تحریر : رسول بخش رئیس تاریخ اشاعت     24-04-2020

ادھر بھی نظر کیجئے!

کتب بینی ترک کرنا ناممکن سی بات ہے‘ خصوصاً ان کے لیے جن کو علم و ادب کا چسکا لگا ہوا ہے۔ کتابیں اکٹھی کرنے‘ ترتیب اور سلیقے سے رکھنے‘ کتب خانہ بنانے اور جب جی چاہا کتاب ہاتھ میں لے کر پڑھنے کا شوق کم لوگوں کو نصیب ہے۔ کتابوں سے خالی گھر ایک طرح سے ویران ہی ہوتے ہیں۔ ان کی کمی اعلیٰ فرنیچر‘ شیشوں کی آرائش‘ ہر نوع کے برقی آلات اور دولت کی نمائش کے دیگر اسباب پورا نہیں کر سکتے۔ ہماری ادبی روایات کم از کم سامراجیت کی یلغار کے قریب آج کے جدید دور کے مقابلے میں بہت توانا تھیں۔ ہر گھر میں خواندہ مرد اور خواتین حسبِ استعداد کچھ کتابیں رکھتے اور عورتیں تو منظوم کتابوں کو حفظ کر لیتی تھیں۔ اپنی والدہ محترمہ کو بچپن میں سرائیکی اور پنجابی کی داستانیں یاد کرتے اور دوسری خواتین کو پڑھاتے دیکھا تھا۔ پڑھا لکھا ہونے کا معیار بدلا تو ماضی کے سب لوگ ان پڑھوں میں شمار ہونے لگے۔ خیر بات کتابوں کی ہو رہی ہے۔ شوق ہو تو مفلس سے مفلس بھی پڑھنے کے لئے کتاب ہاتھ میں رکھ سکتا ہے۔ اہل علم کتابوں کے ذخیروںپر سانپ بن کر نہیں بلکہ امین بن کر بیٹھتے تھے۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ کالج کے اولین برسوں میں گرمیوں کی چھٹیوں میں طبری کی تاریخِ اسلام کی جلدیں ایک مقامی مولوی صاحب سے لے کر پڑھی تھیں۔ ڈیرہ غازی خان میں ہم ان لوگوں کے پاس جاتے‘ جن کے پاس ایسی کوئی کتاب ہوتی‘ جو ہم پڑھنے کے لئے بے تاب ہوتے تھے۔ ویسے کالج کی لائبریری میں بھی ہر نوع کی کتابیں موجود تھیں ۔ اس وقت کے لائبریرین محبت اور شفقت سے ہمیں بٹھاتے اور کتابیں ایسے دکھاتے جیسے بازار میں کپڑے کا دکاندار گاہکوں کے سامنے تھانوں کے پشتے لگا دیتا ہے۔ 
میرا تو شعبہ ہی کتابوں سے متعلق ہے۔ اگر نئی کتاب نہ خریدی‘ نہ پڑھی تو علم میں تازگی نہیں رہتی۔ عصری مباحث کا احاطہ کرنے کے لئے اخبار‘ پیشہ ورانہ رسائل اور مخصوص علمی میدان میں نئی کتابوں پر دسترس لازم ہے۔ ہمارا تعلق ہی سیاسی اور بین الاقوامی علوم سے ہے‘ جن میں نت نئے اضافے‘ ترامیم‘ نئی تنقیداور افکار کا اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ تاریخ‘ ادب‘ خود گزشت اور یادیں ‘ یہ سب زندگی کے رازوں کے ساتھ ساتھ دیگر علوم کے دروازے بھی کھول دیتے ہیں۔ گزشتہ چند برسوں سے انگریزی ادب سے اتنا لگائو نہیں جتنا اردو ادب سے ہے۔ کلاسیکی ادب کی تو بات ہی کچھ اور ہے۔ عصری ادیب بھی تو کمال کے ہیں ۔ مرزا محمد ہادی رسوا کا مشہور ناول 'امرائو جان ادا‘ تیسری بار رواں گھر بندی کے دوران پڑھا ہے۔ پتا نہیں جس لکھنو اور اس کے نوابی کلچر کی وہ بات کرتے ہیں‘ ویسا کبھی تھا بھی یا نہیں۔ پانچ سال پہلے لکھنو کی زیارت کے لئے چند دن وہاں گزارے‘ جس کا احوال آئندہ کسی کالم میں تفصیل سے بیان کروں گا۔ موجودہ لکھنو اور اس کے ماحول اور تہذیب کو بہت مختلف پایا۔ لگتا ہے وہ کوئی اور دنیا تھی‘ یا پھر وہ مرزا صاحب کے خیالات کی پرواز کا نتیجہ تھا۔ ان کی تصنیف پر ادیب اور نقاد بہت کچھ لکھ چکے ہیں‘ میں تو کسی قابل نہیں۔ بس ذکر یہ کرنا مقصود تھا کہ اردو ادب کے خزانے میں ماضی اور حال کے لا تعداد نایاب موتی موجود ہیں۔ علم و دانش کے ایسے گوہر کہ عقل دنگ رہ جائے۔ یہ بھی ذکر کے طور پر کہ مولانا عبیداللہ سندھی کے مقالات اور خطابات کو پھر سے دیکھا ہے۔ ان کے افغانستان میں سات سال قیام کی ڈائری کی تلاش ہے۔ کہیں سے مل جائے گی۔
ارے میں تو کتاب چھوڑنے کی بات چھیڑ بیٹھا تھا‘ مگر پھر خیالات کا بہائو تھپیڑوں کی صورت دوسری طرف دھکیل کر لے گیا۔ علم کتاب کا محتاج نہیں ہے‘ اگرچہ دورِ جدید اور ماضی میں بھی یہ ایک اہم سستا اور زود حاصل ذریعہ رہا۔ علم کے لئے آنکھ‘ ذہن اور دل کے دروازوں کا کھلا ہونا ضروری ہے۔ اس سے بڑا جاہل کوئی نہیں جو یہ خیال کرے کہ اس نے سب کچھ پڑھ‘ سیکھ اور سمجھ لیاہے۔ نہ علم کی پیاس کبھی بجھ سکتی ہے اور نہ علم کا احاطہ کرنے کی انسانی صلاحیت گنجائش سے خالی رہ سکتی ہے۔ یہ تو مسلسل عمل ہے‘ نہ رکنے اور نہ ختم ہونے والا۔ ماضی کے درویش عالم اور طالب علم درس گاہوں کے علاوہ براہ راست دیگر عالموں کی گفتگو ‘ ان کی صحبت اور دنیا میں چل پھر کر مشاہدے سے فیض یاب ہوتے تھے۔ حضرت داتا گنج بخش ہجویریؒ کی شہرہ آفاق کشف المحجوب جتنی بار پڑھی جائے‘ اتنا ہی نئے راز کھلتے ہیں۔ دو باتوں کا ذکر کرنا چاہوں گا۔ ایک یہ کہ غزنی میں ہزاروں کتابوں کا ذخیرہ چھوڑ کر آئے تھے‘ اور دوسرے یہ کہ خراسان‘ ایران اور مرکزی ایشیا کے ممالک میں کئی سالوں تک سفر اور اس سفر کے دوران رونما ہونے والے واقعات کا ذکر اس انداز سے کیا کہ ان کی بات کا مقصد واضح ہو جائے۔ دو باتیں اور کرتا چلوں‘ مشاہدہ اور ہر لطیف نکتے کی افکار کی مشین پہ ایسی دھنائی کہ ذرہ ذرہ کھل کر سامنے آ جائے۔ 
آج کے اس جدید دور میں سفر کرنے کے کیا وسائل مہیا نہیں ۔ ماضی میں جہاں لوگ کئی سال سفر کی صعوبتیں برداشت کرتے اور پھر بھی منزل نہ ملتی‘ وہاں آج گھنٹوں میں منزلِ مقصود پر پہنچا جا سکتا ہے۔ کہیں اور‘ کسی دوسرے ملک جانے کی کیا ضرورت؟ وطن عزیز میں بھی بہت کچھ ہے۔ اتنا کہ زندگی گزر جائے لیکن انسان‘ معاشرے اور اس کے رویوں سے لے کر فطرت کی رعنائیوں تک کا مشاہدہ کرتے ہوئے آخری سانس تک بندہ محوِ حیرت رہ سکتا ہے۔ ہاں محو حیرت رہنے کا جذبہ اور شوق اس راہ کا ضروری وسیلہ ہیں۔ موجودہ حالات میں گھر سے باہر نکلنا خطرے سے خالی نہیں۔ جی مچلتا بھی ہے تو چاردیواری میں مقتدرہ قوتیں آڑے آ جاتی ہیں۔ تھوڑا سا غور کیا تو معلوم ہوا کہ یہاں بھی تو بہت کچھ مشاہدے اور غور و فکر کے لئے موجود ہے۔ اپنی اس خوش قسمتی کا اظہار کئے بغیر رہ نہیں سکتا کہ فاختہ نے ہمارے پورچ میں پھیلی دیواروں اور چھت سے چپکی ورجینیا کریپر میں گھونسلا بنایا ہے۔ گزشتہ برس بھی غالباً اسی جوڑے نے یہاں انڈے دئیے اور بچے نکالے تھے اور اس بار بھی ہمیں شرفِ میزبانی بخشا ہے۔ لان میں شام کی چائے پی تو اپنے ارد گرد اس جوڑے کو گھومتے پھرتے دیکھا۔ یہ بھی کیا خوشی ہے ‘ بیان سے باہر ۔ ہر سال ایک ہی جگہ پر دو بارہ تنکے لالا کر جوڑتے ہیں اور انڈے جب دے چکتے ہیں تو ہم قریب بھی نہیں پھٹک سکتے۔ راستہ ہم نے بدل لیا ہے تاکہ مہمانوں کی افزائش نسل اور بچوں کی حفاظت کے فطری تقاضوں میں ہم مخل نہ ہوں۔ چڑیوں کے لئے خود سے ایک گھونسلا بنا کر دیوار کے ساتھ لگا دیا ہے ۔ اس سال ہم ان کی آمد سے ابھی تک محروم ہیں۔ ہو سکتا ہے کبھی کسی جوڑے کی اس گھونسلے پر نظر پڑ جائے۔ چھت پہ جنگلی کبوتر اپنی مرضی سے آتے جاتے رہتے ہیں ۔ دن میں ایک آدھ بار ان کے لئے پانی تازہ کر آتا ہوں۔ لان کے ساتھ ہی رنگ برنگی مچھلیاں تالاب میں گزشتہ چھبیس برسوں سے پال رکھی ہیں۔ فطری ماحول انہیں میسر ہے۔ جب انہیں خوراک ڈالتے ہیں تو ایک ہی وقت میں ساری کی ساری منہ کھولے تیرتی اور ایک دوسرے پر سبقت لیتی گرتی پڑتی نظر آتی ہیں۔ ساٹھ ستر کے لگ بھگ ہیں‘ اور سب کی جائے پیدائش یہی تالاب ہے۔ 
گھر بندی سے پہلے ادھر نظر سرسری تھی‘ اب فطرت کا اپنے ہی محدود ماحول میں مشاہدہ بڑی دنیا کی بہت سی کمیاں دور کر دیتا ہے۔ آج کل تو ہمارے ارد گرد استادہ گھنے درختوں پر رنگ برنگے پرندوں میں بھی اضافہ ہو چکاہے۔ زندگی کی تیز دوڑ سے نکلیں تو فطرت مختلف رنگ میں نظر آئے گی۔ اور ادھر انسان اور چرند پرند کی زندگیوں میں توازن اوراعتدال بھی پیدا ہو گا۔ ادھر بھی نظر کیجئے۔ 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved