تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     12-10-2020

سرخیاں، متن، گل فراز اور صباحت عروج

حکومتیں احتجاج سے نہیں گرتیں، الیکشن ضروری : شاہد خاقان 
سابق وزیراعظم اور نواز لیگ کے مرکزی رہنما شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ ''حکومتیں احتجاج سے نہیں گرتیں، الیکشن ضروری ہیں‘‘ اور یہ بات میں نے اپنے ساتھیوں کو سمجھانے کی کوشش بھی کی ہے کہ ایسی حرکتوں سے باز آ جائیں کیونکہ اس طرح ان کے ہاتھ شرمندگی ہی آئے گی لیکن اگر وہ شرمندہ ہی ہونا چاہتے ہیں تو کوئی کیا کر سکتا ہے‘ ان کے سروں میں تو ووٹ کو عزت دینے کا سودا سمایا ہوا ہے، حالانکہ عزت ووٹر کو دینی چاہیے جس کی ضرورت بھی ہے لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ ووٹر کو اگر پیسوں، بریانی اور قیمے کے نانوں سے خریدا جا سکتا ہے تو اسے عزت دینے کی کیا ضرورت ہے۔ آپ اگلے روز کراچی میں ایرانی اخبارات کے وفد سے ملاقات کر رہے تھے۔
نواز شریف اور زرداری کی بیماری کا سبب ایک ہے: شبلی فراز
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر سید شبلی فراز نے کہا ہے کہ ''نواز شریف اور زرداری کی بیماری کا سبب ایک ہے‘‘ اور وہ یہ کہ دونوں کا ہاضمہ خراب ہے جس کی وجہ سے انہیں مسائل پیش آ رہے ہیں جبکہ ان کا پیٹ زیادہ گاجریں کھانے کی وجہ سے ہی خراب ہوا ہے، چنانچہ اگر انہیں پھکّی کی ضرورت ہو تو ہم سے لے سکتے ہیں کیونکہ ہمارے پاس یہ وافر مقدار میں موجود ہے جسے ہم استعمال کرتے رہتے ہیں اور ہمارا ہاضمہ کبھی خراب نہیں ہوتا کیونکہ اس کی ایک وجہ گاجریں کم کھانا بھی ہو سکتی ہے، دوسرے یہ کہ انہیں خوب اچھی طرح چبا کر کھانا چاہیے لہٰذا امید ہے کہ یہ حضرات ہمارے تجربے سے ضرور فائدہ اٹھائیں گے۔ آپ اگلے روز اسلام آباد سے ٹویٹر پر ایک پیغام نشر کر رہے تھے۔
تاریخ میں اتنی نالائق حکومت نہیں دیکھی: بلاول بھٹو
چیئر مین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ''تاریخ میں اتنی نالائق حکومت نہیں دیکھی‘‘ اگرچہ عمر کے حساب سے میں نے تاریخ کا بہت کم حصہ ہی دیکھا ہے لیکن جو تاریخ ہم خود رقم کر رہے ہیں، پوری لیاقت اور ہنرمندی سے کر رہے ہیں جس پر ساری دنیا انگشت بدنداں ہے حالانکہ دانتوں میں دینے سے انگلی کٹ بھی سکتی ہے جو ٹیڑھی کر کے گھی نکالنے کے لیے محفوظ رکھنی چاہیے، اس لیے کوئی ہم پر انگلی اٹھا بھی نہیں سکتا،اگرچہ پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں لیکن ہماری ماشاء اللہ پانچوں کی پانچوں برابر ہیں اور ہم ان سے ایک ہی جیسا کام ہی لیتے ہیں۔ آپ اگلے روز کراچی میں شہید ذوالفقار علی بھٹو پریس کلب کا افتتاح کر رہے تھے۔
آلِ شریف کو این آر او نہیں ملے گا: فیاض چوہان
وزیراطلاعات پنجاب فیاض الحسن چوہان نے کہا ہے کہ ''مولانا کچھ بھی کر لیں، آل شریف کو این آر او نہیں ملے گا‘‘ اور ایسا لگتا ہے کہ ساری اپوزیشن ٹرک کی بتی کے پیچھے لگی ہوئی ہے کیونکہ نہ ہمارے پاس این آر او ہے نہ ہی ہم دے سکتے ہیں اور ہم بار بار کہہ اس لیے دیتے ہیں کہ آخر کہنے میں ہرج ہی کیا ہے۔ویسے مولانا صاحب کو یہ کوشش خود اپنے لیے کرنی چاہیے کیونکہ ان کا کھاتہ بھی جلد کھلنے والا ہے؛ تاہم ان کے ساتھ کسی حد تک افہام و تفہیم ہو سکتی ہے اگر وہ اس نام نہاد تحریک کی قیادت سے باز آ جائیں جس کے آثار پہلے ہی نظر آ رہے ہیں۔ آپ اگلے روز دورۂ سرگودھا میں سرکٹ ہائوس میں گفتگو کر رہے تھے۔
تحریک سے پہلے ہی وزیراعظم کی ہوائیاں اڑ گئیں: کائرہ
پاکستان پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کے صدر قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ ''تحریک سے پہلے ہی وزیراعظم کی ہوائیاں اڑ گئیں‘‘ جو میں نے خود دیکھی ہیں، پہلے تو میں سمجھا کہ پتنگیں ہیں اور پابندی کے باوجود لوگ اتنی دیدہ دلیری سے پتنگیں اڑا رہے ہیں اور مجھے خوشی ہوئی کہ یہ حکومت کے خلاف تحریک میں بھی اسی دیدہ دلیری سے حصہ لیں گے لیکن جب میں نے غور سے دیکھا تو یہ وزیراعظم کی ہوائیاں تھیں حالانکہ انہیں چاہیے تھا کہ وہ انہیں سنبھال کر رکھیں اگرچہ ہم بے پر کی اُڑاتے رہتے ہیں کیونکہ ان کا سٹاک تسلی بخش حد تک ہمارے پاس موجود ہے اور جس کا مطلب ہے کہ سنبھال کر رکھی ہوئی چیز وقت پر کام آتی ہے اور دور اندیشی کا تقاضا بھی یہی ہے۔ آپ اگلے روز لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔
نون لیگ ''نواز شریف کو عزت دو‘‘ چاہتی ہے: شہباز گل
وزیراعظم کے معاونِ خصوصی شہباز گل نے کہا ہے کہ ''نون لیگ ''نواز شریف کو عزت دو‘‘ چاہتی ہے‘‘ چنانچہ ایک مستقل نا اہل، سزا یا فتہ اور مفرور کو کتنی عزت دی جا سکتی ہے‘ نون لیگ والے خود ہی بتا دیں۔ البتہ وہ واپس آ کر عزت کا تھوڑا بہت دعویٰ اور مطالبہ کر سکتے ہیں کیونکہ جتنی دیر وہ لندن میں رہیں گے‘ وہ صرف اپنی نظروں میں معزز ہو سکتے ہیں، مزید کارروائی کے نتیجے میں ان کا ہاتھ مزید تنگ ہوتا جائے گا اور شاید خود بھی وہ اس بات کو سمجھتے ہیں اسی لیے واپس نہیں آتے کہ جیل سے ڈرتے ہیں حالانکہ ایک جینوئن لیڈر کو جیل سے ہرگز نہیں ڈرنا چاہیے اس لیے انہیں چاہیے کہ اپنی پارٹی کے نشان کے مطابق شیر بنیں۔ آپ اگلے روز لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔
اور‘ اب آخر میں کچھ شعر و شاعری ہو جائے:
تیرے کہنے پہ ہی رُکوں گا میں
ورنہ پھر اپنی راہ لوں گا میں
دیکھنے میں تو ٹھیک ٹھاک ہے سب
باقی چکھ کر ہی کچھ کہوں گا میں
جو کسی نے نہیں کیا اب تک
کام ایسا کوئی کروں گا میں
چھوڑ کر ایسا جائوں گا کہ تمہیں
خواب میں بھی نہیں ملوں گا میں
کسی کو کچھ پتا نہیں چلنا
ویسے کا ویسا ہی دکھوں گا میں
نظر آئے تمام زاویوں سے
اس کو ایسی جگہ رکھوں گا میں
آدمی ہوں الگ ہی ٹائپ کا
دوسروں سے جدا لگوں گا میں
بچ گیا ہوں کہیں کہیں سے گلؔ
لگ رہا تھا نہیں رہوں گا میں (گلؔ فراز)
٭...٭...٭
بالکونی میں مسلسل یار! اُس کو دیکھنا
گنگنانا میرؔ کے اشعار، اس کو دیکھنا
ہائے اک چھت پر کوئی سایہ ٹہلتا ہائے ہائے!
روز کھڑکی کھولنا ہر بار اس کو دیکھنا
جس طرح دیکھا ہے آنکھیں کھول کر میں نے اُسے
وہ بدل جائے گا اگلی بار اُس کو دیکھنا
آنکھ بھر کر دیکھا جا سکتا ہے سُورج بھی کبھی
آنکھ بھر کر کتنا ہے دشوار اس کو دیکھنا
تتلیوں کے رنگ ہاتھوں پر اُتر جانے تلک
بند مُٹھی کھولنا، ہر بار اس کو دیکھنا
دیکھنا جب وہ ہمیں دیکھے صباحت، دیکھنا
دیکھنا نظروں سے کر کے وار اس کو دیکھنا (صباحت عروج)
آج کا مقطع
ہاتھ آنکھوں پہ رکھے گھر سے نکلتا ہوں ظفرؔ
کیا بتائوں کوچہ و بازار کا کیا رنگ ہے

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved