تحریر : مجیب الرحمٰن شامی تاریخ اشاعت     19-07-2020

عثمان بزدار کا ’’کلّہ‘‘

بدھ اور جمعرات کی درمیانی رات تھی، کوئی ساڑھے گیارہ بجے برادر محترم منیر احمد خان کا فون آیا۔ خان صاحب ایک پرانے سیاسی کارکن ہیں۔ طلبہ سیاست میں بھی سرگرم رہے، اور بعد ازاں قومی سیاست میں بھی نام بنایا۔ مسلم لیگ کے مختلف برانڈز سے استفادہ کرتے ہوئے پیپلز پارٹی سے مصافحہ کیا لیکن یہاں زرداری صاحب ان کو اور وہ زرداری صاحب کو راس نہ آئے۔ تحریک انصاف کو بھی سونگھتے پائے گئے لیکن سیاسی فعالیت سے دِل بھر سا گیا تھا۔ کالم نگاری سے دِل لگایا، اور ایک عدد تھنک ٹینک بھی ایجاد کر لیا۔ اپنے حلقہ احباب میں وہ بہت باخبر سمجھے جاتے ہیں، کان، آنکھیں اور ناک ہر دم محاذ پر رہتے ہیں۔ سونگھنے، سننے اور دیکھنے کی صلاحیت بہت سوں سے زیادہ ہے۔ اس لیے جب ان کی طرف سے کوئی بات کہی جاتی یا کوئی اشارہ کیا جاتا ہے، تو اسے نظر انداز کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس پر یقین نہ کریں تو بھی اسے فوری طور پر رد نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے فون پر سرگوشی کی کہ وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی رخصتی کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ بنی گالہ میں میٹنگیں جاری ہیں، اور چند لمحوں بعد اس کا باقاعدہ اعلان کر دیا جائے گا۔
مَیں نے فوراً عزیزم عمر شامی صاحب کو اطلاع دی، ان کو پہلے ہی خان صاحب ''اعتماد‘‘ میں لے چکے تھے۔ صحافتی نقطہ نظر سے خبر اس قدر ہیجان انگیز تھی کہ نیند آنکھوں سے بھاگ گئی۔ کسی نہ کسی طور لیٹا رہا لیکن ''صبح ہونے تک‘‘ دو تین بار اٹھ کر آن لائن اخبار کی سرخیاں چیک کیں کہ دھماکہ نہ ہو گیا ہو۔ خان صاحب کو تو یہ عرض کر چکا تھا کہ اس کارروائی کا کوئی جواز نظر نہیں آ رہا۔ عثمان بزدار سے ایسی کوئی حرکت سر زد نہیں ہوئی کہ رات کی تاریکی میں ان کے اقتدار پر شب خون مارا جائے، اس لیے مجھے تو ان کا کلّہ ابھی تک مضبوط نظر آ رہا ہے۔ خان صاحب کے تجزیے نے اپنی ٹامک ٹوئیاں ماریں، اور میری نیند سے آنکھ مچولی کا سبب بن گیا۔ صبح اُٹھ کر دیکھا تو عثمان بزدار اپنی جگہ تھے، بلوچستان میں جام کمال کی میزبانی کا لطف اٹھا رہے تھے۔ ان کے ایک حلقہ بگوش سے پوچھا تو اس نے قہقہہ لگا کر جواب دیا کہ ایک بڑے کالم نگار اب تک اٹھارہ بار ان کی سبک دوشی کی پیش گوئی کر چکے ہیں، لیکن وہ الحمدللہ یہیں ہیں اور جب تک وزیر اعظم عمران خان چاہیں گے یہیں رہیں گے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق وزیر اعظم کی اس چاہت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ وہ ان کے پیچھے اسی طرح کھڑے ہیں جس طرح وزیر اعلیٰ نواز شریف کے پیچھے جنرل ضیاء الحق کھڑے تھے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جب غیر جماعتی انتخابات کے نتیجے میں وفاقی اور صوبائی حکومتیں بنیں۔ مرکز میں وزیر اعظم جونیجو کے سر پہ ہما بٹھایا گیا تو پنجاب میں نواز شریف صاحب کی تاج پوشی ہو گئی۔ ایک وقت ایسا آیا کہ وزیر اعلیٰ نواز شریف کے خلاف بغاوت ہو گئی، کئی ارکان اسمبلی نے ان کے خلاف جھنڈا بلند کر دیا۔ چودھری پرویز الٰہی کا راستہ ہموار نظر آ رہا تھا، جنرل ضیاء الحق کی پشتی بانی کے بارے میں بھی چہ میگوئیاں شروع ہو گئی تھیں کہ وہ لاہور آئے اور نواز شریف کا کلّہ مضبوط ہونے کا اعلان کر دیا۔ اس سرگرمی کے پسِ پردہ محرکات کیا تھے، اس حوالے سے کئی لوگ کئی کہانیاں سناتے ہیں لیکن ان سے قطع نظر نواز شریف اپنی جگہ ایسے جمے کہ وزیر اعظم بن کر دم لیا۔ عثمان بزدار کو بھی وزیر اعظم عمران خان کی بھر پور حمایت حاصل ہے۔ انہی کی نظر کرم نے انہیں تختِ لاہور پر بٹھایا، اور اسی کے سہارے وہ اس پر جم کر بیٹھے ہیں۔
عثمان بزدار نے جب یہ منصب سنبھالا تو وہ قومی تو کیا صوبائی سطح پر بھی معروف نہیں تھے۔ پہلی بار صوبائی اسمبلی کے رکن بنے تھے۔ خان صاحب کو ان کی ''تنہائی‘‘ اور ''خاموشی‘‘ نے متاثر کیا یا اس سے بھی بڑھ کر کسی اور صلاحیت نے، وجہ جو بھی ہو، نگاہِ انتخاب ان پر ٹھہر گئی۔ جغادریوں اور طرم خانوں کو حیران پریشان چھوڑ کر انہوں نے وہ کرسی سنبھال لی، جس پر کچھ عرصہ پہلے تک شہباز شریف رونق افروز تھے۔ ان کی حرکت میں برکت تھی، اور برکت میں حرکت۔ عثمان بزدار کی شخصیت ان سے یکسر مختلف تھی،... بے رنگ، بے بو، بے ذائقہ... جب سے انہوں نے حلف اٹھایا ہے، ان کے خلاف میڈیائی سرگرمیاں جاری ہیں۔ تحریک انصاف کے لیے ہر حد سے گزر جانے والوں کی سمجھ میں بھی نہیں آ رہا کہ یہ ہوا کیا ہے۔ بڑے بڑے اینکر اور تجزیہ کار ان پر برس رہے ہیں، انہیں دھکا دے کر گرانے کی کوشش میں ہیں، لیکن عثمان بزدار وہیں کے وہیں ہیں۔ 90 شاہراہ قائد اعظم اور 7 کلب روڈ ان کے دم سے آباد ہیں۔ وہ اب دو سال پہلے والے وزیر اعلیٰ نہیں ہیں، تجربے کی دو سالہ دولت اُن کی جیب میں ہے۔ ان کا رنگ بھی کھل رہا ہے۔ ان کا ذائقہ بھی محسوس ہو رہا ہے، اور بے بو بھی وہ نہیں رہے۔ اسلام آباد ان کی خوشبو میں مست ہے کہ لاہور تاریخی طور پر اسلام آباد کا دردِ سر رہا ہے۔ یہاں کے باسی پر پرزے نکالتے رہے ہیں۔ بھٹو صاحب کو بھی کئی وزرائے اعلیٰ تبدیل کرنا پڑے تھے، نواز شریف کو اپنے بھائی کا پہرا یہاں بٹھانا پڑا تھا۔ وزیر اعظم عمران خان چین کی بانسری یوں بجا رہے ہیں کہ لاہور ان کی مرضی سے سوتا، جاگتا، کھاتا، پیتا، روزہ رکھتا اور افطار کرتا ہے۔ حکومت جیسی بھی ہے، اور جس بھی رفتار سے چل رہی ہے، مالی بد عنوانی کا کوئی الزام لگایا جا سکا ہے، نہ اس حوالے سے ہنگامہ اٹھایا جا سکا ہے۔ گندم، چینی کے معاملات بھی وفاقی سطح پر طے ہوئے ہیں، جزا اور سزا دینے والے وہیں تشریف فرما ہیں، اور کچھ ہاتھ نہیں آ رہا تو ان کے ہیلی کاپٹر دوروں کی تفصیلات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔ آزادیٔ صحافت کے دعوے دار ان پر خرچ آنے والے پٹرول کا حساب کر رہے ہیں، 12 کروڑ عوام کے صوبے کے چیف ایگزیکٹو کو بس میں سفرکرنا چاہیے یا تانگے پر۔ دور دور تک پھیلے ہوئے صوبے کا دورہ کرنے کے لیے ہیلی کاپٹر بھی استعمال ہو گا، اور اس کے لیے پٹرول کی ضرورت بھی ہو گی۔ صوبے کا چیف ایگزیکٹو اعتکاف میں بیٹھنے سے تو رہا۔ ایک الزام ان پر یہ لگا کہ انہوں نے اپنے آبائی علاقے میں دِل کا ہسپتال اپنے والد سردار فتح محمد خان بزدار کے نام سے منسوب کر دیا ہے، اور اس کے لیے صوبائی اسمبلی سے باقاعدہ قرار داد بھی منظور کرا لی ہے۔ سردار فتح محمد صوبائی اسمبلی کے رکن رہے اور اپنے علاقے میں قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ جب لاہور میں شہباز شریف ہسپتال، اور نواز شریف ہسپتال موجود ہوں، ملتان میں چودھری پرویز الٰہی کارڈیالوجی انسٹی ٹیوٹ قائم ہو چکا ہو، اِسی شہر میں نواز شریف زرعی یونیورسٹی کا بورڈ بھی لگا ہوا ہو، وہاں اگر عثمان بزدار نے اپنے والد کی وصیت کے مطابق دِل کا ہسپتال اپنے علاقے میں بنوا کر اس پر ان کے نام کا بورڈ لگوا دیا ہے، تو وہ گردن زدنی کیسے ہو سکتے ہیں؟ جہاں تک ترقیاتی منصوبوں کا تعلق ہے وفاقی محصولات کی کمی نے صوبوں کے وسائل بھی کم کر دیے ہیں، نو من تیل نہیں ہو گا تو رادھا ناچے گی کیا... جتنا تیل مل رہا ہے، اس کے مطابق رادھا کمال دکھا رہی ہے... آئندہ کی خبر خدا جانے۔
(یہ کالم روزنامہ ''دُنیا‘‘ اور روزنامہ ''پاکستان‘‘ میں بیک وقت شائع ہوتا ہے)

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved