تحریر : منیر احمد بلوچ تاریخ اشاعت     19-09-2020

ایسا بھی کیا کہا؟

ایک طویل عرصہ فرانس میں گزار کر شاید وہ اس لئے اپنے وطن آئی کہ اپنے بچوں کو اپنے سماجی ماحول میں مذہب کے مطابق تعلیم دلا سکے، اس کے لئے رات گئے گھر سے اکیلے نکلنا کوئی غیر معمولی بات نہ تھی لیکن شاید وہ یہ بھول گئی کہ یہاں تو چار‘ پانچ برس کے بچوں‘ بچیوں کو بھی نہیں بخشا جاتا اور اپنی شیطنیت اور درندگی کا نشانہ بنانے کے بعد گلا گھونٹ کر قریبی گندے نالوں، کچرا کنڈیوں یا ویران جگہوں پر پھینک دینا اب ایک معمول بن چکا ہے اور یہ وحشیانہ فطرت روز بروز بڑھتی جا رہی ہے۔ لاہور‘ سیالکوٹ موٹر وے پر‘ انسانیت کے ماتھے پر لگائے گئے کلنک کے ٹیکے نے ہر گھر کو بے سکون کر دیا ہے، وہ خاتون جو نہ جانے اپنی آنکھوں میں کتنے خواب سجائے پاکستان آئی تھی‘ اس طرح لٹ گئی کہ اس کی ہر آس کرچی کرچی ہو کر رہ گئی، مجرم کل کو پکڑے جائیں گے‘ چند دن شور برپا رہے گا اور چند ہفتوں بعد جب گرد تھم جائے گی تو پھر وہی ہو گا جو اکثر ایسے کیسوں میں ہوتا آ یا ہے۔
ادھر یہ غم ناک واقعہ ہوا تو دوسری طرف نئے نئے لیکن متنازع طور پر ابھرنے والے سی سی پی او عمر شیخ کے مخالفین اور ناقدین نے سوشل میڈیا پر وہ فقرے بازی کی کہ لوگوں کی توجہ ریپ سے ہٹ کر عمر شیخ کی طرف ہو گئی۔ سوال کیا جا رہا ہے کہ انہوں نے یہ کیوں کہا کہ خاتون رات گئے گھر سے اکیلی کیوں نکلی؟
شاید یہ لوگ واقف نہیں کہ جب تفتیش کی جاتی ہے تو اس کا ہر پہلو زیرِ غور آتا ہے۔پولیس یا کسی بھی تحقیقاتی ایجنسی اور ادارے کا پہلا سوال ہی یہ ہے کہ آخر رات گئے اس ویران موٹر وے پر سفر کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ پولیس اور تفتیشی ادارے اس قسم کی وارداتوں میں صرف پوچھتے ہی نہیں بلکہ پتا بھی چلاتے ہیں کیونکہ پولیس کو کسی بھی واردات کے ایک نہیں بلکہ بہت سے پہلوئوں کو سامنے رکھنا ہوتا ہے۔اب مقدمے کی گہرائی میں جاتے ہوئے مختلف زاویوں سے پتا چلایا جائے گا کہ آخر کیا وجہ بنی کہ قوم کی اس بیٹی کو رات گئے بچوں کے ہمراہ اکیلے گھر سے نکلنا پڑا۔ دوسری طرف سوشل میڈیا ایکٹوسٹ اس فقرے کو اپنے معنی پہنانے میں مصروف ہیں اور اس سے یہ تاثر لیا جا رہا ہے جیسے اکیلے عورت کے نکلنے یا اس کے گاڑی چلانے پر کسی نے تنقید کی ہے۔ اگر باپ ، بھائی یا کوئی بزرگ رشتہ دار یہ پوچھ لے کہ بیٹا اتنی رات گئے چھوٹے بچوں کے ساتھ اتنی دور جانے کی کیا جلدی ہے تو کیا سوال کرنے والے پر چڑھائی کر دینی چاہئے؟ کیا ہم سب نے رات گئے اپنے بچے‘ بچیوں کو اکیلے سفر کرنے سے کبھی منع نہیں کیا؟ گھر کا کوئی فرد خاص طور پر کم عمر بچے یا کوئی اکیلی خاتون رات گئے اگر ایک شہر سے دوسرے شہر سفر کا ارادہ کرے تو ایک بزرگ، بھائی یا بڑے کی حیثیت سے آپ اسے روکیں گے نہیں؟ 
میرے ایک دوست کے بڑے بھائی رات گئے سرگودھا سے لاہور واپس آتے ہوئے موٹر وے پر حادثے کا شکار ہو گئے۔ موٹر وے پولیس انہیں لاہور جناح ہسپتال لے کر پہنچی تو ان کی روح قفسِ عنصری سے پرواز کر چکی تھی۔ جو بھی ان کے بھائیوں اور والدین سے تعزیت کے لئے آتا تو پہلا سوال ہی یہ کرتا کہ مرحوم کواتنی رات گئے سرگودھا سے چلنے کی کیا ضرورت تھی؟ کیا کوئی بہت بڑی ایمرجنسی تھی؟ اسی طرح میرے بھائی کی فیملی لاہور سے کھڈیاں جاتے ہوئے کیلوں سے کچھ پیچھے ناکا لگائے ہوئے ڈاکوئوں کے ہاتھوں لٹ گئی‘ جب ہمیں یہ بات پتا چلی تو سب نے پہلی بات ہی یہ کہی کہ رات ایک بجے جانے کی کیا تُک تھی؟ صبح صبح چلے جاتے؟ اسی طرح اپنے بچو ں کی طرح سمجھ کر‘ اگر سی سی پی او نے یہ کہہ بھی دیا کہ خاتون کے رات گئے گھر سے اکیلے نکلنے کی کیا وجہ تھی تو اس پر اس قدر ہنگامہ کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ 
اگرچہ سی سی پی او اپنے بیان پر بار ہا وضاحت بھی کر چکے اور عدالت میں اس پر معافی بھی مانگ چکے ہیں اس کے باوجود ان کے بیان کو مخصوص معنی پہنائے جانے کا سلسلہ جاری ہے۔ ایک انتہائی گھنائونے اور شرم ناک واقعے پر ہر کوئی اپنے اپنے درد یا ذاتی اور سیا سی ایجنڈے پر زور شور سے عمل پیرا ہو کر انتہائی نچلی سطح پر جا رہا ہے۔ سی سی پی او کے بیان پر محترمہ شیریں مزاری سمیت خواتین کا ایک گروہ ان کے خلاف بیانات کی تلواریں سونت کر حملہ آور ہو چکا ہے اور ان سب کی ایک ہی ڈیمانڈ ہے کہ عمر شیخ کی بطور سی سی پی او لاہور تعیناتی منسوخ کرتے ہوئے انہیں واپس گھر بھیج دیا جائے‘ یعنی اصل مسئلہ اس بدنصیب خاتون کا نہیں بلکہ عمر شیخ کا ہے جس کی تعیناتی پر اپوزیشن جماعتیں تلملا رہی ہیں۔ مذکورہ بیان کو جان بوجھ کر اس لیے اچھالا جا رہا ہے اور اس حوالے سے شدید غصے کا اظہار کیا جا رہا اور مذمتی بیانات دیے جا رہے کہ اپوزیشن بالخصوص مسلم لیگ نون کا خیال ہے کہ عمران خان نے اپوزیشن کو کنٹرول کرنے کے لیے لاہور پولیس میں اپنا کوئی بندہ اتار دیا ہے۔ حیران کن امر یہ ہے کہ جن کی حکومت چلتی ہی بدنام زمانہ کرپٹ پولیس افسران کے سر پر تھی‘ وہ بھی سی سی پی او کے بیان پر تلواریں سونتے کھڑے نظر آتے ہیں۔
اگر دوسرے زاویے سے دیکھا جائے تو پنجاب پولیس نے ملک بھر میں پہلی مرتبہ نیا اور جدید طریقہ استعمال کرتے ہوئے مظلوم خاتون کی شناخت چھپا کر اسے اور اس کے خاندان کو دو سو کے قریب ٹی وی چینلوں کے کیمروں سے بچا کر رکھا ہوا ہے جو نہایت قابلِ تحسین کارنامہ ہے اور یہی روایت یہاں قائم رہنی چاہئے، وگرنہ یہاں تو ریت یہ رہی کہ ہیلی کاپٹر پر اپنے ساتھ ٹی وی کیمرے لے جا مظلوم بچی یا عورت کے گھر کا دورہ کیا جاتا، کیمروں کے فلیش میں اس پر سر پر ہاتھ رکھ کر باقاعدہ فوٹو سیشن کروایا جاتا تاکہ پوری دنیا اس مظلوم کا چہرہ دیکھ لے۔
اگرچہ مذکورہ افسوس ناک واقعے کے حوالے سے پولیس اور انتظامیہ کا یہ قصور معاف نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی نظر انداز کیا جا سکتا ہے کہ جب آئے دن موٹر وے کے اس حصے میں راہزنی اور ڈکیتی کی وارداتیں ایک معمول بن چکی ہیں تو یہاں پر پولیس یا ڈولفن فورس کو تعینات کیوں نہیں کیا گیا؟
دوسری طرف سی سی پی او کو اس واقعے پر موردِ الزام ٹھہرایا جا رہا ہے حالانکہ یہ ان کی تعیناتی کا پہلا ہفتہ تھا اور اس میں بھی پانچ دن ایسے تھے جس میں پتا ہی نہیں چل رہا تھا کہ ان کی یہ پوسٹنگ رہے گی بھی یا نہیں؛ تاہم اگر ان کی سابقہ سروس کا ریکارڈ دیکھا جائے تو اس سے یہی علم ہوتا ہے کہ وہ مجرموں کے معاملے میں کسی رو رعایت سے کام نہیں لیتے اور مجبوروں اور مظلوموں کو بہرصورت ساتھ دیتے ہیں۔ علاوہ ازیں ڈی آئی جی انویسٹی گیشن شہزادہ سلطان جو اس قومی سانحے کی تحقیقات کر رہے ہیں‘ ان کو میں 1999ء سے جانتا ہوں جب وہ نئے نئے اے ایس پی پتوکی تعینات ہوئے تھے۔ اپنے فرائض میں انہوں نے علاقے کے چوٹی کے سیاستدانوں کی دھمکیوں، سفارشوں اور رعب کو جس طرح کچل کر رکھا‘ وہ مدتوں یاد رہے گا۔
باوقار خاتون پر اس کے بچوں کے سامنے جو گھنائونا اور شرمناک کھیل ان درندہ صفت انسانوں نے کھیلا ہے‘ اس کے لئے ان مجرموں کو اسی جگہ پر سرعام پھانسی پر لٹکا نا ہو گا، خدارا! ہمت کریں اور ان تمام درندوں کو وہیں پھانسیاں دی جائیں جہاں انہوں نے جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔ دوسری طرف جب پھانسی کا اعلان ہو گا‘ تو دیکھئے گا کہ اب جو سب سے زیادہ ہنگامہ برپا کیے ہوئے ہیں‘ یہی حلقے مجرموں کو پھانسی کی سزا سنتے ہی اسے رکوانے کے لئے ایک حشر بر پا کر دیں گے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved