تحریر : ایم ابراہیم خان تاریخ اشاعت     18-10-2020

سیکھنا ایسا آسان نہیں

وقت کم ہے اور مقابلہ سخت۔ جسے جو کچھ بھی کرنا ہے بہت تیزی سے کرنا ہے۔ اگر سیکھنا ہے تو تیزی سے اور کچھ کر دکھانا ہے تو تیزی سے۔ سُنتے آئے ہیں کہ جلدی کام شیطان کا ہوا کرتا ہے مگر جہاں تیزی ہی قابلِ قبول ہو وہاں صرف تیزی کام دکھاتی ہے۔ ایسی حالت میں شیطان والی بات بھول جائیے تو اچھا۔ وقت تیزی کا تقاضا کر رہ اہو اور آپ نے سُست روی سے کام لیا تو گئے کام سے۔ آج کی دنیا سیکھنے اور سکھانے والوں کے لیے ہے۔ ہمیں بہت کچھ سیکھنا ہے اور وہ بھی تیزی سے۔ اور ہاں‘ محض سیکھنا کافی نہیں بلکہ سیکھتے رہنا ہے۔ سیکھتے رہنا اس لیے لازم ہے کہ دنیا میں ہر آن تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ خالص پروفیشنل اپروچ یہ ہے کہ انسان ماحول پر نظر رکھے اور سیکھتا چلا جائے۔ جس نے یہ راز جانا اُس نے دنیا پائی۔
معروف امریکی مصنفہ مچل سالِز کہتی ہیں کہ سیکھنے کا عمل بہت عجیب ہے۔ انسان اپنے آپ پر کُھلتا چلا جاتا ہے۔ یہ عمل انسان کو نئی دنیاؤں کی سیر کراتا ہے‘ اپنے وجود کی گہرائیوں سے رُوشناس کراتا ہے۔ مچل سالِز کا استدلال ہے کہ سیکھنے کا عمل وہ راستہ ہے جس میں بہت سے عجیب موڑ آتے ہیں۔ کبھی کبھی انسان ششدر رہ جاتا ہے کہ وہ کیا کیا کرنے کی اہلیت رکھتا تھا مگر اُس سے یکسر ناواقف تھا۔ اگر ہمیں یہ نہ بتایا جائے کہ کیا منتخب کرنا ہے اور کیا نہیں تب سیکھنے کا عمل بہت تیز ہو جاتا ہے۔ ذہن کو اگر پہلے سے کچھ نہ بتایا جائے‘ کوئی تاکید نہ کی جائے تو وہ زیادہ تیزی اور مستعدی سے کام کرتا ہے۔ یہ ایک فطری امر ہے جس پر کسی کا اجارہ نہیں۔ اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ ذہن کی وسعت لامتناہی ہے۔ یہ کسی دائرے میں رہ کر ڈھنگ سے کام نہیں کرسکتا۔ جب اسے کام کرنے کی آزادی بخشی جائے تو اس کی کارکردگی قابلِ دید اور قابلِ داد ہوتی ہے۔
مچل سالِز نے ماہنامہ ''سائنٹیفک امریکن‘‘ کے لیے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ جامع اور بے داغ دنیا میں کامیابی اور ناکامی دونوں یکساں اہمیت کی حامل ہیں اور دونوں ہی سے بہت کچھ سیکھا جاسکتا ہے۔ یہ مثالی دنیا کی بات ہے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ ہم جس حقیقی دنیا میں جیتے ہیں اُس میں ایسا نہیں ہوتا۔ ہمارا ذہن مثالی انداز سے کام ہی نہیں کرتا۔ وہ صرف کامیابی میں کشش محسوس کرتا ہے اور صرف کامیاب افراد پر متوجہ ہوکر اُن کی طرف لپکتا ہے۔ ہمارا ذہن بالعموم چندتجربات ہی سے سیکھتا ہے۔ بیشتر معاملات اُس کی نظر سے اوجھل رہتے ہیں یا پھر وہ اُن کی طرف متوجہ ہیں ہوتا۔ یہ دو رُخا پن سیکھنے کے عمل پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔
فرینچ نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ہیلتھ اینڈ میڈیکل ریسرچ سے وابستہ سٹیفانو پیلیمنٹیری نے تازہ ترین تحقیق کی روشنی میں بتایا ہے کہ انسانی فطرت یا مزاج کی ایک انتہائی بنیادی خامی یہ ہے کہ ہم بالعموم اُن نتائج کو قبول کرتے ہیں جو ہمیں اچھے لگتے ہیں۔ ہمیں وہی باتیں درست معلوم ہوتی ہیں جن کی مدد سے ہم خود کو درست ثابت کرسکیں۔ ہم ہر اُس بات یا تجربے سے کچھ سیکھنے سے گریز کرتے ہیں جس سے ہمارے غلط ثابت ہوجانے کا خدشہ ہو۔ یہ صریح جانب داری ہے جو ہم غیر محسوس طور پر سیکھتے رہتے ہیں۔ معروف جریدے ''نیچر اینڈ ہیومن بی ہیویئر‘‘ میں شائع ہونے والے ایک مقالے کے مطابق نئی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ہم خیالات اور پسند و ناپسند کے معاملے میں غیر محسوس طور پر جانب داری اختیار کرتے جاتے ہیں اور وہ بھی مکمل طور پر کسی جواز کے بغیر۔ رابرٹ گرین نے اپنی کتاب ''دی لاز آف ہیومن نیچر‘‘ میں بتایا ہے کہ انسان کی فطرت اصلاً بہت عجیب ہے۔ وہ بہت سے معاملات میں لگی بندھی طرزِ فکر و عمل سے گریزاں رہتا ہے۔ ایک ہی صورتحال میں دو افراد کا رویہ مختلف ہوتا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ انسان اپنے ماحول سے بہت کچھ غیر محسوس طور پر کشید کرتا رہتا ہے۔ سیکھنے کی شعوری کوشش کے بغیر وہ بہت کچھ سیکھتا چلا جاتا ہے۔ اور جب تک اُسے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ اُس کی فطرت یا مزاج میں کجی واقع ہوچکی ہے تب تک عموماً بہت دیر ہوچکی ہوتی ہے۔ رابرٹ گرین لکھتے ہیں کہ سیکھنے کے عمل کو سمجھنا بھی لازم ہے کیونکہ اِسی صورت ہمیں اندازہ ہوسکتا ہے کہ کیا سیکھنا ضروری ہے اور کیا نہیں۔ کچھ سیکھنے کے لیے بہت کچھ کرنا پڑتا ہے۔ مثلاً جذبات پر قابو پانا ناگزیر ہے‘ حاضر دماغی اور حِسّیت کی طرف آنا پڑتا ہے۔ اپنی صلاحیت و سکت پر بھروسا کرنے کے ساتھ ساتھ ہمیں دوسروں سے بہت کچھ سیکھنا ہوتا ہے۔ دبی ہوئی خواہشات کو تخلیقی جوہر میں تبدیل کرنے کا ہنر سیکھنا پڑتا ہے۔ دوسروں پر برتری پانے کی دُھن میں تباہ کن جذبات پر قابو پانا ہوتا ہے۔ ایسے اوصاف اپنانے پڑتے ہیں جو سب کے لیے قابلِ قبول اور کارآمد ہوں۔ سیکھنے کا عمل اصلاً چاہتا ہے کہ ہم وہ سب کچھ قبول کریں جو ہمارے لیے اہم ہو۔ زندگی کا ہر معاملہ ہمیں کچھ نہ کچھ ضرور سکھاتا ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ ہم کچھ سیکھنے کے موڈ میں ہیں یا نہیں۔ اور یہ نکتہ بھی ذہن نشین رہے کہ سیکھنا موڈ کا محتاج یا مُکلّف نہیں۔ یہ پسند و ناپسند کا معاملہ ہے ہی نہیں۔ جو کچھ سیکھنا لازم ہے وہ اگر نہ سیکھا جائے تو زندگی میں کوئی نہ کوئی کسر یا ادھورا پن رہ جاتا ہے۔ کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ سیکھنے کے عمل میں پسند و ناپسند سے ایسی کمی رہ جاتی ہے جو ساری محنت پر پانی پھیر دیتی ہے۔
سیکھنے کے عمل میں جو کچھ بھی ناگزیر نوعیت کا دکھائی دے اُسے سیکھے بغیر بات نہیں بنتی۔ میٹھا میٹھا ہپ ہپ کڑوا کڑوا تُھو تُھو والی روش پر چلنا سیکھنے کے معاملے میں کسی طور کارگر ثابت نہیں ہوسکتا۔ بہتر زندگی کے لیے سیکھنے کے عمل کو گلے لگانے سے قبل یہ بات آپ پر بالکل واضح ہونی چاہیے کہ صرف وہی باتیں اچھی نہیں ہیں جو آپ کی مرضی کے مطابق ہیں۔ زندگی ہمارے سامنے تمام حقائق کو خالص غیر جانب دار حیثیت میں رکھتی ہے۔ یہ معاملہ ہماری پسند و ناپسند سے کہیں بڑھ کر اہمیت کا ہے۔ جو کچھ بھی اہم ہے وہ قبول کرنا ہی پڑے گا۔ ہر معاملے میں خود کو درست سمجھنا درست نہیں۔ ایسی طرزِ فکر سیکھنے عمل کو روک دیتی ہے۔ آپ بہت سے معاملات میں غلط بھی ہوسکتے ہیں۔ ایسا ہوتا ہی ہے۔ ہر بات آپ کے مطلب کی ہوتی ہے نہ آپ کی مرضی کی۔ آپ بہت سے معاملات میں غلطی بھی کرسکتے ہیں۔ غلطی کرنا بُری یا ناپسندیدہ بات نہیں۔ غلطی سے کچھ نہ سیکھنا اور اُس کے اعادے سے بچنے کی کوشش نہ کرنا البتہ ناپسندیدہ امر ہے۔ سیکھنے کے معاملے میں دکھاوا زہر ہے۔ یہ دکھاوا کسی بھی طور نہ کیا جائے کہ میں تو اچھا ہوں‘ باقی دنیا بُری ہے۔ ہر انسان میں کوئی نہ کوئی خوبی ضرور پائی جاتی ہے اور ہر خوبی کی ستائش ہونی چاہیے۔
اگر اپنے حلقۂ احباب کی غلطی ثابت ہوتی ہو تو حقیقت سے آنکھ چُرانے کی روش کسی بھی طور قابلِ قبول نہیں ہوسکتی۔ اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ اپنے حلقۂ احباب کی غلطیوں اور کوتاہیوں کو ہر حال میں چھپانا درست ہے تو آپ کچھ زیادہ نہیں سیکھ سکتے۔ اپنی اور اپنے حلقۂ احباب کی غلطیوں کا جائزہ لیتے رہنا لازم ہے۔ غلطیوں کے جائزے ہی سے تو کچھ سیکھنے کی راہ ہموار ہوتی ہے۔ سیکھنے کے عمل میں زور اس نکتے پر ہونا چاہیے کہ ہم اپنی خوبیوں میں اضافہ کریں۔ دوسروں میں خامیاں تلاش کرنا اور اُنہیں غلط ثابت کرنا ہمارے لیے کسی کام کا نہیں ہوسکتا۔ اگر ہم کسی معاملے میں اپنی برتری ثابت کرنا چاہتے ہیں تو دیکھنا پڑے گا کہ ہم میں متعلقہ خوبیاں ہیں یا نہیں۔ اگر نہیں ہیں تو ہمیں وہ خوبیاں پیدا کرنے پر متوجہ ہونا پڑے گا۔ دوسروں میں کیا نہیں ہے اس سے زیادہ اہم نکتہ یہ ہے کہ ہم میں کیا ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved