تحریر : حافظ محمد ادریس تاریخ اشاعت     16-07-2020

صوتِ ہادی!

یہ بجلی کا کڑکا تھا یا صوتِ ہادی
عرب کی زمیں جس نے ساری ہلا دی
ہم اُس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ہیں جو دنیا کے سب سے زیادہ بلند ہمت اور عالی ظرف انسان تھے۔ آپؐ نے اپنی زندگی میں ایسی کامیابیاں دیکھیں جو تاریخ انسانی میں منفرد ہیں۔ اس کے ساتھ یہ حقیقت بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ ان عظیم الشان کامیابیوں سے قبل آپؐ ناقابلِ بیان ابتلا و آزمایش اور مشکلات و مصائب کی گھاٹیوں سے بھی گزرے ہیں۔ ایسے ہر مشکل دور میں بھی آنحضور صلی اللہ علیہ و سلم کا حوصلہ بلند رہا، اپنی کامیابی کا یقین کبھی متزلزل نہ ہوا اور اللہ تعالیٰ کے وعدے ایفا ہونے پر قلب و جگر ہمیشہ مطمئن رہے۔ وہ لوگ جو عزمِ صمیم سے عاری اور جذبۂ جاں سپاری سے محروم ہوتے ہیں، کبھی کوئی میدان نہیں مار سکتے۔ طوفانوں کے سامنے بند باندھ دینے کے لیے فولادی قوتِ ارادی اور ناقابلِ شکست ایقان و حوصلے کی ضرورت ہوتی ہے۔ نبی مہربانؐ کی سیرت کا ہر لمحہ اس لحاظ سے ایک نسخۂ کیمیا ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ آج اس بھولے ہوئے سبق کو پھر سے یاد کرلیں۔ بقول اقبالؔ:
بھٹکے ہوئے آہو کو پھر سوئے حرم لے چل
اس شہر کے خوگر کو پھر وسعتِ صحرا دے
غارِ حرا میں پہلی مرتبہ جبریلِ امیں کی آمد اور وحی کا آغاز ایک بڑا انقلاب آفریں واقعہ تھا۔ آپ کو اللہ رب العالمین نے تاجِ نبوت عطا فرمایا تھا اور آپ پر سلسلۂ نبوت کی تکمیل بھی کر دی تھی، لیکن اس کے ساتھ یہ حقیقت بھی واضح تھی کہ تن تنہا آپؐ کو ایک کٹھن ترین جدوجہد کے ذریعے اپنا مشن پورا کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ وحی کی اس روشنی سے پوری دنیا کو منور کرنا اور دینِ حق کو عملاً نافذ کر دیناآپ کا فرضِ منصبی قرار دیا گیا۔ نزولِ وحی کے بعد آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم جب گھر میں تشریف لائے تو اس ذمہ داری کے بوجھ اور وحیٔ ربانی کی پُرشکوہ کیفیت سے خاصے متاثر اور ہیبت زدہ تھے۔ آپؐ نے اپنی وفادار و ہم راز اہلیہ خدیجۃ الکبریٰؓ سے اس پوری کیفیت کا تذکرہ کیا اور فرمایا کہ ان واقعات سے مجھے اپنی جان کا خطرہ محسوس ہوتا ہے۔
خدیجہؓ بنت خویلد بھی عظمت کی بلند چوٹی پر متمکن نظر آتی ہیں۔ اہلیہ ہونے کے ناتے وہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ظاہر و باطن، ہر پہلو سے بخوبی جانتی تھیں۔ فوراً پکار اٹھیں: ''آپ کسی چیز سے مت ڈریے۔ آپ بڑی خوبیوں کے مالک ہیں۔ اقربا پروری، سچ گوئی، یتیموں، بیوائوں اور بے کسوں کی دستگیری، مہمان نوازی اور مصیبت زدوں کی غم گساری آپ کا طرۂ امتیاز ہے۔ اللہ آپ کو کبھی بے یارومددگار نہ چھوڑے گا‘‘۔ اس گفتگو کا خلاصہ حضرت عائشہؓ کی زبانی کتبِ حدیث میں مذکور ہے۔ اسی موقع پر آنحضورﷺکو حضرت خدیجہؓ اپنے چچازاد بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں۔ ورقہ بن نوفل، قریش کے درمیان صاحبِ علم و فضل شخص تھے، توریت و انجیل کے عالم اور سب لوگوں کی نظروں میں معزز و معتبر! بڑھاپے کی وجہ سے کمزور اور آنکھوں کی بینائی سے محروم ہو چکے تھے۔
جب آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ورقہ بن نوفل کے سامنے وحی کی کیفیت اور اس کا پیغام بیان فرمایا تو وہ بے ساختہ پکار اٹھے: یہ وہی ناموس ہے، جو موسیٰؑ پر اترا تھا۔ اے بھتیجے! مجھے افسوس ہے کہ میں بوڑھا ہو گیا ہوں۔ کاش! میںجوان ہوتا اور اس وقت آپ کا ساتھ دیتا جب یہ قوم آپ کو آپ کے گھر سے نکال دے گی۔ ورقہ بن نوفل آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سنتے ہی سابقہ کتابوں کی روشنی میں فوراً سمجھ گئے تھے کہ یہ وہی نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ و سلم ہیں، جن کی بشارت سابقہ آسمانی کتابوں میں دی گئی تھی اور اہلِ علم جن کا انتظار کر رہے تھے۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو تعجب ہوا کہ ان کی قوم ان کو گھر سے کیوں کر نکالے گی، جبکہ آپ تمام لوگوں کے درمیان سب سے زیادہ ہر دل عزیز تھے۔ اس پر جہاں دیدہ اور صاحب ِ بصیرت ورقہ بن نوفل نے کہا: ''اے بھتیجے! جس کسی نے بھی یہ تعلیم لوگوں کے سامنے پیش کی، حق کے دشمنوں نے اس کے ساتھ ایسا ہی سلوک کیا۔‘‘یہ واقعتاً ایک اٹل اصول ہے اور آج بھی یہی کارفرما ہے۔اہلِ حق آج بھی باطل پرستوں کی چیرہ دستیوں کا شکار ہیں۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی دعوت و تبلیغ کا کام بتدریج شروع کیا۔ جیسے جیسے اس کے اثرات پھیلتے گئے، ویسے ہی مخالفتوں کے طوفان بھی امڈتے چلے آئے۔ چند ہی سال گزرے تھے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذا پہنچانے کے لیے قریش نے باقاعدہ کمیٹیاں مقرر کر دیں۔ سیرت نبویؐ کی مشہورکتاب رحمۃ للعالمین کے مصنف قاضی محمد سلیمان سلمان منصور پوری بیان کرتے ہیں کہ قریش نے ایک کمیٹی ابو لہب کی سربراہی میں مقرر کر دی، جس میں پچیس معروف سردار شامل تھے۔ اس کمیٹی کا مقصد ہی آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کا راستہ روکنا اور آپؐ کے خلاف جھوٹے پروپیگنڈے سے زہر پھیلانا تھا۔
(رحمۃ للعالمین، ج ۱، ص۵۷)
اس زمانے میںصحابہ کرامؓ کو ظلم و ستم کا نشانہ بنایا گیا۔ وہ ان شدید مصائب کی وجہ سے گھر بار چھوڑ کر حبشہ کی جانب ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے۔ حبشہ کی طرف اپنے صحابہ کو روانہ کرتے ہوئے بھی آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی دعوت کی کامیابی اور کفر کی پسپائی کا پورا یقین تھا۔ چنانچہ آپؐ نے اس موقع پر صحابہ کو خوش خبری سنائی تھی کہ اس ابتلا سے بچنے کے لیے تم حبشہ میں چلے جائو، جہاں ایک عادل حکمران کی حکومت ہے۔ اس وقت تک وہاں رہو جب تک اللہ تعالیٰ ان کٹھن حالات کو آسانی میں بدل دے۔ گویا آپؐ کو حالات کے بدلنے کا پختہ یقین تھا۔
(تفہیم القرآن: ج۳، ص۵۳،
تفہیم الاحادیث: ج۶، ص۱۴)
نبوت کے ساتویں سال آپﷺ کے مخالفین نے ایک تحریری معاہدے کے ذریعے آپؐ کا معاشی و معاشرتی بائیکاٹ کر دیا۔ ظلم کی حد یہ ہے کہ اس ظالمانہ دستاویز کو خانہ کعبہ کے اندر لٹکا دیا گیا۔ اس دور میں آپؐ اپنے ساتھیوں کے ساتھ تین سال تک ایک گھاٹی میں محصور رہے، جسے آپ کے سرپرست اور چچا ابوطالب کی نسبت سے شعب ِ ابی طالب کہا جاتا ہے۔ بنو ہاشم کے تمام لوگ بھی ماسوائے ابولہب کے، قطع نظر اس سے کہ وہ اسلام میں داخل ہوئے تھے یا نہیں، آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس گھاٹی میں مشکلات کے یہ ماہ و سال گزارتے رہے۔ لوگوں کو کھانے پینے کی کوئی چیز نہیں ملتی تھی۔ درختوں کے پتے تک ابال کر کھائے جاتے تھے۔ شیر خوار معصوم بچوں کی بھوک پیاس سے بری حالت تھی،ان کی دل فگار چیخوں سے پہاڑوں کے دل دہل جاتے تھے مگر سنگ دل دشمنوں پر ان کا کوئی اثر نہ ہوتا تھا۔ مائوں کی چھاتیوں سے بھوک کے سبب دودھ خشک ہو گیا تھا۔اس مشکل مرحلے میں بھی آنحضورؐ نے نہ حوصلہ ہارا‘ نہ ہتھیار ڈالے۔ شدید خطرات کے باوجود آپؐ دعوت و تبلیغ کے لیے شعبِ ابی طالب سے باہر نکلا کرتے تھے، حتیٰ کہ شہر مکہ اور حرم کے اندر بھی تشریف لاتے تھے۔
امام طبری نے شعبِ ابی طالب کے دور کاایک دلچسپ مکالمہ نقل کیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ ایک روز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حرم شریف میں داخل ہوئے۔ مشرک سرداروں میں سے ابوجہل اور عتبہ بن ابی ربیعہ نے آپؐ کا تمسخر اڑایا۔ آپؐ نے ان دونوں سے فرمایا کہ تم سے کبھی خیر کی کوئی بات برآمد نہ ہوئی۔ یاد رکھو! وہ وقت قریب ہے، جب تم تھوڑا ہنسو گے اور بہت روئو گے۔ پھر آپؐ نے دشمنانِ اسلام کے سارے مجمع سے مخاطب ہو کر فرمایا: ''اے معشرِ قریش ! وہ گھڑی بالکل نزدیک آ گئی ہے کہ جس دین کو مٹانے کی تم کوششیں کر رہے ہو‘ بالآخر اسے قبول کیے بغیر تمھارے پاس کوئی چارہ کار نہ ہو گا‘‘۔
(بحوالہ رحمۃ للعالمین: ج۱، ص ۶۵)
قریش کے سرداروں کو اپنی قیادت وسیادت پر بڑا گھمنڈ تھا۔ وہ اپنے جھوٹے پندار میں یوں مبتلا تھے کہ خود کو سب سے بلند وبالا سمجھتے تھے۔ تفاخرِ جاہلانہ میں اپنی دولت وقوت کے علاوہ اپنی مذہبی حیثیت، خانہ کعبہ کی تولیت ومجاوری اور خود کو حضرت ابراہیم ؑ واسماعیل ؑ کا جانشین و وارث سمجھنا بھی ان کے اندر رعونت پیدا کرنے کا ذریعہ بن گیا تھا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نبوت کے آغاز ہی میں اسلامی طریقے کے مطابق حرم میں نماز ادا کرنا شروع کردی تھی۔ قریش عبادت کے اس انداز سے نابلد تھے، جس میں قیام، رکوع وسجود اور تشہد کے ارکان شامل تھے۔ بالخصوص رکوع وسجود کو وہ بہت استہزا وتمسخر کا ہدف بناتے تھے۔ ایک مرتبہ آنحضور صلی اللہ علیہ و سلم کو سجدے کی حالت میں دیکھ کر ابوجہل کی رگِ جاہلیت پھڑک اٹھی اور اس نے آنحضور صلی اللہ علیہ و سلم کو دھمکیاں دینا شروع کیں۔ حدیث کے مختلف مجموعوں میں اس واقعہ کا تذکرہ ملتا ہے۔ سورۃ العلق کی آیات نمبر۶ تا ۱۹ میں اس جانب اشارہ کیا گیا ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved