تحریر : ایاز امیر تاریخ اشاعت     21-11-2020

مجموعۂ جہالت میں اگر کچھ کمی آ سکے

مانگے تانگے سے گزارہ چل رہا ہو تو بڑے خواب دیکھنا فضول کی عیاشی بن جاتی ہے۔ ادھار ملنا بند ہو جائے تو مملکت کا کاروبار نہ چلے۔ اِس ملک نے ترقی یافتہ ہونا ہے یا نہیں ہم نہیں کہہ سکتے۔ یہ مستقبل کی باتیں ہیں اور ایسا مستقبل جو کم از کم ہماری عمر کے لوگوں نے نہیں دیکھنا‘ لیکن معاشی حالات خراب بھی ہوں تو یہ نسخہ کس نے لکھ کے دیا ہے کہ ہم عقل سے بھی فارغ ہو جائیں؟ اجتماعی بے وقوفی کی بہت سی مثالیں ہیں لیکن موجودہ وقت میں دو منصوبوں کو سامنے رکھا جا سکتا ہے۔ ایک کا تعلق کراچی دوسرے کا لاہور سے ہے۔
کراچی کے باہر سمندر میں دو جزیرے ہیں۔ ان کا نام ہے بُنڈل اور بَڈو۔ مجموعی رقبہ ان کا بارہ ہزار ایکڑ ہے اور ان پہ مینگروو کے گھنے جنگل ہیں۔ دونوں جزیروں پہ ماہی گیروں کی پرانی آبادیاں صدیوں سے آباد ہیں‘ جن کا گزر بسر ماہی گیری پہ ہے۔ یہ ذکر ہوتا چلے کہ مینگروو کے جنگل ساحل کو سمندری آفات سے بچانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ سمندر جب بپھرتے ہیں اور اُن کی گہرائیوں سے طوفان اور سائیکلون اُٹھیں تو مینگروو کے جنگل اُن کا پہلا زور لیتے ہیں۔ مینگروو کے جنگلوں کو کاٹ دیجیے تو یوں سمجھئے کہ کراچی اور اِس کے ساحل کو آپ نے بغیر دفاع کے چھوڑ دیا ہے۔ 
اب حکومت کی عقلمندی کا ملاحظہ ہو۔ جزیرے ملکیت صوبہ سندھ کے ہیں لیکن وفاق نے ایک آرڈیننس پاس کر دیا ہے جس میں یہ حکم ہے کہ اِن جزیروں پہ ترقی کے نام پہ بہت کچھ ہو گا۔ پورا سندھ احتجاج کر رہا ہے کہ زمین آپ کی ہے نہیں اُس کے بارے میں فرمان کیوں جاری کر رہے ہیں؟ لیکن حکومت ہے کہ ٹس سے مس نہیں ہو رہی۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ سندھ میں اتنا بھرپور احتجاج ہو کہ حکومت کے ہوش ٹھکانے آ جائیں۔ 
ترقی کا پہلا مطلب تو یہ ہے کہ وہاں کے مکینوں کو اپنے گھروں سے نکالا جائے۔ غریب لوگ ہیں‘ جن کا واحد گزارہ سمندر پہ ہے اور آپ کا ارادہ ہے کہ اِن کو وہاں سے باہر کر دیا جائے۔ یہ کریں گے کیا اور ان کو روزگار کون مہیا کرے گا؟ روزگار بعد کی بات ہے، صدیوں سے آباد جگہوں کو نام نہاد ترقی کے نام پہ بے آباد کرنا کوئی تھوڑا ظلم ہے؟ اِن کی روزی کیا اِن کی زندگیوں کے پیچھے عمران خان حکومت کیوں لگی ہوئی ہے؟
دوسرا مطلب اس نام نہاد ترقی کا یہ ہو گا کہ دونوں جزیروں پہ گھنے مینگروو جنگلات کو کاٹ دیا جائے۔ کراچی میں پہلے تباہی تھوڑی ہو چکی ہے کہ آپ اس میں مزید اضافہ کرنا چاہتے ہیں؟ ترقی کے نام پہ زمانۂ قدیم سے موجود بہت سے مینگروو جنگلات کو پہلے ہی کاٹا جا چکا ہے۔ یہ ایک وجہ ہے کہ سمندر کی لہریں اب اندر آنے لگی ہیں‘ جس کی وجہ سے سندھ کا خاصا ساحلی علاقہ سمندر کے نمک کی وجہ سے تباہ ہو چکا ہے۔ سمندر کے اندر آنے کی دوسری وجہ دریائے سندھ میں پانی کی کمی ہے‘ یعنی جو دریا کا پانی سمندر میں جاتا ہے وہ ڈیموں وغیرہ کی وجہ سے کم ہو چکا ہے۔ یہ جو ہم اوپر کے صوبوں میں رہنے والوں کی سوچ ہے کہ دریا کا پانی جو سمندر میں گیا ضائع ہو گیا انتہا کی بے وقوفی ہے۔ جو دریائے سندھ کا ڈیلٹا (delta) ہے وہ سمندر کے پانی کو دور رکھتا ہے۔ اس ڈیلٹے کے پانیوں میں کمی واقع ہو جیسے ہو رہی ہے تو سمندر اندر آئے گا اور ساحلی زمینیں مزید تباہی کا شکار ہوں گی۔ 
یہ گزارشات راکٹ سائنس پہ مبنی نہیں۔ یہ عام فہم کی باتیں ہیں لیکن حکومتی رویوں کو دیکھ کے گمان ہوتا ہے کہ عام فہم کی باتیں سمجھنا بھی بڑا مشکل کام ہے۔ دیگر بھول بھلیوں کے ساتھ میں کم از کم سمجھتا تھا کہ عمران خان ایسے ایشوز‘ جن کا تعلق ماحولیات سے ہے‘ کے بارے میں اوروں سے زیادہ حساس ہوں گے۔ میں یہ سمجھتا تھا کہ اقتدار میں آتے ہی ان کا پہلا اقدام پلاسٹک کے شاپروں پہ پابندی کا ہو گا‘ لیکن دو سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے اور پلاسٹک کے شاپروں کی لعنت بدستور ہمارے درمیان موجود ہے۔ انسان کبھی سوچتا ہے‘ ان حکمرانوں کے پاس آنکھیں نہیں۔ کیا سامنے موجود چیز اِن کو دکھائی نہیں دیتی؟ پلاسٹک کے شاپروں کے بارے میں تو چلو کچھ نہ ہوا‘ لیکن یہ جزیروں والا مسئلہ ظلم بھی ہے اور پرلے درجے کی بے وقوفی بھی۔ 
دوسرا مسئلہ جس کا تعلق لاہور سے ہے وہ راوی ریور فرنٹ (river front) پراجیکٹ ہے۔ کیسی عقل ہمارے حکمرانوں نے پائی ہے۔ اس پراجیکٹ کے تحت 46 کلومیٹر لمبا نیا شہر شاہدرہ سے لے کر اوپر سائیفن تک آباد ہونا ہے۔ عذر وہی پرانا ترقی کا ہے کہ بڑی ڈویلپمنٹ ہوگی۔ ابھی تک تو یہ پراجیکٹ محض کاغذوں پہ ہے لیکن حقیقت بنا یا حقیقت کے قریب ہوا تو اِس سے بڑی تباہی لاہور کے لیے اورکوئی نہیں ہوسکے گی۔ پہلے تو اس سارے لمبے چوڑے علاقے کو مکینوں سے خالی کرایا جائے گا۔ اس کے لیے زمین کوزبردستی ضبط کرنے والے قانون کی دفعہ4 نوٹیفائی ہوچکی ہے اور زمین کا سروے بھی شروع ہوچکاہے۔ متاثرین کی تعداد لاکھوں نہیں تو کئی ہزاروں میں ہوگی۔ وہ سراپا احتجاج ہیں لیکن احتجاج سے زیادہ خوف کے مارے ہیں کہ ہماری آبائی زمینوں کو حکومت زبردستی لے رہی ہے۔ ہم پھر جائیں تو جائیں گے کہاں؟ لیکن حکومت ہے کہ لگتا ہے آنکھوں پہ پٹی باندھ لی اور کانوں کو روئی سے بھر دیا ہے۔ 
یہ راوی منصوبہ اتنا جاہلانہ اور ظالمانہ ہے کہ ہونا تو یہ چاہیے کہ سیاسی پارٹیاں اس پہ واضح اور سخت مؤقف اختیار کریں۔ اُس علاقے کے عوام کے غم و غصے کی آواز بنیں۔ جلسے اوپر نیچے ہو رہے ہیں، بیانیے دَر بیانیے بُنے جا رہے ہیں لیکن کسی ایک سیاسی لیڈر، کسی ایک سیاسی جماعت نے اس پراجیکٹ کے بارے میں ایک لفظ نہیں کہا۔ نون لیگ سمجھتی ہے اُس نے لاہور کا ٹھیکا لیا ہوا ہے۔ مریم نواز کے لبوں سے اس پراجیکٹ کے بارے میں کوئی آواز نہیں نکلی۔ انہیں اس علاقے کا دورہ کرنا چاہیے لیکن یہاں روایت ہی یہ ہے کہ معاشرے کے بڑوں کو کچھ ہو جائے تو تھڑتھلی مچ جاتی ہے۔ میڈیا بھی مسئلے کوسر پہ اُٹھا لیتاہے۔ مسکینوں اور غریبوں کا کچھ مسئلہ ہو تو وہ ایسے دَبتا ہے کہ پھر اُس کی یاد بھی باقی نہیں رہتی۔ 
اسلام آباد میں ایک ہوٹل کا قصہ دیکھ لیجیے۔ سی ڈی اے سے اجازت ملی صرف ہوٹل کی۔ لیز لینے والوں نے ہوٹل کے ساتھ ساتھ فلیٹ بنانے شروع کر دئیے اور بڑے بڑوں نے وہاں فلیٹوں کی بکنگ کرالی۔ اس میں ایک نام وزیراعظم صاحب کا بھی ہے۔ انصاف ہوتا تو فلیٹ جہاں تک تیار ہوئے تھے اُن کو مسمار کیا جاتا۔ جس کا پیسہ ڈوبتا اُس کا ذمہ دار وہ خود ہوتا۔ غریبوں کے پیسے پہ ڈاکا پڑے کسی کو کوئی زیادہ فکر نہیں ہوتی‘ لیکن یہاں تو عام لوگوں کا مسئلہ نہیں تھا۔ یہاں تو بڑے بڑوں کا نام تھا۔ اس لیے حیلے بہانوں سے ترکیبیں سوچی جا رہی ہیں کہ بند پراجیکٹ کو پھر سے چالو کیسے کیا جائے۔ہم نے سوئٹزرلینڈ نہیں بننا۔ دبئی نہیں چاہیے۔ جس حال میں ہیں اچھے ہیں‘ لیکن اگر لوگوں کا بھلا نہیں ہو سکتا تو انہیں مزید خراب تو نہ کریں۔ یہ جزیروں والامسئلہ اور دریائے راوی پراجیکٹ عوام الناس کو تنگ کرنے والی باتیں ہیں۔ اِن سے کسی کا بھلا نہیں ہوگا۔ عام لوگوں کو تکلیف پہنچے گی۔ دونوں پراجیکٹس میں مال بنانے والے اور لوگ ہوں گے۔ تباہی بھی ہوتی ہے تو مال بنانے والے اپنا کام نکال لیتے ہیں۔ کراچی‘ تباہی بہت ہو چکی اس کی اور نہ کیجیے۔ لاہور جو ہے اس کے بہت سے مسائل ہیں۔ مزید مسائل پیدا کرنے پہ آپ کیوں تُلے ہوئے ہیں؟

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved