تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     24-08-2020

سرخیاں، متن اور ابرار احمد

پنجاب بدل رہا ہے، عوام کے لئے خوشخبریوں 
کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے: بزدار
وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے کہا ہے کہ ''پنجاب بدل رہا ہے، عوام کے لئے خوشخبریوں کا سلسلہ شروع ہو چکاہے‘‘ اور یہ جو احتساب کے نام پر میرے خلاف نئی کارروائیاں شروع کی گئی ہیں‘ بعض شرپسند انہیں ہی خوش خبریوں کا سلسلہ اور پنجاب کے بدلنے کی ایک کڑی قرار دے رہے ہیں لیکن انہیں اپنے عزائم میں ناکامی ہوگی بشرطیکہ اس عمل میں میرادھڑن تختہ نہ ہو جائے جبکہ میرا خیال تھا کہ ایک بڑے صوبے کے وزیراعلیٰ کے خلاف کارروائی نا مناسب اور اقدار کے خلاف ہے لیکن چونکہ ہمارے معاشرے میں اقدار کا فقدان پہلے ہی پیدا ہو چکا ہے اس لئے اس بات کو بھی خارج از امکان ہی سمجھا جائے۔ آپ اگلے روز لاہور میں ڈیفنس کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔
ہم پہلے ہی جی ایچ کیو کے گیٹ پر بیٹھے 
ہیں اپوزیشن کو وہاں کیا ملے گا: شیخ رشید
وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ ''ہم پہلے ہی جی ایچ کیو کے گیٹ پر بیٹھے ہیں اپوزیشن کو وہاں کیا ملے گا‘‘ ہم پہلے دن سے ہی یہاں بیٹھ گئے تھے اور اُٹھنے کا نام تک نہیں لے رہے بلکہ اب تو ہم نے نگہبان کے فرائض بھی سرانجام دینا شروع کر دیے ہیں اور ہماری اجازت کے بغیر کوئی اندر داخل ہو ہی نہیں سکتا، اس لئے اپوزیشن‘ خصوصاً شہباز شریف کو ہمارے ساتھ بنا کر رکھنی چاہیے کیونکہ انہیں اکثر اندر جانے کی ضرورت پیش آتی رہتی ہے اور مناسب فیس لے کر انہیں اندر داخل ہونے کی ا جازت دی جا سکتی ہے حالانکہ ان کے حق میں کوئی نتیجہ نکلنے والا نہیں ہے۔ آپ اگلے روز ریلوے ہیڈ کوارٹرز میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔
نواز شریف علاج کروائے بغیر واپس 
آنے کا فیصلہ کر سکتے ہیں: جاوید لطیف
مسلم لیگ نواز کے رہنما جاوید لطیف نے کہا ہے کہ ''نواز شریف علاج کروائے بغیر واپس آنے کا فیصلہ کر سکتے ہیں‘‘ کیونکہ وہ یہاں آ کر پھر ایک دفعہ لندن جانے کا بندوبست کر سکتے ہیں کہ ڈاکٹرز بھی وہی ہیں اور حکومت بھی وہی، جو اگر ایک بار جھانسے میں آ سکتی ہے تو دوبارہ کیوں نہیں؟ پھر ان کے پلیٹ لیٹس بھی ان کے اپنے اختیار میں ہیں جو ان کی مرضی کے مطابق ہی گھٹتے بڑھتے رہتے ہیں۔ حکومت خود ہی ان کی واپسی میں زیادہ دلچسپی نہیں لے گی کیونکہ حکومت اپنے لئے خواہ مخواہ ایک نئی پریشانی کا سامان نہیں کرنا چاہے گی اور اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنے کی غلطی نہیں کرے گی۔ آپ اگلے روز ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں شریک تھے۔
نواز شریف قوم کے ہیرو‘ معالجین کے
سرٹیفکیٹ پر واپس آ جائیں گے: احسن اقبال
سابق وزیر داخلہ اور نواز لیگ کے مرکزی رہنما چودھری احسن اقبال نے کہا ہے کہ ''نواز شریف قوم کے ہیرو ہیں، معالجین کے سرٹیفکیٹ پر واپس آ جائیں گے‘‘ اگرچہ معالجین ان کو کبھی واپسی کا سرٹیفکیٹ دینے کو تیار نہ ہوں گے کیونکہ وہ خود ہی نواز شریف کے جذبات کا خیال رکھتے ہیں، نیز ہیرو ہیرو ہی ہوتا ہے چاہے وہ عوام کے قریب ہو یا دُور، بلکہ اگر دور ہو تو ہیرو کے یہ فرائض زیادہ خوش اسلوبی سے سرانجام دے سکتا ہے جبکہ جیل میں رہ کر ہیرو بننے کا تجربہ کوئی خاص کامیاب نہیں رہا ہے اس لئے اب جیل میں دوبارہ واپس آنا ان کی ورائٹی پسند طبیعت کے بھی سراسر خلاف ہے۔ اس لئے حکومت کو زیادہ بغلیں بجانے کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ اگلے روز لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔
عثمان بزدار کی شرافت کا لبادہ اترنا شروع ہو گیا: عظمیٰ بخاری
مسلم لیگ نواز کی ترجمان عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ ''عثمان بزدار کی شرافت کا لبادہ اترنا شروع ہو گیا ہے‘‘ چنانچہ یہ لبادہ اترنے سے پہلے انہیں کسی اور لبادے کا بندوبست کر لینا چاہیے جیسا کہ ہمارے قائدین نے بروقت ایک متبادل لبادے کا انتظام کر لیا تھا، اگرچہ شرافت کا لبادہ خود بھی اس قدر باریک تھا کہ اسے لبادے کی پیروڈی ہی کہا جا سکتا ہے چنانچہ انہوں نے کئی فالتو لبادے بھی تیار کروا رکھے ہیں۔ بزدار صاحب اگر چاہیں تو ان میں سے ایک ریڈی میڈ لبادہ حاصل کر سکتے ہیں، معمولی قطع و برید کے بعد جو ان کے جسم پر پورا آ سکتا ہے، اور اگر قیمتاً خرید نہ سکتے ہوں تو مناسب کرائے پر بھی دستیاب ہے۔ آپ اگلے روز لاہور میں میڈیا سے گفتگو کر رہی تھیں۔
اور، اب آخر میں ابرار احمد کی یہ نظم:
میں نے بہت سا وقت ضائع کر دیا
اس کے ہونٹوں پر پھول کھلانے
اور اسے ملنے کے لئے
وقت نکالنے میں
میں نے بہت سا وقت ضائع کر دیا
ایک گیت کو ڈھونڈنے اور گنگنانے میں
اپنے قدموں سے
ایک راستے کو جدا کر کے
کسی اور طرف نکل جانے میں...
اپنے لہو میں ایک آگ کو سرد کرنے
ایک خواب کی پکڑ سے نکلنے
اور بے اماں دنوں کے ساتھ
قدم ملا کر چلنے میں...
دل اور دنیا کے درمیان
ایک پل بنانے
اور اس پر سے گزرنے کی اذیت میں...
جوتے چمکانے اور اپنا میلا لباس تبدیل کرنے میں
دوڑ کی ابتدائی لکیر تک آنے
چلتی گاڑی کے آخری ڈبے تک
پہنچنے کی کوشش آغاز کرنے میں...
میں نے بہت سا وقت ضائع کر دیا
اپنی مٹی سے دُور
ایک گھر کے لئے اینٹیں اکٹھی کرنے
اور دوسروں کے درمیاں
جگہ بنانے میں
اسے دیکھئے
اور دیکھ کر گزر جانے میں...
حال آں کہ
اتنے وقت میں... بہت سے
باغ لگائے جا سکتے تھے
بہت سی دھوپ جمع کی جا سکتی تھی
اورکہیں بھی پہنچا جا سکتا تھا
افسوس...
تاسف کے دھویں سے
میرا دم گھٹنے لگا ہے
اور اس جلتے مکان سے
شاید تم بھی
مجھے باہر نہیں نکال سکتے!
آج کا مقطع
کسی کے دل میں جگہ مل گئی ہے تھوڑی سی
سو کچھ دنوں سے ظفرؔ گوشہ گیر ہو گئے ہیں

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved