تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     01-12-2020

سرخیاں، متن اور حسین مجروح کی شاعری

حکومت نے رکاوٹیں کھڑی کر 
کے ہمارا جلسہ کامیاب کر دیا: گیلانی
سابق وزیراعظم اور پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ ''حکومت نے رکاوٹیں کھڑی کر کے ہمارا جلسہ کامیاب کردیا‘‘ اس لئے اس کامیاب جلسے کے بعد کوئی جلسہ کرنے کی ضرورت ہی نہیں باقی رہی بلکہ حکومت سے درخواست ہے کہ ہمارے اگلے جلسے بھی اسی طرح کامیاب کر دے کیونکہ دوسرے شہروں سے حاضرین کو لانا خاصا مہنگا پڑ رہا ہے اور اب تو تھوڑے پیسوں پر کوئی راضی بھی نہیں ہوتا کیونکہ ہر کوئی کورونا وائرس کا خطرہ مول لے کر آتا ہے، اس لئے حکومت سے درخواست ہے کہ جلسوں کو اس سے زیادہ کامیاب کرنے کی کوشش نہ کرے کیونکہ تصادم کا جو خطرہ ہے‘ اس سے بھی بچا جا سکے۔ آپ اگلے روز ملتان میں میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔
چور ٹولے کو تکلیف ہے کہ معیشت
دوبارہ بحال کیوں ہو رہی ہے: شبلی فراز
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر سید شبلی فراز نے کہا ہے کہ ''چور ٹولے کو تکلیف ہے کہ معیشت دوبارہ بحال کیوں ہو رہی ہے‘‘ حالانکہ یہ بھی اُن کا غلط اندازہ ہے کیونکہ معیشت اگر واقعی بحال ہو رہی ہوتی تو نظر بھی آتی اور اس سے اپوزیشن کی کم فہمی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جس چیز کا کہیں وجود ہی نہیں ہے‘ اُس پر خواہ مخواہ واویلا کر رہی ہے جبکہ ابھی تو ہم نے معیشت بحال کرنے کا صرف ارادہ ظاہر کیاہے اور اگر یہ بحال ہو گی تو اپنے وقت ہی پر ہوگی جبکہ زندہ قوموں کی معیشت ویسے بھی بحال ہونے میں بہت وقت لگاتی ہے۔ آپ اگلے روز اسلام آباد میں صحافیوں سے بات چیت کر رہے تھے۔
آج سب رکاوٹیں توڑ کر ملتان میں ملاقات ہوگی: مریم نواز
مستقل نااہل اور سزا یافتہ سابق وزیراعظم کی صاحبزادی مریم نواز نے کہا ہے کہ ''آج سب رکاوٹیں توڑ کر ملتان میں ملاقات ہوگی‘‘ اور اس ملاقات ہی کو غنیمت سمجھنا چاہیے کیونکہ جلسہ تو شاید حکومت نہ ہونے دے‘ اور اگر جلسہ ہو گیا تو اس سے بھی کوئی فرق نہیں پڑنا، کیونکہ گزشتہ جلسوں سے حکومت کو کیا فرق پڑا ہے؟ اس لئے اب ہم نے سوچا ہے کہ جلسوں کے بجائے اب ملاقات ہی کرلی جائے کیونکہ ہماری ملاقات حکومت کیلئے جلسوں سے زیادہ خطرناک ثابت ہوگی جبکہ ویسے بھی چچا جان نے حکومت سے ڈائیلاگ کا مطالبہ کر کے ہمارے بیانیے کی دھجیاں بکھیر دی ہیں۔ آپ اگلے روز لاہور میں حکومتی بیانات پراپنے ردعمل کااظہار کر رہی تھیں۔
عوام کی حکمرانی کیلئے فیصلہ کن جدوجہد 
شروع ہو گئی ہے: آصف زرداری
سابق صدرِ مملکت اور پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ ''عوام کی حکمرانی کے لئے فیصلہ کن جدوجہد کا آغاز ہو گیا ہے‘‘ جبکہ عوام کی حکمرانی میں مساوات کی بنیاد پر باریاں مقرر ہوتی ہیں اور ہر مقتدر پارٹی خدمت کے انبار لگا دیتی ہے کیونکہ کوئی کسی کو پوچھنے والا نہیں ہوتا جبکہ ایک پارٹی کی یا تو حکومت ہوتی ہے یا وہ اپنی باری کا انتظار کر رہی ہوتی ہے اور ہر طرف فرینڈلی اپوزیشن کا دور دورہ ہوتا ہے جسے عوام کی حکمرانی کہا جاتا ہے اور عوام کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہوتا ہے‘ اسے ان کی بدقسمتی ہی کہا جا سکتا ہے کیونکہ کوئی کسی کی قسمت میں شریک نہیں ہو سکتا ہے جبکہ عوام کی تو کوئی قسمت ہوتی ہی نہیں۔ آپ اگلے روز کراچی سے یوم تاسیس کے موقع پر بیان دے رہے تھے۔
دو سیاسی نابالغ قوم کی زندگیوں
سے کھیل رہے ہیں: فواد چودھری
وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چودھری نے کہا ہے کہ ''دو سیاسی نابالغ قوم کی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں‘‘ حالانکہ یہ کام سیاسی بالغوں کا ہے جسے وہ نہایت عمدگی کے ساتھ سرانجام دے رہے ہیں اور جس پر دوسرے حیران اور پریشان ہو رہے ہیں۔ جو حکومت کرنے کے لئے آئے ہیں انہوں نے حکومت ہی کرنی ہے اور وہ اپوزیشن کے کام میں دخل نہیں دیتے ‘اس لئے اپوزیشن کو بھی حکومت کے کام میں دخل دینے سے گریز کرنا چاہیے تاکہ ہر کوئی اپنا اپنا کام پوری تسلی کے ساتھ سرانجام دے سکے؛ اگرچہ اسے کام کہنا بھی سراسر زیادتی ہے لیکن ہر دو فریق کو اپنا اپنا کام کرتے رہنا چاہیے کیونکہ اس کے اپوزیشن یا حکومت میں ہونے کا مقصد بھی یہی ہے۔ آپ اگلے روز اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔
جلسے میں نہ آ سکے تو جیلیں بھر دیں گے: فضل الرحمن
جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ ''ڈنڈے کا جواب ڈنڈے سے دیں، جلسے میں نہ آ سکے تو جیلیں بھر دیں گے‘‘ اور قیام و طعام کے جھگڑوں سے بھی خلاصی ہو جائے گی بلکہ طعام ہی اصل مسئلہ ہے کیونکہ قیام تو فٹ پاتھ پر بھی ہو سکتا ہے اور جیل میں برخوردار فیاض چوہان ہماری خاطر ومدارات کے لئے پہلے ہی موجود ہوں گے‘ جنہیں ہماری سہولت کے لئے ہی یہ قلمدان تفویض کیا گیا ہے جہاں کچھ زیادہ تردد نہیں کرنا پڑے گا اور کارکن سنگل ڈش پر ہی گزر اوقات کر لیں گے جبکہ جلسوں میں تو کھانے کو پولیس کے ڈنڈے ہی ہوتے ہیں جن کا ذائقہ کوئی خاص اچھا نہیں ہوتا۔ آپ اگلے روز ملتان میں صحافیوں سے بات چیت کر رہے تھے۔
اور‘ اب آخر میں حسین مجروح کی شاعری:
گو قیدِ ناروا ہے مگر کاٹنی تو ہے
زنجیرِ جسم و جاں میں یہ ہم رشتگی تو ہے
جانے دیا کلاہ نہ خلعت کو ہاتھ سے
اس پر گماں کہ سر میں کہیں سرکشی تو ہے
لوٹا نہیں ہوں کوئے مقاصد سے بے مراد
مال و منال گر نہیں، بے چہرگی تو ہے
کیسے ہوں خوئے خانہ خرابی سے دست کش
لے دے کے اپنے پاس یہی خودسری تو ہے
خود سے مغائرت پہ بھی اے چشمِ کم لحاظ
افسوس ہو نہ ہو مجھے شرمندگی تو ہے
٭......٭......٭
دیکھا جو اس کے بھیگے بدن کی تراش کو
مچلی بہت یہ آنکھ وہاں بود و باش کو
پتوں کی بانٹ سے تو یہ لگتا ہے چرخ نے
پھینٹا نہیں ہے ٹھیک سے قسمت کی تاش کو
چکھتے کہاں ہیں حسن کا سارا ثمر کہ ہم
معیار جانتے ہیں فقط ایک قاش کو
ناتے سبھی ہیں سانس کی ڈوری سے اس لئے
دریا قبولتا نہیں مچھلی کی لاش کو
سر پر اگرچہ برف جمی ڈھلتی عمر کی
محسوستا ہے فرقِ تلاش و معاش کو
مجروح ؔـاُس کے بوسۂ اوّل کی سنسنی
آرازتی ہے اب بھی لبِ خوش قماش سے
آج کا مقطع
جا کے اس کو کیا وکیل‘ ظفرؔ
جو کوئی مشورہ نہیں دیتا

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved