تحریر : ایم ابراہیم خان تاریخ اشاعت     26-08-2020

گریس مارکس

محض جیے جانے کی حیوانی سطح سے بلند ہوکر جو لوگ زندگی کے بارے میں سوچنے کی عادت پروان چڑھاتے ہیں، اِس دنیا کو کچھ دینے کا ذہن بناتے ہیں وہی دوسروں کی نظر میں قابلِ توقیر ٹھہرتے ہیں۔ آپ کی زندگی میں بھی بہت سے لوگ ہوں گے‘ اُن سے آپ کے تعلق کی نوعیت کیا ہے؟ آپ کسی کو قابلِ توقیر سمجھتے ہیں تو کس بنیاد پر؟ وہ کون سی باتیں ہیں جو کسی کو آپ کی نظر میں وقیع بناتی ہیں؟ کیا آپ کسی کو بھی محض یونہی‘ کسی سبب کے بغیر قابلِ توقیر سمجھتے ہیں یا کوئی معیار مقرر کر رکھا ہے؟ معیار آپ نے یقینا مقرر کر رکھا ہوگا۔ ہوسکتا ہے آپ کو اِس کا شعوری سطح پر احساس نہ ہو۔ جو شخص بہت محنت کرتا ہے‘ وہ محنت کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ جو مطالعے کا شوقین ہو وہ ایسے لوگوں میں بیٹھنا پسند کرتا ہے جو مطالعے کے شوقین ہوں۔ انسان عمومی سطح پر ہم مزاج لوگوں کی صحبت چاہتا ہے۔ یہ بالکل فطری امر ہے کیونکہ ؎ 
کند ہر جنس باہم جنس پرواز 
کبوتر با کبوتر، باز با باز 
کسی کی نظر میں بلند ہونے‘ قابلِ توقیر ٹھہرنے کے لیے جو پیمانہ آپ نے مقرر کر رکھا ہے وہی پیمانہ دوسروں نے بھی تو مقرر کر رکھا ہوتا ہے۔ اگر آپ کسی میں کچھ دیکھ کر اُسے وقعت دیتے ہیں تو دوسرے بھی آپ میں کچھ دیکھنا چاہتے ہیں۔ ایسا نہ ہو تو آپ بھی وقیع نہ ٹھہریں گے۔
جینے کے سو ڈھنگ ہوسکتے ہیں اور ہوتے ہیں۔ اپنے ماحول کا جائزہ لیجیے تو اندازہ ہوگا کہ بہت سوں کو اس بات کا کچھ احساس ہی نہیں کہ زندگی سی نعمت کن حماقت آمیز باتوں اور کاموں میں ضایع کی جارہی ہے۔ عمومی سطح پر لوگ ایسے بہت سے افکار و اعمال کے دائرے میں گھومتے رہتے ہیں جن سے کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا۔ وقت سب سے بڑی نعمت‘ سب سے بڑا اثاثہ ہے مگر اِس اثاثے کو یوں ضایع کیا جاتا ہے گویا یہ سب کچھ یا تو کبھی ختم ہی نہیں ہوگا یا طلب کرنے پر پھر مل جائے گا۔ تحت الشعوری طور پر سبھی کو اندازہ ہے کہ ضایع کیا ہوا وقت کسی بھی حالت میں واپس نہیں آسکتا۔ اللہ نے ہمیں جس قدر وقت سے نوازا ہے وہ امانت ہے۔ اس امانت کو اللہ کی مرضی کے مطابق بروئے کار لانا ہے۔ ایسا نہ کیا جائے تو ہم کفرانِ نعمت کے مرتکب قرار پائیں گے اور آخرت میں اُس وقت کا حساب دینا پڑے گا جو دنیا میں ضایع کیا ہوگا۔
ہم اپنے یومیہ معمولات میں گم ہوکر زندگی کے بڑے مقاصد کو بھول جاتے ہیں۔ ہمیں یاد ہی نہیں رہتا کہ ہمیں دنیا میں گزارنے کے لیے جو وقت دیا گیا ہے وہ سراسر امتحان ہے‘ آزمائش ہے۔ اور اس آزمائش میں کامیاب ہونا ہی ہے۔ کوئی اور آپشن ہے ہی نہیں۔ زندگی کسی واضح مقصد کے بغیر گزاری جائے تو ضیاع تصور ہوگی۔ کسی بھی انسان کے بوجھ میں سب سے بڑھ کر ہے وقت کا ضیاع۔ وقت کو ڈھنگ سے بروئے کار نہ لانے کی صورت میں انسان اپنے رب کی نظر میں مجرم ٹھہرتا ہے۔ اِس دنیا میں عطا کیا جانے والا وقت رب کی سب سے بڑی نعمت ہے۔ اس نعمت کا حق ادا کرنا لازم ہے۔ وقت سی نعمت کا حق ادا کرنے کی معقول ترین صورت یہ ہے کہ اِسے اپنے خالق و مالک کی مرضی کے مطابق بروئے کار لایا جائے۔ ہر معاملے میں رب کی خوشنودی ملحوظِ خاطر رہنی چاہیے۔
زندگی کے امتحان میں گریس مارکس نہیں ہوتے۔ عزت اور وقار کے ساتھ زندہ رہنے کے لیے لازم ہے کہ آپ اللہ کے طے کردہ امتحان میں کامیاب ہونے کی بھرپور تیاری کریں اور اس سلسلے میں جو کچھ بھی کرسکتے ہیں‘ کر گزریں۔ عمومی سطح پر ایسا ہوتا نہیں۔ لوگ وقت سی نعمت کو ضایع کرنے پر تُلے رہتے ہیں اور اس معاملے میں کسی کی رائے تسلیم نہیں کرتے۔ کوئی معقول مشورہ بھی دے تو اپنے تعقل کے زعم میں توجہ نہیں دی جاتی۔ عمومی سوچ یہ ہے کہ دوسرے جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ غلط ہے یعنی جو کچھ بھی اب تک ہوا ہے بس وہی کیے جائیے۔ یہ طرزِ فکر انسان کو محدود کردیتی ہے۔ دوسروں کی رائے کا احترام نہ کرنے والوں کو بالعموم غیر متوازن اور پریشان دیکھا گیا ہے۔ یہ طوق اپنے وجود کے گلے میں لوگ خود ڈالتے ہیں اور موردِ الزام دوسروں کو ٹھہراتے پھرتے ہیں۔
گریس مارکس کی تلاش میں رہنے والوں کو کسی بھی اعتبار سے کامیاب قرار نہیں دیا جاسکتا۔ عام سے امتحان میں بھی گریس مارکس کی مدد سے کامیاب قرار پانے والوں کی وہ توقیر نہیں ہوتی جو ہونی چاہیے۔ جو دن رات ایک کرکے امتحان کی بھرپور تیاری کرتے ہیں وہ جب امتحان میں شریک ہوتے ہیں تب اُن کا انداز قابلِ دید ہوتا ہے۔ غیر معمولی تیاری یقینی بنانے کی صورت میں وہ کمرۂ امتحان میں خوش خوش داخل ہوتے ہیں اور خوش خوش باہر آتے ہیں۔ اُن کا پورا وجود ایک الگ ہی ترنگ میں دکھائی دیتا ہے۔ جب وہ امتحان دے رہے ہوتے ہیں تب اُن کا جوش و جذبہ قابلِ دید و قابلِ داد ہوتا ہے۔ وہ ہر سوال کا معقول ترین جواب دیتے ہیں اور یوں امتیازی حیثیت میں کامیابی اُن کا مقدر بنتی ہے۔
گریس مارکس کی تلاش میں رہنے والوں کو سدا پریشان دیکھا گیا ہے۔ جب یہ طے کرلیا جائے کہ امتحان میں جیسے تیسے کامیابی حاصل کرنی ہے تب زندگی قابلِ رحم انداز سے گزرتی ہے۔ زندگی کا حق ادا کرنے سے گریز کرنے والوں کو ایسی ہی کیفیت سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ ایسے کسی بھی انسان کے لیے حقیقی مسرّت نہیں رکھی گئی جو زندگی کو سنجیدگی سے نہ لیتا ہو اور قدرت کی طرف سے عطا کیے جانے والے وقت کو ضایع کرتے رہنے میں خوشی محسوس کرتا ہو۔
توقیر کے ساتھ زندہ رہنے کا آپشن انسان کی صلاحیت و سکت میں اضافے کے ساتھ ساتھ کام کرنے کی لگن بھی چاہتا ہے۔ یہ آپشن جس نے بھی اپنایا اُسے غیر معمولی توقیر سے ہم کنار دیکھا گیا۔ دنیا اُسی کو احترام کی نظر سے دیکھتی ہے جس میں کچھ دیکھتی ہے۔ ممکن نہیں کہ کسی میں کوئی بھی صلاحیت نہ پائی جاتی ہو اُسے بھرپور احترام ملے‘ اس کی قدر افزائی ہو۔ کبھی کبھی محض اتفاق یا حُسنِ اتفاق سے تو ایسا ہوسکتا ہے مگر اِسے اصول یا کُلیے کی حیثیت سے اپنایا نہیں جاسکتا۔ کسی بھی معاشرے میں اُنہیں حقیقی احترام نہیں ملتا جو اپنی لیاقت بڑھانے پر متوجہ ہونے کے بجائے محض گریس مارکس کے تلاشی رہتے ہوں۔ انگریزی کا مقولہ ہے: Beggars can't be choosers.؛ یعنی بھکاریوں کو انتخاب کا حق نہیں ملتا۔ وہ کسی سے کچھ مانگتے وقت اپنی مرضی کا اظہار نہیں کرسکتے۔ جو کچھ بھی مل جائے‘ وہی قبول کرنا پڑتا ہے۔ بھیک دینے والے اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ مانگنے والے اُن سے کوئی فرمائش کریں، اپنی پسند و ناپسند ظاہر کریں۔ مانگنے والوں کے نصیب میں ذلت آمیز شب و روز لکھے ہوتے ہیں۔
زندگی کو گریس مارکس کی مدد سے بسر کرنے والوں کے لیے صرف پریشانیاں لکھی گئی ہیں۔ انسان کو ہر طرح کے حالات میں زندگی بسر کرنے کے آپشن سے نوازا گیا ہے۔ محنت کے ساتھ جینے میں توقیر لکھی ہے۔ صلاحیت و سکت میں اضافہ یقینی بنانے والوں کو اچھی زندگی ملتی ہے۔ منصوبہ سازی کے ساتھ جینے والوں کے لیے ہی معیاری زندگی لکھی گئی ہے۔ گریس مارکس کی تلاش میں رہنا اپنے آپ کو دھوکا دینا ہے۔ یہ دنیا چاہے جیسی بھی ہے‘ آج بھی اُنہی کو احترام کی نظر سے دیکھتی ہے جو اپنے وجود کو احترام کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ جو اپنی نظر میں وقیع نہیں ہوتے وہ کسی کے لیے قابلِ توقیر نہیں ہوتے۔ زندگی بسر کرنے کا یہی ڈھنگ اچھا ہے کہ انسان باصلاحیت ہو، سکت بھی رکھتا ہوں، بھرپور لگن کے ساتھ محنت کا عادی ہو اور دیانت کا دامن بھی ہاتھ سے نہ چھوڑے۔ یعنی یہ کہ گریس مارکس کی تلاش ترک کردی جائے‘ محنت کا آپشن اپنایا جائے۔ امتحان میں پوری تیاری کے ساتھ شرکت کی جائے، ہر سوال کا معیاری جواب دیا جائے تاکہ نتیجہ محنت، مرضی اور توقع کے مطابق ہو۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved