دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ ایک غلط سیاسی فیصلے نے فلاڈیلفیا شہر میں بیس ہزار جانیں گنوا دی تھیں۔ یہ جنگِ عظیم اول کے بعد کا واقعہ ہے جب فوجی محاذوں سے واپس آ رہے تھے۔ ان کی فتح کی خوشی میں شہر میں استقبالی جلوس کا اہتمام کیا گیا تھا۔ ایک لاکھ کے قریب لوگ اس جلوس میں شامل ہوئے تھے۔ منتظمین اس جلوس سے پیدا ہونے والے خطرات سے پوری طرح با خبر اور آگاہ تھے‘ مگر وہ جشن کو منسوخ کر کے اس کی سیاسی قیمت نہیں چکانا چاہتے تھے۔ وہ عوام کی خواہش اور سیاست کے تقاضوں کی رو میں بہہ گئے۔ بہت مشکل ہوتا ہے کہ ایسے ماحول میں سیاسی مفادات سے الگ ہو کر عوام کے مفادات میں فیصلے صادر ہوں۔ بصیرت اور دانش مندی سے اگر کوئی بہرہ ور ہو تو جرأت مندانہ‘ منفرد‘ دیکھنے اور پرکھنے میں بظاہر نا پسندیدہ فیصلے بھی وقت گزرنے کے ساتھ حالات اور جذبات کی گرد بیٹھ جانے پر سراہے جاتے ہیں اور ان کی تحسین کی جاتی ہے۔ نیو یارک ٹائمز میں گزشتہ دنوں شائع ہونے والا امریکہ کے مختلف شہروں کا موازنہ میرے سامنے ہے اور یہ اس وقت تک سب سے زیادہ پڑھا جانے والا مضمون ہے۔ جن شہروں میں لاک ڈائون کیا گیا‘ وہاں لوگوں کو گھروں میں بند رہنے پر مجبور کیا گیا‘ وہ نا صرف کثرتِ اموات سے محفوظ رہے بلکہ وبا کے ختم ہونے کے بعد اقتصادی نمو میں دوسروں کے مقابلے میں کہیں آگے بھی تھے۔ 
تاریخ کا سبق یہ ہے کہ اگر آپ کے پاس کسی بیماری یا دشمن کے خلاف لڑنے کے اسباب نہیں‘ تو بچائو صرف اپنے حصار میں رہنے سے ہی ممکن ہو سکتا ہے۔ اگر کپتان صاحب کو مصروفیات کی وجہ سے فرصت نہیں تو کوئی مشیر ہی وبائوں کی تاریخ پر لکھی کتابیں اور حالیہ ہفتوں میں لکھے گئے اور شائع شدہ مضامین پڑھ لے۔ حکومت کاروبار‘ صنعتوں اور معیشت کو کھولنے کے لیے بے قرار دکھائی دیتی ہے۔ اس کی یہ بے چینی سمجھ میں آتی ہے کہ ملک کی معاشی صورتحال بہت زیادہ اطمینان بخش نہیں‘ لیکن یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ زیادہ نقصان اٹھانے والے امریکی شہر وہی تھے‘ جنہوں نے یہ دلیل دی کہ معیشت کو جاری رکھنا ضروری ہے تاکہ لوگ بے روزگار نہ ہوں۔ اس کا نتیجہ المناک نکلا تھا۔ نا صرف مزدور اور عام شہری بڑی تعداد میں لقمۂ اجل بنے بلکہ معیشت کو بحال کرنے کے لیے موزوں اور معقول افرادی قوت بھی انہیں بعد میں نہ مل سکی۔ 
جلد بازی‘ سیاست اور جذباتی فیصلے ملک میں بڑی تباہی اور خرابی لا سکتے ہیں۔ ہوش مندی‘ تاریخ پہ نظر اور اس وبا کا نہ صرف ملک کے اندر پھیلنے کا رجحان بلکہ جو ممالک اس کا نسبتاً زیادہ شکار ہوئے ہیں‘ وہاں کا تجربہ بھی سامنے رکھنا ہو گا۔ سب کا جی چاہتا ہے‘ باہر نکلیں‘ مارکیٹیں کھلی ہوں‘ وہاں سے خریداری کریں‘ سیر سپاٹے کریں‘ دوستوں اور عزیزوں رشتے داروں کے ساتھ محفلیں گرم ہوں۔ یہ امنگ ہماری فطرت میں ہے۔ اس وقت ہم نے ذرا ضبط‘ تحمل اور برداشت سے کچھ کام لے لیا تو بڑی آزمائش اور طویل تر تالے بندیوں سے بچ نکلیں گے۔ موجودہ حالات میں رہبری سیاست سے نہیں‘ تاریخ اور سائنس سے مطلوب و مقصود ہے۔ 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved