تحریر : عمران یعقوب خان تاریخ اشاعت     04-06-2020

ڈونلڈ ٹرمپ اور جو بائیڈن: ایک سکے کے دو رخ!!

''میرا دم گھٹ رہا ہے، میرا دم گھٹ رہا ہے‘ جارج فلائیڈ کے یہ آخری الفاظ تھے لیکن یہ الفاظ اس کے ساتھ نہیں مرے، یہ آج بھی امریکا بھر میں سنائی دے رہے ہیں، یہ پورے امریکا میں گونج رہے ہیں‘‘ ڈیموکریٹ صدارتی امیدوار جو بائیڈن کے یہ الفاظ امریکا کی موجودہ تصویر کی درست عکاسی کرتے ہیں۔ امریکا کے صدارتی الیکشن میں 20 ہفتے باقی ہیں۔ کورونا وائرس کی وبا نے امریکا کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ ایک لاکھ سے زیادہ امریکی اس مرض سے ہلاک ہو چکے ہیں۔4 کروڑ امریکی بیروزگار ہیں۔ کورونا وائرس کی وجہ سے بے روزگاری اور معاشی بد حالی نے پہلے ہی امریکا میں اقلیتی برادریوں کی کمر توڑ رکھی تھی، ایک سیاہ فام شہری کی پولیس کے ہاتھوں بے رحمانہ ہلاکت نے جلتی پر تیل کا کام کیا، اب امن قائم کرنے کے لیے فوج تعینات کرنا پڑ گئی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مظاہرین کو کچل دینے کے بیانات دے رہے ہیں، بائبل اٹھا کر تصویریں بنوا رہے ہیں، سینٹ جان پال دوم کے مزار پر بھی جانے کا پروگرام ہے۔ سفید فام بالا دستی چاہنے والوں کا نمائندہ امریکی صدر اب مذہب کو بھی سیاست میں لانے پر مجبور ہو چکا ہے۔ اس کے مقابلے میں ڈیموکریٹک پارٹی کے صدارتی امیدوار جو بائیڈن اقلیتوں کے حقوق کا چیمپین بننے کی کوشش کرتے نظر آ رہے ہیں۔ اپنی حالیہ تقریر میں جو بائیڈن نے کہا کہ وہ خوف اور تقسیم کی سیاست نہیں کرے گا، نفرت کے شعلوں کو ہوا نہیں دے گا،امریکا کو طویل مدت سے جس نسل پرستی نے گھیر رکھا ہے اس سے لگنے والے زخموں کو مندمل کرنے کی کوشش کرے گا اور ان زخموں کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال نہیں کرے گا، اپنا فرض نبھائے گا اور ذمہ داری قبول کرے گا، دوسروں پر اپنی غلطیوں اور ناکامیوں کا الزام نہیں دھرے گا۔
جو بائیڈن ہر اقلیتی برادری کو اپنے حق میں کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ سے مایوس اور دلبرداشتہ اقلیتوں کے لیے جو بائیڈن کے سوا کوئی آپشن بھی نہیں۔ امریکا میں مسلمانوں کی وفاقی سطح پر نمائندگی کے دعوے دار گروپ نے بھی جو بائیڈن کی حمایت کا اعلان کیا۔ اس اعلان کے فوری بعد جو بائیڈن نے کہا کہ بحیثیت صدر میں امریکا بھر میں مسلمانوں کے حقوق کا ساتھ دوں گا، مسلمانوں پر لگائی گئی ٹرمپ کی پابندیوں کا فوری خاتمہ کروں گا۔ جو بائیڈن کا بیان بظاہر امریکی مسلمانوں اور دنیا بھر کے مسلم شہریوں کے لیے تسلی بخش ہے لیکن کیا جو بائیڈن کے الفاظ کافی ہیں یا ماضی میں اس کی پالیسیوں اور بیانات کو بھی سامنے رکھنا چاہئے۔
جو بائیڈن سابق صدر بارک اوباما کے ساتھ نائب صدارت کا عہدہ رکھتے تھے۔ اوباما دور میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مساجد میں مسلمانوں کی نگرانی کا پروگرام شروع کیا گیا۔ اس پروگرام کے تحت مساجد میں عطیات دینے والوں کو دہشت گردی کے نام پر نشانہ بنایا گیا۔ نیو یارک پولیس نے مسلمانوں کے اندر سے ہی لوگوں کو مخبر بھرتی کیا جو مساجد میں آنے والے مسلمانوں کے لیے جال بچھاتے تھے، عطیات کی تفصیل جمع کر کے انہیں دہشت گردی کے ساتھ جوڑا جاتا تھا اور مسلمانوں کو ظلم کا سامنا کرنا پڑا۔ سی آئی اے کا یہ وار آن ٹیرر پروگرام صدر اوباما اور نائب صدر جو بائیڈن کے دور میں شروع کیا گیا اور ان کی منظوری سے شروع ہوا۔ سی آئی اے کے اس پروگرام کے تحت جتنے بھی لوگ دہشت گردی کے الزام میں گرفتار ہوئے بعد میں عدالتوں سے بے گناہ قرار پائے لیکن ان پر ڈھائے گئے ظلم اور قید و بند کی صعوبتوں کی ذمہ داری کسی نے نہ لی۔ اوباما اور جو بائیڈن نے یہ پروگرام 2011ء میں شروع کیا تھا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اس پروگرام کو نئے نام سے جاری رکھا ہوا ہے۔ اوباما کا وار آن ٹیرر پروگرام امریکا کے اندر سیاہ فام اور دیگر نسلی اقلیتوں کے خلاف وار آن کرائم کے نام سے شروع کیا گیا۔ وار آن کرائم اور انسداد دہشت گردی پروگراموں نے امریکی اقلیتوں کی زندگی حرام کئے رکھی جس کا نتیجہ آج دنیا بھر کے سامنے ہے اور امریکا آگ میں جل رہا ہے۔ یہ آگ امریکا کی سیاسی و عسکری قیادت کی بھڑکائی ہوئی ہے جو اب ان کے قابو میں نہیں آ رہی بلکہ وہ اسے قابو میں کرنے کی بجائے سیاسی فائدے کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ 
اس میں کوئی شک نہیں کہ ٹرمپ کی پالیسیوں نے سیاہ فام اور دیگر نسلی اقلیتوں کو نا قابل تلافی نقصان پہنچایا لیکن ڈیموکریٹک پارٹی اور اس کے امیدوار اب ٹرمپ کی غلطیوں کو اجاگر کر کے خود معصوم نظر آنے کی کوشش میں ہیں۔ اوباما دور میں بھی تارکین وطن کو جبری واپس بھجوایا جاتا رہا‘ لیکن اب ڈیموکریٹس سے سوال کریں تو وہ ٹرمپ کو تارکین وطن کا دشمن بتاتے ہیں۔ امریکا کے مسلمان اب کنزرویٹو پارٹی یا ٹرمپ پر اعتماد کو تیار نہیں اس لیے جوبائیڈن کے پیچھے کھڑے ہوتے نظر آتے ہیں لیکن کیا جو بائیڈن کی زبانی تسلی کافی ہے، کیا جو بائیڈن مسلمانوں کے خلاف شروع کئے گئے اوباما دور کے پروگراموں کو ختم کرنے کا اعلان کریں گے۔ یوں لگتا ہے کہ دو برائیوں میں سے چھوٹی برائی کو قبول کرنے کا آپشن اپنایا جا رہا ہے۔ 
امریکا سے باہر مسلم ملکوں میں بھی امریکی صدارتی الیکشن اہمیت کا حامل ہوتا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیاں تو مسلم دنیا کے سامنے ہیں اور اس کی مخالفت بھی موجود ہے۔ جو بائیڈن نے ٹرمپ کے دور میں فلسطین کی بند کی گئی امداد بحال کرنے کا اعلان کیا ہے لیکن اسرائیل کی توسیع پسندی کی مذمت نہیں کی۔ جو بائیڈن کھلے عام کہہ چکے ہیں کہ فلسطینیوں کو اسرائیل کا وجود تسلیم کرنا چاہئے۔ فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ اگر اسرائیل کا وجود تسلیم کر لیا جائے تو بین الاقوامی طور پر مسلمہ اصول‘ جس کے تحت بے گھر فلسطینیوں کی واپسی ہو سکتی ہے‘ ختم ہو جائے گا۔ 
فروری میں ایک صدارتی مباحثے میں افغانستان کے متعلق بات کرتے ہوئے جو بائیڈن نے کہا تھا کہ افغانستان کی تعمیر نو اور اسے ایک ملک کے طور پر قائم رکھنے کی ضرورت نہیں بلکہ وہ ایک ملک کے طور پر رہنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے، ہمیں وہاں صرف انسداد دہشت گردی پر توجہ دینا چاہئے۔ جو بائیڈن کے یہ خیالات خطے میں ان کی پالیسیوں کے عکاس ہیں۔ بارک اوباما اور جو بائیڈن کے دور میں جس قدر بمباری اور ڈرون حملے افغانستان کے اندر اور پاک افغان بارڈر پر ہوئے اس کی مثال نہیں ملتی۔ عراق پر امریکی حملے سے برسوں پہلے جو بائیڈن عراق پر حملے کی وکالت کرتے رہے۔ عراق اب تک امریکی جنگ کی تباہ کاریوں سے باہر نکلنے کی کوششوں میں ہے۔ 
امریکی صدارتی الیکشن سے پہلے پاکستان سمیت دنیا بھر میں اس کے نتائج پر پیش گوئی کی جا رہی ہے۔ ٹرمپ اور بائیڈن کا موازنہ ہو رہا ہے۔ ایک بڑی اکثریت ٹرمپ کو صدارتی الیکشن میں ہارتے دیکھنا چاہتی ہے اور اسی خواہش کو تجزیہ اور تبصرہ بنا کر پیش کر رہی ہے۔ اگر امریکا میں ہونے والے ان مظاہروں اور امریکی صدر کی اگلی مدت صدارت کے الیکشن میں شکست سے مسلم دنیا میں کسی نے کچھ امیدیں جوڑ رکھی ہیں تو انہیں خبردار رہنا چاہئے۔ ویسے بھی الیکشن میں ابھی چار ماہ باقی ہیں اور سیاست میں چار ماہ ایک پوری سیاسی زندگی بھی ہو سکتے ہیں۔ جو بائیڈن ہوں یا ڈونلڈ ٹرمپ، دونوں ایک سکے کے دو رخ ہیں، ان سے بہتری کی امید امریکی مسلمانوں کو بھی نئے زخم دے گی اور امریکا سے باہر مسلم ملکوں کے لیے بھی کوئی اچھا شگون ثابت نہیں ہو گی۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved