تحریر : نذیر ناجی تاریخ اشاعت     29-05-2013

عظیم دن کی یادیں

بھارت نے 11مئی 1998ء کو پوکھران میں ایٹمی دھماکے کئے۔ تین پہلے اور دو تیسرے دن۔ فوراً ہی بعد بھارتی لیڈروں کے لہجے بدل گئے۔ کسی نے کہا پاکستان کو اب اپنے سائز میں رہنا ہو گا۔ کسی نے اعلان کیا کہ دونوں ملکوں میں طاقتوں کا توازن بدل گیا ہے۔ پاکستان کو اپنی طاقت دیکھتے ہوئے‘ ہم سے بات کرنی چاہیے۔ پرمودمہاجن‘ بی جے پی کا ایک انتہاپسندانہ ذہن رکھنے والا ابھرتا ہوا سیاستدان تھا۔ واجپائی اور ایڈوانی دونوں کا چہیتا تھا۔ مرکزی وزیربھی تھا۔ اس نے بڑھ چڑھ کے پاکستان کو اس کی کمتر حیثیت کا احساس دلانا شروع کر دیا۔ اس کا دعویٰ تھا کہ ایٹمی طاقت بن جانے کے بعد بھارت ناقابل شکست ہو چکا ہے۔ پاکستان کو اپنی اوقات میں رہنا ہو گا۔ بھارتی لیڈروں کے سارے بیانات سے لگتا تھا کہ اب ہمیں اچھوت کی زندگی گزارنا ہو گی۔ حساس پاکستانیوں کے لئے بھارتی لیڈروں کا یہ رویہ انتہائی تکلیف دہ تھا۔ نوازشریف ایک خوددار اور حساس انسان ہیں۔وہ پاکستان کی اس کمزور پوزیشن کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں تھے۔ بھارتی لیڈروں کے بیانات پڑھ پڑھ کے انہیں غصہ آ رہا تھا اور وہ دوسرے ہی دن یعنی 12 مئی کو یہ فیصلہ کر چکے تھے کہ نتیجہ چاہے کچھ بھی نکلے‘ ہمیں ایٹمی دھماکے کرنا پڑیں گے۔ ان دنوں بحث چھڑی کہ پاکستان کو ایسا کرنا چاہیے کہ نہیں؟نوازشریف نے جان بوجھ کر اس بحث کو طول دیا۔ کچھ لوگوں نے ایٹمی دھماکوں کی مخالفت شروع کر دی اور کچھ لوگ ان کی حمایت کرنے لگے اور نوازشریف اپنے ہر ملاقاتی سے ایک ہی سوال کرتے کہ ’’ہمیں کیا کرنا چاہیے؟‘‘ سب کی رائے سنتے اور خود خاموش رہتے۔ پاکستان کے اندر یہ بحث و مباحثہ سموک سکرین کا کام دے رہا تھا۔ بھارت سمیت دنیا کے تمام ممالک میں یہی تاثر تھا کہ پاکستان نے ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا اور اگر اس پر دبائو ڈال دیا جائے‘ تو ایٹمی دھماکوں سے روکا جا سکتا ہے۔ یہی نوازشریف چاہتے تھے۔ پردے کے پیچھے کیا ہو رہا تھا؟ نوازشریف نے بھارتی دھماکوں کے فوراً ہی بعد اپنے سائنسدانوں اور ماہرین سے مشاورت شروع کر دی تھی۔ صورتحال کا ہنگامی جائزہ لینے کے بعد انہیں پتہ چلا کہ ہمیں ایٹمی دھماکے کرنے کے لئے کم از کم 10 دن درکار ہوں گے۔ ایسا نہیں تھا کہ تمام تیاریاں کرنے کی ضرورت تھی۔ یہ ایک بہت بڑا کام ہوتا ہے۔ بم کو لیبارٹری سے لے کر تجربہ گاہ میں پہنچانے اور دھماکہ کرنے تک‘ ایک سال درکار ہوتا ہے۔ یہ ایک سال والا کام پاکستان بہت عرصہ پہلے کر چکا تھا۔ سب سے مشکل کام دھماکے کی جگہ کا تعین اور تجربہ گاہ تعمیر کرنے کی تیاری تھی۔پاکستان کے ماہرین نے بلوچستان میں دالبندین سے کوئی بیس پچیس کلومیٹر اندر سیاہ اور بے برگ پہاڑوں کی آغوش میں‘ ایک پہاڑی کے اندر گہری سرنگ کھود رکھی تھی۔ کمال یہ تھا کہ سپرطاقتوں کی تمام تر جاسوسیوں اور سراغ رسانیوں کے باوجود کسی کو علم نہ ہوا کہ پاکستان نے ایٹمی دھماکوں کی تیاری کہاں کر رکھی ہے؟ کی بھی ہے یا نہیں؟ لیکن ہم نہ صرف تیاری مکمل کر کے سرنگ کو تجربے کے لئے پوری طرح تیار کر چکے تھے بلکہ اسی پہاڑی کے ایک دوسرے حصے میں ہم نے بطن کوہ میں جدیدترین مانیٹرنگ سسٹم لگا رکھا تھا۔ اس میں وہ جدیدترین کمپیوٹر نصب تھے‘ جو کھلی منڈی میں دستیاب نہیں اور کوئی بھی ایٹمی ملک ان کے آلات کی معمولی سی نقل و حرکت پر بھی چوکنا ہو جاتا ہے۔ پاکستان کی حکومتوں نے ایٹمی میٹریل یا مانیٹرنگ سسٹم کے حصول کے لئے خدا جانے کتنے پاپڑ بیلے۔ لیکن دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونک کر وہ سب کچھ حاصل کر لیا‘ جو ایٹمی دھماکوں کی صلاحیت اور اچھے برے نتائج کی جانچ پرکھ کے لئے ضروری ہوتے ہیں۔ مشکل ترین کام یہ ہوتا ہے کہ زمین یا پہاڑوں کی گہرائی میں جب ایٹم بم کا تجربہ کیا جائے‘ تو گردونواح کے علاقے ‘ ایٹمی ذرات اور غبار سے محفوظ رہیں۔ چاغی کے پہاڑ ایران کے قریب ہیں۔ ذرا سی بے احتیاطی بھی ہو جاتی‘ تو ایٹمی غبار ایران کی فضائوں میں جا سکتا تھا۔ لیکن پاکستانی ماہرین نے اپنے پہلے تجربے میں ہی اتنی مہارت اور فنی پختگی دکھائی کہ ہمارے تجربات ہر اعتبار سے محفوظ اور مکمل رہے۔ چاغی کی مذکورہ پہاڑی کی تہہ میں ہی مانیٹرنگ کا جو مرکز قائم کیا گیا تھا‘ اس کے تمام کمپیوٹرز نتائج کے جائزے کے لئے ہر طرح سے تیار تھے۔ نوازشریف نے ان تمام تیاریوں کا ہنگامی طور پر جائزہ لینے کا حکم دے دیا تھا اور 3دن کے اندر اندر انہیں موقع کی رپورٹ آ گئی تھی۔ فوری طور پر تجربات کرنے والی ٹیم کو چاغی جانے کا حکم دے دیا گیا۔ 6دنوں کے اندر اندر سائنسدانوں کی پوری ٹیم اور بموں کے الگ الگ حصے‘ چاغی میں پہنچا دیئے گئے اور وہاں جا کر انہیں مکمل بم کی صورت میں تیار کر لیا گیا۔ یہ سب کچھ مکمل رازداری اور احتیاط سے کیا گیا۔ اندر اندر سب کچھ ہو رہا تھا۔ لیکن باہر نوازشریف ملاقاتیوں سے پوچھ رہے تھے کہ ’’کیا خیال ہے؟ ہمیں دھماکے کرنا چاہئیں یا نہیں؟‘‘ عین اس وقت جب دھماکوں میں چند ہی روز باقی تھے‘ نوازشریف نے سینئرصحافیوں سے ایک ملاقات میںان سے مشورے مانگے۔ ایک محترم بزرگ نے کہا ’’میاں صاحب! آپ دھماکے کریں۔ نہیں تو آپ کا دھماکا ہو جائے گا۔‘‘ جملہ اچھا تھا۔ لیکن یہ اس وقت کہا گیا‘ جب چاغی میں ساری تیاریاں مکمل تھیں۔ وہ بزرگ آج تک یہ سمجھتے ہیں کہ دھماکا ان کی دھمکی سن کر کیا گیا۔ آج یہ بتا دینے میں کوئی ہرج نہیں کہ اگر دھماکے کا فیصلہ‘ ان کے مشورے کی روشنی میں کیا جاتا‘ تو عملدرآمد کے لئے پندرہ سولہ دن درکار ہوتے۔ لیکن دھماکا تو ان کے مشورے کے چند روز بعد ہی ہو گیا۔ جس سے ظاہر ہے کہ تیاری پہلے کی جا چکی تھی اور وزیراعظم نے اس کا حکم ‘ مشورے سے بہت پہلے دے رکھا تھا۔ بات چل نکلی ہے‘ تو محسن پاکستان کا بھی ذکر ہو جائے۔ میں نے جتنی تیاریوں کا ذکر کیا ہے‘ ان میں آپ کو ڈاکٹر قدیر کہیں نظر نہیں آئے ہوں گے۔ کہیں تھے بھی نہیں۔ ایٹم بم بنانے کا پہلا مرحلہ یورینیم کی افزودگی ہوتی ہے۔ اس کے بغیر ایٹم بم نہیں بنایا جا سکتا۔ڈاکٹر قدیر پاکستانی حکومت کی پوری مدد اور خفیہ ذرائع سے استفادہ کرتے ہوئے ‘ ہالینڈ سے یورینیم افزودہ کرنے کا فارمولالے آئے تھے۔ پاکستان میں آ کر انہوں نے یہ ٹیکنالوجی ہمارے سائنسدانوں تک پہنچائی اور ہم یورینیم کو افزودہ کرنے میں کامیاب ہوئے۔ یقینا یہ بہت بڑا کارنامہ تھا‘ جس کا تمام پاکستانی سائنسدان اعتراف کرتے ہیں۔ کیونکہ یورینیم کی افزودگی کے بغیر بم بنایا ہی نہیں جا سکتا۔ یاد رہے نظریۂ اضافت جس کے تحت ایٹمی توانائی دریافت کی گئی اور یورینیم کو افزودہ کرنے کی سائنس جو کہ ترقی یافتہ ملکوں میں رائج ہے۔ ان دونوں میں سے ڈاکٹر صاحب نے کوئی چیز ایجاد نہیں کی۔ انہوں نے اپنی ملازمت کے دوران افزودگی کا علم حاصل کیا اور خاکے وغیرہ لے کر پاکستان آ گئے۔ بہرحال محض افزودہ یورینیم سے بم نہیں بنتا۔ بم بنانے کی ٹیکنالوجی انجینئرنگ کا علیحدہ شعبہ ہے۔ اس کے لئے ورکشاپس بھی الگ ہیں اور ماہرین بھی۔ ان شعبوںکے سربراہ ڈاکٹرثمرمبارک مند تھے۔ وہی تمام ماہرین کو لے کر چاغی گئے۔ اسی ٹیم نے بم کو سرنگ میں نصب کیا۔ اسی ٹیم نے دور پہاڑوں پر بیٹھ کر سارے آپریشن کی نگرانی کی۔ اسی ٹیم نے پہاڑ کے بطن میں بنائے گئے مانیٹرنگ ہال میں تجربے کی کامیابی کے کوائف جمع کئے اور اس کے پرفیکٹ ہونے کی رپورٹ بنائی۔ اس پورے عمل میں ڈاکٹر قدیر کسی بھی مرحلے پر چاغی میں نہیں تھے۔ جب دھماکا کر لیا گیا اور وزیراعظم نوازشریف کو دعوت دی گئی کہ وہ تجربہ گاہ کے معائنے کے لئے آئیں‘ وہ اپنے قریبی ساتھیوں کو لے کر چاغی کے لئے روانہ ہوئے۔ مجھے بھی اس ٹیم میں شامل ہونے کا اعزاز حاصل ہوا۔ ہم لوگ شام کے وقت کوئٹہ پہنچے۔ پرنس اورنگ زیب بلوچستان کے گورنر تھے۔ بیگم اورنگ زیب انتہائی سلیقہ مند اور مہمان نوازخاتون تھیں‘ جس کا اندازہ گورنر ہائوس میں ہمیں اپنے رہائشی کمرے دیکھ کر ہوا۔ ہرمہمان کے لئے ضرورت کی تمام اشیاء انتہائی خوبصورتی اور ترتیب سے رکھی تھیں۔ کوئی چیز ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں تھی۔ جب اور جس وقت کسی چیز کی ضرورت ہوتی‘ مہمان کا ہاتھ آسانی سے وہاں پہنچ جاتا۔ ہم سب کو ان کی میزبانی اور سلیقہ کبھی نہیں بھولے گا۔ خیرہم گورنرہائوس میں رات کے کھانے کی تیاری کر رہے تھے کہ اچانک ڈاکٹر قدیر خان تشریف لائے۔ ہم سب انہیں دیکھ کر حیران ہوئے۔ اس حیرانی میں نوازشریف بھی شامل تھے۔ جس سے اندازہ ہو گیاکہ ان کی آمد وزیراعظم کے لئے بھی غیرمتوقع ہے۔ اگلی صبح جب ہم دالبندین کے لئے روانہ ہونے والے تھے‘ تو میں نے ڈاکٹرقدیر خان کو وزیراعظم سے یہ کہتے سنا کہ ’’میں آپ کے ساتھ جا سکتا ہوں؟‘‘ نوازشریف نے حسب عادت بڑی شائستگی اور احترام سے انہیں ہیلی کاپٹر میں بیٹھنے کی دعوت دی۔ قصہ کافی دلچسپ ہے۔ اس کا دوسرا حصہ کل پیش کروں گا۔ آج مجھے گزشتہ روز کے کالم کا دوسرا حصہ لکھنا تھا لیکن قومی تاریخ کے ایک عظیم دن کی مناسبت سے 28 مئی پر لکھنا لازم ہوا ۔ اس کا باقی حصہ کل شائع ہو گا۔ ’’شاخ نازک پہ آشیانہ‘‘ کا باقی حصہ پرسوں آ سکے گا۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved