تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     27-10-2020

سرخیاں، متن، ’’فانوس‘‘ اور یاسمین سحر

سازش کرنے والوں کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے: بزدار
وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے کہا ہے کہ ''اداروں کے خلاف سازش کرنے والوں کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے‘‘ اور ہمیں نئے سرے سے ڈٹ جانا بھی نہیں پڑے گا کیونکہ ہم پہلے ہی چوبیس گھنٹے ڈٹے رہتے ہیں، اگرچہ یہ لوگ صرف بیان ہی دے رہے ہیں اور فی الحال ان کی طرف سے کسی سازش کا سراغ نہیں ملا ہے؛ تاہم امید ہے کہ وہ صرف بیانات ہی کی حد تک رہیں گے کیونکہ گالی گلوچ سے کسی کا کچھ نہیں بگڑتا بلکہ اپنے منہ کا مزہ خراب ہوتا ہے اور اس طرح وہ اپنا ہی نقصان کر رہے ہیں کیونکہ چاند پر تھوکا ہوا اپنے ہی منہ پر آتا ہے جبکہ اپوزیشن کا منہ پہلے ہی کافی لتھڑا ہوا لگتا ہے۔ آپ اگلے روز لاہور سے ایک بیان جاری کر رہے تھے۔
اورنج ٹرین کا افتتاح، شرم تو آئی ہوگی: مریم اورنگزیب
مسلم لیگ نواز کی ترجمان مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ اورنج لائن ٹرین کا افتتاح کرتے ہوئے حکومت کو شرم جو آئی ہوگی‘‘ کیونکہ اسے سالانہ دس ارب کی سبسڈی دینا پڑے گی اور حکومت کو لگ پتا جائے گا، کیونکہ اس کا افتتاح ہم نے بھی کیا ہے لیکن اس دوران ہم بھی کافی شرمندہ شرمندہ ہی رہے کیونکہ یہ دس ارب بھی عوام ہی کی جیب سے نکالا جائے گا، ہماری تمام تر مساعی جمیلہ کے باعث جن کی حالت پہلے ہی ناگفتہ بہ ہو چکی ہے شاید وہ اس کا ٹکٹ بھی خریدنے کے قابل نہ ہوں، اس لئے حکومت کو اسے بغیر ٹکٹ یعنی مفت چلانا چاہیے کیونکہ اگر دس ارب کی سبسڈی سے حکومت کا کباڑہ ہو گا‘ تو جو پہلے اتنا ہو چکا‘ تھوڑا سا مزید ہو جائے گاتو کیا ہوگا؟ آپ اگلے روز مذکورہ ٹرین کے افتتاح کے موقع پر ایک بیان جاری کر رہی تھیں۔
اپوزیشن تحریک کی لائف لائن جنوری تک ہے: فواد 
وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چودھری نے کہا ہے کہ ''اپوزیشن تحریک کی لائف لائن 15جنوری تک ہے‘‘کیونکہ اگراپوزیشن کی پیشگوئی کے مطابق 15جنوری کو ہماری حکومت ختم ہو گئی تو یہ تحریک کی بھی موت ہو گی اور اس کا وجود کہیں نظر نہیں آئے گا، اس لئے اپوزیشن 15جنوری تک ہی زندہ رہ سکتی ہے اور حکومت مستعفی ہو کر اپوزیشن کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دے گی اور اگرجاتے جاتے یہ اتنا کام بھی کر جائے تو اسے غنیمت سمجھنا چاہیے جبکہ حکومت استعفیٰ دے کر اسے واپس بھی لے سکتی ہے کیونکہ ہم نے اتنے یوٹرن لئے ہیں ایک یہ بھی سہی‘ اور اسے واپس آنے سے کوئی نہیں روک سکتا جبکہ اپوزیشن کی تحریک توپہلے ہی وفات پا چکی ہوگی۔ آپ اگلے روز لاہور میں میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔
نوازشریف کا کسی ادارے سے اختلاف نہیں: رانا ثناء
سابق وزیر قانون پنجاب رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ ''نواز شریف کا کسی ادارے سے کوئی اختلاف نہیں‘‘ وہ تو صرف گالیاں دیتے ہیں اور گالیوں کا بُرا اس لئے نہیں منانا چاہیے کہ بقول غالب ؎
کتنے شیریں ہیں تیرے لب کہ رقیب
گالیاں کھا کے بے مزہ نہ ہوا
اس لئے پوچھ لیا جائے کہ کہیں کوئی بے مزہ تو نہیں ہوا جبکہ وہ واپس آنے کیلئے بے تاب ہیں اور برطانوی حکومت انہیں آنے نہیں دے رہی، وہ گالیاں نہ دیں تو اور کیا کریں۔ آپ اگلے روز فیصل آباد سے ایک نیوز چینل سے گفتگو کر رہے تھے۔
میرے آس پاس لوگوں کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں: مریم نواز
مستقل نااہل، سزا یافتہ اور اشتہاری سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی سزا یافتہ صاحبزادی مریم نواز نے کہا ہے کہ ''میرے آس پاس کے لوگوں کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں‘‘ حالانکہ میرے آس پاس اب والد صاحب کے بیانیے کے بعد گنتی کے چند لوگ ہی رہ گئے ہیں اس لئے انہیں دھمکیاں دینا ''مرے کو مارے شاہ مدار‘‘ کے مترادف ہے، اوپر سے ایک صاحب نے کوئٹہ کے جلسے میں متنازع بیان دے دیا، اب وہ اس سے صاف مکر گئے ہیں، اگر صورت حال یہی رہی تو یہ تحریک کامیاب ہو چکی۔ وہ تو شکر ہے کہ ''اگر کھاتا ہے تو لگاتا بھی ہے‘‘ والے سلوگن نے ہماری پوزیشن خاصی صاف کر دی ہے اور وہ ہمارے مخالفین کیلئے دندان شکن جواب تھا‘ اس لیے ا ب وہ نئے دانت لگواتے پھرتے ہیں۔ آپ اگلے روز لاہور سے ایک بیان جاری کر رہی تھیں۔
''فانوس‘‘
لاہور سے ماہنامہ ''فانوس‘‘ کا تازہ شمارہ مارکیٹ میں آ گیا ہے۔ اس کی اشاعت میں ایک باقاعدگی بھی دیکھی گئی ہے جو اپنی جگہ پر نہایت خوش آئند ہے۔ اس کے ایڈیٹر محمد طفیل شکور ہیں۔ موجودہ شمارہ کے خاص مضامین میں ممتازسکالر ڈاکٹر برہان احمد فاروقی پر جلیل عالی کی خود نوشت کاایک باب، ممتاز اقبال شناس ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی اور معروف شاعر و ادیب حامد یزدانی کے ساتھ سلسلۂ گفتگو شامل ہیں۔ اس کے علاوہ طفیل ہوشیارپوری اور ڈاکٹر سعادت سعید کی شاعری پر مضامین ہیں جبکہ زبان کے تخلیقی استعمال کے بارے میں ڈاکٹر ناصر عباس نیّر کا مضمون اور رباعی کے بارے میں خالد سلیم کا مضمون ہے۔ نوید صادق نے خالد احمد کی غزل کا جائزہ لیا ہے جبکہ محمد عاصم بٹ نے بور خیز کے ایک افسانے کا ترجمے پیش کیا ہے۔ ڈاکٹر مریم عرفان کا افسانہ اور محمد طفیل شکور کے قلم سے مشرق وسطیٰ میں ایرانی سیاست اور اسرائیل کے بڑھتے ہوئے قدم پر مضامین ہیں اور احمد جہانگیر کی تازہ غزلیں۔
اور‘ اب آخر میں یاسمین سحر کی شاعری:
مری سانس چلتی ہے دم بدم مجھے اعتبار نہیں کوئی
ترے نام لکھ دی ہے زندگی مرا اختیار نہیں کوئی
کبھی ملنے سب چلے آتے تھے کوئی بات اپنی سناتے تھے
مرے دوستوں کی طرف سے بھی رہا اب کی بار نہیں کوئی
جو خبر لگی مرے نام کی مرے شہر میں وہ چلی نہیں
یہی بات تو مرے حق میں ہے مرا اشتہار نہیں کوئی
کڑی ہجر کی ہیں مسافتیں بڑی راستے میں ہیں کلفتیں
بڑی بات ہے سبھی جی رہے کہیں بے قرار نہیں کوئی
یہ وہ بستیاں ہیں جیالوں کی یہاں پر لڑائیاں سالوں کی
رہِ عشق بھی وہ مقام ہے جہاں جیت‘ ہار نہیں کوئی
بسی خوف میں ہے فضا سحرؔ کھڑے سوچ میں ہیں درخت بھی
سبھی راستے ہیں ڈرے ڈرے کہیں انتظار نہیں کوئی
٭......٭......٭
ہوا کے زور پہ میں ٹمٹما رہی ہوں سحرؔ
جلانے والے مسلسل بجھا رہے ہیں مجھے
تیری یادوں کی وہ بیساکھیاں بھی ٹوٹ گئیں
اب زمیں بوجھ اُٹھائے کہ فلک ہاتھ رکھے
لوگ خیرات یونہی کاسے میں دھر جاتے ہیں
ہم فقیروں کی فقیری میں خلل پڑتا ہے
اب کوئی دیکھتا نہیں شب بھر
خواب اتنے پرانے ہو گئے ہیں
وقت سے پہلے اشارہ کوئی مل جاتا ہے
تم نے آنا ہو میری آنکھ پھڑک اٹھتی ہے
ایک ہی شعر میں نے کہنا تھا
کتنے صفحات بھر دیے میں نے
آج کا مطلع
ہم اپنے پاس بیٹھیں یا تمہارے ساتھ جائیں
یہ وہ دریا نہیں جس کے کنارے ساتھ جائیں

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved