تحریر : بیرسٹر حمید باشانی تاریخ اشاعت     10-12-2020

جمہوری دور کے مزدور‘ کسان کے ساتھ کیا ہو رہا ہے؟

ہم جمہوری دور کے لوگ ہیں۔ ہماری اس دنیا میں اب شاید ہی کوئی ایسا ملک بچا ہو جہاں حکومت کرنے کے لیے عوام کی مرضی اور رضا مندی نہ لی جاتی ہو۔ یہ الگ بات ہے کہ مرضی معلوم کرنے کے الگ الگ طریقے ہیں۔ پاکستان سمیت اکثر ملکوں میں اس مقصد کے لیے معروف جمہوری طریقے اختیار کیے جاتے ہیں‘ لیکن چین کی طرح کچھ ایسے ممالک بھی ہیں، جن میں عوام کی رضا جاننے کے بالکل ہی منفرد طریقے ہیں، جن پر اکثر جمہوریتوں کو اعتراض رہتا ہے۔ وہ ممالک اس کو جمہوری طریقہ نہیں مانتے، اور اس کے بارے میں اپنے تحفظات کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ گویا اس جمہوری دور کے باوجود پوری دنیا جمہوریت کے ثمرات سے پوری طرح استفادہ نہیں کر رہی ہے۔ یہی عالم انسانی حقوق اور شہری آزادیوں کا بھی ہے۔ جمہوری دور میں زندہ رہنے کے باوجود کئی ممالک کے شہری انسانی حقوق اور شہری آزادیوں سے محروم ہیں‘ لیکن حقوق کے باب میں سب سے درد ناک کہانی مزدوروں اور کسانوں کی ہے۔ سوویت یونین ٹوٹنے اور دنیا میں سرمایہ داری نظام کی بالا دستی کے بعد مزدوروں اور کسانوں کے معاشی و سماجی حقوق برے طریقے سے مجروح ہوئے ہیں۔ اس استحصال کے خلاف آئے دن احتجاج ہوتا رہتا ہے۔ اس کی ایک تازہ ترین اور بڑی مثال بھارت میں مزدوروں اور کسانوں کا حالیہ احتجاج ہے۔ یہ احتجاجی مارچ آل انڈیا کسان سنگھرش کمیٹی کے زیر اہتمام ہو رہا ہے۔ یہ کسانوں اور مزدوروں کا ایک بڑا پلیٹ فارم ہے، جس میں تقریباً دو سو پچاس کے قریب مزدوروں، کسانوں اور زراعت سے وابستہ لوگوں کی کی تنظیمیں، انجمنیں اور گروہ شامل ہیں۔
اس بہت بڑے پلیٹ فارم کے زیرِ اہتمام مارچ اور احتجاج کی جو اپیل کی گئی، وہ دائیں بازو کی بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت میں قائم حکومت کی مزدور کسان پالیسیوں کے خلاف ہے۔ 'دلی چلو‘ اس مارچ میں پنجاب، ہریانہ، اتر پردیش اور مدھیہ پردیش سے کسانوں کی ایک بہت بڑی تعداد نے شرکت کی ہے۔ یہ حیرت انگیز مارچ بھارت کے مزدوروں اور کسانوں کے درمیان ایک بہت بڑے اتحاد کا عملی اظہار ہے، جو نیو لبرل ازم کی ان پالیسیوں کے خلاف ہے، جو گزشتہ تین دہائیوں سے بھارت میں جاری ہیں۔ اس احتجاج کے تحت گزشتہ کئی روز سے احتجاجی ریلیاں نکالی جا رہی ہیں اور مظاہرین نے ملک بھر میں ریلوے ٹریکس اور ہائی ویز کو بند کر دیا ہے۔ دہلی کے وزیر اعلیٰ کیجری وال کسانوں کے حامی ہیں۔ انہوں نے دو روز قبل کسانوں کی حمایت کی تو بعض خبروں کے مطابق انہیں نظر بند کردیا گیا، مطالبات پورے نہ ہونے پر مظاہرین نے 13ویں روز بھی احتجاج کا سلسلہ جاری رکھا‘ جس کا دائرہ ملک بھر میں پھیلا دیا گیا ہے۔ وزیر داخلہ مظاہرین کو منانے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ 
شرکائے مارچ کے کئی مطالبات ہیں۔ ایک اہم ترین مطالبہ فارم ایکٹ میں تبدیلی کا ہے، جن کو مزدوروں اور کسانوں کے علاوہ بعض دانش ور حلقوں میں کارپوریٹ دوست اور کسان دشمن ایکٹ سمجھا جاتا ہے۔ ان میں وہ قوانین شامل ہیں‘ جن کو بھارت کی معیشت کے بنیادی ڈھانچے میں ایک اہم ترین تبدیلی تصور کیا جاتا ہے۔
کسانوں اور مزدوروں کے بارے میں فکر مند کئی دانش وروں کا خیال ہے کہ چار میں سے تین قوانین ایسے ہیں، جن کا مقصد زراعت اور کھیتی باڑی کی ''کارپوریٹائزیشن‘‘ کرنا ہے۔ کسانوں کے خیال میں کارپوریٹائزیشن کا یہ عمل آگے چل کر کسانوں کو نگل لے گا، جو بھارت کی بہت بڑی آبادی کو خوراک مہیا کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی پالیسی بالکل واضح ہے۔ اس نے اس بات کا برملا اور بار بار اصرار کیا ہے کہ وہ ملک کی خوراک کی گھریلو منڈی کو ملٹی نیشنل کمپنیوں کے لیے کھولنا چاہتی ہے‘ اور ایسا کرنے کے لیے موجودہ نظام کے اندر جو محدود پیمانے پر کسانوں کے لیے ''سپورٹ سسٹم‘‘ موجود ہے‘ جس میں کسانوں کے لیے سبسڈی، مالی امداد اور سبز انقلاب کے زمانے کی دوسری مراعات شامل ہیں، اس کو ختم کرنا ہے۔ ظاہر ہے یہ ایک بڑا قدم ہے، جس کا اثر پورے ملک پر اور کسانوں پر پڑے گا۔ کسان یہ محسوس کرتے ہیں کہ نئے قانون کے تحت کم از کم امداد کے نظام کا خاتمہ، سرکاری ویئر ہاؤس نیٹ ورک کے استعمال سے محرومی اور فوڈ کارپوریشن آف انڈیا کی مدد کے بغیر ان کے لیے زندہ رہنا مشکل ہو جائے گا‘ اور ان میں جو زیادہ تنگ دست اور کمزور ہیں آگے چل کر وہ اپنی زمین اور اپنے جانوروں سے بھی محروم ہو جائیں گے۔ یہ لوگ نیو لبرل ازم کی مارکیٹ پالیسی کا شکار ہو کر بے زمین اور بے گھر قسم کے کھیت مزدور مہاجر بن جائیں گے کیونکہ یہ لوگ اپنے گزر اوقات کے لیے مزدوری کے ساتھ ساتھ بڑی حد تک حکومت کی اس نیٹ ورک سبسڈی اور امدادی پروگرام پر انحصار کرتے ہیں۔
بھارت میں مزدوروں کے حوالے سے جو چار لیبر کوڈ بنائے گئے ہیں‘ وہ مزدور طبقے کے مفادات سے بہت بڑی حد تک متصادم ہیں‘ جس کی وجہ سے مزدور رہنمائوں کا خیال ہے کہ ان کے جو بنیادی حقوق ہیں، جس میں اوقات کار کی زیادہ سے زیادہ حد، کم از کم معاوضے کا تعین، یونین سازی کا حق، اجتماعی سودے بازی اور ہڑتال کا حق جیسے بنیادی حقوق شامل ہیں‘ سب کے سب ختم ہو جاتے ہیں۔
کسانوں اور مزدوروں کے ہمدرد دانش وروں کا خیال ہے کہ اگر بھارت میں مزدوروں اور کسانوں کو بنیادی حقوق میسر نہیں ہیں تو پھر عوام کے عام جمہوری حقوق بھی محفوظ نہیں رہ سکتے، اور حتمی نتیجے کے طور سماج نیو لبرل ازم اور کارپوریٹ پھندے میں پھنس جاتا ہے۔ اس لیے مزدوروں اور کسانوں کی جدوجہد صرف ان کے ذریعہ آمدن کو بچانے کے لیے ہی نہیں ہے، بلکہ یہ جمہوریت کی بقا اور عوام کے جمہوری حقوق لیے بھی ہے۔
یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے کہ بھارت بھر کے مزدور اور کسان اتنی بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکلے ہیں، یا انہوں نے احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ لوگ ملک میں نیو لبرل ازم کی اصلاح پسندی کے خلاف گزشتہ تین دہائیوں سے لڑ رہے ہیں‘ اس طرح ہندوستان کے اندر نیو لبرل سرمایہ داری کے خلاف مزاحمت میں مزدور اور کسان ہراول دستے کا رول ادا کرتے رہے ہیں‘ اور اگر وہاں اب تک پبلک سیکٹر میں باقی کچھ بچ گیا ہے تو اس کا سہرا بھی مزدوروں اور کسانوں کے سر جاتا ہے۔ یہ طبقہ سیاسی طور پر زیادہ با شعور اور متحرک ہے، جس نے دائیں بازو کی بہت ساری پالیسیوں کی مزاحمت کی ہے۔
انڈیا کی پارلیمنٹ میں تین لیبر کوڈ پاس کیے گئے ہیں، جن کو انڈسٹریل ریلیشن کوڈ، سیفٹی ہیلتھ کوڈ اور ورکنگ کمیشن کوڈ کا نام دیا گیا ہے‘ جن کے خلاف وسیع پیمانے پر تنقید ہوئی اور احتجاج جاری ہے۔
انڈسٹریل ریلیشنز کوڈ میں تین پہلے سے موجود قوانین کو تبدیل کیا گیا ہے‘ جن میں ٹریڈ یونین ایکٹ 1962 بھی ہے، جس کے مطابق جن کمپنیوں کے پاس 300 ملازمین ہیں‘ ان کو اپنے ملازمین کو فارغ کرنے کیلئے یا اپنی فیکٹری کو بند کرنے کیلئے حکومت سے پیشگی منظوری لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ ملازمین کی ہڑتال کے حق کے ساتھ بھی شرائط عائد کی گئی ہیں‘ اور ایک شرط یہ بھی رکھی گئی ہے کہ ہڑتال کرنے کیلئے کم از کم 60 دن کا نوٹس دینا ضروری ہو گا‘ اور اگر آجر اس نوٹس کو لے کر لیبر ٹریبونل میں چلا جاتا ہے تو مزدور اس وقت تک ہڑتال نہیں کر سکتے جب تک کہ معاملہ ٹریبونل میں چل رہا ہے اور اس کا فیصلہ نہیں ہو جاتا‘ جبکہ فیصلہ آنے میں طویل عرصہ بھی لگ سکتا ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved