تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     24-11-2020

سرخیاں، متن اور فیصل ہاشمی کی نظم

ایک وزیر نے بتایا کہ حکومت ختم ہونے والی ہے: سراج الحق
امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ ''ایک وزیر نے بتایا کہ پی ٹی آئی کی حکومت ختم ہو رہی ہے‘‘ اور یہ صرف اس وجہ سے ہورہا ہے کہ ہماری جماعت نے حکومت کے خلاف علیحدہ جلوس جلسے کرنا شروع کر دیے تھے اور ہمیں یقین تھا کہ ہماری یہ مساعی جمیلہ ایک دن ضرور رنگ لائیں گی بلکہ اس کامیابی کا زیادہ تر حصہ میری روزانہ کی تقریروں کا ہے اور کسی نے سچ کہا ہے کہ خدا کسی کی محنت کوضائع نہیں کرتا اور اس حوصلہ افزائی کے لئے میں اس ذات پاک کا شکرگزار ہوں؛ تاہم اس بارے میں شکوک و شبہات اپنی جگہ پر موجود ہیں کیونکہ بعد میں پتا چلا کہ وہ وزیر پیپلزپارٹی کا تھا اور اپنا خیالی پلائو پکانے میں مصروف تھا۔ آپ اگلے روز لاہور میں ایک جلسے میں خطاب کررہے تھے۔
جیلوں کے حالات میں جلد بہتری آئے گی: فیاض چوہان
وزیرجیل خانہ جات پنجاب فیاض الحسن چوہان نے کہا ہے کہ ''جیلوں کے حالات میں جلد بہتری آئے گی‘‘ جلد ان کی آبادی میں اضافہ کرنے ہی سے بہتری آ سکتی ہے‘ جو مستقبل قریب میں قدرتی طور پر ہی ہونے والا ہے کیونکہ امید ہے کہ بہت سے لوگ اپنے مقدمات میں سرخرو ہوکریہاں پہنچیں گے؛ چنانچہ اگر جیلوں میں چہل پہل ہو جائے تو ان کی رونق بھی کئی گنا بڑھ جائے گی کیونکہ آخر ہم نے ایف ٹی اے ایف سے بھی تو نکلنا ہے جو منی لانڈرز کواندر کرنے ہی سے ممکن ہو گا ورنہ گرے سے بلیک لسٹ میں جانے کا خطرہ موجود رہے گا۔ اس لیے جیلوں میں بہتری لانا بے حد ضروری ہوگیا ہے جبکہ اپوزیشن والوں کی صحت بھی جیلوں میں بہتر رہتی ہے۔ آپ اگلے روز گجرات جیل کا ہنگامی دورہ کررہے تھے۔
اپوزیشن کورونا پھیلا رہی ہے‘ مکمل لاک ڈائون
کے ذمہ دار یہی ہوں گے: عمران خان
وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ''اپوزیشن کورونا پھیلا رہی ہے‘ مکمل لاک ڈائون کے ذمہ دار یہی ہوں گے‘‘ جبکہ ہمارے اجتماعات سے کورونا کے پھیلنے کا کوئی احتمال نہیں ہے کیونکہ ہم نے پورا انتظام کرکے ہی یہ کام کیا تھا جبکہ ویسے بھی ہمارا سارا کام اللہ توکل ہی چل رہا ہے لیکن اپوزیشن کے جلسے جو عوام میں کورونا پھیلانے کا سبب بن رہے ہیں اس بارے میں کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی جبکہ یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ جلسوں میں حکومت کو ہی کورونا قرار دیا گیا ہے‘ حالانکہ یہ بات سراسر خلافِ حقیقت ہے کیونکہ حکومت تو پھیلنے کے بجائے سکڑ رہی ہے۔ آپ اگلے روز ٹویٹر پر اپوزیشن کو خبردارکررہے تھے۔
انصاف میڈیکل کارڈ کے اجرا سے غریبوں 
کو مفت دوائیں ملیں گی: عثمان بزدار
وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے کہا ہے کہ ''انصاف میڈیکل کارڈ کے اجرا سے غریبوں کو مفت دائیں ملیں گی‘‘ اس لیے اب بیمارہونے کی کھلی چھٹی ہے‘ اگرچہ دوائوں کے اصلی ہونے کی گارنٹی نہیں دی جا سکتی؛ تاہم اطمینان بخش امر یہ بھی ہے کہ پوری قوم ان دونمبر دوائوں کی عادی ہو چکی ہے حتیٰ کہ اب اصلی دوائیں ان پر اثرہی نہیں کرتیں۔ اس لئے اس موضوع پرپریشان ہونے کی ہرگز ضرورت نہیں ہے؛ اگرچہ پہلے صحت کارڈ کا انجام کچھ اچھا بھی نہیں ہوا تھا کیونکہ کچھ افراد نے یہ کارڈ سستے داموں آگے بیچ دیے تھے کیونکہ ان کے پاس آٹا وغیرہ خریدنے کے لئے پیسے بھی نہیں تھے۔ آپ اگلے روزلاہور میں ٹی بی‘ ہیپاٹائٹس اور ایڈز کیلئے کارڈ تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ 
نوازشریف کی قیادت ضروری ہے: احسن اقبال
سابق وفاقی وزیرداخلہ چوہدری احسن اقبال نے کہا ہے کہ ''چیلنجز سے نمٹنے کے لئے نوازشریف کی قیادت ضروری ہے‘‘ کیونکہ سارے کے سارے چیلنجز انہی کے پیدا کردہ ہیں۔ انہیں جب بھی موقع ملتا ہے وہ بم کو لات مارنے سے بھی گریز نہیں کرت، نیز ہمارے سامنے دوسرا بڑا چیلنج ان کے بیانیے کی وجہ سے پارٹی میں افتراق اور افراتفری ہے حتیٰ کہ کم و بیش آدھی جماعت یا تو پارٹی چھوڑ چکی ہے یا گھروں میں بیٹھ گئی ہے جبکہ موصوف یہ سارا معرکہ باہر بیٹھ کر سرانجام دینا چاہتے ہیں اور ادھر ان کے اشتہار پر اشتہار جاری ہوتے جا رہے ہیں جسے شامتِ اعمال ہی کہنا چاہیے۔ آپ اگلے روز میاں چنوں میں ایک تقریب سے خطاب کررہے تھے۔
اور ‘اب آخر میں فیصل ہاشمی کی یہ نظم
کون منش تھا!
ایک مخرب شب تھی جس میں
ایک منش نے
مسخ شدہ چہرے کے ساتھ
دروازے پر دستک دی تھی!
کھولو...
یہ دروازہ کھولو!
دیکھو‘ میں آیا ہوں...تمہارا وارث
ازلوں سے اس بنجرمریل
دھرتی کا اکلوتا وارث
اُٹھ کر دیکھو،
لوٹ کے جنموں بعد آیا ہوں
تھکا ہوا ہوں
سر رکھنے دو اپنی گود میں‘ سو جانے دو
نیند کے سبزہ زار میں‘ پھر سے
کھو جانے دو!
میرا چہرہ مسخ ہوا ہے
میری روح وہی ہے اب تک
جس سے تم سرشارہوئے تھے
میرے دعوے دار ہوئے تھے!
لیکن اس کی ساری صدائیں
خاموشی کا رزق بنی تھیں
جب وہ چلا گیا تو میں نے
بھید بھنور سے باہر آکر
بھاری کہنہ دروازے کی اوٹ سے
جاتے دیکھا اس کو
کون منش تھا۔ کون منش تھا؟
دیر تلک پھرسوچا اس کو...!!
آج کا مطلع
سیدھا تھا معمار
ٹیڑھی ہے دیوار

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved