تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     10-06-2020

سرخیاں‘متن اور نعیم ؔضرار کی شاعری

سٹیل ملز بارے جو بھی فیصلہ ہوگا‘ شفاف ہوگا: شبلی فراز
وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ ''سٹیل ملز بارے جو بھی فیصلہ ہوگا‘ شفاف ہوگا‘‘ کیونکہ اب تک جو کچھ بھی ہوا ہے‘ شفاف طریقے ہی سے ہوا ہے‘ جیسا کہ کچھ لوگ پورے شفاف طریقے سے ملک چھوڑ گئے ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ انہیں مزید سزا دینے کی ضرورت نہیں‘ کیونکہ ان کے لیے یہی کرنا کافی ہے کہ وہ وطن سے دُور عبرت ناک زندگی گزارنے پر مجبور ہوں گے‘ بلکہ ان کے علاوہ اگر ان میں سے کوئی اور بھی یہ سزا پسند کرے تو اسی شفاف طریقے سے لندن یا بیرون ِملک کہیں بھی جا سکتا ہے اور آٹاو چینی بحران پیدا کرنے والوں کے لیے اس سے سخت سزا اور کوئی نہیں ہو سکتی۔ آپ اگلے روز اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔
حکومت چھ ماہ مزید رہی تو ملک کی ذمہ داری 
لینے کو کوئی تیار نہیں ہوگا: احسن اقبال
سابق وفاقی وزیر داخلہ چوہدری احسن اقبال نے کہا ہے کہ ''حکومت چھ ماہ مزید رہی تو ملک کی ذمہ داری لینے کو کوئی تیار نہیں ہوگا‘‘ کیونکہ یہ ذمہ داری صرف خاکسار ہی لے سکتا تھا‘ لیکن میرے ساتھ بھی نا اہلی کی انتہا کی جا رہی ہے‘ یعنی پہلے میرے خلاف انکوائری کی جا رہی تھی‘ لیکن اب اسے انویسٹی گیشن میں تبدیل کر دیا گیا ہے اور جس سے ثابت ہو گیا ہے کہ حکومت اپنی کسی بات پر قائم رہنے کی اہل نہیں ہے اور گرگٹ کی طرح رنگ بدلتی رہتی ہے اور کوئی پتا نہیں کہ کل کو میر ے خلاف یہ انویسٹی گیشن کو ریفرنس میں تبدیل کر دے ‘جس سے مزید ثابت ہو جائے گا کہ وہ اپنی کسی بات پر قائم نہیں رہتی۔ آپ اگلے روز لاہور میں میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔
غلط فہمیاں پیدا کرنے کی سازش
کامیاب نہیں ہوگی: عثمان بزدار
وزیراعلیٰ پنجاب عثمان احمد بزدار نے کہا ہے کہ ''غلط فہمیاں پیدا کرنے کی سازش کامیاب نہیں ہوگی‘‘ کیونکہ یہ محض وقت ضائع کرنے والی بات ہے کہ غلط فہمیاں پیدا کرنے کے لیے سازش کا تکلف کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی اور سیدھی سیدھی لگائی بجھائی سے بھی یہ مقصد حاصل کیا جا سکتا ہے‘کیونکہ آگ لگانے کے بعد اسے بجھانا بھی ضروری ہوتا ہے‘ اسی لیے لگائی کا لفظ پہلے آتا ہے اور بجھائی کا بعد میں‘ جبکہ ہر چیز اور ہر کام اپنے حسن ترتیب ہی کی وجہ سے اپنے منطقی نتیجے تک پہنچتا ہے ‘ کیونکہ یہ تو ممکن ہی نہیں ہے کہ پہلے آگ کو بجھایا جائے اور بعد اسے لگایا جائے کہ ہر کام اپنی باری پر ہی اچھا لگتا ہے‘ جیسا کہ میں اپنی باری لے رہا ہوں اور اب تک اس میں کوئی خلل نہیں ڈال سکا۔ آپ اگلے روز سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی سے ملاقات کر رہے تھے۔
حکومت پٹرولیم مصنوعات پر آئل کمپنیوں 
کے ساتھ بیٹھ کر فوری حل نکالے: شہباز شریف
سابق وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے کہا ہے کہ ''حکومت پٹرولیم مصنوعات پر آئل کمپنیوں کے ساتھ بیٹھ کر فوری حل نکالے‘‘ بلکہ اس سے بھی پہلے میرے ساتھ بیٹھ کر میرے مسئلے کا حل نکالے اور میری گرفتاری کے لیے چھاپے وغیرہ مروانے سے احتراز کرے‘ جبکہ جان بچانا ہر آدمی کا فرض ہوتا ہے‘ اس لیے حکومت کو چاہیے کہ کورونا وائرس ہی کا کچھ خیال کرے‘ جس نے اب ہماری جماعت کا بھی رخ کر لیا ہے اور شاہد خاقان عباسی اور مریم اورنگزیب سمیت کئی زعما کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے‘ جس کی ذمہ داری خواہ مخواہ مجھ پر ڈالی جا رہی ہے کہ میرے ایک جم غفیر (سپورٹرز) لے کر پھرنے سے یہ نوبت آئی ہے‘ بلکہ حکومت نے اب میرے ساتھ میرے داماد کو بھی طلب کر لیا ہے ؛حالانکہ یہ ایک عزت اور لحاظ داری کا مقام ہوتا ہے‘ لیکن اس حکومت کو کسی چیز کا احساس نہیں ہے۔ آپ اگلے روز لاہور میں میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔
اور‘ اب آخر میں نعیمؔ ضرار کی شاعری:
مل کے بھی تم سے ملاقات نہیں ہو پائی
وہ جو کہنا تھی وہی بات نہیں ہو پائی
ایک دن اس نے شبِ وصل کی خوشخبری دی
ایک اُس دن کی کبھی رات نہیں ہو پائی
پوچھنے غیر بھی آ جاتے ہیں بیمار کا حال
تُم سے اتنی سی بھی خیرات نہیں ہو پائی
سامنے بیٹھ کے دل کھول کے رکھ دوں اپنا
زندگی بھر میری اوقات نہیں ہو پائی
میں تھا خاموش کوئی حرف نہ تم پر آئے
تم یہ سمجھے کہ تمہیں مات نہیں ہو پائی
............
شب سخن میں گئی‘ دو ہاتھ ہی بس رہ گئی ہے
جو ضروری تھی وہی بات ہی بس رہ گئی ہے
کیا ترے ہجر میں ہونا کوئی نسبت ہی نہیں
کیا تعلق میں ملاقات ہی بس رہ گئی ہے
............
میں شدتِ بحران سے نکلوں تو کہوں کچھ
اس جسمِ پریشان سے نکلوں تو کہوں کچھ
وہ شخص ہے یا شہرِ طلسماتِ محبت
میں اُس کے پرستاں سے نکلوں تو کہوں کچھ
وہ مجھ سے مراسم کی وضاحت میں ہے مصروف
میں لذّتِ بُہتان سے نکلوں تو کہوں کچھ
آج کا مطلع
یوں تو بیاناتِ دل اُس کی مذمت میں ہیں
ساری دلیلیں مگر اُس کی حمایت میں ہیں

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved