تحریر : رؤف کلاسرا تاریخ اشاعت     15-05-2020

Parasites

اسلام آباد ایسا سرکس ہے جہاں آپ کو روز نیا کرتب دیکھنے کو ملتا ہے۔ ایسے ایسے سیاسی مداری اور کھلاڑی ملتے ہیں‘ آپ حیران ہو جاتے ہیں کہ ایسی چنگاری بھی یا رب اپنی خاکستر میں تھی۔
جو نئی حکومت آتی ہے وہ اپنے ساتھ نئے Parasites لاتی ہے جن کا نام آپ نے کبھی نہیں سنا ہوتا۔ مشیروں اور سپیشل اسسٹنٹس کی تعداد سولہ سے بڑھ چکی۔ اکثر ذاتی دوست یا پارٹی کے تنخواہ دار ملازم تھے۔ آپ حیران ہوتے ہیں‘ فلاں صاحب کون اور کہاں سے ٹپک پڑے‘ پس منظر کیا ہے اور حکمرانوں سے کیا تعلق ہو سکتا ہے یا ملک کے لیے ایسی کیا خدمات تھیں جو نظروں سے اوجھل رہیں؟ یہ دراصل وہ لوگ ہوتے ہیں جو سیاستدانوں اور حکمرانوں پر سرمایہ کاری کرتے رہتے ہیں۔ کوئی بھی اقتدار میں آ جائے‘ ان کی انگلیاں گھی میں تو سر کڑاہی میں رہتا ہے۔ جب پچھلے ہفتے شہباز شریف نیب لاہور میں پیش ہوئے تو میرے ذرائع کے مطابق ان سے پوچھا گیا کہ آپ نے لندن میں جائیداد کیسے خریدی؟ جواب میں انہوں نے برطانیہ کے ایک پراپرٹی ٹائیکون کا نام لیا جو لندن میں پاکستانی وزیروں کو شاپنگ کرانے کے لیے مشہور ہیں۔ شہباز شریف نے کہا: انہوں نے اپنی بھتیجی عاصمہ ڈار اور اس پراپرٹی ٹائیکون سے قرض لیا تھا۔ وہی پراپرٹی ٹائیکون عمران خان کے قریبی دوست ہیں اور اسلام آباد میں ان کے مہمان ہوتے ہیں۔ یہی صاحب شہباز شریف کے بھی ذاتی دوست ہیں اور دوستی اتنی زیادہ ہے کہ ان سے لاکھوں پاؤنڈز لیے جن سے لندن میں جائیداد خریدی۔ ان صاحب کے مانچسٹر والے گھر پر 2014ء میں شہباز شریف کی بیگم تہمینہ درانی صاحبہ کی کتاب کی رونمائی بھی ہوئی اور پارٹی کا انتظام بھی کیا گیا۔ اسی پراپرٹی ٹائیکون کو پھر ہم نے دیکھا کہ وہ لندن ورلڈ کپ کے دنوں میں عمران خان صاحب کے بیٹوں کیلئے کرکٹ سٹیڈیم کے باہر میچ کے ٹکٹ لے کر کھڑے تھے۔
ذرا سین ملاحظہ فرمائیں‘ ایک طرف یہی صاحب شہباز شریف کو لاکھوں پاؤنڈ قرض دے رہے ہیں‘ تہمینہ درانی صاحبہ کی کتاب کی رونمائی کروا رہے ہیں‘ دوسری طرف وہ عمران خان کے بچوں کو کرکٹ میچ بھی دکھانے لے جاتے ہیں۔ تہمینہ درانی کی کتاب کی رونمائی کے وقت شہباز شریف تین دن ان کے گھر رہے‘ جبکہ تہمینہ درانی دس دن میزبانی سے لطف اندوز ہوتی رہیں۔ شہباز شریف وزیر اعلیٰ ہوتے ہوئے بھی دو دفعہ مانچسٹر گئے تو انہی صاحب کے گھر قیام کیا۔
آپ کہیں گے اس میں کیا برائی کیا ہے؟ برائی تو واقعی کوئی نہیں‘ لیکن یہ ضرور ہے کہ پیسے میں کتنی طاقت ہے کہ عمران خان اور شہباز شریف اس وقت ''حالتِ جنگ‘‘ میں ہیں‘ بلکہ کئی برسوں سے ہیں‘ وہ ایک دوسرے پر سنگین الزامات لگاتے ہیں‘ ایک دوسرے کا نام یا شکل تک نہیں دیکھنا چاہتے‘ لیکن دونوں کا دوست ایک ہے جو دونوں کے بیوی بچوں تک کا لندن میں خیال رکھتا ہے۔
اس پراپرٹی ٹائیکون کے معاملے میں عمران خان صاحب لائن ڈرا نہیں کرتے کہ جناب اگر تمہاری شہباز شریف جیسے ''کرپٹ‘‘ بندے سے اتنی دوستی ہے کہ تم انہیں لاکھوں پاؤنڈز دیتے ہو کہ فلیٹ خرید لو اور تمہارے گھر پر شہباز شریف اپنی بیگم کے ساتھ ٹھہرتے ہیں اور کتاب کی رونمائی ہوتی ہے تو پھر آپ ٹھیک بندے نہیں ہیں۔ عمران خان بار بار جلسوں میں یہ اعلان کرتے تھے کہ کرپٹ لوگوں کا سماجی بائیکاٹ ہونا چاہیے‘ ان لوگوں سے نہ ملیں جنہوں نے ملکی خزانہ لوٹا‘ لیکن حیرانی کی بات ہے کہ یہ فارمولا انہوں نے اپنے پراپرٹی ٹائیکون دوست پر لاگو نہیں کیا۔ اس معاملے میں انہوں نے ''گنجائش‘‘ نکال لی ہے۔ اسی طرح شہباز شریف نے بھی کبھی اس بات کا برا نہیں منایا کہ اس پراپرٹی ٹائیکون کا عمران خان صاحب سے اتنا یارانہ ہے کہ ان کے بچوں کو میچ دکھانے لے جاتا ہے۔
سوال یہ ہے برطانیہ کے یہ پراپرٹی ٹائیکون کیا مفت میں یہ سب کرتے ہیں؟
دنیا میں کہیں فری لنچ نہیں ہوتا۔ وہ صاحب عمران خان کے ساتھ اہم اجلاس میں بیٹھے نظر آتے ہیں‘ کنسٹرکشن کے کام میں ان کی بہت دلچسپی ہے اور ابھی بڑی رعایتیں بھی حکومت نے کنسٹرکشن انڈسٹری کو دی ہیں۔ وہ پراپرٹی ٹائیکون جو پیسہ وزیروں اور بڑے لوگوں پر ان کے لندن وزٹ میں خرچ کرتے ہیں‘ کسی کو جوتے خرید دیے تو کسی کو پرفیوم یا شرٹ‘ تو وہ مفت میں نہیں کر رہے ہوتے۔ یہ کاروباری دس روپے لگا کر دس لاکھ واپس نکال لیتے ہیں۔ کیا آپ سوچتے ہیں کہ ان کے پاس کون سی گیدڑ سنگھی ہے؟ ایک ہی ہے کہ یہ بہت امیر ہیں۔ کے الیکٹرک کے عارف نقوی جو لندن میں فراڈ کا سامنا کر رہے ہیں‘ میں کیا خوبی ہے؟ بہت سارا پیسہ اور فنڈنگ۔ ایسے بہت سے نام ہیں جن کی ایک ہی خوبی ہے کہ ان کے پاس بہت پیسہ ہے اور انہیں پتہ ہے کہ اکثر لوگوں کی کمزوری پیسہ ہوتا ہے۔ یہ پیسہ اسی جگہ خرچ کرتے ہیں جہاں سود سمیت نکال سکیں۔ ان کا سیاستدانوں کو کرپٹ کرنے کا ایک ہی طریقہ ہوتا ہے کہ یہ انہیں پارٹی فنڈز کے نام پر پیسے کھلائیں گے یا چندہ دیں گے۔ انہیں پتہ ہوتا ہے کہ ''پارٹی فنڈ‘‘ کا مقصد پارٹی لیڈر کی جیب بھرنا ہوتا ہے۔ شہزاد اکبر جب بدھ کے روز پریس کانفرنس میں شہباز شریف کے بچوں کے اکاؤنٹس میں کروڑوں روپے مختلف لوگوں کی طرف سے ٹرانسفر کئے جانے کی کہانیاں سنا رہے تھے تو وہ یہی بتا رہے تھے کہ اس پیسے کو پارٹی فنڈز کا نام دیا گیا تھا اور سب ذاتی اکاؤنٹ میں شفٹ ہو رہا تھا۔ یوں یہ امیر لوگ ان سیاستدانوں کو چیرٹی کے نام پر بھی پیسہ کھلاتے ہیں۔ لیڈروں کو بھی پتہ ہوتا ہے کہ ان لوگوں کو جب موقع ملے گا تو نواز دیا جائے گا‘ اس کی مثال حالیہ شوگر‘ گندم‘ ادویات اور آئی پی پیز سکینڈلز ہیں۔ ان سب سکینڈلز میں ایک بات آپ کو مشترک ملے گی کہ اس میں عمران خان صاحب کے وہی قریبی دوست ملوث ہیں جنہوں نے ان پر بے پناہ پیسہ خرچ کیا ہوا ہے یا چندہ دیا ہے۔ وہ اب اپنا پیسہ سود سمیت نکال رہے ہیں۔
جب آئی پی پیز سکینڈل کی رپورٹ کابینہ میں آئی تو اس سے پہلے کسی وزیر نے رزاق دائود اور ندیم بابر کے بارے بات کی تو وزیر اعظم صاحب نے خود ہی دونوں کی تعریفوں کے پل باندھ دیے۔ ایک طرف ندیم بابر اور رزاق دائود کے نام وزیراعظم کی اپنی بنائی ہوئی انکوائری رپورٹ میں آرہے ہیں اور دوسری طرف خود وزیراعظم ان کا دفاع کررہے ہیں۔ ندیم بابر کے بارے بھی خان صاحب نے یہی کہا کہ بڑے زبردست بندے ہیں۔ واقعی‘ زبردست بندہ ہی آئی پی پیز میں لمبا ہاتھ مار سکتا ہے۔ اب ان سب نے وہ رپورٹ بھی دبوا دی ہے‘ اب ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہو سکتی۔ کتنے بھائو پڑی یہ تبدیلی؟
اب بتائیں عمران خان صاحب کے برطانوی دوست پاکستان میں ہاؤسنگ سیکٹر کے نام پر چاند چڑھاتے ہیں اور کل کو شہباز شریف حکومت میں آ جاتے ہیں تو کیا وہ یہ جرأت کر سکیں گے کہ اس پراپرٹی ٹائیکون کے خلاف کوئی کارروائی کریں جس کے گھر وہ مانچسٹر جا کر ٹھہرتے تھے‘ جس کے گھر تہمینہ درانی دس دن قیام کر چکی ہوں‘ کتاب کی رونمائی ہو اور پھر شہباز شریف نیب کو بتائیں کہ اس پراپرٹی ٹائیکون نے فلیٹس خریدنے کے لیے پیسے دیے تھے؟ اب آپ کو سمجھ آئی یہ پیراسائٹس کیا ہوتے ہیں اور کیسے ہمارے محبوب لیڈرز ان کا لہو چوستے ہیں اور وہ پھر ندیم بابر اور رزاق دائود کی آئی پی پیز کی شکل میں ہمارا لہو چوس لیتے ہیں۔
بے چاری نوجوان نسل سوشل میڈیا پر شریفوں اور عمران خان کے نام پر سارا دن گندے ٹرینڈز چلاتی ہے‘ ایک دوسرے کو گالیاں دیتی ہے‘ جبکہ عمران خان اور شہباز شریف کے دوست بھی مشترک ہیں‘ جو اِن کے خرچے بھی اٹھاتے ہیں‘ فنڈنگ بھی کرتے ہیں۔ اور تو اور پاکستان سے گئے وزیروں کو جوتے‘ کپڑے بھی خرید دیتے ہیں۔ یہی وہ پیراسائٹس ہیں جن پر بنی کورین فلم کو اس سال آسکر پر بہترین فلم کا ایوارڈ ملا ہے۔
اب آپ پوچھیں گے یہ پیراسائٹس کس بلا کا نام ہے؟ پیراسائٹس وہ جاندار ہوتے ہیں جو دوسروں پر پلتے ہیں‘ وہ کسی جانور یا انسان کے اوپر اپنا گزارہ کرتے ہیں‘ اسی سے خوراک لیتے ہیں‘ اسے اندر ہی اندر کھاتے رہتے ہیں اور آخرکار بیماریوں کی وجہ بنتے ہیں۔ اب آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ پاکستان کن پیراسائٹس کی وجہ سے اس حالت کو پہنچا ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved