تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     22-04-2020

سرخیاں ، متن اور نعیم ضرارؔ کی شاعری

شہباز شریف کورونا کا بہانہ بنا کر پتلی 
گلی سے بھاگ رہے ہیں: فیاض الحسن چوہان
وزیر اطلاعات پنجاب فیاض الحسن چوہان نے کہا ہے کہ ''شہباز شریف کورونا کا بہانہ بنا کر پتلی گلی سے بھاگ رہے ہیں‘‘ حالانکہ بھاگنے کے لیے چوڑی گلی کارخ کرنا چاہیے‘ کیونکہ پتلی گلی میں آدمی پھنس بھی سکتا ہے اور پھنسے ہوئے آدمی کو آ کر دبوچ لینا کوئی مشکل کام نہیں ہوتا‘ جبکہ پتلی گلیاں بھاگنے کے لیے ہوتی بھی نہیں اور ان میں سے گزرنے والوں کی حالت ویسے ہی پتلی ہو جاتی ہے اور شہباز شریف کے صرف اثاثوں کے کیس کھلے ہوئے ہیں‘جبکہ ان کی جسمانی حالت اپنے بھائی صاحب کی نسبت خاصی قابل ِ رشک ہے‘ تاہم ان کی مالی حالت تشویشناک حد تک پتلی ہے۔ آپ اگلے روز شہباز شریف کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست پر اظہار خیال کررہے تھے۔
خواتین دوسروں کو بچائیں‘ حکومتی ہدایات
پر عمل کریں: یوسف صلاح الدین
سماجی کارکن یوسف صلاح الدین نے کہا ہے کہ ''خواتین دوسروں کو بچائیں‘ حکومتی ہدایات پر عمل کریں‘‘ کیونکہ خود ان کو اتنا بچنے کی ضرورت نہیں ہوتی اور شوہر دعائیں مانگتے رہتے ہیں‘ لیکن انہیں پھر بھی کچھ نہیں ہوتا‘ جبکہ عورتوں کو پیدا ہی دوسروں کو بچانے کے لیے کیا گیا ہے۔ بیشک وہ دوسروں کو بچاتے بچاتے خود اللہ کو پیاری ہو جائیں اور اللہ کے قُرب کی تمنا کسے نہیں ہوتی؟ اگر کورونا کے ذریعے یہ حاصل ہو جائے تو انسان کو اور کیا چاہئے؟ لہٰذا خواتین صرف اس نیک مقصد پر اپنی توجہ مرکوز رکھیں اور اس طرح اپنے شوہروں کے لیے آسانیاں پیدا کریں‘ جو بجائے خود ایک بہت بڑا کارِ ثواب ہے‘ لہٰذا نیکی کرنے میں ہمیشہ پہل کرنی چاہیے‘ وگرنہ ثواب کوئی اور حاصل کر لے گا۔ آپ اگلے روز ایک نجی ٹی وی چینل پر دیگر حضرات کے ساتھ گفتگو کر رہے تھے۔
عوام کو کورونا سے بچانا پہلی ترجیح ہے: بلاول بھٹو زرداری
چیئر مین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ''عوام کو کورونا سے بچانا پہلی ترجیح ہے‘‘ اور اگر وہ پہلی ترجیح کے باوجود نہیں بچتے تو ہم کیا کر سکتے ہیں؟ اگرچہ پہلی ترجیح کافی ڈھیٹ چیز ہے ‘کیونکہ شریف برادران‘ جسے پہلی ترجیح قرار دیا کرتے تھے ‘سب سے پہلے اس کا بیڑا غرق ہوا کرتا تھا اور جو امدادی رقوم سے کچھ دیگر افراد ‘یعنی تقسیم کرنے والے استفادہ کر رہے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ وہ زیادہ ضرورت مند اور مستحق ہیں ‘اس لیے ان پر اعتراض نہیں کرنا چاہیے کہ دانے دانے پر کھانے والے کا نام لکھا ہوتا ہے اور وہ اپنی ہی مہر والا دانہ کھا رہے ہوتے ہیں‘ اتنی سی بات تھی‘ جسے افسانہ بنادیا گیا‘ وگرنہ یہ کوئی بڑی بات نہیں۔ آپ اگلے روز راولپنڈی میں ایک پارٹی اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔
عوام کو ابھی ایک دھیلے کا بھی فائدہ نہیں ہوا: رانا ثناء اللہ
سابق وزیر قانون پنجاب اور نواز لیگ کے مرکزی رہنما رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ ''عوام کو ابھی ایک دھیلے کا بھی فائدہ نہیں ہوا‘‘ اور یہ دھیلا وہی ہے‘ جس کی کرپشن کی میاں شہباز شریف قسمیں کھایا کرتے تھے ‘جبکہ ویسے بھی ہم کفایت شعار لوگ ہیں اور دھیلوں ہی کے حساب سے رقوم کا شمار کیا کرتے ہیں اور اگر یہ دھیلے بڑھ کر اربوں کھربوں تک پہنچ جاتے ہیں تو یہ ان کی اپنی فطرت ہے ‘جبکہ پہاڑ کو ہلا کر ایک طرف کیا جا سکتا ہے ‘کسی کی فطرت کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا ہے‘ جبکہ ہماری فطرت میں یہ خوبیاں بدرجہ اتّم پائی جاتی ہیں۔ اس لیے ہماری ہر رقم اپنے آپ ہی درجۂ اتّم تک پہنچ جایا کرتی ہے۔ آپ اگلے روز فیصل آباد میں ایک نیوز ایجنسی سے گفتگو کر رہے تھے۔
اور‘ اب آخر میں نعیم ضرارؔ کی شاعری
آئینہ غلط ہے کہ یہ منظر ہے کوئی اور
باہر تو یہ میں ہوں مگر اندر ہے کوئی اور
یہ تم ہو نہ میں ہوں نہ بھنور ہے نہ کنارا
دریا نہیں دریا یہ سمندر ہے کوئی اور
گزری ہے مری عمر سدا خود سے الجھتے 
اندر ہے کوئی اور تو باہر ہے کوئی اور
............
ہے ایک عشق ہی ایسی وبا وبائوں میں
نظر نظر سے ملائو تو پھوٹ پڑتی ہے
اب بسیرا ہے جہاں خوف کے سناٹوں کا
انہی گلیوں میں کبھی لوگ رہا کرتے تھے
کوئی نکلے نہ اب باہر گلی میں
وبا اک بال کھولے پھر رہی ہے
باہر وبا کا اور ہے زوجہ کا گھر میں راج
میرے لیے کہیں کوئی جائے اماں نہیں
زمیں کا عشق تھا کیوں آسماں پہ لے گئے ہو
کہاں کی بات کو تم بھی کہاں پہ لے گئے ہو
یہ اس سے رسمی ملاقات تھی مری یارو
وہاں کی تھی ہی نہیں تُم جہاں پہ لے گئے ہو
آج کا مطلع
دل کا یہ دشت عرصہ ٔ محشر لگا مجھے
میں کیا بلا ہوں رات بہت ڈر لگا مجھے

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved