تحریر : محمد اظہارالحق تاریخ اشاعت     29-09-2020

سیلف ڈیفنس ! خدا کے بندو ! سیلف ڈیفنس !

چلئے ایک لمحے کے لیے آپ کی یہ بات مان لیتے ہیں کہ خاتون کی اپنی غلطی تھی۔اسے سیالکوٹ موٹروے پر نہیں جانا چاہیے تھا۔ اسے سفر پر نکلنے سے پہلے گاڑی کا پٹرول چیک کرنا چاہیے تھا۔ اسے رات کے وقت نہیں نکلنا چاہیے تھا۔ مان لیا آپ کی ساری باتیں درست ہیں۔ مگر صوفیہ قاسم تو موٹروے پر نہیں تھی۔ یہ رات کا وقت بھی نہیں تھا۔ سورج آسمان پر چمک رہا تھا۔ صوفیہ قاسم اپنے دفتر میں بیٹھی تھی۔وہ کوئی عام عورت بھی نہ تھی‘ جی پی او کی انچارج تھی۔ لیڈی پوسٹ ماسٹر۔ ایک شخص آتا ہے۔ خاتون کے بیان کے مطابق وہ اس کے چہرے پر تھپڑ مارتا ہے۔ پھر بازو سے پکڑ کر گھسیٹتا ہے اور دھمکیاں دیتا ہے۔ یہ واقعہ پورے دفتر کے سامنے پیش آتا ہے۔ یہ شخص مبینہ طور پر حکمران پارٹی کا مقامی عہدیدار ہے۔ خاتون افسر تھانے جاتی ہے۔ پولیس ایف آئی آر کاٹتی ہے۔ملزم گرفتار ہوتا ہے۔ دوسرے دن ضمانت پر رہا ہو جاتا ہے۔
اگر پوسٹ ماسٹر مرد ہوتا تب بھی یہ ایک حساس معاملہ تھا۔ وہ ریاست کا ملازم ہے۔ محکمے میں ریاست کی نمائندگی کرتا ہے۔ اس کی تذلیل اور مارپیٹ کا مطلب یہ ہے کہ ریاست کی عزت ہے نہ وقار۔ تھپڑ صوفیہ قاسم کے چہرے پر نہیں پڑا ریاست کے چہرے پر پڑا ہے۔ پھر خاتون ہونے کے حوالے سے یہ کیس اور زیادہ حساس نوعیت کا ہو جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس ملک میں عورت محفوظ ہے؟ اگر ایک افسر خاتون کے ساتھ یہ سلوک ہو سکتا ہے تو پھر کس کے ساتھ نہیں ہو سکتا؟ تیسرا پہلو یہ ہے کہ ملزم حکمران جماعت کا عہدیدار ہے۔ اب یہ پارٹی پر منحصر ہے کہ کیا ایکشن لیتی ہے؟
مجھ جیسے شخص کو جو قانون کی مو شگافیوں اور باریکیوں سے بے بہرہ ہے ‘ یہ بات بہت عجیب لگتی ہے کہ ایک شخص سرکاری افسر کو تھپڑ مارتا ہے ‘ اور گرفتار ہو کر دوسرے دن ضمانت پر رہا ہو جاتا ہے۔ قانون دان دوست بتاتے ہیں کہ عدالت اصل واقعہ کو نہیں ‘ ان کاغذات کو دیکھتی ہے جو اس کے سامنے پڑے ہوتے ہیں۔ عدالت نے یہ دیکھنا ہے کہ ایف آئی آر میں کیا دفعات لگی ہیں۔خاتون کا الزام یہ ہے کہ اس کی منت سماجت اور رونے دھونے کے باوجود پولیس نے نرم دفعات لگائیں جو قابلِ ضمانت تھیں۔ نہیں معلوم پولیس کا فی الواقع قصور ہے یا نہیں؟ تاہم قانون دان دوست یہ بھی بتاتے ہیں کہ اگر پولیس مین کو تھپڑ مارا جائے تو مقدمہ اے ٹی اے ( اینٹی ٹیررازم ایکٹ ) کے تحت بنتا ہے جس میں ضمانت شاید اتنی آسانی سے نہیں ہوتی۔ عدالت سے بد تمیزی کی جائے تب بھی اسی ایکٹ کا اطلاق ہوتا ہے۔سوال یہ ہے کہ اگر ریاست کے ایک پرزے ( پولیس) کو تھپڑ مارنے کا عمل دہشت گردی قرار دیا جاتا ہے تو اسی ریاست کے ایک اور پرزے کو تھپڑ مارنا دہشت گردی میں کیوں نہیں شمارکیا جا سکتا؟
مسئلہ عورت ذات کی حرمت اور وقار کا ہے۔ پوسٹ ماسٹر مرد ہوتا تو گمان غالب یہ ہے کہ جارحیت کا ارتکاب کرنے والے کوایک کے جواب میں دو تھپڑ رسید کرتا‘ مگر یہ تو خاتون تھی۔ ملزم کوبھی معلوم تھا کہ مقابلہ کرنے والاکوئی نہیں۔ میدان صاف ہے۔ حیرت ہے کہ خاتون افسر کے ماتحت مرد بھی تماشا دیکھتے رہے۔ خاتون کا دفاع نہ کرسکے۔ یہ اور بات کہ بعد میں انہوں نے ہڑتال کی‘ بینرآویزاں کئے مگر یہ سب لکیر پیٹنے کے مترادف تھا۔ خاتون کی جو ویڈیو وائرل ہو ئی ہے اس کے ان الفاظ پرغور کیجئے ''اس ملک میں کوئی خاتون چاہے وہ اپنے گھر میں ہے‘ چاہے وہ اپنے آفس میں ہے‘ چاہے وہ سڑک پر ہے بالکل یہاں کوئی خاتون محفوظ نہیں‘‘۔ 
اب جب یہ واضح ہے کہ خواتین محفوظ نہیں ‘ دفتروں میں گھس کر ان کی مار پیٹ کر نے والے دوسرے دن ضمانت پر رہا ہو جاتے ہیں۔ ان کی آبرو ریزی کرنے والے ‘ تمام بلند بانگ دعووں کے باوجود پکڑے نہیں جاتے ‘تو پھر خواتین کو کیا کرنا چاہیے ؟ ان کا لائحہ ٔعمل کیا ہونا چاہیے؟ اس کا جواب اس واقعے میں ہے جو سالہا سال پہلے رونما ہوا۔ دارالحکومت کے ایک دفتر میں ایک سینئر افسر نے اپنی ما تحت خاتون افسر کو بیٹھنے اور اس کے ساتھ چائے پینے کے لیے کہا۔خاتون نے کہا کہ نہیں وہ چائے صرف اپنے دفتر میں پیتی ہے۔ مرد افسر نے اسے بازو سے پکڑا‘ یا پکڑنے کی کوشش کی۔ عینی شاہد نے بتایا کہ اس کے بعد پتہ نہیں کیا ہوا‘ مرد افسر زمین پر چت لیٹا ہوا تھا۔ کیوں ؟ اس لیے کہ خاتون افسر کراٹے میں بلیک بیلٹ لیے ہوئے تھی۔ والدین کو سوچنا ہو گا کہ اگر پولیس ایکٹ 1861ء کے زمانے کا ہے ‘ اگر مجموعہ تعزیراتِ پاکستان ڈیڑھ سو سال پرانا ہے‘ اگر ریاست بے بس ہے اور بے نیاز‘ اگر پولیس صاف نیت نہیں ‘ اگر معاشرہ بے حس ہے ‘ اتنا بے حس کہ ایک عورت کو پٹتے دیکھتا ہے اور کچھ نہیں کرتا‘ تو پھراس شرمناک صورتحال کا حل کیاہے ؟ سی سی پی او کے حکم کی تعمیل میں تاخیر کرنے والا اس کا پی اے جیل کی ہوا کھاتا ہے ‘مگر لاہور کے سکولوں میں طالبات کوہراساں کرنے والوں کا بال بیکا نہیں ہوتا۔ تو پھر کیا کرنا ہو گا ؟
اپنی بیٹیوں ‘ بہنوں اور بیویوں کی حفاظت خود کرو۔ تمہارا کوئی محافظ ہے نہ پرسانِ حال نہ مددگار! بیٹیوں اور بہنوں کو اپنا دفاع کرنا سکھاؤ۔ سیلف ڈیفنس ! خدا کے بندو ! سیلف ڈیفنس!! اس کے علاوہ کوئی حل نہیں۔ بچیوں کو جوڈو کراٹے سکھاؤ۔ ان کی فزیکل فٹنس کو اتنی ہی اہمیت دو جتنی لڑکوں کی تربیت کو دیتے ہو۔اگر نزدیک کوئی بندو بست نہیں تو محلے کے والدین سے بات کرو‘ انہیں آمادہ کرو‘ ترغیب دلاؤ‘ انہیں اسلحہ کا استعمال سکھاؤ۔ کیا اسلحہ کے انبار اکٹھے کرنا ہمارے منتخب نمائندوں ہی کا حق ہے؟ اگر حکومت کے کارندے عام لوگوں کو اسلحہ لائسنس نہیں جاری کرتے تو اپنی بیٹیوں اوربہنوں کو چاقو سے اپنی حفاظت کرنا سکھاؤ۔
اور یہ تعلیمی ادارے اس ضمن میں کیا کر رہے ہیں؟ ٹیلی ویژن کے حیا سے عاری ڈراموں میں بہو کے ساتھ افیئر چلانے والے اداکاروں کو یہ تعلیمی ادارے اپنے ہاں ڈرامہ سکھانے والے استاد کے طور پر تعینات کر سکتے ہیں ‘مگر جوڈو کراٹے کی کلاسیں نہیں شروع کرا سکتے! والدین کو چاہیے کہ ناقابلِ بیان فیسیں بٹورنے والی ان تعلیم گاہوں سے مطالبہ کریں کہ طلبہ اور طالبات کو‘ بالخصو ص طالبات کو‘سیلف ڈیفنس کے کورس کرائیں۔ اور عام سرکاری اور نجی سکول بھی ! جگر مراد آبادی نے کہا تھا؎
جہلِ خرد نے دن یہ دکھائے
گھٹ گئے انساں بڑھ گئے سائے
مگر یہ تو جگر کے زمانے کی بات ہے۔ معاملہ سایوں تک رہتا تو شاید بچت ہو جاتی۔ اُس زمانے میں مسلمان مرد‘ ہندو اور سکھ عورتوں کی حفاظت کے لیے بھی جان لڑا دیتے تھے۔ اب ان کی آنکھوں کے سامنے ان کی اپنی ماؤں ‘ بہنوں‘ بیٹیوں کو ‘ ان کی اپنی کولیگ خواتین کو‘ مارا پیٹا جاتا ہے‘ گھسیٹا جاتا ہے ‘ بے حرمتی کی جاتی ہے‘ اور یہ دلاور صرف بعد میں بینر لگا تے ہیں۔
ہر خاتون کو اس پوزیشن میں ہونا چاہیے کہ خود پر ہاتھ اُٹھانے والے مرد کا ہاتھ پکڑ سکے۔ تھپڑ کا جواب تھپڑ سے دے سکے‘ اور گھسیٹنے والے کو گھسیٹ سکے۔ اگر ہماری خواتین جہاز چلا سکتی ہیں‘ آرمی میں شامل ہو کر ملک کا دفاع کر سکتی ہیں‘ پولیس سروس میں آکر چوروں اور ڈاکوؤں کو پکڑ سکتی ہیں تو اپنے اوپر حملہ کرنے والوں کے دانت کیوں نہیں توڑ سکتیں ؟

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved