تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     01-09-2020

سرخیاں، متن اور ابرار احمد

نواز واپس آ کر سزا پوری یا پلی بارگین کریں: فواد چودھری
وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چودھری نے کہا ہے کہ ''نواز شریف واپس آ کر سزا پوری یا پلی بار گین کریں‘‘ سزا ہی پوری کر لیں تو بہتر ہے کیونکہ جیل میں ان کو گھر جیسی ہی سہولتیں حاصل ہوں گی جبکہ اپنی پسند کا کھانا اگر جیل میں نہ مل سکا تو گھر سے منگوا سکیں گے جبکہ پلی بار گین کے ساتھ تو شاید ویسے ہی وہ پورے ہو جائیں کیونکہ پیسے نکالنا ان کے لئے زندگی کا سب سے مشکل کام ہوگا، اور اگر یہ دونوں کام نہیں کر سکتے تو وہیں پر براجمان رہیں اور اپنی جماعت کو اپنے منطقی انجام تک پہنچانے کا فریضہ سرانجام دیں اگرچہ اس سلسلے میں یہاں بھی کوششیں ہو رہی ہیں۔ آپ اگلے روز کراچی میں ایک نجی ٹی وی چینل کے ایک پروگرام میں شریک تھے۔
جبر برداشت کر لیں گے لیکن کسی باطل 
کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے: زرداری
سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ ''جبر برداشت کر لیں گے لیکن کسی باطل کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے‘‘ اگرچہ اینٹ سے اینٹ تو نہیں بجا سکیں گے؛ تاہم کوئی اور ساز ضرور بجائیں گے جس میں ڈھول بھی شامل ہو جس کا پول تو پہلے ہی کھل چکا ہے؛ تاہم اسے بھی دُور سے ہی بجائیں گے کیونکہ دُور کے ڈھول ہی سہانے ہوتے ہیں۔ اگرچہ ڈگڈگی بھی بجا سکتے ہیں لیکن اس کے لئے کوئی ماہر بندر بھی تلاش کرنا پڑے گا جس کے ہاتھ میں استرا بھی ہو سکتا ہے جو خود ہمارے لئے خطرناک بھی ہو سکتا ہے جبکہ خطرات میں تو ہم پہلے ہی گوڈے گوڈے پھنسے ہوئے ہیں۔ آپ اگلے روز کراچی سے بیان جاری کر رہے تھے۔
ترقی کا سفر جاری رہے گا، منصوبوں سے
عوام کی تقدیر بدل جائے گی: مراد راس
وفاقی وزیر برائے مواصلات مراد سعید نے کہا ہے کہ ''ترقی کا سفر جاری رہے گا، منصوبوں سے عوام کی تقدیر بدل جائے گی‘‘ اور یہ تقدیر پہلے سے ابتر بھی ہو سکتی ہے کیونکہ عوام کی اپنی نیت کچھ زیادہ ٹھیک نہیں اور آدمی کو اس کی نیت کا پھل ہی ملتا ہے۔ اس لئے عوام کو چاہیے کہ اگر ان منصوبوں سے اپنی تقدیر بدلنا چاہتے ہیں تو پہلی فرصت میں اپنی نیت ٹھیک کریں تاکہ ہم خواہ مخواہ ان منصوبوں پر اپنا قیمتی وقت ضائع نہ کرتے رہیں کیونکہ وقت ضائع کرنے کے لئے ہمارے پاس کئی دیگر ذرائع بھی موجود ہیں۔ آپ اگلے روز سوات میں ایک تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔
نوازشریف کی طبیعت بہتر ہے‘ خود ہی واپس آ جائیں: شاہ محمود
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ''نواز شریف کی طبیعت بہتر ہے خود ہی واپس آ جائیں‘‘ کیونکہ انہیں واپس لانا تو کسی طرح بھی ہمارے لئے ممکن نہیں ہے اس لئے براہِ کرم ہمارا وقت ضائع نہ کریں اور جلد از جلد واپس آ جائیں کیونکہ جیل شدت سے اُن کا انتظار کر رہی ہے‘ جس میں سینکڑوں قیدی بھی شامل ہیں جو اپنے لیڈر کو اپنے ساتھ دیکھنے کے لئے بہت بے قرار ہیں۔ اس لئے اگر ہمارا نہیں تو وہ ان قیدیوں ہی کے جذبات کا کچھ خیال کریں اس طرح ان قیدیوں کا مورال بھی بلند رہے گا جبکہ ساتھ ساتھ ان کا اپنا مورال بھی کافی بلند رہے گا۔ آپ اگلے روز ملتان میں ایک تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔
سونا اُگلتے کھیتوں کے باوجود
عوام آٹے کو ترس رہے ہیں: حمزہ شہباز
پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز نے کہا ہے کہ ''سونا اگلتے کھیتوں کے باوجود عوام آٹے کو ترس رہے ہیں‘‘ اور اگر حکومت عوام کو آٹا مہیا نہیں کر سکتی تو کھیتوں سے اُگے ہوئے سونے ہی سے ان کی داد رسی کر دیں، اگرچہ ان کھیتوں کی طرف اپنے دور میں ہمارا کبھی دھیان ہی نہیں گیا اور ہم اس سے بہت کم تر کاموں ہی میں اپنا وقت ضائع کرتے رہے ا ور وہ بھی اب مخالفین کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح کھٹک رہا ہے، حسد اور لالچ کی اس سے بڑی مثال اور کیا ہو سکتی ہے، خدا انہیں ہدایت دے جیسے قدرت ہمیں ہدایت دینے کی کوشش کرتی رہی ہے۔ آپ اگلے روز لاہور سے حسب معمول ایک بیان جاری کر رہے تھے۔
اور‘ اب آخر میں ابرار احمد کی یہ نظم:
آنکھیں بند ہوئی جاتی ہیں
تم جانتے ہو
میں تمہاری زمین پر‘ سر جھکا کر چلتا ہوں
اور آہستہ رو ہوا کی طرح
تمہارے دل سے لپٹتا ہوں
تم جانتے ہو
میں کتنی راتوں کا جاگا ہوا
گرتا پڑتا... بالآخر
تمہارے خواب کی چوکھٹ سے لگ کر
دوگھڑی کو اُونگھ گیا تھا
لیکن کتنی جلدی دن نکل آیا ہے
ایک ہاتھ کی دستک پر
تم نے دروازہ کھول دیا ہے
تمہارے آسمان پر چھائے بادل
تمہارے گھر تک جھک آئے ہیں
اور مجھے...رات کی راہ داریاں پھر سے بلاتی ہیں
ایک ادھورے گیت کی بازگشت
نارسائی کی دیواروں سے سر ٹکرا رہی ہے۔۔۔
تم جانتے ہو
ہمارے لئے دن ا ور رات
نیند اور بیداری
ایک سی سرشاری
اور اذیت کے پرتو ہیں
میں نہیں جانتا
مگر... اس لمحہ بھر نیند کی مہک نے
مجھے بے آرام کر دیا ہے
مجھے اس باغ تک جانا ہے
جہاں چاندنی کے بستر پر
گزشتہ ساعت میں ٹھہری ہوئی
ستاروں بھری دو خوش نما آنکھیں
میری راہ دیکھتی ہوں گی
میری آنکھیں ابھی سے بند ہوئی جاتی ہیں
آج کا مقطع
دریا تھا ظفرؔ‘ شور مچاتا ہوا جس میں
پانی بھی نہ تھا اور کنارہ بھی نہیں تھا

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved