تحریر : خورشید ندیم تاریخ اشاعت     25-04-2020

ڈاکٹر

ہیرو محض ایک شعبہ حیات میں نہیں ہوتے۔ سماج کے مطالبات منتوع ہیں اورجو ان کو پورا کرنے کے لیے جان ہتھیلی پر رکھ لیتا یا اپنا خون ِ جگر پیش کر دیتا ہے،وہ ہیرو ہوتا ہے۔
جب قومی مفاد سے لے کر سیاسی نظام تک، ہر شے کی تعریف اورانتظام ریاست نے اپنا وظیفہ بنا لیا تویہ طے کرنا بھی اسی کا کام ٹھہرا کہ ہیرو کون ہو تا ہے۔ شاہراہیں اور چوراہے ایک خاص طرح کی تصویروں اور تمثیلوں سے سجا دیے گئے۔ ذرائع ابلاغ کو اس کے لیے خاص کرد یا گیا کہ وہ ہیرو کاایک تصور لوگوں کے ذہنوں میں بٹھا دیں۔ یوں ہیرو سازی کے باب میں بھی یک رخا پن سامنے آیا۔ ہم یہ بھول ہی گئے کہ زندگی تو تنوع سے عبارت ہے۔ متنوع زندگی میں ہیروبھی ایک جیسے نہیں ہوتے ۔
خارجی دشمن نے جب چڑھائی کی تو اس دیس کے ایسے جوان بھی تھے جو سینے کے ساتھ بم باندھ کر ٹینکوں کے نیچے لیٹ گئے۔ یہ بھی کسی کے بیٹے تھے اور کسی کے باپ تھے۔ ان کے دلوں میں نہیں معلوم کتنی آرزوئیں تھیں جو مچلتی ہوں گی۔ ایک آنگن کا خیال جہاں ان کی محبت مہکتی اور ان کی شفقت چہکتی ہوگی۔ انہوں نے اس کو ایک طرف رکھا اور پورے ملک کو اپنا آنگن سمجھتے ہوئے،اس کی حفاظت کیلئے جان دے دی۔ جنگ کے دنوں میں وہی ہمارے ہیرو تھے۔
ایک لڑائی آج بھی لڑی جا رہی ہے۔ یہ لڑائی ایک ان دیکھے دشمن کے خلاف ہے جو ہمارے گھروں تک آ پہنچا ہے۔ اس ملک کے ڈاکٹر اور ان کا معاون عملہ اس کے خلاف سینہ سپر ہے۔ انہوں نے بھی اپنی جان ہتھیلی پر رکھ لی ہے کہ اس دشمن کو ہم تک نہیں پہنچنے دینا۔ ان کے پاس حفاظتی لباس ہے اور نہ ضروری بندوبست۔ اس کے باوجود یہ ہسپتالوں میں موجود ہیں اور انسانیت کو بچانے کیلئے سر گرم ہیں۔ یہ آج کے ہیرو ہیں۔ یہ ان کا حق ہے کہ ان کے مجسمے بنائے جائیں اور ان کی تصویرسے شاہراہوں اور چوراہوں کو زینت بخشی جا ئے۔
دین کے وہ عالم بھی ہمارے ہیرو ہیں جو اُس وقت لوگوں کودین بتاتے ہیں جب اس میں تحریف کی جا تی ہے۔ جب دین کے نام پر بے گناہوں کو مارا جاتاہے تووہ بھی اپنی جان ہتھیلی پر رکھ لیتے ہیں۔ وہ غلط تعبیروں کا ابطال کرتے ہیں اور اپنی جان کو مولانا حسن جان، مفتی سرفراز نعیمی اورڈاکٹر محمدفاروق خان کی طرح،اس راہ میںن چھاورکردیتے ہیں۔ اس رستے پر قدم رکھتے ہوئے انہیں معلوم ہوتا ہے کہ جان جا سکتی مگر وہ اس پر آمادہ ہوجاتے ہیں۔ ان کے ہیرو ہونے میں بھی کیا شک ہے۔
عبدالستار ایدھی جیسے بھی ہیرو ہیں۔ جب انسانی لاشوں کا تعفن میلوں پھیل جا تاتھااورعزیزواقارب بھی قریب نہیں پھٹکتے تھے، اس وقت ایدھی آگے بڑھتے اوراپنے ہاتھوں سے لاشوں کی تدفین کرتے تھے۔ جن بچوں کو لاوارث سمجھ کر معاشرہ قبول کرنے سے انکار کر تا، ایدھی انہیں اپنا لیتے تھے۔ یہ نصف صدی سے زیادہ کا قصہ ہے اور اب تو وہ بچے بڑھاپے کی حد کوچھو رہے ہوں گے جنہیں ایدھی نے زندگی کا راستہ دکھایا۔
جماعت اسلامی کی رضاکار تنظیم کے کارکن اس قوم کے ہیرو ہیں جو وبا کے ان دنوں میں اپنی جان کی پروا کیے بغیرقریہ قریہ جاتے اورکسی صلے کی تمنا کے بغیر لوگوں کی خدمت کرتے ہیں۔ اس تنظیم کا ایک ڈاکٹراپنی جان دے کر شہادت کا رتبہ پا چکا۔ جماعت اسلامی کی تو خیر سماجی خدمت کی ایک تاریخ ہے جوبرسوں پر محیط ہے۔ پھر اخوت جیسے ادارے ہیں جو برسوں سے انسانی دکھوں کا مداوا کر رہے ہیں۔یہ سب قوم کے ہیرو ہیں۔
ایک سماج کی بنت میں کئی رنگ کے دھاگے شامل ہوتے ہیں۔ رنگوں کا یہ تنوع ہی اس کو خوشنما اور متوازن بناتا ہے۔ علما، سکالرز، سائنس دان، سیاست دان، فوج کے جوان، موسیقار، گائیک، شاعر، ادیب، صحافی، گنتے چلے جائیے، یہ سب طبقات ایک سماج کو زندہ اور قائم رکھنے میں اپنا کردار ادا کر تے ہیں۔ ان میں بہت سے وہ ہوتے ہیں جو ہیرو کا درجہ پاتے ہیں۔ جو اپنے فن کو اپنا خون جگر دیتے ہیں۔ ناتمام نقوش کو تمام کرتے ہیں۔سب سے بڑا ہیرو تواستاد ہو تا ہے۔ وہ جو رجالِ کار تیار کر تا ہے۔ استاد پہلی جماعت کا ہو یا سولہوں جماعت کا۔ سکول کا ہو یا مدرسے کا، دونوں کا کردار ایک جیسا ہوتا ہے اور یوں سماجی مقام بھی ایک جیسا۔ جو معاشرے استادوں کی قدر نہیں کرتے ، وہ علم کی قدر بھی نہیں کرتے اور جو علم کی قدر نہیں کرتا، وہ محروم رہتا ہے۔ ہماری محرومی کا ایک بڑا سبب یہی ہے کہ ہم معاشرتی سطح پر استاد کی قدر نہیں کر سکے۔
ایک متوازن معاشرہ سب کی قدر کر تا ہے۔ سب کی کارکردگی کو سراہتاہے۔ جو کسی کی وقعت کو کم نہیں کرتا۔ جو سب کی یادگاریں بناتا ہے اور شعوری سطح پر ان کی خدمات کا اعتراف کر تا ہے۔ اسی کے نتیجے میں آنے والی نسلوں میں ایسے رجالِ کار پیدا ہوتے ہیں جوجانے والوں کاخلا بھرتے ہیں‘اور معاشرے کا ارتقا رکتا نہیں۔ کوئی فن ماہرین سے خالی نہیں ہو تا اور یوں عدم توازن پیدا نہیں ہوتا۔
جب سماجی سطح پر کسی ایک شعبے کو ہیرو سازی کے لیے چن لیا جا ئے اور دوسروں کو نظر انداز کر دیا جا ئے تو آنے والی نسلیں ان میں کوئی کشش محسوس نہیں کرتیں۔ جب بچے چوکوں اور شاہراہوں پر یا ذرائع ابلاغ کے توسط سے یہ جانتے ہیں کہ ہیرو ایک ہی طرح کے ہوتے ہیں تو قوم کی ذہانتیں اسی ایک شعبے کا رخ کر تی ہیں اور یوں دیگر شعبے با صلاحیت لوگوں سے محروم ہو جاتے ہیں۔
اس میں شبہ نہیں کہ ہر شعبے میں ایسے لوگ ہوتے ہیں جو اس کے لیے باعثِ ننگ ہوتے ہیں۔ بد دیانتی یا تساہل کی وجہ سے وہ ہم پیشہ لوگوں کے لیے شرمندگی کا سبب ہو تے ہیں لیکن ایک معاشرے پر بعض اوقات ایسا وقت آتا ہے کہ اُس شعبے کے کچھ لوگ اپنی قربانی سے ان کی کوتاہیوں کا کفارہ ادا کر دیتے ہیں۔ایسا ہی ایک شعبہ ڈاکٹرز کا بھی ہے۔
کورونا کے دنوں میں ہمارے ڈاکٹرز اور معاون عملہ جس جان فشانی سے اپنا کردار ادا کر رہا ہے، اُس نے ڈاکٹرز کے وقار میں اضافہ کیا ہے۔ وسائل کی عدم دستیابی کے باوجود، انہوں نے دن رات ایک کررکھاہے۔ یہ سب لوگ پوری قوم کی تحسین کے مستحق ہیں۔ قوم ان کی خیریت کے لیے دعا گو ہے۔ ان کی خیریت سے بہت سی انسانی جانوں کی خیریت وابستہ ہے۔ 
یہ ڈاکٹر اس وقت سب سے زیادہ حکومت کی توجہ کے مستحق ہیں۔ میرے علم میں ہے ایسے ڈاکٹربھی ہیں جو بغیر تنخواہ کے ، کام کر رہے ہیں۔ انہیں حفاظتی لباس تک نہیں دیا گیا۔ ان کی حفاظت کا انتظام ترجیحی بنیادوں پر ہو نا چاہیے تاکہ وہ دوسروں کی جان بچا سکیں۔ یہی نہیں،ا نہیں ہیرو کا درجہ دینا چاہیے تا کہ نئی نسل میں خدمت کا جذبہ پیدا ہو۔ان کی تصویریں چوکوں اور چوراہوں میں آویزاں ہو نی چاہئیں۔
یہ ڈاکٹر ہمیں آنے والے دنوں کے بارے میں متنبہ کر رہے ہیں۔ وہ لاک ڈاؤن ختم کر نے کے متوقع نتائج بتا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ابھی سے ہسپتال بھر چکے۔ جب سے لاک ڈاؤن کو نرم کیاگیا ہے، مریضوں کی تعداد میں کئی گنا اضافہ ہوچکا۔ وہ لاک ڈاؤن کو جاری رکھنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ لازم ہے کہ ان کی بات پر کان دھرے جائیں۔
بحران ، بعض اوقات ان لوگوں کی اہمیت کو واضح کرتے ہیں جن کو ہم عام دنوں میں نظر انداز کر دیتے ہیں۔ یہ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ سماج تنوع ہی سے قائم رہتا ہے۔ اس کی بقا کے لیے ضروری ہے کہ ہر فن اور پیشے میں بڑے لوگ پیدا ہو تے رہیں۔ یہ اسی وقت ممکن ہو گا جب ہیرو سازی کا عمل کسی ایک شعبے تک محدود نہ رہے۔ پھر یہ کہ ہیرو بنانے کا عمل سماجی عوامل کے زیر اثر آگے بڑھنا چاہیے، ریاستی قوت سے نہیں۔ ایک متوازن معاشرے کی تشکیل اسی طرح ممکن ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved