تحریر : آصف عفان تاریخ اشاعت     26-06-2020

سرکاری اعلان ہوا ہے‘ سچ بولو

کورونائی اثرات اور ایام قرنطینہ کے باعث طویل غیر حاضری کے بعد بندہ حاضر خدمت ہے۔ ایام قرنطینہ کے تجربات، مشاہدات اور تاثرات شیئر کرنے سے پہلے یہ گوش گزار کرنا زیادہ ضروری ہے کہ ٹیلی ویژن سکرین اور سوشل میڈیا پر اپنی مہارت اور علمیت کا چورن بیچنے والے ماہرین کی اکثریت کوروناکی ''ک‘‘ سے بھی واقف نہیں ہے۔ ان کی نام نہاد مہارت کے بخیے ادھیڑنا بھی ضروری ہے۔
جو موضوعات قلم آرائی پر مسلسل اکسائے چلے جارہے ہیں ان میں حالیہ طیارہ حادثہ سر فہرست اس لیے ہے کہ اس بدنصیب طیارے کے پائلٹ نے تو مر کر بھی چین نہیں پایا۔ انصاف سرکار حادثہ کی ذمہ داری پائلٹ پر ڈال کر بری الذمہ ہونے کی کوشش میں مصروف ہے جبکہ دیگر بے قاعدگیوں اور خرابیوں کا ذمہ دار سابقہ حکومت کو ٹھہرا کر وزیر ہوا بازی مارے خوشی کے ہوا میں اڑتے دکھائی دیتے ہیں۔ گویا گزشتہ دو سالوں میں انصاف سرکار پی آئی اے اور ایوی ایشن کے معاملات سے قطعی بے خبر تھی۔ جعلی پائلٹ اور سیاسی بھرتیوں کا انکشاف اس فضائی حادثہ کے بعد ہی ہوا ہے۔ وزیر ہوا بازی کی پریس کانفرنس دیکھ کر نجانے کیوں گماں ہوتا ہے کہ طیارہ سپر فٹ تھا لیکن پائلٹ جہاز کوکراچی کی گلیوں میں اتار کر عالمی ریکارڈ قائم کرنے جارہا تھا۔ انصاف سرکار کے دعووں اور وعدوں کے ساتھ ساتھ اب انکوائری رپورٹیں بھی انتہائی مقبول ہوتی جارہی ہیں۔ خیر! کونسی تحقیقات، کیسی انکوائریاں اور کہاں کی رپورٹیں۔ چینی سبسڈی سکینڈل پر جس صوبائی وزیر خوراک کو رد بلا کے لیے قربانی کا بکرا بنایا گیا تھا اس کے بارے میں سرکار آج بھی یہ بتانے سے قاصر ہے کہ صوبائی وزیر سمیع اللہ چوہدری کا چینی گھوٹالے سے کیا تعلق ثابت ہوا اور ان سے کن الزامات کے پیش نظر استعفیٰ لیا گیا ہے۔ سرکار کو تو بس قربانی کا بکرا درکار ہوتا ہے‘ جس طرح طیارہ حادثہ میں پائلٹ کو قربانی کا بکرا بنا کر سرکار مطمئن نظر آتی ہے کہ نہ پائلٹ کبھی پلٹ کر آئے گا اور نہ ہی اپنی صفائی میں کچھ کہہ سکے گا۔ وزیر ہوا بازی نے قومی ائیرلائن پر سفر کرنے والے مسافروں کو ایک عجیب کشمکش اور خوف سے دوچار کردیا ہے کہ ان کے مسافر بردار طیارے کا کپتان کہیں جعلی تو نہیں؟ پی آئی اے کے طیارے جعلی پائلٹوں کے رحم وکرم پر ہونے کے انکشاف کے بعد قومی ائیرلائن پر بین الاقوامی سطح پر پابندیوں کے خدشہ کا اندیشہ تقویت پکڑتا دکھائی دیتا ہے۔ جعلی ادویات، جعلی خوراک، جعلی موبل آئل، جعلی سیمنٹ، جعلی کاسمیٹکس، جعلی سینیٹائزر، جعلی پرمٹ، جعلی روبکاریں،جعلی نجات دہندے اور حکمرانوں کے جعلی احکامات کے بعد جعلی پائلٹ متعارف کروا کر محفوظ سفر کے ساتھ ساتھ ملکی وقار اور غیرت قومی کو بھی مزید چار چاند لگا دیے ہیں۔
انصاف سرکار کے اندرونی اختلافات اور جھڑپوں سے تنظیم اور اتحاد نہ صرف پارہ پارہ دکھائی دیتا ہے بلکہ سیخ پا وزرا کا پارہ بھی ایک دوسرے پرایسے چڑھا دکھائی دیتا ہے کہ بس کچھ نہ پوچھیے؛ تاہم وزرا کے درمیان ایک دوسرے پر الزامات لگانے کے اس ٹورنامنٹ میں وہ نام بھی سامنے آچکے ہیں جن پر الزام ہے کہ وہ اپنے کپتان کی موجودگی میں وزارت عظمیٰ کے امیدوار ہیں۔ وفاقی وزیر فواد چوہدری کا وائس آف امریکہ کو دیا گیا ایک انٹرویو انصاف سرکارکے لیے بھونچال ثابت ہوا ہے‘ جس نے وزرا کو ایک دوسرے کے مدمقابل لا کھڑا کیا ہے۔
فواد چوہدری نے انصاف سرکار میں تین بڑوں کی لڑائی کو حکومتی عدم استحکام کے ساتھ ساتھ بیڈ گورننس کا بھی ذمہ دار قرار دیا ہے۔ فواد چوہدری کا بے لاگ تبصرہ اور بیباک گفتگو صورتحال کی عکاسی کیلئے کافی ہے؛ تاہم ایک اختلاف ضرور ہے کہ جہانگیر ترین نے اسد عمر کو وزارت سے فارغ کروایا تھا۔ اس بارے میں عرض کروں کہ اسد عمر کو جہانگیر ترین نے نہیں ان دعووں اور وعدوں نے فارغ کروایا تھا جو ان کے قد سے کہیں بڑے تھے۔ برسراقتدار آنے کے بعد جوں جوں وقت گزرتا چلا گیا ان کے دعووں کی قلعی کھلتی چلی گئی۔ الفاظ کا گورکھ دھندہ آخر کب تک چلتا۔
گرمی کا زور بڑھتے ہی بجلی کا شارٹ فال روز کا معمول بن چکا ہے۔ غیر اعلانیہ اور بجلی کی طویل بندش پر پریشان حال عوام کے علم میں اضافہ کرتا چلوں کہ بجلی کی تکلیف دہ بندش میں اضافہ کیلئے تیار رہیں۔ اکثر پاور ہائوسز تیل کی عدم دستیابی کے پیش نظر بند ہوتے چلے جارہے ہیں جبکہ تیل کا بحران بجلی کے فقدان کا باعث بنتا رہے گا۔ ایک اندر کی بات بھی شیئر کرتا چلوں کہ بجلی کے عین متوقع اور بڑے بحران سے خائف سرکار مبینہ طور پر ایک انرجی کنگ کی منت سماجت پر مجبور ہے۔ بیرون ملک مقیم اس شخصیت سے رابطہ کرکے پاور ہائوس چلانے کی استدعا کی گئی ہے جس پر اس شخصیت نے صاف معذرت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجھے اپنے پاور ہائوس چلانے میں مزید کوئی دلچسپی نہیں ہے‘ آپ تو ہمیں چور کہتے تھے‘ اب کام پڑا ہے تو ہم ٹھیک ہو گئے۔ مطلب پورا ہو جائے گا تو پھر چور بنا ڈالیں گے۔ بہرحال اس شخصیت نے مشروط آمادگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ پاور ہائوس چلانے کیلئے تیل کا سٹاک نہیں۔ اس پر رابطہ کرنے والی حکومتی شخصیت نے یقین دہانی کرائی کہ تیل کا بندوبست ہم کروا دیتے ہیں‘ آپ بس پاور ہائوس چلانے والی بات کریں۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق سرکار تیل کی مطلوبہ مقدار کا بندوبست کرنے میں تاحال ناکام ہے۔ خدا کرے کہ سرکار تیل کا بندوبست کرنے میں کامیاب ہوجائے بصورت دیگر یہ بحران عوام کے ساتھ ساتھ ہچکولے کھاتی صنعت پر بھی بہت بھاری پڑ سکتا ہے۔ 
پنجاب سرکار کا ایک اور انقلابی اقدام یہ ہے کہ کورونا کے خلاف جنگ میں ڈاکٹروں کے شانہ بشانہ شریک پانچ ہزار نرسز چار ماہ سے تنخواہ کے لیے ماری ماری پھر رہی ہیں۔ ایک طرف حکومت کورونا کے خلاف جنگ میں شریک ہیلتھ ورکرزکو سلامیاں پیش کررہی ہے اور دوسری طرف انہیں بدترین معاشی بدحالی سے دوچار کرنے کی ذمہ دار بھی ہے۔ پانچ ہزار نرسز کی تنخواہوں کی عدم ادائیگی کا عذر بھی کسی لطیفہ سے کم نہیں۔ محکمہ صحت کے مجاز حکام کہتے ہیں کہ پبلک سروس کمیشن کے ذریعے بھرتی ہونے والی ان نرسز کی اسناد اور دیگر دستاویزات کی جانچ پڑتال جاری ہے۔ یہ عمل مکمل ہوتے ہی ان کی تنخواہیں جاری کردی جائیں گی۔ کوئی انہیں بتلائے کہ ہم بتلائیں کیا۔ اسناد اور دیگر دستاویزات کی جانچ پڑتال کے بغیر ان کی تقرری کیونکر ممکن ہوئی؟ اور جانچ پڑتال کا عمل مکمل ہونے سے پہلے انہیں ڈیوٹی پر کس حیثیت سے بھیجا گیا؟ جانچ پڑتال کے اس عمل کے دوران اگر کسی کی سند جعلی نکل آئی اور دیگر دستاویزات میں کوئی فرق نکل آیا تو ایسے میں اس تقرری کا ذمہ دارکون ہوگا؟
کورونائی اقدامات کے تحت پنجاب بھر میں بالخصوص صوبائی دارالحکومت کے مزید علاقوں کو لاک ڈائون کیا جارہا ہے۔ جس طرح دیگر اہم ترین معاملات میں سرکار سست روی اور تاخیر کا شکار نظر آتی ہے‘ لاک ڈائون کے حوالے سے بھی یہ رویہ سرکار کے گلے پڑ چکا ہے۔ جو لاک ڈائون ابتدائی ایام میں کرنا چاہئے تھا وہ دو مہینے بعد کیا جارہا ہے جبکہ جن کورونا پازیٹو کیسوں کی فہرستوں کو بنیاد بنا کرلاک ڈائون کیا جارہا ہے وہ فہرستیں اکثر پرانی اور غیر مستند ہونے کی بھی اطلاعات موصول ہورہی ہیں۔ بعض علاقوں میں رہنے والے سراپا احتجاج ہیں کہ ہمارے علاقہ میں جو پازیٹو کیسز سامنے آئے تھے انھیں نیگیٹو ہوئے بھی ہفتوں گزر چکے ہیں۔ خود اس ناچیز سے مجھے محکمہ صحت کے کورونا سینٹر کی طرف سے رابطہ اس وقت کیا گیا جب میرا کورونا بھی نیگیٹو ہوچکا تھا۔ یہ صورتحال حکومتی اقدامات اور فہرستوں کے اعدادوشمار پر نجانے کتنے ہی سوالیہ نشان کھڑے کیے ہوئے ہے۔ اور اکثر یوں محسوس ہوتا ہے کہ
جھوٹوں نے جھوٹوں سے کہا ہے سچ بولو/ سرکاری اعلان ہوا ہے سچ بولو

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved