تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     30-08-2020

سرخیاں، متن اور اقتدار جاوید کا سلام

اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کر رہا ہوں: فضل الرحمن
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ ''اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کر رہا ہوں‘‘ لیکن اپوزیشن ایک دوسرے کو ساتھ لے کر چلنے کی پوزیشن میں بھی نظر نہیں آتی بلکہ وہ تو اکیلے اکیلے چلتی بھی نظر نہیں آتی اور نہ ہی حکومت نئے انتخابات کرانے کو تیار ہے حالانکہ وہ اپنے اقتدار کے دو سال گزار چکی ہے۔ جب میں نے تحریری ضمانتوں کا مطالبہ کیا تواپوزیشن کو سانپ ہی سونگھ گیا، صرف زبانی جمع خرچ سے کام چلانے کی کوشش کی جا رہی ہے، حتیٰ کہ ہر کوئی اپنی اپنی اے پی سی بلانے کا بھی عندیہ دے رہا ہے۔ ثابت ہوا کہ جو کچھ اس کے ساتھ ہو رہا ہے یہ اسی قابل تھی۔ آپ اگلے روز اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔
سازشی عناصر اپنا کام کرتے رہیں
پانچ سال پورے کریں گے: بزدار
وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان احمد بزدار نے کہا ہے کہ ''سازشی عناصر اپنا کام کرتے رہیں، پانچ سال پورے کریں گے‘‘ کیونکہ ہم اگر اپنا کام نہیں کر رہے تو کم از کم سازشی عناصر کو تو کرنا چاہیے ورنہ یہاں سے کام کا نام و نشان تک مٹ جائے گا، جبکہ ہم اپنے حصے کا کام یہ کر رہے ہیں کہ احتساب کے ادارے کی طلبیوں کے باوجود وزیراعظم کی ہدایت کے مطابق گھبرا نہیں رہے حالانکہ گھبرانا اپوزیشن کو چاہیے جو ہمارے دوستوں کی پیش گوئیوں کو بھی خاطر میں نہیں لا رہی البتہ ایک کام جو وہ پوری تندہی سے کر رہی ہے وہ یہ ہے کہ کسی طرح نواز شریف وہاں سے واپس نہ آ جائیں ورنہ مریم نواز اور شہباز شریف دونوں میں سے کسی کو کچھ نہیں ملے گا کیونکہ یہاں آ کر وہ خود اپنے لیے ہاتھ پیر ماریں گے۔ آپ اگلے روز لاہور میں وفود سے ملاقات کر رہے تھے۔
این آر او نہیں مانگا، وزیراعظم قوم کو گمراہ کر رہے ہیں: رانا تنویر
نواز لیگ کے سینئر رہنما اور پبلک اکائونٹس کمیٹی کے چیئرمین رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ ''کوئی این آر او نہیں مانگا، وزیر اعظم قوم کو گمراہ کر رہے ہیں‘‘ کیونکہ مقدمات کی واپسی کا مطالبہ کوئی این آر او نہیں ہے اور حکومت ان کے ذریعے محض اپنا اور ہماراوقت ضائع کر رہی ہے، نہ ہمیں خدمت کرنے دیتی ہے نہ خود کچھ کرتی ہے۔ اگرچہ ہم وہ کچھ تو نہیں کر سکتے جو اپنے ادوار میں کرتے رہے ہیں، تاہم ایسا کرنے کے خواب تو دیکھ ہی سکتے ہیں کیونکہ آئین کے مطابق بھی ملک میں خواب دیکھنے پر کوئی پابندی نہیں‘ جبکہ ہم تو پہلے ہی ڈراوناسا خواب دیکھنے کے بعد ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھتے ہیں اور پھر ساری رات کسی اچھے سے خواب کا انتظار کرتے رہتے ہیں تا کہ پھر ہڑبڑا کر نہ اٹھ سکیں۔ آپ اگلے روز شیخوپورہ میں میڈیا سے بات چیت کر رہے تھے۔
نواز شریف نے لندن جا کر ثابت کیا سب طے تھا: شیخ رشید 
وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ ''نواز شریف نے لندن جا کر ثابت کیا سب طے تھا‘‘ حالانکہ یہ طے کرنے کی ضرورت ہی نہیں تھی اور بچہ بچہ جانتا تھا کہ سب کچھ ایک طے شدہ منصوبے کے مطابق ہی ہو رہا ہے کیونکہ اگر وہ یہاں ہوتے تو ہمارا ہی ناک میں دم کیے رکھنا تھا حالانکہ دم ناک کے ذریعے پھیپھڑے میں ہی جانا چاہیے، نیز ناک میں اتنا دم سما بھی کیسے سکتا تھا۔ اور، اب جو انہیں واپس لانے کی کوشش کی جائے گی وہ بھی ایک دکھاوا ہی ہو گی جبکہ ویسے بھی برطانوی حکومت کے لیے انہیں زبردستی واپس بھیجنا ممکن نہیں ہو گا کیونکہ اس کے ساتھ ہمارا کوئی ایسا معاہدہ بھی تو نہیں ہے۔ آپ اگلے روز اپنی نئی کتاب سے کچھ اقتباسات پیش کر رہے تھے۔
ملک پر مافیا کا قبضہ ہے، عوام اٹھ کھڑے ہوں: سراج الحق
امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ ''ملک پر مافیا کا قبضہ ہے، عوام اٹھ کھڑے ہوں‘‘ کیونکہ بیٹھے بیٹھے تو آدمی ویسے ہی اکڑ جاتا ہے اس لیے انہیں چاہیے کہ تھوڑے عرصے کے لیے اٹھ کھڑے ہوں اور یہ اٹھک بیٹھک جاری رکھیں تا کہ اس کے جسم کے پٹھے پوری طرح کام کرتے رہیں، نیز کبھی کبھار لیٹ بھی جایا کریں تو بھی کوئی مضائقہ نہیں ہے کیونکہ اس وقت قوم کو در پیش سب سے بڑا مسئلہ اس کی صحت کا ہے اس لیے اس کی طرف توجہ دلانا میرے فرائض میں شامل ہے اگرچہ دیگر فرائض سے میں کافی حد تک فارغ ہوں اور میری اپنی صحت کے لیے بھی ضروری ہے کہ کچھ نہ کچھ کرتا رہوں۔ آپ اگلے روز ایک اجتماع سے خطاب کر رہے تھے۔
تین سال میں تبدیلی واضح طور پر نظر آئے گی: عبدالعلیم خان
سینئر وزیر پنجاب عبدالعلیم خان نے کہا ہے کہ ''تین سال میں تبدیلی واضح طور پر نظر آئے گی‘‘ جبکہ تبدیلی آ تو چکی ہے لیکن بعض وجوہات کی بنا پر نظر نہیں آ رہی کیونکہ یہ کچھ زیادہ ہی باریک واقع ہوئی ہے اور اسے دیکھنے کے لیے باقاعدہ خوردبین کی ضرورت ہے اور بائیس کروڑ عوام اس تبدیلی کو دیکھنے کے لیے اتنی خوردبینیں تو خریدنے سے رہے، اگرچہ ہماری کارگزاریوں کی وجہ سے وہ کافی خوشحال ہو چکے ہیں اور ایک ایک فرد کئی کئی خوردبینیں خرید سکتا ہے‘ تاہم ان کے لیے بہتر یہی ہے کہ وہ اگر تبدیلی دیکھنا چاہیں تو تین سال تک انتظار کریں جس کے لیے ہم پوری کوشش کریں گے کہ لوگوں کو اس کی ایک آدھ جھلک ضرور نظر آ جائے۔ آپ اگلے روز لاہور سے ٹویٹ میں اپنے خیالات کا اظہار کر رہے تھے۔
اور، اب آخر میں اقتدار جاوید کی طرف سے یہ سلام:
ضوفشاں ہو گیا گُل نہادِ حسین ابر و باد حسین
چل پڑی ریگزاروں میں بادِحسین ابرو بادحسین
رات بھر نیند میں ہے مرا عشق اور حکمرانِ دمشق
گریۂ صبح ہے اور یادِ حسین ابرو بادِ حسین
حشر کا دن، فرشتوں کی آواز اور مستقل خامشی
ایک نادِ علی ایک نادِ حسین ابروبادِ حسین
ایک بارش بھری تیز مہکار سے دل مہکنے لگا
جاں نشیبِ حسن، دل سوادِ حسین ابرو بادِ حسین
آیۂ خواب پر، پاک اصحاب پر مستقل رحمتیں
کربلائی ہیں ہم خانہ زادِ حسین، ابرو بادِ حسین
شیشۂ جان کے نام کی ریت تھی سُرخ تر ہو گئی
وہ مُرادِ نبی، وہ مرادِ حسین، ابرو بادِ حسین
کُوفۂ نام میں یہ لڑائی مری آخری سانس تک
میری حُبِ علی ہے جہادِ حسین، ابرو بادِ حسین
مرگ بر مرگ ہو اُس پہ جو کوفیوں کی طرح اڑ گیا
جو گرجنے لگا اُس کو دادِ حسین، ابروبادِ حسین
آج کا مطلع
بجھا ہے رنگِ دل اور خوابِ ہستی کربلا ہے
کہ جیتے ہیں نہ مرتے ہیں، یہ کیسی کربلا ہے

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved