تحریر : ایاز امیر تاریخ اشاعت     27-06-2020

مایوس وہ کرے جس سے کچھ اُمید ہو

اپنا سچ تو یہ ہے کہ عمران خان سے کبھی کوئی اُمید نہ رکھی۔ دو تین بار ملاقات ہوئی لیکن کوئی ذرہ برابر بھی اثر ہو اُس کا احساس نہ ہوا۔ وہ عوام میں مقبول بھی ہوتے چلے گئے لیکن انہیں کبھی بھی سنجیدگی سے نہ لے سکا۔ اُن میں وہ چیز ہی نہ پائی جو سنجیدگی کا باعث بن سکے۔ 
ایک دو بار بنی گالہ جانے کا اتفاق ہوا وہ بھی فواد چوہدری کے اصرار پر‘ لیکن وہاں جو ماحول پایا، جس قسم کے فنکار دیکھے، بنی گالہ کے راستے کی طر ف دل مائل نہ ہو سکا۔ ہاں وقتاً فوقتاً قلم سے ضرور کوئی بات ایسی نکل گئی جو تعریف کے زمرے میں آئے‘ لیکن اس کے پیچھے بھی محبتِ عمران خان سے زیادہ شاید بغضِ نواز شریف تھا۔ نواز شریف سے اُکتائے تو کوئی تیسرا راستہ نکلنے کی خواہش دل میں اُٹھتی۔ کوئی تیسرا راستہ تھا نہیں سوائے عمران خان صاحب کے شور شرابے کے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اُن میں کوئی چیز ایسی نہ دیکھی جو دل کو متاثر کر سکے۔
اس عمر میں ہم نے کسی کیلئے خواہ مخواہ سیٹیاں تو بجانی نہیں۔ جو تھوڑے بہت سیاسی ارمان تھے وہ بھی پورے ہو گئے۔ خواہشات ہیں لیکن سیاسی نوعیت کی نہیں۔ کسی کرسی پہ بیٹھیں یہ تھوڑی سی خواہش ایک زمانے میں ہو سکتی تھی لیکن اب تو بالکل نہیں۔ یہ تمنا ضرور ہے کہ ملک بہتر سمت میں جائے لیکن اس تمنا کے حوالے سے موجودہ فنکاروں سے کوئی اُمید وابستہ نہیں ہو سکتی۔ اِن میں نہ وہ سمجھ نہ صلاحیت ہے۔ 
تمام کمزوریوں اور کوتاہیوں کے باوجود جنرل ایوب خان میں پھر بھی کوئی سوچ تھی۔ وہ سمجھتے تھے کہ اس ملک کے لوگ جمہوریت کے قابل نہیں اور تھوڑے بہت ڈنڈے سے ہی انہیں چلایا جا سکتا ہے۔ اس سوچ سے اختلاف ممکن ہے لیکن یہ اُن کی سوچ تھی۔ ذوالفقار علی بھٹو ایک سوچ رکھتے تھے اور اُس کے تابع انہوں نے ملک میں بہت کچھ کیا۔ افسر شاہی کا زور توڑا، بھاری صنعتیں سرکاری تحویل میں لیں، عوامی حکومت کا نعرہ لگایا اور اس ضمن میں عوام کا دماغ تھوڑا سا خراب کر دیا۔ اُن کی پالیسیوں اورحکمتِ عملی سے اختلاف کیا جا سکتا ہے لیکن کچھ سوچ تو اُن کے پلے تھی۔ جنرل ضیاء الحق پہ آپ لاکھ تنقید کریں لیکن اُن کا بھی ایک فلسفہ تھا۔ اسلام اور اسلامی نظام کی بات کرتے تھے اور گو اُن پہ منافقت کا الزام لگایا جا سکتا ہے صحیح معنوں میں وہ مذہب پسند آدمی تھے۔ 
ان سب مثالوں کے برعکس کوئی پوچھے تو سہی کہ جنابِ عمران خان کا فلسفۂ سیاست و حیات کیا ہے؟ گھسے پِٹے جملے ہیں کہ کرپشن اس ملک کو کھا گئی، احتساب ہونا چاہیے، لوٹی ہوئی دولت کو واپس آنا چاہیے۔ ایسے جملوں سے فلسفۂ سیاست شروع ہوتا ہے اور انہی پہ جا کے ختم ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ کوئی سوچ ڈھونڈے نہیں ملتی۔ بنیادی تبدیلی یا اصلاحات وہ لائے جس کے ذہن میں ایسے اقدامات کا کچھ تصور ہو۔ جب تختی بالکل ہی کوری ہو، اس پہ کچھ نہ لکھا ہو، تو اصلاحات کہاں سے آئیں گی؟ بیس سالہ سیاسی سفر میں عمران خان شور شرابہ تو پیدا کر سکے کوئی ٹھوس نقشۂ عمل ترتیب نہ دے سکے۔ نعروں سے بڑھ کے نہ کوئی معاشی فریم ورک نہ فرسودہ انتظامی نظام میں اصلاحات کا تصور۔ اُن کی جماعت نے ایک لشکر تو پیدا کیا لیکن بغیر کسی نظم و ضبط کے۔ اس ضمن میں پاکستان تحریک انصاف کچھ پیدا کر سکتی تو اُس کے آزمودہ ممبران حکومت کی کرسیوں پہ بیٹھے ہوتے۔ لیکن جیسا ہم دیکھ رہے ہیں‘ اہم عہدوں پہ ادھر ادھر سے لائے گئے لوگ براجمان ہیں۔ لیکن پوچھنے کی بات یہ ہے کہ قیادت میں سوچ کا فقدان ہو تو نچلی سطحوں پہ کس قسم کی سوچ پنپ سکتی ہے؟
پی ٹی آئی کا ایک کارنامہ البتہ یہ ہے کہ قوم کو سیاست سے بیزار کر دیا ہے۔ سیاست سے دلچسپی اُٹھتی جا رہی ہے۔ ایک وجہ تو یہ ہے کہ سیاسی حلقوں میں یہ تاثر پھیل چکا ہے کہ موجودہ نالائقی کو اِدھر اُدھر سے ٹیک ملی ہوئی ہے۔ افراتفری اورکنفیوژن جتنی بھی ہو اس کا کوئی فرق نہیں پڑ سکتا کیونکہ اس حکومت کو غائب سے امداد مل رہی ہے۔ سپورٹ کرنے والے بھی خوش ہیں کیونکہ اس سے زیادہ تابعدار حکومت مل نہیں سکتی۔ اس صورتحال میں اپوزیشن پارٹیاں بے اثر ہیں۔ ایک تو اُن کے اپنے جھمیلے ہیں۔ لیڈران کو مقدموں کا سامنا ہے اور اپنی بقاء کی فکر اُنہیں لاحق ہے۔ دوسرا یہ تاثر ہے کہ تمام تر نالائقیوں کے باوجود پی ٹی آئی حکومت کا کچھ ہونا نہیں کیونکہ اسے مؤثر سپورٹ حاصل ہے۔ 
وہ بے وقوف ہی سمجھے جائیں گے جو سمجھتے تھے کہ عمران خان اس ملک کو ایک نئی سمت دیں گے۔ ایسے لوگ ایک رومانوی بخار میں مبتلا تھے۔ انہوں نے پی ٹی آئی میں وہ خوبیاں دیکھیں جو سر ے سے موجود نہیں تھیں۔ دو سال گزر گئے ہیں یہ کہتے کہتے کہ عمران خان کو وقت ملنا چاہیے۔ وقت تو اب خاصا مل چکا ہے لیکن ایک ہی چیز آشکار ہوئی ہے کہ پلے کچھ زیادہ نہیں۔ بہرحال گاڑی چل رہی ہے اور چلتی رہے گی۔ ہمارے ہاں ایک عجیب نعرہ لگتا ہے کہ یہ حکومت اپنے پانچ سال پورے کرے گی۔ پانچ سال کیوں نہ پورے کرے؟ کوئی آفت آنے والی ہے؟ 1977ء سے لے کر آج تک اندھیروں میں لپٹی تبدیلی تب ہی رونما ہوئی ہے جب سویلین حکومتوں اور مقتدر اداروں میں چپقلش اُٹھی۔ عمران خان کے ہوتے ہوئے ایسی چپقلش کا امکان ذرہ برابر بھی نہیں۔ جس کا مطلب ہے کہ روایتی قسم کی ٹینشن جو سویلین حکومتوں کا بیڑہ غرق کرتی رہی ہے ایسا امکان سیاسی منظرنامے سے غائب ہو چکا ہے‘ لہٰذا پانچ سال یقینا پورے ہوں گے‘ لیکن ہیجان زدہ دلوں میں جو اُمید کی کرنیں پھوٹ رہی تھیں کہ عمران خان کے ہاتھوں پتا نہیں کون سے مسیحائی قسم کے کارنامے سرزد ہونے جا رہے ہیں‘ اُن کی بھی جگہ نہیں رہی۔ پی ٹی آئی کے حلقوں میں خود نا اُمیدی کے سائے گہرے ہو رہے ہیں لیکن یہ مایوسی صرف انہی کو ہے جنہوں نے امیدوں کے پُل باندھ رکھے تھے۔ بھول اُن سے ہوئی، ہماری بھول ایسی کبھی نہ تھی۔ 
اور اگر پی ٹی آئی حکومت کہیں نہیں جا رہی تو پرانی سیاست بھی اپنی جگہ قائم ہے۔ نون لیگ نے کتنی مار سہی ہے لیکن پھر بھی اپنی جگہ پہ موجود ہے۔ اس وقت سیاسی میدان میں کوئی سمجھداری کا مظاہرہ کر رہا ہے تو وہ شہباز شریف ہیں۔ بھلے نون لیگ کی آئندہ کی لیڈر مریم نواز ہوں لیکن فی الحال کارآمد سوچ سابقہ خادمِ اعلیٰ کی ہے۔ انہیں پتہ ہے کہ فی الحال کچھ نہیں ہو سکتا اور فضول کے ہاتھ پیر مارنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ اس لئے وقت کاٹ رہے ہیں اور آنے والے دنوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ رومانوی تصورِ سیاست رکھنے والوں کی نظروں میں عمران خان کی ایک چمک تھی۔ وہ چمک جا چکی ہے۔ اُمیدوں کے پُل ٹوٹ چکے ہیں۔ اگلے الیکشن آئے تو میدان برابر کا ہو گا۔ سندھ میں پیپلز پارٹی کہیں نہیں جا رہی۔ اگر آصف علی زرداری ماضی کا حصہ بنتے جا رہے ہیں تو ماننا پڑے گا کہ پیپلز پارٹی کی باگ ڈور بلاول بھٹو زرداری کی صورت میں نئے ہاتھوں میں جا رہی ہے۔ 
منیر نیازی نے ٹھیک ہی کہا تھا کہ اس ملک پہ آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے۔ حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ۔ عمران خان کا کارنامہ ہے کہ حرکت بھی اب تیز تر نہیں رہی۔ لگتا یوں ہے کہ ہر چیز منجمد ہو کے رہ گئی ہے۔ خان صاحب کے تازہ ترین افکار لائقِ توجہ ہیں۔ قومی اسمبلی میں انہوں نے جو مقالہ خارجہ پالیسی پہ پڑھ ڈالا اُس کی کوئی ضرورت تھی؟ اسامہ بن لادن دہشت گرد تھا یا شہید... یہ نکتہ اُٹھانے کی اِس وقت کیا تُک بنتی ہے؟

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved