تحریر : رسول بخش رئیس تاریخ اشاعت     12-06-2020

مجرمانہ غفلت

قومیں اور ممالک سنورتے دیکھے ہیں اور تباہ ہوتے ہوئے بھی۔ یہ آج کی ریاستوں کی داستان نہیں‘ تاریخ جب سے لکھی جا رہی ہے‘ عروج و زوال کی ہزاروں داستانیں قلم بند ہوئیں اور مثال ٹھہریں۔ جنہوں نے اپنے اپنے ادوار میں عرق ریزی کی اور علم کا ذخیرہ آنے والی نسلوں کے لئے چھوڑ گئے‘ وہ ہم سب کے محسن ہیں۔ چراغ جلا گئے کہ روشنی بکھرتی رہے اور راہیں تلاش کرنے والوں کے لئے آسانیاں ہوں۔ یہ علم ہو یا کوئی اور شعبہ صرف حرف شناسی کافی نہیں‘ وسیع گہرا اور روزانہ کی بنیاد پر مطالعہ لازم ہوتا ہے۔ بڑے بڑے اکابرین جو نہ مٹنے والے نشان اور قوموں کو بحرانوں سے نکال کر منزل کی طرف لے جانے کی مثالیں چھوڑگئے‘ وہ تاریخ‘ فلسفہ‘ مذہب اور سماجی علوم سے بہرہ مند تھے۔ یہی حال درویشوں‘ صوفیوں اور اساتذہ کا تھا۔ عملی سیاسی اور اجتماعی معاملات میں علم‘ دانش‘ سنجیدگی‘ خلوص‘ عوام اور وطن سے حقیقی محبت کا تقاضا رہا ہے کہ حکمران ماضی اور حال کے واقعات سے ناصرف واقف ہوں بلکہ تجزیہ کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہوں۔ کسی بھی ملک میں جدید منصوبہ بندی‘ سماجی پالیسیاں‘ اقتصادی ہدف‘ وسائل کا حصول اور ترقی کا عمل فطری طور پر ان لوگوں کے سپرد کیا جاتا ہے‘ جو علم اور وطن دوستی کے جذبات سے معمور ہوں۔ قوموں کی تباہی بے سبب نہیں ہوتی‘ اور ترقی کے لئے کاوش‘ سمت‘ وژن اور ضروری وسائل کا حصول بہت کچھ ممکن کر دیتا ہے۔
ایک نہیں‘ چند نہیں بلکہ عہدِ قدیم سے لے کر آج کے دور تک ہزاروں مضامین اور کتابیں تحریر کی جا چکی ہیں کہ قومیں کیوں زوال پذیر ہوتی ہیں اور ترقی کی منزلیں کیسے طے ہو سکتی ہیں۔ گزشتہ چند صدیوں سے‘ جب سے صنعتی اور سائنسی انقلاب کی بنیاد پڑی ہے‘ زوال اور ترقی علوم سیاسیات‘ اقتصادیات اور سماجیات کے مرکزی موضوع بن چکے ہیں۔ ہر بحران کے بعد ہم نے دیکھا کہ اسباب اور وجوہات کا اعادہ نئے پیرائے میں نئی ترتیب اور ترجیہات کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ بنیادی نکتہ یہ ہے کہ آپ کی کشتی کا ملاح کون ہے‘ کیا وہ پانی کی گہرائی‘ موجوں کی اٹھان‘ طوفانوں کے خطرات‘ منزل کے کنارے کا شعور اور اپنا فرض اور ذمہ داری نبھانے کی استعداد رکھتا ہے؟ شاید یہ مثال آپ کو نہایت ہی سادہ معلوم ہو مگر جو بات میں آپ کے گوش گزار کرنا چاہتا ہوں‘ وہ یہ ہے کہ ہر دور میں حکمرانوں کی ذہنی ساخت‘ علم‘ تجربہ اور خلوص زوال اور عروج کی تاریخ میں فیصلہ کن عنصر رہا ہے۔ جمہوریت میں ہم حکمران کو ایک فرد کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک سیاسی عمل کے طور پر لیتے ہیں۔ جمہوریت ہو یا آمریت فرد کا کردار بحیثیت سربراہ مملکت یا سربراہ حکومت کلیدی ہوتا ہے۔ مگر وہ کسی بھی غلط فیصلے میں نہ اکیلا ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے‘ اور نہ ہی 'سب اچھا‘ صرف اس کے نامۂ اعمال کی زینت بنایا جا سکتا ہے۔ مشیروں‘ وزیروں اور خصوصاً پارلیمانی نظام میں کابینہ کا اجتماعی حکمرانی میں عمل دخل دیگر سیاسی نظاموں میں نمایاں ہے۔ یہ کہنا بھی بہت ضروری ہے کہ آخری تجزیے میں نتائج کی ذمہ داری سے آج کے دور کے جمہوری صدور اور وزرائے اعظم مبرا نہیں قرار دئیے جا سکتے۔ اس لئے انفرادی اور اجتماعی طور پر وہ تمام سیاسی جماعتیں اور ان کے رہنما یا یوں کہئے کہ سیاسی بادشاہ کو جواب دینا ہو گا کہ گزشتہ چالیس برسوں میں ملک کے ادارے کیوں تباہ ہوئے۔
مخصوص سماجی اور سیاسی حالات میں ہم سب عوام‘ یعنی کندھوں پہ سیاسی بادشاہوں کو اٹھا کر ہر دفعہ ایوان اقتدار میں پہنچانے والے بھی تباہی کے ذمہ دار ہیں۔ذرا غور فرمائیں‘ یہ حقیقتیں ہیں‘ افسانہ نہیں۔ قومی ادارے ہوں یا عالمی‘ سب گواہی دے رہے ہیں کہ موجودہ برسوں میں ریاستی تحویل میں صنعتی اور تجارتی اداروں کا سالانہ نقصان دفاعی سے تجاوز کر چکا ہے۔ ان اداروں کا خسارہ ایک اندازے کے مطابق بارہ سو ارب روپے سے کہیں زیادہ ہے۔ پھر کیوں چل رہے ہیں؟ صرف اور صرف سیاست بازی ہے۔ ان کے اس طرح چلنے کا یا وجود رکھنے کا کوئی اقتصادی جواز نظر نہیں آتا۔ مجھے کسی سیٹھ‘ کسی زمیندار‘ کسی تاجر یا کسی صنعت کار کا نام بتا دیں‘ کسی بھی ملک اور کسی بھی دور سے کہ وہ دہائیوں تک خسارے کا کاروبار کرتا رہا ہو۔ آپ کو اگر کہیں سے ایک دفعہ زک پہنچ جائے تو دوسری مرتبہ آپ سوچیں گے بھی نہیں۔ فطری بات ہے کہ عقل مند بار بار خسارے کا سودا نہیں کرتا۔ 
نجی کاروبار اور ریاستی کاروبار میں فرق ہر جگہ یہی رہا ہے کہ عوام اور ملک کی دولت کو غنیمت کا مال سمجھا جاتا‘ اور اپنے مال کی حفاظت اور اس کی بڑھوتری کا پورا پورا خیال رکھا جاتا ہے۔ عجیب بات ہے کہ دو بڑے اور کئی دوسرے اشتراکی ممالک کاروبار ریاست کی تحویل میں دینے سے توبہ کر چکے ہیں‘ اسی لئے چین اور ویت نام نے ترقی کی‘ اور جہاں ریاستی تحویل میں کچھ ادارے ہیں‘ وہاں لوٹ مار کو سختی سے روکا گیا ہے۔ چین اور یہاں تک کہ مغربی ممالک میں بھی جان بوجھ کر کسی بھی ریاستی ادارے کو تباہ کرنا غداری کے مترادف خیال کیا جاتا ہے۔ چین کی یہ مثال کہ ہر کوئی جو کرپشن میں ملوث پایا جائے اسے گولی سے اڑا دیا جائے‘ نہ تو قابلِ تقلید ہے اور نہ ہی قابلِ تعریف‘ مگر اس کا ذکر اس لئے ضروری ہے کہ اجتماعی دولت کی لوٹ مار دانستہ اور منصوبہ بندی کے ساتھ کتنا بڑا قومی جرم ہے۔ اگر آپ کا ذہن کھلا اور انصاف کی کھڑکی بند نہیں تو ذرا اس قومی غداری پر خدا را غور کریں اور ذمہ داروں کو اقتدار سے محروم کرنے کی طاقت نہیں رکھتے تو کم از کم اس بیانیے میں تو درمے‘ سخنے شریک ہوں کہ یہ قوم کے بڑے دشمن ہیں۔ کیا کریں‘ جمہوریت کا ایندھن انہیں نصیب ہے‘ اس لئے وہ کھلم کھلا لوٹتے بھی ہیں اور کہتے ہیں کہ ابھی تک ان کے خلاف کوئی جرم ثابت نہیں ہو سکا۔ اسے کہتے ہیں لوٹ مار کی منصوبہ بندی‘ کہ بڑے بڑے وکیل اور قانون بھی تو وہ خود ہی بناتے ہیں‘ منصفوں کی زیادہ تر تقرری بھی ان کے اشاروں پر ہوتی ہے اور انہوں نے زبان اور کلام پر قادر گماشتوں کے لشکر بھی بنا رکھے ہیں۔ غور فرمائیں‘ 2008 کے بعد سے آج تک پاکستان سٹیل ملز تین سو ارب روپے کا نقصان کر چکی ہے۔ بیس ارب روپے کا تحفہ دے کر سیاسی بھرتی کو گھر بھیجنے کی تیاری ہو رہی ہے۔ یہ بھی اچھا ہے کہ گلوخلاصی ہو۔ 2008 میں یہی کارخانہ دس ارب روپے کی بچت دکھا رہا تھا۔ یہ خوب جمہوریت نے انتقام لیا ہے۔ کلیدی صنعت تباہ کی گئی تو ملک کی معیشت کو گیارہ ارب ڈالرز کا نقصان ہوا۔ سمجھیں‘ سوچیں‘ یہ منصوبہ بندی تھی۔ تباہی کی سازش بہت پہلے سے کام کر رہی تھی۔ ابتدا نجی بجلی گھروں کی تعمیر اور بجلی کی پیداوار خریدنے کے منصوبوں سے ہو چکا تھا‘ کہ پاکستانی صنعت اور صنعت کار عالمی منڈی میں مسابقت اور مقابلے میں مار کھائے گا تو معیشت تباہ ہو گی۔ پھر ایسا ہوتا ہی گیا۔ ہماری قومی ہوائی کمپنی کے خسارے کو دیکھیں اور سیاسی بھرتیوں کی تعداد کو‘ وہی ہونا تھا‘ جو آج ہم دیکھ رہے ہیں۔ یہ خسارے نہ ہوتے تو کتنے شفا خانے تعمیر ہو سکتے تھے‘ جامعات بن سکتی تھیں‘ پانی کے منصوبے تشکیل پا سکتے تھے‘ سڑکیں وسیع کی جا سکتی تھیں اور حقیقی ترقی ہو سکتی تھی۔
کپتان صاحب! آپ کا سٹیل ملز کے بارے میں فیصلہ 'دیر آید درست آید‘ کے مصداق قابلِ تعریف ہے۔ قومی ایئر لائن پر کبھی کسی سنجیدہ آدمی کو بھروسہ تھا‘ نہ اب ہے۔ یہ ناقابل اصلاح ہے‘ اسے بند کریں‘ کل نہیں آج۔ اب بھی وقت ہے‘ اپنی ہی غلطیوں سے سیکھ لیں۔ نیا پاکستان پُرانے پاکستان کی طرز پر نہیں چلایا جا سکتا۔ شاید لوگ تین سال اور انتظار نہ کریں‘ اور یہ سوال اب ہی اٹھانا شروع کر دیں کہ آخر آپ کیا تبدیلی لائے ہیں؟ آپ کے مخالفین تو روزِ اول سے یہ تکرار کر ہی رہے ہیں۔ ایک اور یُو ٹرن لیں اور اپنے منشور پر عمل کر ڈالیں۔ 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved