تحریر : منیر احمد بلوچ تاریخ اشاعت     24-06-2020

بھارت پھر رو پڑا

''گلوان میں مار کھانے کی وجہ ہماری بزدلی نہ سمجھی جائے‘ چین کے ساتھ لڑنے سے ہمیں کوئی خوف نہیں‘ ہم نے تو چینیوں کا وہ حال کرنا تھا کہ ساری عمر یاد رکھتے‘ لیکن کیا کرتے کہ ہمارے پاس ان سے لڑنے کیلئے ضروری سامان ہی نہیں‘ ہمارا تو یہ حال ہے کہ اگر دھوتی اوپر کرتے ہیں تو نیچے سے ننگے ہوتے ہیں اور اگر دھوتی نیچے کریں تو اوپر کاسارا بدن ننگا ہو جاتا ہے‘‘۔ممکن ہے کہ یہ چند فقرے یا سطریں آپ مذاق یا لاف زنی اور کسی قصے کہانی کا باب سمجھ کر نظر انداز کر دیں‘ لیکن میں نے جو کچھ لکھا ہے‘ اس کا ایک ایک حرف سچ ہے اور تحریر کئے گئے یہ الفاظ میرے نہیں‘ بلکہ بھارت کی مسلح افواج اور ان کے ادارےDDP کے افسران کے ہیں‘ جسے ''ڈیپارٹمنٹ آف ڈیفنس پروڈکشن‘‘ آف انڈیا کہہ کر پکارا جاتا ہے۔بھارتی فوج نے وزارت ِدفاع اور وزیر اعظم ہائوس نئی دہلی کو لداخ میں فوجی صورت ِحال کی رپورٹ میں لکھا ہے کہ '' ہماری فوج ‘جو اس وقت لداخ میں چین کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کھڑی ہے‘ اس کا یہ حال ہے کہ جنگ میں فوجیوں کے استعمال کی چار پانچ نہیں‘ کوئی دس پندرہ بھی نہیں‘ بلکہ45 فوجی آئٹمزکی کمی ہے‘ جن میں جنگ یا کسی بھی بڑی جھڑپ میں استعمال ہونے والا ایمو نیشن‘ گرم لباس‘ جو ہم اس بلندی اور انتہائی سرد موسم میں اپنے فوجی جوانوں کو پہنا سکیں اور سب سے بڑھ کر Parachutes Landing جیسی اہم ضرورت سے بھی ہم محروم ہیں‘‘۔ اس قسم کے بہانے اور عجیب و غریب کہانیاں وہ فوج گھڑ رہی ہے‘ جس کا پاکستان کے دس ارب ڈالر کے مقابلے میں71 ارب ڈالر سالانہ کا عسکری بجٹ ہے۔ 
بھارت کی چودہویں کور کے کمانڈر کی وساطت سے لکھے گئے مذکورہ خط کے ذریعے انڈین آرمی چیف نے ڈیپارٹمنٹ آف ڈیفنس پروڈکشن کے ذریعے آرڈیننس فیکٹری بورڈ(OFB) سے کہا گیاہے کہ وہ دی گئی اس فہرست میں درج عسکری ساز و سامان کی جلد از جلد سپلائی کو یقینی بنائیں ‘کیونکہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو پھر ہمیں بھارتی میڈیا اور دوسرے تمام سول سوسائٹی کے اداروں کو بتانا پڑے گا کہ ہم اس سامان کی کمی کی بنا کر چین کو منہ توڑ کرارا جوا ب نہیں دے سکے‘ اس طرح ہم سب کی دنیا بھر میں سبکی ہو گی۔واضح رہے کہ جب لداخ پر تعینات بھارتی فوج کی طرف سے بھیجی گئی‘ اس فہرست کا دفاعی ماہرین نے جائزہ لیا تو وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ اس میں جس نوعیت کے ایمو نیشن کا حوالہ دیا گیاہے ‘وہ دفاعی نکتہ نظر سےBelow 10(1)لیول کا ہے‘ جس کا صاف مطلب ہے کہ اگر چین اور بھارت کی وسیع پیمانے پر جنگ شروع ہو جاتی ہے تو بھارتی فوج کے پاس لداخ کے اس سیکٹر میں دس دن سے زیا دہ کا ایمو نیشن ہی نہیں اور یہ بھی اس وقت جب یہ جنگ وقفے وقفے سے جاری رہے‘ اگر یہ چند دن بھی24/7پیمانے پر لڑی گئی تو پھر صرف چند دنوں کا ایمو نیشن اور اسلحہ کے پرزہ جات استعمال ہو سکیں گے۔ 
ذہن نشین رہے کہ ہتھیاروں کی فوری فراہمی کی درخواست کے ساتھ سب سے اہم 20 قسم کے جن پرزوں اور ایمو نیشن کا مذکورہ خط میں ذکر ہے ‘ان میں سے پانچ ایسے ہیں‘ جو آرڈیننس فیکٹریوں میں تیاار نہیں ہوتے ‘بلکہ بیرونی ممالک سے بھی امپورٹ کئے جاتے ہیں اور یہ خبر تشویشناک ہے کہ بھارتی فوج کے پاس ان کا سٹاک نہیں۔ بھارت کی لداخ کے دفاع کیلئے14th کور کے کمانڈر کے مطا بق‘ باقی اکیس اشیاء میں ‘ بد ترین سردیوں میں پہنا جانے والا لباس اور سپلائی گرانے والا سامان شامل ہے۔DDP کے مطابق‘ اس فہرست میں سب سے چونکا دینے والی بات تین آرٹلری گنوں کی کمی ہے ‘جن کے متعلق آرمی چیف کا علیحدہ سے نوٹ ہے کہ وہ ان کے متعلق اس سے پہلے بھی درخواست کر چکے ہیں کہ جلد از جلد یہ گنیں سکیورٹی فورسز کے حوالے کی جائیں۔بات یہیں نہیں رکتی‘ بلکہ خط میں شکوہ کیا گیا ہے کہ اس قسم کی167 گنیں‘ ہمیں ابھی تک آرڈننس فیکٹری بورڈ (OFB)نے بھی مہیا نہیں کیں۔ ان سے جب بار بار کہا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ کووڈ19کی وجہ سے تمام پروڈکشن فی الحال بند کی ہوئی ہے۔
(OFB)جسے یہ نوٹ'' موسٹ ارجنٹ‘‘ کی مارکنگ کے ساتھ DDP کی جانب سے9 جون کو موصول ہوا‘ اس نے بھارت کے مختلف مقامات پر قائم41 آرڈیننس فیکٹریوں کو یہ ڈیمانڈز ارسال کر دی ہیں‘ لیکن کسی جانب سے ہمیں اطمینان بخش جواب نہیں مل رہا۔ بھارتی فوج کا یہ کوئی نیا بہانہ نہیں‘ 1999 ء میں جب پاک فوج نے بھارت کو اچانک کارگل پر جا پکڑا تھا تو اس وقت کے جنرل وی پی ملک بھارت کے آرمی چیف تھے‘ انہوں نے بھی خفت مٹانے کیلئے اسی قسم کا رونا دھونا شروع کر دیا کہ ہمارے پاس چونکہ ضروری ایمو نیشن اور مائنس تیس کی سردی کیلئے گرم لباس نہیں‘ ورنہ ہم دشمن کو ناکوں چنے چبوا دیتے۔Kargil : From Surprise to Victoryکے نام سے اپنی کتاب کے صفحہ 149 پر وی پی ملک نے لکھا ہے کہ '' بھارت کیلئے سب سے پریشان کن بات یہ تھی کہ پاکستانی سکیورٹی فورسز نے دراس سیکٹر میں تولو لانگ درے پر قبضہ کر لیا تھا ‘جو اس سڑک سے صرف پانچ کلو میٹر دُور تھی‘ جو لیہ‘ کارگل اور سری نگر ہائی وے کو آپس میں ملاتی ہے اور جس کی بھارت کی دفاعی لائن کیلئے حیثیت ریڑ ھ کی ہڈی کی طرح ہے اور اس درے پر قبضہ لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج کی ہر قسم کی نقل و حرکت کیلئے تباہ کن ہو چکا تھا۔بھارت کے پاس کارگل دراس بٹالک کی انتہائی سرد چوٹیوں پر پاکستان کا مقابلہ کرنے کیلئے ضروری ہتھیار ہی نہیں تھے اور ہمیں لگتا تھا کہ پاکستان کی فوجی خفیہ ایجنسیوں کو اس کمی کی باقاعدہ خبر تھی۔ اب‘ فوری طور پرہمارے سامنے ایک ہی آپشن آیا کہ سیاچن سے یہ ہتھیار اور لباس منگوا لیے جائیں ‘لیکن پھر یہ ارادہ ترک کر دیا‘ کیونکہ یقین تھا کہ اس طرح پاکستان نے ہماری اس کمزوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سیاچن پر قبضہ کر لینا تھا۔ کارگل پر لکھی اپنی اسی کتاب کے صفحہ288 پر جنرل وی پی ملک لکھتے ہیں ''ہمیں اس ایریا میں اگر ایک طرف پٹرول ٹینکرز کی کمی تھی تو ساتھ ہی گاڑیوں کیلئے موبل آئل اور گریس بھی نہ ہونے کے برا بر موجود تھی‘‘۔جنرل ملک کی کتاب کے صفحہ286 کے پیرا گراف چار میں لکھا ہے '' ہتھیاروں اور فالتو پرزوں نے ہمیں لاچار تو کیا ہی تھا انفینٹری کیلئے درکار ہتھیاروں جن میں میڈیم مشین گنیں‘ سگنل کے آلات‘ مارٹر گولے ‘ برف اور شدید بارشوں سے بچائو کیلئے جیکٹیں تک نہیں تھیں۔ اس وقت کے کمانڈر ناردرن ایریا جنرل پدمنا باہن جو بعد میں انڈیا کے آرمی چیف مقرر ہوئے ڈیفنس کیبنٹ کمیٹی کو رپورٹ دیتے ہوئے لکھتے ہیں ''ہمارے پاس جو چھوٹے ہتھیارتھے ‘وہ شدید سردی میں ناقابل ِاستعمال تھے۔دشمن کے ہتھیاروں کو لوکیٹ کرنے والے راڈار نہ ہونے کی وجہ سے ہم پر گولہ باری کرنے والی پاکستانی توپوں کو نشانہ بنانا ممکن ہی نہ رہا‘‘۔
سچ تو یہ ہے کہ بھارت مار کھانے کے بعد اسی طرح کی باتیں کرتا ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved