تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     29-10-2020

کاک ٹیل

احتساب کے عمل سے پیچھے نہیں ہٹیں گے: شبلی فراز
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر سید شبلی فراز نے کہا ہے کہ ''احتساب کے عمل سے پیچھے نہیں ہٹیں گے‘‘ اور ہمارا عمل یہاں سے شروع ہو کر یہیں ختم ہو جاتا ہے کیونکہ عمل کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے ورنہ ہم آج تک کوئی اور عمل بھی کر کے دکھا چکے ہوتے جبکہ اس عمل کا دوسرا علمبردار احتسابی ادارہ ہے جو ایک مجسم عمل کی پہچان رکھتاہے اور چونکہ ہمارے پاس کرنے کا اور کوئی کام ہے ہی نہیں‘ اس لیے سارا زور اسی پر لگا رہے ہیں جس کی وجہ سے ہمارا زور بھی کم پڑتا جا رہا ہے لیکن ہمیں اس کی کوئی پروا نہیں ہے کیونکہ اصل بات یہ ہے کہ احتساب کے عمل کو جاری رہنا چاہیے اورکم از کم یہ عمل ہوتا ہوا نظر ضرور آنا چاہیے۔ آپ اگلے روز اسلام آباد میں ایک نجی ٹی وی چینل کے ایک پروگرام میں شریک تھے۔
نون لیگ پاکستان کی ماں ، سرٹیفکیٹ نہیں چاہیے: احسن اقبال
سابق وزیر داخلہ اور نواز لیگ کے مرکزی رہنما چوہدری احسن اقبال نے کہا ہے کہ ''نون لیگ پاکستان کی ماں ہے، سرٹیفکیٹ نہیں چاہیے‘‘ اور جو سلوک اس نے قوم کے ساتھ کیا ہے‘ وہ ماں اور بچوں کا اپنا معاملہ ہے‘ کسی کو اس میں دخل دینے کی ضرورت نہیں ہے اور اس کے پدر کے بارے میں بھی اتفاقِ رائے موجود ہے کہ وہ جنرل ضیاء الحق تھے کیونکہ سیاسی جماعتوں کا کوئی جد امجد بھی ضرور ہوتا ہے جس کے نام سے وہ پہچانی جاتی ہیں البتہ جنرل غلام جیلانی کو اس کا چچا کہہ سکتے ہیں کیونکہ یہ سارا کچھ اسی بزرگ کے دم قدم سے ہے اور کسی کو ان بزرگوں کے حوالے سے شک و شبہ نہیں ہونا چاہیے۔ آپ اگلے روز حیدرآباد میں میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔
حکومت کا بس چلے تو پورے پاکستان 
کے کیس مجھ پر بنا دے: شہباز شریف
سابق وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے کہا ہے کہ ''حکومت کا بس چلے تو پورے پاکستان کے کیس مجھ پر بنا دے‘‘ اگرچہ ان کی تعداد اب بھی اتنی ہے کہ یہ پورے پاکستان ہی کے کیس لگتے ہیں کیونکہ کیس بھی خدمت کے حساب ہی سے بنتا ہے اور ساتھ ساتھ وعدہ معاف گواہ بھی بنتے چلے جا رہے ہیں لیکن پھر بھی میرے خلاف ایک دھیلے یا ایک پائی کی کرپشن ثابت نہیں کی جا سکتی تاہم کیسوں کے ساتھ ساتھ میری بیماریوں کی تعداد اور شدت میں بھی اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے اور اب لگتا ہے کہ مجھے بھی علاج کے لیے لندن ہی جانا پڑے گا؛ چنانچہ انہی ماہر ڈاکٹروں کی خدمات حاصل کی جائیں گی جنہوں نے بھائی صاحب کے بارے رپورٹس تیار کی تھیں۔ آپ اگلے روز پیشی کے موقع پر احتساب عدالت میں بیان دے رہے تھے۔
مہنگائی کے خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھوں گا: عمران خان
وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ''مہنگائی کے خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھوں گا‘‘ اگرچہ اپوزیشن کے جلسوں نے پہلے ہی کافی بے چین کر رکھا ہے، اس لیے امید ہے کہ نئے سرے سے بے چین ہونے کی ضرورت نہیں پڑے گی اور موجودہ بے چینی پر ہی پورے طور پر گزارہ ہوتا رہے گا؛ تاہم حکومت بالکل نہیں گھبرا رہی کیونکہ جو ہونا ہے وہ تو ہو کر ہی رہے گا، خواہ مخواہ گھبرا کر وقت ضائع کرنے کی کیا ضرورت ہے جبکہ آئی کو کوئی نہیں ٹال سکتا اور وہ آ کر ہی رہتی ہے۔ چین سے نہ بیٹھنے کا ایک علاج یہ بھی ہے کہ آدمی کھڑا ہی رہے اور اگر تھک جائے تو لیٹ بھی سکتا ہے جبکہ لیٹے لیٹے بے چین ہونا ضروری نہیں ہے۔ آپ اگلے روز وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔
نواز شریف کو پاکستان نہیں لے جایا جا سکتا: اسحاق ڈار
سابق وزیر خزانہ اور مفرور نون لیگی رہنما اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ''نواز شریف کو پاکستان نہیں لے جایا جا سکتا‘‘ بلکہ اس سے پہلے مجھے ہی پاکستان لا کر کوئی دکھا دے اور ہم اس لیے واپس نہیں آتے کہ اب وہاں ہمارے لیے رہ کیا گیا ہے، سیاست ہماری ختم ہو چکی ہے اور چار پیسے مزید بنانے کی بھی کوئی گنجائش نہیں نظر آتی جبکہ نواز شریف تو مریم نواز کو سیاسی جانشین بنانے تک خاصے مصروف رہیں گے، البتہ شہباز شریف ہاتھ پائوں مار کر بچ جائیں تو الگ بات ہے؛ تاہم مقدمات کا پہاڑ بھی ان کے سر پر کھڑا ہے اس لیے نوشتۂ دیوار انہیں بھی صاف نظر آ رہا ہے۔ آپ اگلے روز لندن میں ایک انٹرویو دے رہے تھے۔
رنگ خوابیدہ پڑے ہیں
یہ شاہد اشرف کی نظموں کا مجموعہ ہے جسے مثال پبلشرز فیصل آباد نے شائع کیا ہے۔ انتساب چھوٹے بھائی انجم اشرف مرحوم کے نام ہے۔ دیباچے پروفیسر ڈاکٹر نجیب جمال اور پروفیسر ڈاکٹر اختر شمار نے لکھے ہیں۔ یہ ان کا دوسرا شعری مجموعہ ہے جبکہ افسانوں کا مجموعہ پہلے شائع ہو چکا ہے پسِ سرورق شاعر کی تصویر اور مختصر تعارف درج ہے۔شاعر کی زبان رواں اور طرزِ اظہار دلکش ہے۔ آغاز نظم کے اس ٹکڑے سے کیا گیا ہے:
رنگ خوابیدہ پڑے ہیں
اس لیے تصویر کو اُونگھ آ گئی ہے
کینوس نے ادھ کھلی آنکھوں سے دیکھا
اب مصور تھک کے بستر کی طرف جانے لگا ہے
کمرے میں ہر چیز ساکت ہو گئی ہے
اور‘ اب آخر میں شعیب زمان کی شاعری:
کیسے ہو جائوں آپ کے نزدیک
پودا برگد کے کیا اُگے نزدیک
دونوں مدھم دکھائی دیتے ہیں
رنگ اور روشنی ترے نزدیک
سرد لہجوں کے زہر کا اس وقت
پھول تریاق ہے مرے نزدیک
چاند تاروں کے جیسے ہیں ہم لوگ
ساتھ رہ کر بھی کب رہے نزدیک
آپ کا حسن دیکھنے سے رہے
آپ اس درجہ ہو گئے نزدیک
خشک موسم کی آنکھ نم ہوئی ہے
بعد مدت کے ہم ہوئے نزدیک
٭......٭......٭
کوئی جگنو کوئی تارا نہیں آیا اب تک
ہم نے جس جس کو پکارا، نہیں آیا اب تک
روشنی آنکھ سے ہجرت نہیں کرنے والی
اس تعلق کا کنارا نہیں آیا اب تک
دل اسی واسطے روشن ہے مرے سینے میں
ڈوب جانے کا اشارہ نہیں آیا اب تک
تتلیوں اور کتابوں کے لیے کھلتے ہیں
تبھی پھولوں کو خسارہ نہیں آیا اب تک
تر و تازہ ہیں تری دھوپ کے بادل سر پر
کیسے چھتری کا سہارا نہیں آیا اب تک
آج کا مطلع
ذرا بھی فرق نہیں، ہوبہو دھڑکتا ہے
یہ دل نہیں مرے سینے میں تُو دھڑکتا ہے

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved