تحریر : رؤف کلاسرا تاریخ اشاعت     23-06-2013

عمران خان‘ چودھری نثار کی دوستی دشمنی کی کہانی!

عمران خان اور چودھری نثار علی خان کے درمیان ایچیسن کالج لاہور کے دور سے ایک عجیب محبت اور نفرت کا سلسلہ رہا ہے۔ جمائمہ اور مسز گولڈ اسمتھ پر جب مقدمات درج ہورہے تھے تو چودھری نثار اس وقت اہم وزیر تھے لیکن وہ عمران خان کی کوئی مدد نہ کر سکے یا کرنا نہ چاہتے تھے۔ جواباً عمران خان بھی جنرل مشرف کے ساتھ مل گئے۔دونوں پرانے دوستوں میں دوریاں پیدا ہوئیں۔ چودھری نثار کو شکایت ہوگی کہ عمران خان اس فوجی آمر کے ساتھ مل گئے جس نے انہیں بچوں سمیت گھر پر دو سال سے زائد عرصہ تک قید رکھا تھا تو عمران خان سوچتے ہوں گے کہ ان کے پرانے دوست نے ان کی بیوی اور ساس کو مقدمات سے محفوظ رکھنے کے لیے کیوں کچھ نہ کیا؟ دونوں میں 2002ء کی اسمبلی میں پھر دوستی شروع ہوئی جب عمران خان ایم این اے بنے۔ چودھری نثار اور عمران خان دن رات اکٹھے نظر آتے۔ عمران خان نے چودھری نثار کے حق میں ان کے حلقے میں جلسہ سے خطاب بھی کیا؛ تاہم پھر دونوں دوستوں میں اس وقت سخت رنجش پیدا ہوگئی جب عمران خان نے نواز لیگ اور ان کے لیڈروں پر سخت تنقید شروع کی اور اس کا نشانہ چودھری نثار بھی بنے۔ چودھری نثار میں ایک خامی ہے کہ وہ Well Left پر یقین نہیں رکھتے اور انہوں نے بھی قومی اسمبلی کے اندر اور باہر کھل کر عمران خان کو رگیدا اور یوں پانچ سال کے لیے ان دونوں میں بول چال تک بند ہوگئی۔ دونوں کبھی نہیں چاہتے ہوں گے کہ انہیں ایک دوسرے کی ضرورت پڑے؛ تاہم حالات نے انہیں اس طرح کی صورت حال میں ڈال دیا ہے کہ نہ چاہتے ہوئے بھی انہیں اکٹھے کام کرنا پڑے گا ۔ عمران خان ہیرو ہیں تو چودھری نثار بھی اپنے آپ کو کسی سے کم نہیں سمجھتے اور یوں دونوں کے درمیان کبھی خوشی، کبھی غم چلتا رہتا ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ عمران خان اور چودھری نثار علی خان نے بڑی مدت کے بعد قومی اسمبلی میں ایک دوسرے سے گرم جوشی سے ہاتھ ملایا۔ عمران خان کی بدقسمتی ہے کہ جب پارٹی اور صوبائی حکومت کو اُن کی ضرورت ہے، وہ اپنی بیماری سے لڑ رہے ہیں ۔ ان کے حوصلے کی داد دینا ہوگی کہ ایک ماہ کے اندر اندر وہ اپنے قدموں پر کھڑے ہوگئے اور قومی اسمبلی کے اجلاس میں شریک ہوئے۔ عمران خان کی عدم موجودگی میں پارٹی کے معاملات کچھ بہتر نہیں چل رہے۔ لگ رہا ہے کہ سب کچھ ’’فری فار آل‘‘ ہو چکا ہے۔تحریک انصاف کے ارکان کی اکثریت نئی ہے اور انہیں کچھ پتہ نہیں کہ کب اور کیا کہنا ہے۔ جس کا جو جی چاہے‘ کہہ دیا یا کردیتا ہے۔ اس کا مظاہرہ اس وقت دیکھنے میں آیا جب انتہائی تجربہ کار سیاستدان جاوید ہاشمی نے میاں نواز شریف کو اپنا لیڈر قرار دے دیا ۔ عمران خان ہائوس میں موجود ہوتے تو شاید ہاشمی صاحب کی آنکھ میاں صاحب کی طرف نہ جاتی۔ دوسری طرف خیبر پختون خوا حکومت دہشت گردی سے نجات کے لیے کوئی خاص کام کرتی نظر نہیں آتی۔ شاید وزیراعلیٰ عمران خان کے احکامات کا انتظار کر رہے ہیں اور لوگ مرتے جارہے ہیں۔ اے این پی کچھ شور تو مچاتی تھی‘ یہاں وہ بھی نہیں ہورہا ۔ پہلے ایک ایم پی اے مارے گئے تو خاموشی رہی اور اب ایک آزاد ایم پی اے قتل کر دیے گئے تو بھی سب چپ۔ جمعہ کے روز پشاور میں بے گناہ شیعوں کو مسجد میں گھس کر بموں سے اڑایا گیا اور خاموشی جاری ہے۔ ٹھیک ہے نئی حکومت کو صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے کچھ دن چاہئیں لیکن جب آپ کے اردگرد بارود اور انسانی لاشوں کی بو پھیل رہی ہو تو پھر آپ کو گھر بیٹھ کر بدمست بھینسے کا انتظار کرنے کی بجائے باہر نکل کر مقابلہ کرنا ہوتا ہے۔ عمران خان کو پشاور کا دورہ کرنا چاہیے۔ اپنی قیادت کے ساتھ بیٹھ کر بات کرنی چاہیے۔ جیسے عمران خان نے قومی اسمبلی میں ڈرون حملوں کے بارے میں اپنی ماضی کی رائے کے برعکس بہتر اور سمجھدار گفتگو کی، اسی طرح انہیں طالبان کی دہشت گردی کے بارے میں رائے بدلنے کے بارے میں بھی سوچنا چاہیے۔ عمران خان کو اب کچھ نامقبول فیصلے کرنے ہوں گے۔ دنیا بھر میں سیاستدان الیکشن کے دنوں میں پاپولر وعدے کرتے ہیں لیکن اقتدار میں آکر عوام کی بہتری کے لیے کچھ ان پاپولر فیصلے کرنے پڑتے ہیں۔ لیڈر ملک اور قوم کے لیے فیصلے کرتے ہیں، نہ کہ ووٹ کی خاطر۔ عمران خان کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ انہوں نے صوبے کے عوام کو اس دہشت گردی سے نجات دلانی ہے یا پھر خاموشی سے پیپلز پارٹی اور اے این پی کی طرح پانچ سال گزارنے ہیں کہ جو مرتا ہے مرے‘ ہم کچھ نہیں کر سکتے۔ عمران خان کو روایتی طریقوں سے دہشت گردی سے نمٹنے کی بجائے جرأت مندانہ فیصلے کرنے ہوں گے۔ انہیں طارق کھوسہ اور شعیب سڈل جیسے پولیس افسران کی ضرورت ہے جو صوبائی پولیس فورس کو درست کر دیں۔ خیبر پختون خوا کی پولیس فورس بہادر ہے لیکن انہیں مناسب تربیت، اسلحہ اور motivation کی ضرورت ہے۔ ضلعی نظام بھی فوری قائم ہونا چاہیے تاکہ کونسلر حضرات اپنے اپنے علاقوں میں پولیس کی مدد سے دہشت گردی کو کسی حد تک قابو میں لائیں۔ عمران محض صوبائی حکومت کے وسائل سے دہشت گردی پر قابونہیں پا سکیں گے لہٰذا انہیں اس سلسلے میں وفاقی حکومت کے ساتھ بات کرنی چاہیے۔ ذاتی طور پر چودھری نثار علی خان سے میرے تعلقات پچھلے دس سال میں کبھی اچھے نہیں رہے۔ سب انسانوں کی طرح ان کی اور میری کمزرویاں اپنی جگہ، لیکن میں ایمانداری سے سمجھتا ہوں کہ وہ وزیرداخلہ کے عہدے کے لیے سب سے موزوں شخصیت ہیں۔ امن و امان کا مسئلہ چودھری نثار ہی حل کر سکتے ہیں کیونکہ وہ بہادر اور ذہین سیاستدان ہیں۔ اچھی بات یہ ہے چودھری نثار کچھ دنوں کے اندر اندرکاونٹر ٹیررازم حکمت عملی کے خدوخال سامنے لائے ہیں۔ اگر چودھری نثار کراچی اور ملک کے دیگر شہروں کی حالت بہتر کرنا چاہتے ہیں تو انہیں پہلے اسلام آباد کو کرائم فری سٹی بنانا ہوگا‘ تبھی دوسرے شہروں کی انتظامیہ ان کی بات سنے گی‘ ورنہ رحمن ملک کی طرح محض صحافیوں کو بلا کر کیمروں کے سامنے طویل گفتگو کا کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ اسلام آباد میں سٹریٹ کرائم بڑھ رہے ہیں اور کراچی کی طرز پر گن پوائنٹ پر موبائل چھیننے اور اے ٹی ایم سے پیسے نکلوانے والوں کو لوٹنے کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ اسلام آباد میں افغانی بستی سب سے بڑی تھریٹ ہے جس پر کوئی ہاتھ ڈالنے کو تیار نہیں رہا۔ شنید ہے کہ طالبان نے اس شہر میں بھتہ لینا شروع کر دیا ہے۔ایف آئی اے کو سابق ڈی جی طارق پرویز اور طارق کھوسہ نے کبھی عالمی شہرت دلوائی تھی ۔ بھلا ہو سابق وزیراعظم گیلانی اور رحمن ملک کا جنہوں نے اسے تباہ کر کے چھوڑا۔ ایف آئی اے کے کاونٹر ٹیررازم ونگ کو بہتر اور منظم کرنا ہوگا۔ چودھری نثار کو سیکرٹ ایجنسیوں اور صوبائی محکمہ داخلہ کے درمیان تعاون کی کوئی راہ نکالنی ہوگی۔ ایک دوسرے پر برتری کی روایتی خواہش کا احترام اپنی جگہ لیکن جب ملک جل رہا ہو، اس وقت انہیں مل کر کام کرنا چاہیے‘ ورنہ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے چکر میں وہ سب اس شاخ کو ہی کاٹ ڈالیں گے جس پر بیٹھے ہیں۔ اگرچہ دونوں پرانے دوست ایک دوسرے سے دشمنی کے لیے ماضی کی طرح کوئی بہانہ ڈھونڈ نکالنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں مگر فی الوقت ہمیں عمران خان اور چودھری نثار کے درمیان دوستی اور تعاون کی ضرورت ہے!

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved