تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     12-09-2020

کاک ٹیل

vانتقام کا نشانہ بنانے والے جواب دیں گے: مریم اورنگزیب
نواز لیگ کی ترجمان مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ ''انتقام کا نشانہ بنانے والوں کو جواب دینا پڑے گا‘‘ اگرچہ مجھے یہ معلوم نہیں کہ کس چیز کا انتقام لیا جا رہا ہے جس کے بارے میں مَیں نے کچھ معززینِ جماعت سے پوچھا بھی تھا لیکن انہوں نے اس سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ جملہ عمائدین احتساب کے حوالے سے یہی بیان دیتے آئے ہیں اس لیے ہمیں بھی یہ معلوم کرنے کی ضرورت نہیں، ویسے بھی احتساب کا جواب پیشیوں پر دیا جا سکتا ہے؛ تاہم اب اس بات کا سراغ لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ احتساب اگر واقعی انتقام ہے تو آخر یہ کس چیز کا انتقام ہے، اگرچہ یہ کثرتِ استعمال سے محاورہ بن چکا ہے۔ آپ اگلے روز لاہور میں میڈیا سے گفتگو کر رہی تھیں۔
وزیراعلیٰ بننے کے بعد ذاتی اثاثے کم ہوئے: بزدار
وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے کہا ہے کہ ''وزیراعلیٰ بننے کے بعد ذاتی اثاثے کم ہوئے‘‘ البتہ میں اپنے دوست احباب کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا کہ ان کے اثاثے کم ہوئے یا زیادہ کیونکہ میں کسی کے ذاتی معاملات میں دخل اندازی پسند نہیں کرتا۔ ہو سکتا ہے کہ ان میں کئی خوش قسمت ایسے بھی ہوں جن کے اثاثے بڑھ گئے ہوں یا میرے سے زیادہ بڑھ گئے ہوں کیونکہ کوئی کسی کی قسمت کا شریک نہیں ہوتا، اور ہو سکتا ہے کہ میرے اثاثوں میں بھی کوئی کمی بیشی ہو گئی ہو کیونکہ کام کی زیادتی کی وجہ سے مجھے اس طرف توجہ دینے کی فرصت ہی نہیں ملی، اور اگر بڑھے ہوں تو مجھ سے پوچھ کر تو نہیں بڑھے ہوں گے۔ آپ اگلے روز لاہور میں ایک نجی ٹی وی چینل کے ایک پروگرام میں شریک تھے۔
میرے فیصلوں سے خاندان کو اربوں کا نقصان ہوا: شہباز 
سابق وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے کہا ہے کہ ''میرے فیصلوں سے خاندان کو اربوں روپے کا نقصان ہوا‘‘ اور میں چونکہ عوام کو بھی اپنے خاندان کا حصہ سمجھتا ہوں، اس لیے اگر عوام کا اربوں کا نقصان میرے فیصلوں سے ہوا ہے تو میں اسے بھی اپنا ہی نقصان سمجھتا ہوں؛ چنانچہ جتنے منصوبوں میں بھی اربوں کا نقصان ہوا ہے وہ ایک طرح سے میرا ہی نقصان تھا جبکہ میرے ذاتی اثاثوں میں جو اضافہ ہوا ہے، اگر اربوں کا نقصان نہ ہوا ہوتا تو ان میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا تھا۔ اور میں آج بھی اپنے سابقہ مؤقف پر قائم ہوں کہ میں نے دھیلے کی کرپشن نہیں کی کیونکہ دھیلا سکۂ رائج الوقت تھا ہی نہیں۔ آپ اگلے روز لاہور سے بیان جاری کر رہے تھے۔
سردیوں میں گیس کے بحران کا سامنا ہو سکتا ہے: عمران خان
وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ''سردیوں میں گیس کے بڑے بحران کا سامنا ہو سکتا ہے‘‘ اگرچہ میں نے کل بھی یہی بیان دیا تھا اور ایک ہی بیان بار بار دینے کی ایک وجہ حافظے کی کمزوری بھی ہو سکتی ہے حتیٰ کہ کچھ عرصہ پہلے تو مجھے یہ بھی یاد نہ رہتا تھا کہ میں ملک کا وزیراعظم ہوں اور مجھے باقاعدہ یاد دلانا پڑتا تھا؛ تاہم اب ایسا نہیں ہے۔ میں ایک ہی موضوع پر بار بار بیان اس لیے بھی دیتا ہوں کہ عوام حکومت کی بات غور سے سنتے ہی نہیں ہیں اور اگر سن بھی لیں تو غیر اہم ہونے کی وجہ سے انہیں یاد ہی نہیں رکھتے۔ آپ اگلے روز راولپنڈی میں میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔
اپوزیشن کی توجہ حکومت کو ناکام بنانے پر مرکوز ہے: علیم خان
پنجاب کے سینئر وزیر عبدالعلیم خان نے کہا ہے کہ ''اپوزیشن کی پوری توجہ حکومت کو ناکام بنانے پر مرکوز ہے‘‘ حالانکہ اسے اس کی ضرورت ہی نہیں کیونکہ حکومت کی اپنی توجہ بھی اسی نکتے پر مرکوز ہے اور اسے رفتہ رفتہ کامیابی بھی حاصل ہو رہی ہے اور یہ ہمارے کام میں مداخلت بھی ہے حالانکہ ہم نے اپوزیشن کے کام میں کبھی دخل نہیں دیا ماسوائے اس ہلکی پھلکی چھیڑ چھاڑ کے جو پکڑ دھکڑ کے نام پر جاری ہے اور اپوزیشن کو جس کی کوئی خاص پروا بھی نہیں ہے کیونکہ اس کی صحت پر اس کا کوئی اثر ہی نہیں پڑا بلکہ جیلوں میں دستیاب سہولتوں کے بعد ان کی صحت پہلے سے بھی بہتر ہو رہی ہے، اب اور کیا چاہیے؟ آپ اگلے روز لاہور میں میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔
حکومت سرمایہ کاروں کو سازگار ماحول 
دینے کے لیے کوشاں ہے: شبلی فراز
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر سید شبلی فراز نے کہا ہے کہ ''حکومت سرمایہ کاروں کو سازگار ماحول دینے کے لیے کوشاں ہے‘‘ جبکہ وہ پہلے بھی سرمایہ کاروں اور سرمایہ داروں ہی کو سازگار ماحول مہیا کر رہی ہے کیونکہ آج تک جس قدر بھی سبسڈیز دی گئی ہیں وہ بلا امتیاز سرمایہ داروں ہی کو دی گئی ہیں جس سے وہ مزید سرمایہ دار ہو گئے ہیں۔ سبسڈی ہوتی ہی اس طبقے کے لیے ہے جبکہ عوام کو تو نہ اس کی ضرورت ہے نہ عادت، کیونکہ اس سے اُن کا ہاضمہ خراب ہونے کا احتمال زیادہ ہے۔ آپ اگلے روز ایک وفد سے گفتگو کر رہے تھے۔
مستحق
شام کے ملگجی اندھیرے میں ایک شخص نے ایک راہگیر پر پستول تانتے ہوئے کہا: میں ایک نہایت غریب آدمی ہوں اور میرے پاس اس پستول کے علاوہ کچھ نہیں ہے‘ اس لیے جو کچھ تمہاری جیب میں ہے نکال کر میرے حوالے کر دو کہ میں واقعی مدد کا مستحق ہوں!
اور‘ اب آخر میں اس ہفتے کی تازہ غزل:
رُکا ہوا یونہی پایانِ کار میرا ہے
جو چل نہیں ر ہا وہ کاروبار میرا ہے
تم اپنے آدمیوں سے ہو بے خبر جب سے
تمہارے آدمیوں میں شمار میرا ہے
وہ ملکیت مری تسلیم ہی نہیں کرتا
جو ایک بار نہیں‘ بار بار میرا ہے
میں پائوں گا اسے پانی میں ڈوب کر ہی کہیں
وہ ایک شخص جو دریا کے پار میرا ہے
نہیں ہے اب جہاں میری بھی کوئی گنجائش
یہ دشت ورنہ بہت بے کنار میرا ہے
لٹا کے آتا ہوں روز اس میں اپنا رختِ سفر
یہ رہزنوں سے بھرا رہگزار میرا ہے
وہ جس کا اور کسی پر ہے انحصار اپنا
اسی پہ دیکھیے دار و مدار میرا ہے
مری اب اس میں شباہت کہیں نہیں ملتی
یہ دیکھنے میں تو چہرہ ہزار مرا ہے
کسی تلاش میں پھرتا ہے شہر شہر‘ ظفرؔ
جو بیٹھا ہی نہیں وہ غبار میرا ہے
آج کا مقطع
خود ہی دریا کی رکاوٹ ہوں‘ ظفرؔ
ایک دن پار بھی ہو سکتا ہوں

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved