تحریر : ڈاکٹر رشید احمد خاں تاریخ اشاعت     15-06-2013

بجٹ اور عوامی ردعمل

اخبارات میں چھپنے والے تبصروں کے مطابق نئی منتخب حکومت کے پہلے بجٹ میں پیش کردہ تجاویز سے کاروباری طبقہ بہت خوش ہے خصوصاً کارپوریٹ ٹیکس کی شرح میں ایک فیصد کمی سے تاجر اور سرمایہ دار حضرات کو یہ امید بندھی ہے کہ اب سرمایہ کاری کے لیے ماحول سازگار ہوگا کیونکہ ان کے نفع میں اضافہ ہو جائے گا اور نفع میں یہ اضافہ بتدریج بڑھتا جائے گا کیوںکہ موجودہ حکومت نے آئندہ چاربرسوں میں کارپوریٹ ٹیکس کی موجودہ 35فیصد شرح کو ہرسال کم کرکے 30فیصد تک نیچے لانے کے پروگرام کا اعلان کیا ہے۔ دوسری طرف عوام کے 90فیصد حصے پر مشتمل غریب محنت کش خصوصاً تنخواہ دار طبقے کیلئے بجٹ میں نہ صرف کوئی ریلیف موجود نہیں ہے بلکہ ان کی تنخواہوں میں اضافہ نہ کرکے اور جنرل سیلز ٹیکس کو 16سے 17فیصد کر کے عام صارفین پر بوجھ ڈال دیا ہے۔ روزمرہ اشیاء کی آسمان سے باتیں کرتی ہوئی قیمتوں سے عام آدمی پہلے ہی پریشان تھا۔ جنرل سیلز ٹیکس میں اضافہ کرکے حکومت نے ان کو غربت کی مزید گہرائیوں کی طرف دھکیل دیا ہے۔ عام فہم اور سادہ الفاظ میں عوام بجٹ برائے مالی سال 2013-14ء کے بارے میں ایک اور صرف ایک رائے رکھتے ہیں کہ اس میں غریب کے منہ سے نوالہ چھین کر امیر لوگوں کا پیٹ بھرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ لوگوں کی بھاری حمایت سے اقتدارمیں آنے والی حکومت نے نہ تو دنیا میں ہونے والی حالیہ ڈرامائی تبدیلیوں سے کچھ سیکھا ہے اور نہ ہی پاکستان کی گزشتہ معاشی تاریخ سے سبق حاصل کیا ہے۔ سال 2011ء کے اواخر سے امریکہ، یورپ اور مشرق وسطیٰ میں معاشی بحران اور عوامی احتجاج کی صورت میں جوکچھ ہورہا ہے اس کے بارے میں متفقہ رائے یہی ہے کہ یہ مارکیٹ اکانومی کے اصولوں پر چلائے جانے والے سرمایہ دارانہ نظام کا بحران ہے۔ امریکہ میں آکوپائی تحریک (Occupy Movement) یورپ میں بے روزگاروں کی طرف سے سڑکوں اور گلیوں میں احتجاج اور مصر، تیونس ، اردن اور یمن میں ہزاروں افراد کے احتجاجی مظاہرے اس بات کی دلیل ہیں کہ مادر پدر آزاد سرمایہ دارانہ نظام ناکام ہوچکا ہے اور اب تک صرف پیداوار بڑھائو کی حکمت عملی سے محض چند سوخاندان ہی مستفید ہوئے ہیں۔ جہاں تک عام لوگوں کا تعلق ہے ان کے حصے میں مہنگائی اور بے روزگاری کے سوا کچھ نہیں آیا۔ یوں آبادی کے مختلف حصوں معاشی تفاوت گھٹنے کی بجائے، امیر اور غریب کے درمیان خلیج اور بھی وسیع ہوتی چلی جارہی ہے۔ مزید حیران کن بات یہ ہے کہ بجٹ تجاویز پیش کرنے والوں نے ایک لمحہ کے لیے اپنے ہمسایہ ملک بھارت پر نظر نہیں ڈالی‘ جہاں گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصہ سے کانگرس نے صرف پیداوار میں اضافہ کی حکمت عملی کو اپنا کر ملک میں نہ صرف عمودی سطح پر معاشرتی تقسیم کو گہرا کردیا ہے بلکہ اس معاشی پالیسی نے علاقائی تفاوتوں (Regional Disparities)کوبھی فروغ دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عوامی اور علاقائی سطح پر کانگریس کو اب وہ حمایت حاصل نہیں جو کسی زمانے میں ہواکرتی تھی۔ حکومت نے بجٹ میں خسارہ کو کم کرنے کے لیے آمدنی میں اضافہ کی ٹھانی ہے لیکن اس کیلئے جن طریقوں کی نشان دہی کی گئی ہے ان کا انحصار فی الحال ٹیکسوں پر زیادہ نظر آتاہے کیوں کہ پیداوار میں اضافہ اس وقت تک نہیں ہوسکتا جب تک اولاً توانائی کے بحران پر قابو نہیں پایا جاسکتا اور ثانیاً امن وامان اور سکیورٹی کی صورت حال کو بہتر نہیں بتایا جاسکتا ۔ پیداوار میں اضافے کے لیے صرف مقامی سرمایہ ہی درکار نہیں بلکہ بیرونی سرمایہ کی شرح جس تیزی سے گری ہے اس سے بخوبی انداز لگایا جاسکتا ہے کہ باہر کی دنیاہمارے بارے میں کیا رائے رکھتی ہے۔ موجودہ حکومت نے امن وامان کی صورت حال کو بہتر بنانے کیلئے بلند بانگ دعوے توکیے اور اس مقصد کیلئے خطیر رقم بھی مختص کی ہے لیکن یہ مسئلہ اتنا پیچیدہ ہوچکا ہے کہ ایک آدھ برس میں اس کے حل کے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔ حالیہ انتخابات میں دوبڑی سیاسی پارٹیوں یعنی مسلم لیگ (ن) اور تحریکِ انصاف نے علی الترتیب ’’نیا پاکستان‘‘ اور ’’تبدیلی‘‘ کے نعرے لگاکر عوام کی حمایت حاصل کی تھی لیکن دونوں پارٹیوں کے حالیہ اقدامات میں نہ تو ’’نئے پاکستان‘‘ کی جھلک نظر آتی ہے اور نہ ہی کسی ’’تبدیلی‘‘ کے آثار نمایاں ہیں۔ اس کی سب سے بڑی مثال قومی بجٹ ہے جسے مسلم لیگ ن کے پرانے اور روایتی بجٹوں سے مختلف قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اس بجٹ میں مسلم لیگ ن کا وہ امیج منعکس ہوتا ہے جس کے تحت اس پارٹی کو قدامت پسند اور سٹیٹس کو (Status quo) کی حامی پارٹی کے نام سے جانا چاہتا ہے مثلاً امید تھی کہ یہ پارٹی ماضی کے مقابلے میں بجٹ کی صورت میں نئی اور بدلی ہوئی ترجیحات پیش کرے گی لیکن اس کی وہی ترجیحات ہیں جن کو اس نے عرصہ دراز سے سینے سے لگارکھا ہے۔ اسی طرح بجٹ میں ایک اہم خامی زرعی ٹیکس پر مکمل خاموشی ہے۔ سابقہ حکومت نے زرعی اجناس خصوصاً گندم کی قیمت میں اضافہ کرکے کھربوں روپے دیہی سیکٹر میں منتقل ہونے کی راہ ہموار کی تھی۔ اتنی بڑی آمدنی کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دینا، معیشت کے ساتھ ہی نہیں بلکہ پوری قوم کے ساتھ ناانصافی ہے۔ اس کے علاوہ ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ مجموعی پیداوار میں زراعت کا 21فیصد حصہ ہے اس لیے اتنے بڑے سیکٹر کو ٹیکس فری رکھ کر نہ تو ہم بجٹ کا خسارہ پورا کرسکتے ہیں اور نہ ہی اپنی معیشت کو خود کفالت کی منزل تک پہنچا سکتے ہیں۔ اگر عوام کی اکثریت اس بجٹ سے مایوس ہے تو ان کی مایوسی بجا ہے۔ چند سرمایہ دار تاجر اور کاروباری طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگ خوش ہیں تو ان کی خوشی کا واحد سبب یہ ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ مسلم لیگ ن کی حکومت کے آنے سے ان کے پہلے کی طرح وارے نیارے ہوجائیں گے۔ مسلم لیگ ن کی قیادت پر یہ بات واضح ہونی چاہیے کہ اس قسم کے بجٹ کے کیا سیاسی مضمرات ہوسکتے ہیں۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved