تحریر : مجیب الرحمٰن شامی تاریخ اشاعت     09-08-2020

شاہ محمود کا ’’ورنہ‘‘

شاہ محمود قریشی ماشاء اللہ اپنی کرسی پر خوب جچتے ہیں۔ بنے بنائے وزیر خارجہ۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں، خاندانی وجاہت بھی وافر مقدار میں میسر ہے۔ بڑے زمیندار ہونے کے ساتھ ساتھ مخدوم بہائوالدین زکریا ملتانی رحمۃ اللہ علیہ کے سجادہ نشین ہیں۔ گویا دین و دُنیا دونوں سے گاڑھی چھنتی ہے۔ مریدوں کا وسیع سلسلہ، اندرون اور بیرون مُلک پھیلا ہوا ہے، سندھ میں بھی وہ ہزاروں کی تعداد میں آباد ہیں۔ اکثر ان کے مداح (جن میں وہ خود بھی شامل ہیں) ان کا موازنہ ذوالفقار علی بھٹو مرحوم سے کرتے پائے جاتے ہیں۔ بھٹو کو ان پر البتہ یہ سبقت حاصل ہے کہ ان کی جڑیں عوام میں گہری تھیں۔ اپنے بل بوتے پر انہوں نے دِلوں میں گھر کر لیا اور قائدِ عوام کہلانے لگے۔ روحانی طور پر وہ خالی ہاتھ تھے۔ بہت سے سجادہ نشینوں کو البتہ زیر کیا، اور وہ ان کے سامنے زمیں بوس ہو گئے، خود کو لیکن وہ ایک عام سا مسلمان ہی سمجھتے رہے۔ شاہ محمود نے عوام عمران خان سے مستعار لے رکھے ہیں، جبکہ کرشمے وہ خود دکھاتے ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو کی طرح وزارتِ خارجہ ان کی سیڑھی بنتی ہے یا نہیں، یہ تو آنے والا وقت بتائے گا، لیکن ان کے مخالف اور موافق دونوں اُنہیں اِس حوالے سے تاڑتے ہیں، اول الذکر خان صاحب کو خبردار کرنے کے لیے کہ آپ کا ایوب خان بنایا جا سکتا ہے، جبکہ ثانی الذکر ان کی شخصیت سے مرعوب ہو ہو جاتے ہیں۔
شاہ محمود کی سیاست کا آغاز 1985ء کے غیر جماعتی انتخابات کے ذریعے ہوا کہ وہ پنجاب اسمبلی میں پہنچے، وزارت کا منصب سنبھالا، مسلم لیگ میں شامل ہوئے، لیکن چند ہی برس بعد راستہ الگ کر لیا۔ ٹکٹوں کی تقسیم دِل کو نہ بھائی تو باقاعدہ ماڈل ٹائون جا کر نواز شریف صاحب سے مل کر اُنہیں خدا حافظ کہا اور بے نظیر بھٹو کے حلقہ بگوش ہو گئے۔ وہ دُنیا سے رخصت ہوئیں تو زرداری، گیلانی ایمپائر میں وزارتِ خارجہ ان کے ہاتھ لگ گئی۔ ان کی ایک نظر واشنگٹن پر تھی تو دوسری راولپنڈی پر۔ ریمنڈ ڈیوس کے معاملے میں زرداری صاحب کو خوب زچ کیا اور وزارتِ خارجہ سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے کابینہ توڑ کر بنائی تو انہوں نے پانی و بجلی کی وزارت قبول نہ کی۔ یوں واضح کر دیا کہ ان کے گوشت میں ہڈی موجود ہے۔ اِس کا ثبوت ایک بار پہلے بھی وہ اُس وقت دے چکے تھے جب جنرل پرویز مشرف کے دور میں ضلعی حکومتوں کے انتخابات کے بعد ملتان کی ضلعی نظامت ان کے حصے میں آئی تھی۔ جنرل مشرف اپنے صدارتی ریفرنڈم کی مہم چلانے ملتان پہنچے تو شاہ محمود نے بحیثیت ضلع ناظم ان کا استقبال کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
شاہ صاحب کی ایک دوسرے مخدوم، جاوید ہاشمی کے ساتھ بھی آنکھ مچولی جاری رہی۔ دونوں ایک دوسرے کو پٹخنیاں دیتے رہے، لیکن تحریک انصاف کی نیام میں دونوں سما گئے۔ ایک کو زرداری پر غصہ وہاں لے گیا تو دوسرے کی توقعات نواز شریف سے پوری نہ ہوئیں۔ دونوں کے درمیان پروٹوکول مسئلہ بنا ہوا تھا۔ برادرم حفیظ اللہ نیازی نے اس کا یہ حل نکالا کہ شاہ صاحب کی وائس چیئرمینی کے مقابل جاوید ہاشمی کا صدارتی خیمہ لگوا دیا۔ شاہ محمود تحریک انصاف میں جاوید ہاشمی سے پہلے شامل ہوئے تھے، انہیں سنیارٹی کا زعم تھا۔ جاوید ہاشمی بعد میں گھیرے گئے تھے، انہیں اپنے بانکپن پر ناز تھا۔ عمران خان شاہ محمود اور جاوید ہاشمی کے درمیان توازن قائم رکھتے رکھتے اپنا توازن کھو بیٹھتے تھے۔ جاوید ہاشمی کو دیکھ کر ہجوم بے قابو ہو جاتا اور باغی باغی کے نعرے آسمان پر جا پہنچتے، جبکہ شاہ محمود اپنی جگہ محمود غزنوی تھے، بزعمِ خود زرداری سومنات سے نمٹنا اپنا کمال گردانتے تھے۔ 2014ء کے دھرنے سے خان صاحب کی مشکل آسان ہوئی، مخدوم جاوید ہاشمی واک آئوٹ کر گئے اور مخدوم قریشی کو واک اوور مل گیا۔ تحریک انصاف نے 2018ء کا انتخاب جیتا تو وزارت خارجہ پھر شاہ محمود کے حصے میں آ گئی۔ وہ پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ پر اکتفا کر لیتے اگر صوبائی اسمبلی کی نشست ان کے ہاتھ سے نہ جاتی۔ وہ دونوں نشستوں پر انتخاب لڑ رہے تھے کہ جہانگیر ترین نے ان کے مقابل امیدوار کی پیٹھ ٹھونک دی۔ اس کا اپنا دم خم کام آیا یا کسی اور نے بھی کام دکھایا، پنجاب اسمبلی شاہ محمود سے محروم رہ گئی۔ پنجاب کی وزارت علیا کے ذریعے نواز شریف اسلام آباد پہنچ چکے تھے۔ انہوں نے جو کام وزارتِ اعلیٰ سے لیا، بھٹو صاحب وہی کام وزارتِ خارجہ سے لے کر دکھا چکے تھے، وزارتِ عظمیٰ دونوں کے سامنے ڈھیر ہو گئی۔ بھٹو صاحب ساری بھاگ دوڑ اور آب و تاب کے باوجود پانچ سال اقتدار میں رہے، اس کے بعد پھانسی کا پھندا نصیب ہوا... کوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے... نواز شریف کی کہانی مختلف رہی، وہ تین بار اِس منصب تک پہنچے، لیکن اپنی مدت ایک بار بھی پوری نہ کر سکے۔ بار بار کی ضد یوں مہنگی پڑی کہ تا حیات نا اہل قرار پائے۔ جسدِ خاکی تو محفوظ ہے، لیکن اقتدار کو سولی پر لٹکا دیا گیا... دلچسپ بات یہ ہے کہ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی توہین عدالت کے جرم میں سزا پا کر اقتدار سے محروم ہوئے۔ جن منصفین کو انہوں نے اپنے عہدوں پر بحال کیا تھا، ان ہی نے اُنہیں نکال باہر کیا۔ نیکی کا بدلہ ''نیکی‘‘ ہے۔ وزارتِ عظمیٰ کی اس ''زبوں حالی‘‘ کے باوجود اس کی کشش اہلِ سیاست کو چین نہیں لینے دیتی، ان کے حامی جوش میں آتے ہیں تو وزارتِ عظمیٰ ہی کے نعرے لگاتے ہیں... شیخ رشید جب جیل سے نکلے تو ان کے پُر جوش ووٹر ''وزیر اعظم شیخ رشید‘‘ کے نعرے لگاتے رہے۔ مخدوم جاوید ہاشمی، پرویز مشرف کی جیل سے رہا ہو کر لاہور سے ملتان روانہ ہوئے تو وزیر اعظم ہاشمی کے نعرے گونج رہے تھے... شاہ محمود قریشی کے لئے فی الحال یہ نعرہ گونجا تو نہیں ہے لیکن ان کے مداح چوری چھپے بڑبڑاتے ضرور دیکھے جاتے ہیں... شاہ صاحب بہت محتاط اور سنجیدہ شخص ہیں، پھونک پھونک کر قدم رکھنے کی شہرت رکھتے ہیں لیکن گزشتہ دِنوں وہ بدلے بدلے سے نظر آئے۔ اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کمیٹی کی سربراہی کے بعد انہوں نے جس طرح قبل از وقت تقریر کر دی، اور قومی اسمبلی میں سیاسی حریفوں کے لتے لیے، اس سے ان کی ایک نئی شخصیت ابھری۔ 5 اگست کو یوم استحصالِ کشمیر منانے، سری نگر پر نظر جمانے، اور اسلام آباد میں ایک بڑے جلوس کی قیادت فرمانے کے بعد حضرت ایک ٹی وی پروگرام میں سعودی عرب پر برس پڑے، ارشاد فرمایا کہ اگر کشمیر کی صورتِ حال کا نوٹس لینے کے لیے سعودی عرب اسلامی کانفرنس کے وزرائے خارجہ کا اجلاس جلد طلب کرنے میں معاونت نہیں کرتا تو پھر... ورنہ... سعودی عرب کے بغیر جو کچھ کر سکتے ہیں کر گزریں گے، گویا کوچۂ رقیب میں جا گھسیں گے۔ ان کے اس ''ورنہ‘‘ نے ہل چل مچا رکھی ہے۔ اپوزیشن شاہ صاحب پر چڑھ دوڑی ہے۔ شاہ صاحب صفائیاں پیش کر رہے ہیں، لیکن تیر کمان سے نکل چکا ہے۔ وزیر خارجہ نے وزیر داخلہ کی زبان کیوں بولی؟ خارجہ تعلقات کی نزاکتیں کیسے نظر انداز ہو گئیں، یہ کسی کی کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا۔ کیا شہسوار گھوڑے سے گر پڑا ہے؟ کچھ فریکچر ہوا ہے یا وہ کپڑے جھاڑ کر اُٹھ کھڑا ہو گا... اس کے لیے برادرم شبلی فراز کے والد احمد فراز کے الفاظ میں، '' انتظار کر کے دیکھتے ہیں‘‘
اب اس کے شہر میں ٹھہریں کہ کوچ کر جائیں
فراز آئو ستارے سفر کے دیکھتے ہیں
(یہ کالم روزنامہ ''دنیا‘‘ اور روزنامہ ''پاکستان‘‘ میں بیک وقت شائع ہوتا ہے)

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved