تحریر : مفتی منیب الرحمٰن تاریخ اشاعت     30-10-2020

مقامِ محمود

سیدنا محمد رسول اللہﷺ کے مقاماتِ عالیہ اور خصائصِ کبریٰ میں سے ایک اہم اعزاز ''مقامِ محمود‘‘ ہے، اس کی بابت اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ''اور رات کے کچھ حصے میں تہجد پڑھا کیجیے جو خاص آپ کے لیے اضافی عبادت ہے، یقینا آپ کا رب آپ کو مقامِ محمود پر فائز فرمائے گا‘‘ (بنی اسرائیل:79)۔ مندرجہ بالا آیت میں لفظِ ''عَسیٰ‘‘آیا ہے جو امید کے معنی میں ہوتا ہے، لیکن جب اس کلمے کی نسبت اللہ کی طرف ہو تو پھر وجوب کے معنی میں آتا ہے، یعنی‘ یقینا آپ کا رب آپ کو مقامِ محمود پر فائز فرمائے گا‘ کئی مفسرین نے یہ معنی مراد لیا ہے۔ لغوی اعتبار سے ''محمود‘‘ کے معنی ہیں: ''ہر اعتبار اور ہر جہت سے ایسا مقامِ رفیع کہ ہر ایک کے لیے مرکز و محور بن جائے، سب کی نظریں اُسی کی طرف اٹھیں اور ہر ایک بے اختیار مدح و ستائش پر مجبور ہو جائے‘‘، شریعت کی اصطلاح میں اس سے مراد ''مقامِ شفاعتِ کبریٰ‘‘ ہے۔ شریعت میں شفاعت کے معنی ہیں: ''رسول اللہﷺ کا مقبولین بارگاہِ خداوندی کی بلندیٔ درجات، صغیرہ گناہوں کی معافی، گناہگاروں کیلئے کبیرہ گناہوں کی مکمل معافی یا عذاب میں تخفیف کیلئے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا، استغفار اور سفارش کرنا‘‘، پس یہ سفارش ہر ایک کے حسبِ حال ہوگی۔
محشر میں سارے انسان جمع ہوں گے اور میزانِ عدل قائم ہونے میں تاخیر ہوگی۔ یہ مرحلہ سب کیلئے انتہائی مشقت و پریشانی کا باعث ہوگا اور سب کی تمنا ہوگی کہ اللہ تعالیٰ کے حضور کوئی وسیلہ بنے اور یہ عبوری مرحلہ آگے کی طرف بڑھے۔ قرآنِ کریم میں میدانِ حشر کی ہولناکی کو بیان کیاگیا ہے: (۱) ''بیشک تمہارے رب کے نزدیک ایک دن ایسا ہے جو تمہاری گنتی کے مطابق ایک ہزار سال کی مانند ہے‘‘ (الحج:47) (۲) ''اُس دن کی مقدار پچاس ہزار برس ہے‘‘ (المعارج:4) ان آیات کا ایک معنی تو یہ ہے کہ قیامت کے دن کی طوالت کو ایک ہزار سال یا پچاس ہزار سال سے تعبیر کیا گیا ہے یا یہ کہ یومِ قیامت کا گزرنا ہر ایک کے حسبِ حال ہو گا۔رسول اللہﷺ سے المعارج، آیت 4 کے حوالے سے پوچھا گیا: پھر تو یہ دن بہت ہی طویل ہو گا؟ آپﷺ نے فرمایا: ''اس ذات کی قسم جس کے قبضہ و قدرت میں میری جان ہے، مومن پر اسے ہلکا کر دیا جائے گا، حتیٰ کہ اُسے اتنا خفیف محسوس ہوگا جیسے دنیا میں ایک فرض نماز کا وقت ہوتا ہے‘‘ (مشکوٰۃ: 5564)۔ الغرض زمان و مکان ایک ہو گا، لیکن ہر ایک پر اپنے اعمال کے مطابق بیت رہا ہو گا۔ 
صحیح بخاری کی ایک طویل حدیث کا خلاصہ ہے: ''اہلِ محشر مصیبت کے عالم میں کسی شفیع اور وسیلے کی تلاش میں سرگرداں ہوں گے، وہ باری باری حضراتِ آدم، ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ علیہم السلام سے رجوع کرتے ہوئے بالآخر رحمۃ للعالمین سیدنا محمد رسول اللہﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوں گے، کیونکہ ہر نبی یہ کہے گا: ''آج بارگاہِ جلالت میں مجھے کچھ عرض کرنے کی مجال نہیں ہے، تم کسی اور کے پاس جائو‘‘ جبکہ آپﷺ فرمائیں گے : اس منصب کا اہل میں ہی ہوں۔ پھر آپﷺ کو اذنِ شفاعت عطا ہو گا، اس عظیم منظر کو آپ یوں بیان فرماتے ہیں: ''مجھے حمدِ باری تعالیٰ کے خاص کلمات اِلقا کیے جائیں گے، میں ان کلمات سے اللہ کی حمد بیان کروں گا، پھر مجھ سے کہا جائے گا: اے محمد! سر اٹھائیے، آپ جو کہیں گے، سنا جائے گا، آپ جو مانگیں گے، عطا کیا جائے گا، آپ کی شفاعت قبول ہو گی‘‘، آخر میں ہے: آپ بنی اسرائیل کی آیت 79 کی تلاوت کرکے فرمائیں گے: ''یہ وہ مقامِ محمود ہے‘ جس کا اللہ نے تمہارے نبی سے وعدہ فرمایا ہے‘‘۔ ایک اور حدیث میں آپﷺ نے فرمایا: ''ہر نبی سے اللہ نے قبولیتِ دعا کا ایک وعدہ فرمایا ہے، پس ہر نبی نے جلدی سے اپنی مراد مانگ لی اور میں نے قبولیتِ دعا کے اس وعدۂ ربانی کو قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے لیے بچا کر رکھ لیا ہے، ان شاء اللہ میرا جو بھی امتی اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائے گا، وہ (کسی نہ کسی مرحلے پر) اس دعا سے مستفید ہو گا‘‘ (مسلم:199)۔ یہ بھی مقامِ محمود کی طرف اشارہ ہے: رسول اللہﷺ اجابتِ دعا کے وعدۂ ربانی کا حوالہ دے کر قیامت کے دن گنہگارانِ امت کی شفاعت فرمائیں گے، آپﷺ نے فرمایا: ''مجھے دو باتوں میں سے ایک کا اختیار دیا گیا: میں شفاعت کو اختیار کروں یا یہ کہ میری آدھی امت جنت میں داخل ہو جائے، پس میں نے شفاعت کو اختیار کیا، کیونکہ یہ عام ہے، اس میں سب کے لیے کفایت ہے، تم سمجھ رہے ہو گے کہ صرف متقین کے لیے ہے، نہیں! بلکہ گناہگاروں، خطا کاروں اور معصیت میں آلودہ سب کے لیے ہے‘‘ (ابن ماجہ:4311)۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ''عنقریب آپ کا رب آپ کو اتنا عطا فرمائے گا کہ آپ راضی ہو جائیں گے‘‘ (الضحیٰ:5)، علامہ قرطبی نے اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے: ''جب یہ آیت نازل ہوئی تو نبیﷺ نے فرمایا: پھر تو جب تک کہ میرا ایک بھی امتی جہنم میں ہے‘ میں راضی نہیں ہوں گا‘‘، پھر فرمایا: ''اللہ تعالیٰ جبریلِ امین سے فرمائے گا: محمدﷺ کے پاس جائو اور کہو: بے شک ہم آپ کو آپ کی امت کے بارے میں راضی کریں گے اور آپ کو رنج نہیں پہنچائیں گے‘‘ (مسلم:202)۔
قرآنِ کریم میں شفاعت کی نفی اور اثبات دونوں طرح کی آیات موجود ہیں‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ''سو اُن (مجرموں) کو شفاعت کرنے والوں کی شفاعت نفع نہ پہنچائے گی‘‘ (المدثر:48)‘‘، پھر فرمایا: ''کس کی مجال ہے کہ اس کی بارگاہ میں سفارش کرے، مگر جسے وہ اِذن عطا فرمائے‘‘ (البقرہ: 255) اس مفہوم کی دیگر آیات بھی موجود ہیں کہ اللہ کے حضور اس کے اذن سے شفاعت کی جائے گی، مگر جب تک رسول اللہﷺ مقامِ محمود پر فائز نہیں ہوں گے، بابِ شفاعت نہیں کھلے گا، اس کے بعد انبیائے کرام ورُسلِ عُظام، اولیاء وصلحا حسبِ مرتبہ سفارش کریں گے، یہاں تک کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ''بیشک ناتمام پیدا ہونے والا بچہ اپنے رب سے بر بنائے ناز جھگڑے گا، تو اس سے کہا جائے گا: اپنے رب سے جھگڑنے والے ناقص بچے! اپنے ماں باپ کو جنت میں لے جا، وہ اُن دونوں کو اپنی نال کے ساتھ باندھ کر کھینچے گاحتیٰ کہ اُن دونوں کو جنت میں داخل کردے گا‘‘ (ابن ماجہ:1608)۔ رسول اللہﷺ نے اپنے فضائل و خصائص خود بیان کیے، ہم کئی احادیثِ مبارکہ میں بیان کردہ فضائل کو یکجا کر کے درج کر رہے ہیں۔ آپﷺ نے فرمایا: ''میں قیامت کے دن اولادِ آدم کا سردار ہوں گا اور یہ میرے لیے کوئی فخر کی بات نہیں، آدم علیہ السلام سے لے کر عیسیٰ علیہ السلام تک سب انبیاء میرے پرچم تلے ہوں گے، میں رسولوں کا قائد ہوں گا، میں خاتم النبیین ہوں، میں سب سے پہلے شفاعت کرنے والا اور مقبولُ الشفاعۃ ہوں گا اور یہ میرے لیے فخر کی بات نہیں، قبر سے باہر آنے والا پہلا شخص میں ہی ہوں گا، جب انسانیت اللہ کے حضور حاضر ہو گی تو اُن کا قائد میں ہی ہوں گا اور جب جلالِ الٰہی کے آگے سب لوگ مہر بہ لب ہوں گے تو اُن کا ترجمان میں ہوں گا، جب انہیں حشر میں روک دیا جائے گا تو اُن کا وسیلۂ شفاعت میں بنوں گا، جب نجات کی ساری امیدیں ٹوٹ جائیں گی تو بشارت دینے والا میں ہی ہوں گا، ساری عزتیں اور رب کے خزانوں کی کنجیاں میرے ہاتھ میں ہوں گی...‘‘۔ 
شفاعت کی کئی صورتیں ہیں: (۱) شفاعت بالاذن: جنہیں اللہ تعالیٰ اپنی بارگاہ میں شفاعت کا اذن عطا فرمائے گا، (۲) شفاعت بالوجاہت: جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی بارگاہ میں عِزّ و شرَف سے نوازا ہے، وہ کسی کی شفاعت کریں گے تو اللہ ان کی لاج رکھے گا، قرآنی آیات میں انبیائے کرام کی وجاہت کا ذکر ہے، (۳) شفاعت بالمحبت: محبوبینِ باری تعالیٰ کو اس کی بارگاہ میں شفاعت کا اعزاز نصیب ہوگا، (۴) شفاعت کی ایک صورت دعا و استغفار ہوگی ۔ نبیﷺ نے فرمایا:''جب مؤذن اذان کہے تو تم بھی کلماتِ اذان کو دہرائو، پھر مجھ پر درود بھیجو، کیونکہ جو مجھ پر ایک بار درود بھیجے گا، اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل فرمائے گا، پھر میرے لیے مقامِ وسیلہ کی دعا مانگو، یہ جنت میں ایک نمایاں مقام ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے کسی ایک خاص بندے کو عطا فرمائے گا، مجھے یقین ہے کہ وہ میں ہی ہوں گا، سو جو میرے لیے ''مقامِ وسیلہ‘‘ کی دعا مانگے گا، اس کے لیے میری شفاعت واجب ہو جائے گی‘‘ ( مسلم:384)۔رہا یہ سوال کہ جب اللہ نے اپنے حبیبِ مکرمﷺ سے ''مقامِ وسیلہ‘‘ اور ''مقامِ محمود‘‘ کا وعدہ فرمارکھا ہے تو ہماری دعا کی کیا ضرورت ہے، تو جواباً عرض ہے :'' ہماری دعا ہماری اپنی سعادت کے لیے ہے، رسول اللہﷺ کے مقاماتِ رفیعہ ہماری دعا کے محتاج نہیں ہیں‘‘۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved