تحریر : علامہ ابتسام الہٰی ظہیر تاریخ اشاعت     22-04-2020

نیکیوں کا موسم ِ بہار

رمضان المبارک کا ماہ ِ مبارک اپنے جلو میں بہت زیادہ رحمتوں کو لے کر آتاہے ۔اس مہینے میں نیکیوں کے امکانات دیگر مہینوں کے مقابلے میں بہت زیادہ بڑھ جاتے ہیں۔ رمضان المبارک میں کی جانے والی کئی عبادات خصوصی اہمیت کی حامل ہیں جن میں سے چند اہم عبادات درج ذیل ہیں:۔
1۔ روزہ: رمضان المبارک کے ماہِ مبارک میں روزہ رکھنا ہر بالغ اور صحت مند مسلمان پر فرض ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورہ بقرہ کی آیت نمبر 183میں اعلان فرماتے ہیں : ''رمضان کا مہینہ وہ ہے ‘جو نازل کیا گیا ہے‘ اس میں قرآن (جو) ہدایت ہے لوگوں کے لیے اور روشن دلائل ہیں ہدایت کے اور (حق وباطل کے درمیان) فرق کرنے کے پس جو موجود ہو (گھر میں) تم میں سے کوئی (اس) مہینے میں تو اسے چاہیے کہ وہ روزے رکھے۔‘‘ رمضان المبارک کے ماہ مبارک میں جہاں ہر بالغ اور صحت مند پر روزہ رکھنا فرض ہے‘ وہیں پر اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس مہینے میں مریضوں اور مسافروں کو خصوصی رعایت دی۔ اگر کوئی شخص سفر یا مرض کی وجہ سے روزہ نہ رکھ سکے تواُسے سال کے باقی ماندہ ایام میں گنتی کو پورا کرنے کی رخصت دی گئی ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورہ بقرہ کی آیت نمبر 185میں ارشاد فرماتے ہیں: ''اور جو بیمار ہو یا سفر پر ہو تو گنتی پوری کرے دوسرے دنوں سے۔ چاہتا ہے اللہ تمہارے ساتھ آسانی کرنا اور وہ نہیں چاہتا تمہارے ساتھ سختی کرنا اور تاکہ تم پورا کر لو گنتی(تعداد) کو اور تاکہ تم بڑائی بیان کرو اللہ کی اس (احسان) پر جو اس نے ہدایت دی تم کو اور (اس لیے) تاکہ تم شکر ادا کرو۔‘‘ روزہ دا ر رمضان المبارک کے ماہ مبارک میں صبح سے لے کر شام تک اپنی بھوک‘ پیاس اور جائز نفسانی خواہشات پر قابو پا کر درحقیقت اس بات کی مشق اور اظہار کرتا ہے کہ جس رب تعالیٰ کے حکم پر حلال چیزوں کو عارضی طور پر ترک کر دیاگیا اُسی پروردگار کے حکم پر حرام چیزوں سے بھی مکمل اجتناب کیا جائے گا ۔ اللہ تعالیٰ نے روزے کے اس عظیم مقصد کو بڑے خوبصورت انداز میں سورہ بقرہ کی آیت نمبر 183میں یوں بیان فرمایا ہے : ''اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو فرض کئے گئے ہیں تم پرروزے جیسا کہ فرض کئے گئے ان لوگوں پر جو تم سے پہلے (تھے) تاکہ تم بچ جاؤ (گناہوں سے) ۔ ‘‘
قرآن مجید کے مختلف مقامات پر غوروفکر کرنے سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ تقویٰ اختیار کرنے کی وجہ سے اللہ تبارک وتعالیٰ انسان کے معاملات کو آسان بنا دیتے ‘ اس کے گناہوں کو معاف کردیتے‘ اس کی تنگیوں کو دور کر دیتے اورا س کو رزق وہاںسے دیتے ہیں‘ جہاں سے وہ گمان بھی نہیں کر سکتا۔ اللہ کی نظروں میں متقی شخص عزت دار ہو جاتا ہے اور اللہ تبارک وتعالیٰ آسمان اور زمین سے اہل تقویٰ کے لیے برکات کو کھول دیتے ہیں۔ احادیث مبارکہ میں رمضان المبارک کے روزے رکھنے کے حوالے سے بہت سی خوبصورت باتیں ارشاد ہوئیں‘ جن میں سے ایک اہم حدیث درج ذیل ہے:۔ 
صحیح بخاری میں حضرت ابوھریرہ ؓسے روایت ہے کہ نبی کریمﷺنے فرمایا ‘جس نے رمضان کے روزے ایمان کی حالت میں اور اجر طلب کرتے ہوئے رکھے اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے گئے۔اس حدیث مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان اگر صحیح طریقے سے روزہ رکھے تو اللہ تبارک وتعالیٰ اس کی سابقہ خطاؤں کو معاف کر دیتے ہیں۔ انسان یقینا خطا کار ہے اور اس کو ہر اس موقع سے فائدہ اُٹھانے کی کوشش کرنی چاہیے‘ جس سے اُس کے گناہ معاف ہو جائیں۔ رمضان المبارک کا مہینہ یقینا ہمارے لیے غنیمت ہے اور ہمیں اس موقع کو کسی بھی طور پر ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ 
2۔ تراویح: رمضان المبارک میںروزے کی فرضی عبادت کو بجا لانے کے ساتھ ساتھ اہم نفلی عبادت رات کو تراویح کااہتمام کرنا ہے۔ تمام مسلمان اس نفلی عبادت کو خصوصیت سے بجالانے کی کوشش کرتے ہیں اور دیکھنے میں آیا ہے کہ رمضان المبارک میں تراویح کی ادائیگی کے لیے بہت زیادہ ذوق وشوق کا مظاہرہ کیا جاتا ہے۔ یہ قیام خصوصی اہمیت کا حامل ہے اور احادیث مبارکہ میں اس حوالے سے بہت سے خوبصورت ارشادات موجود ہیں۔اس حوالے سے صحیح مسلم کی ایک حدیث درج ذیل ہے: 
''حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس شخص نے ایمان ( کی حالت میں ) اور اجر طلب کرتے ہوئے رمضان کا قیام کیا اس کے گزشتہ تمام گناہ معاف کردیئے گئے ۔‘‘
3۔قرآن مجید کی تلاوت: ویسے تو مسلمانوں کو سارا سال قرآن مجید کو پڑھتے رہنا چاہیے ‘لیکن چونکہ رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن مجید کا نزول فرمایااس لیے خصوصیت سے اس مہینے میں قرآن مجید کی تلاوت کا اہتمام کرنا چاہیے۔ قرآن مجید کی تلاوت ایک بہت بڑی نیکی ہے اور اس کی تلاوت کے حوالے سے بہت سی خوبصورت باتیں احادیث مبارکہ میں مذکور ہیں ۔ اس حوالے سے ایک اہم حدیث درج ذیل ہے : ''صحیح بخاری میں حضرت عائشہ ؓسے روایت ہے کہ نبی کریمﷺنے فرمایا کہ اس شخص کی مثال جو قرآن پڑھتا ہے اور وہ اس کا حافظ بھی ہے‘ مکرم اور نیک لکھنے والے ( فرشتوں ) جیسی ہے اور جو شخص قرآن مجید باربار پڑھتا ہے‘ پھر بھی وہ اس کے لیے دشوار ہے تو اسے دوگنا ثواب ملے گا۔‘‘قرآن مجید کی تلاوت کرنے کے ساتھ ساتھ اس پر غور وفکر کرنا ‘ اس پر عمل کرنا ‘ اس کی تبلیغ کرنا اور اس کے قیام کی کوشش کرنا بھی اہل ایمان کی ذمہ داری ہے۔ رمضان المبارک کے اس مقدس مہینے میں ہمیں قرآن مجید کے تمام حقوق کی ادائیگی کے لیے پر عزم ہوجانا چاہیے۔
4۔ دعا: ویسے تو انسانوں کو سارا سال ہی اللہ تبارک وتعالیٰ سے دعامانگتے رہنا چاہیے ‘لیکن رمضان المبارک میں اس سلسلے کو خصوصیت سے جاری وساری رکھنا چاہیے۔ جب ہم قرآن مجیدکا مطالعہ کرتے ہیں تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ جہاں پر اللہ تبارک وتعالیٰ نے روزوں کی فرضیت کا ذکر کیا اس کے ساتھ ہی دعا کا بھی ذکر کیا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورہ بقرہ کی آیت نمبر  186میں ارشاد فرماتے ہیں: ''اورجب آپ سے پوچھیں میرے بندے میرے بارے میں تو (بتا دیں) بے شک میںقریب ہوں میں قبول کرتا ہوں دعا کرنے والے کی پکار کو جب وہ پکارے مجھے پس چاہیے کہ (سب لوگ) حکم مانیں میرا اور چاہیے کہ وہ ایمان لائیں مجھ پر تاکہ وہ راہِ راست پالیں۔‘‘ 
5۔عمرہ: عمرہ ایک خصوصی عبادت ہے ‘جس کو سال کے کسی بھی مہینے میں کیا جا سکتا ہے‘ لیکن رمضان المبارک کے مہینے میں کیے گئے عمرے کا خصوصی اجر وثواب ہے۔ اس حوالے سے ایک اہم حدیث درج ذیل ہے: ''صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ ابن عباس ؓسے روایت ہے کہ جب رسول کریم ﷺحجۃ الوداع سے واپس ہوئے تو آپ ﷺنے اُم سنان (انصاریہ عورت)رضی اللہ عنہا سے دریافت فرمایا کہ تو حج کرنے نہیں گئی؟ انہوں نے عرض کی کہ فلاں کے باپ‘ یعنی میرے خاوند کے پاس دو اونٹ پانی پلانے کے تھے ایک پر تو خود حج کو چلے گئے اور دوسرا ہماری زمین سیراب کرتا ہے۔ آپ ﷺنے اس پر فرمایا کہ رمضان میں عمرہ کرنا میرے ساتھ حج کرنے کے برابر ہے۔‘‘کورونا وائرس کی وجہ سے اس سال رمضان میں عمرہ کرنا اگر ممکن نہ رہے تب بھی صاحب حیثیت لوگوں کو آئندہ آنے والے سالوں میں اس کارخیر کو انجام دینے کی نیت کرنی چاہیے۔ 
6۔لیلۃ القدر کی جستجو: رمضان المبارک کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں لیلۃ القدر کی جستجو کرنا بھی انتہائی نیکی وثواب کا کام ہے۔ لیلۃ القدر میں کی گئی عبادت کا اجروثواب ایک ہزار مہینے کی گئی عبادت کے برابر ہے۔ لیلۃ القدر کی اہمیت کے حوالے سے ایک اہم حدیث درج ذیل ہے: 
صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہ ؓسے روایت ہے کہ نبی کریمﷺنے فرمایا ‘جس نے رمضان کے روزے ایمان اور خالص نیت کے ساتھ رکھے اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے گئے اور جو لیلۃالقدر میں ایمان اور احتساب کے ساتھ نماز میں کھڑا رہے اس کے بھی اگلے تمام گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔ 
7۔اعتکاف: رمضان المبارک کے آخری عشرے کااعتکاف کرنا نبی کریم ﷺ کی سنت مبارکہ ہے اوراس پر مداوم کرنے سے انسان کو علم ‘ حکمت‘ دانائی‘ بصیرت‘ للہیت حاصل ہوتی ہے۔ انسان حالت اعتکاف میں پوری دنیا سے کٹ کر جب اللہ تبارک وتعالیٰ کی قربت اور رضا کے حصول کی جستجو کرتا ہے تو اللہ تبارک وتعالیٰ بھی اس کی جستجو اور تمنا کو پورا کرتے ہوئے اپنی قربت اور رضا کے حصول کو اس کے لیے آسان بنا دیتے ہیں۔ 
8۔ توبہ واستغفار: توبہ واستغفار ہر حال میں اور ہر موقع پر کرنی چاہیے‘ لیکن رمضان المبار ک میں خصوصیت سے انسان کو توبہ واستغفار کاالتزام کرنا چاہیے۔ جو انسان خلوص نیت سے اللہ تبارک وتعالیٰ کی بارگاہ میں آکر توبہ واستغفار کرتا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ اس کی تمام خطاؤں کو معاف فرما دیتے ہیں۔ 
اللہ تبارک وتعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ نیکیوں کے اس موسم ِبہار(رمضان المبارک)سے ہمیں صحیح طریقے سے مستفیدہونے کی توفیق دے اور ہمیں بڑھ چڑھ کے نیک کاموں اور عبادت کرنے والے لوگوں میں شامل فرمائے۔(آمین )

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved