تحریر : رؤف طاہر تاریخ اشاعت     15-12-2020

…اور نواز شریف کے ’’زندہ دلانِ لاہور‘‘

''نا کام جلسہ‘‘ ،''مینارِ پاکستان پر سب سے چھوٹا جلسہ‘‘شیخ صاحب کا آفٹر تھاٹ تھا۔ ان کا اولین تاثر '' ایک نارمل سا جلسہ‘‘ کا تھا۔ ظاہر ہے‘ جناب شیخ جسے ایک نارمل سا جلسہ قرار دے رہے تھے وہ ایک بڑا‘خاصا بڑاجلسہ تو ضرور ہو گا۔جہاں تک بے نظیر صاحبہ کے 1986ء کے جلسے کا تعلق ہے‘اسے بلاشبہ مینارِ پاکستان کے جلسوں میں سب سے بڑا قرار دیا جا سکتا ہے۔ وہ تین سالہ (خود ساختہ) جلا وطنی کے بعد وطن لوٹ رہی تھیں۔ فروری 1985ء کے (غیر جماعتی) انتخابات کے بعد ملک میں نیا سیاسی ماحول تھا۔ وزیر اعظم جونیجو Assertکرنے لگے تھے۔ دسمبرمیں مارشل لا ختم ہو گیا تھا اگر چہ صدر ضیا الحق نے اس سے پہلے آٹھ ویں ترمیم منظور کرا لی تھی۔ ان کی باوردی صدارت بھی جاری تھی۔ اس نئے نظام کو وہ ٹرانسفر آف پاور (انتقال اقتدار) کی بجائے شیئرنگ آف پاور (شراکتِ اقتدار) قرار دیتے تھے۔ ایسے میں پیپلز پارٹی کی جلا وطن لیڈر نے وطن واپسی کا فیصلہ کیا۔ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر سمیت پورے ملک سے جیالے اپنی لیڈر کے خیر مقدم کے لیے لاہور چلے آئے تھے۔ دو دن پہلے ہی یہاں جگہ جگہ استقبالیہ کیمپ لگ گئے تھے‘ مینارِ پاکستان سے ایئر پورٹ تک جشن کا سماں تھا۔ پنجاب میں نواز شریف کی حکومت نے فری ہینڈ دینے کا فیصلہ کیا تھا (ظاہر ہے اسے وزیر اعظم جونیجو کی تائید حاصل تھی) مسلم لیگ میں نواز شریف کا مخالف گروپ ان پر باقاعدہ سہولت کاری کا الزام لگا رہا تھا۔ بے نظیر صاحبہ نے واپسی کی تاریخ کا فیصلہ بھی خوب سوچ سمجھ کر کیا تھا۔ موسمِ بہار میں‘ اپریل کا مہینہ‘ خوشگوار صبح و شام‘ سہانے دن اور رات۔ عمران خان کا 30اکتوبر 2011ء کا جلسہ بھی خوشگوار موسم میں ہوا۔ یہ کئی اور حوالوں سے بھی منفرد تھا‘ مثلاً یہ پہلا موقع تھا کہ کسی سیاسی جلسے میں کرسیاں لگائی گئیں‘ موسیقی کا اہتمام بھی نئی روایت تھی۔ کسی سیاسی جلسے میں اتنی بڑی تعداد میںفیملیز کی شرکت بھی ایک نئی بات تھی اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ حاضری کے لحاظ سے بھی یہ بہت بڑا جلسہ تھا۔ اسے لاہور کی تاریخ کی مہنگا ترین جلسہ ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہوا۔ علیم خاں نے ابھی تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان نہیں کیا تھا لیکن ان بھاری اخراجات میں سب سے بڑا حصہ ا نہی کا تھا۔ ایسے بھی تھے جو اس سب کچھ میں دستِ غیب کی کارفرمائی کا ذکر بھی کر رہے تھے۔ مریم نواز نے 13دسمبر کے جلسے میں باقاعدہ نام لے دیا۔ انہی دنوںچودھری برادران نے آرمی چیف سے ملاقات میں باقاعدہ شکایت بھی کر دی تھی اور وہ نمبر بھی بتا دیے تھے جن سے ان کے الیکٹ ایبلز کو فون کیے جاتے تھے۔
اب 13دسمبرکا پی ڈی ایم کا جلسہ بھی ایک بڑا جلسہ تھا۔ حکومت نے آخری موقع پر حکمتِ عملی تبدیل کر لی تھی۔ مریم نواز کی دو ریلیوں نے شہر میں جوش و جذبے کی لہر دوڑا دی تھی۔ ارکان ِاسمبلی اپنے اپنے حلقوں میں سر گرم تھے۔ جلسے سے ایک روز قبل متوالوں نے مین گیٹ کا دروازہ توڑ کر گریٹر اقبال پارک میں جلسے کے انتظامات شروع کر دیئے تھے۔ وقت کم تھا اور مقابلہ سخت۔ موسم بھی ناسازگار ہوتا جا رہا تھا۔ جمعہ کی شب بارش نے سردی کی شدت اور بڑھا دی تھی۔ اس کے باوجود سینکڑوں کارکن ہفتے کی ساری رات انتظامات اور جلسہ گاہ کی ''حفاظت‘‘ کے لیے موجود رہے۔ جلسے کی سکیورٹی کے لیے مولانا کے ''انصار الاسلام‘‘ بھی بڑی تعداد میں پہنچ گئے تھے۔ 
13دسمبرموسم کا سرد ترین دن تھا۔محکمہ موسمیات اس شب چھ ڈگری درجہ حرارت کی اطلاع دے رہا تھا۔ دنیا نیوز کے حسن رضا سوا چار بجے بتا رہے تھے :پاؤں دھرنے کی جگہ نہیں رہی‘ دور تک لوگ ہی لوگ ہیں۔ ماضی کے جلسوں جیسا منظر ہے۔ ادھر سردی بڑھ رہی تھی‘ ادھر سردار ایاز صادق کے ہاں ظہرانے میں بلاول بھٹو کا انتظار تھا‘ جو بلاول ہاؤس سے ایک ریلی کے ساتھ روانہ ہوئے تھے اور ابھی تک راستے میں تھے۔ جلسے کا سرکاری وقت ڈیڑھ‘ دو بجے تھا۔ مریم نواز پونے پانچ بجے پہنچیں۔ ظہرانے کے علاوہ وہ یہاں بھی میزبان تھیں۔ تب سورج ڈوب رہا تھا۔ افتخار عارف یاد آئے ؎
شام آ رہی ہے ڈوبتا سورج بتائے گا
تم اور کتنی دیر ہو‘ ہم اور کتنی دیر
فیض نے کہا تھا‘فسردگی ہے کہ جاں تک اترتی جاتی ہے۔یہاں سردی تھی کہ ہڈیوں میں اترتی جا رہی تھی۔جما دینے والی سردی تھی۔ بلاول نے اونی شال اوڑھ لی تھی اور پنڈال میں عوام تھے کہ اپنے جذبوں سے سردی کو شکست دینے کی کوشش کر رہے تھے۔ مولانا اویس نورانی‘ پروفیسر ساجد میر‘ امیر حیدر ہوتی‘ آفتاب شیر پاؤ‘ اختر مینگل‘ محمود خاں اچکزئی اور میاں افتخار حسین خطاب کر چکے تو مریم نواز مائیک پر آئیں۔ تب سات بج رہے تھے۔ مریم کا کہنا تھا کہ میڈیا کو فون آ رہے ہیں کہ جلسے کو نا کام بتاؤ۔ سب کو پتا ہے کہ فون کہاں سے آ رہے ہیں۔ اسی دوران انہوں نے میاں صاحب کا لندن سے آیا ہوا میسج پڑھ کر سنایا۔ بیٹی سے ان کا کہنا تھا: میرے شہر کے لوگوں کو ''لاہوریو‘‘ نہ کہو‘ ان کا نام عزت سے لو'' زندہ دلانِ لاہور‘‘ کہو۔ مریم کے 45منٹ کے خطاب میں وہ سب کچھ تھا جو لوگ سننا چاہتے تھے۔ اس میں 2014ء کے دھرنے کے پس پردہ ہاتھوں کا ذکر بھی تھا۔ 2018ء کے انتخابات اور خان صاحب کی حکومت کی کارگردگی کے حوالے سے کہا: سلیکٹرز نہیں جانتے تھے کہ یہ اتنا نااہل اور نالائق نکلے گا۔ انہیں اب جواب دینا پڑ رہا ہے کہ یہ سوغات کہاں سے لائے ہو۔ ان کا سوال تھا‘ نواز شریف کے بیانئے کا کونسا نکتہ غیر آئینی ہے؟ اس بیانئے کے اہم نکات بھی دہرائے۔ انہوں نے اپنے چچا شہباز شریف اور اپنے بھائی حمزہ کی خدمات کا ذکر بھی کیا ''جن کے صلے میں باپ بیٹا دونوں جیل میں ہیں‘‘۔ انہوں نے زندہ دلانِ لاہور سے وعدہ لیا کہ وہ اپنی بہن کے ساتھ لانگ مارچ پر نکلیں گے اور اسلام آباد میں جتنے دن رہنا پڑا‘ رہیں گے۔بلاول کا خطاب بھی معرکہ آرا تھا۔ وہ کہہ رہے تھے: ڈائیلاگ کا وقت گزر چکا۔ فون کرنے بند کرو‘ہم متحد ہیں‘ ہمارے درمیان کوئی دراڑ پیدا نہیں ہو سکتی۔ بات ہو سکتی ہے لیکن انہیں بھگا کر ہو گی۔ یہ اقتدار کی نہیں عوام کا حقِ حکمرانی واپس لینے کی جنگ ہے۔
مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا: عوام کے سامنے نہ آؤ‘ ورنہ انار کی ہو گی۔ ان کا اعلان تھا کہ جنوری کے اواخر یا فروری کے اوائل میں اسلام آباد مارچ ہو گا۔ استعفے ساتھ لے کر جائیں گے اور ناجائز حکومت کو ہٹا کر دم لیں گے۔ادھر پی ٹی آئی کے آفیشل انسٹاگرام اکاؤنٹ سے وزیر اعظم کی پانچ تصاویر جاری ہوئیں۔ بلیو ٹریک سوٹ ٹراؤ زر اور نیوی بلیو اپّر پہنے ہوئے وہ بنی گالہ کے سبزہ زار میں اپنے چہیتے کتوں کا کھانا کھلا رہے تھے اور دھوپ سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ یہ پہلا موقع تھا کہ چھٹی کے روز وزیر اعظم کے ذاتی مشاغل کی تصاویر جاری ہوئیں۔ شاید یہ ظاہر کرنے کے لیے کہ وزیراعظم پر پی ڈی ایم کے 13دسمبر کے جلسے کا کوئی دباؤ نہیں۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved