تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     25-12-2020

سرخیاں، متن، ’’پریاں اترتی ہیں‘‘ اور وحید احمد کی نظم

ن لیگ کے تمام ارکان نے اپنے استعفے جمع کرا دیے: رانا ثنا
سابق وزیر قانون پنجاب اور ن لیگ کے صدر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ ''ن لیگ کے تمام ارکانِ اسمبلی نے اپنے استعفے جمع کرا دیے‘‘ تاہم اس میں اتنا خوش ہونے کی کوئی بات نہیں کیونکہ استعفے صرف قیادت کے پاس آئے ہیں، سپیکر کو تو شاید ان کا انتظار ہی رہے گا کیونکہ پیپلز پارٹی سمیت کئی دیگر جماعتیں بھی اس معاملے میں لیت و لعل کا شکار ہیں اور یہ دھمکی بھی صرف گیدڑ بھبکی ہی ثابت ہو رہی ہے اور اگر سپیکر کے پاس پہنچ گئے بھی تو وہ انہیں دو ماہ تک معلق بھی رکھ سکتا ہے جبکہ اس دوران ضمنی انتخابات بھی ہو جائیں گے اور سینیٹ کا الیکشن بھی۔ آپ اگلے روز لاہور میں صحافیوں سے گفتگو کر رہے تھے۔
سلیکٹڈ کے اعترافِ جرم کے بعد اب سلیکٹرز 
کے اعترافِ جرم کا انتظار ہے: نواز شریف
مستقل نا اہل اور سزا یافتہ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ ''سلیکٹڈ کے اعترافِ جرم کے بعد اب سلیکٹرز کے اعترافِ جرم کا انتظار ہے‘‘ اور یہ ساری حوصلے کی بات ہے کیونکہ میں ایک سزا یافتہ مجرم اور اشتہاری ہونے کے باوجود کوئی ندامت محسوس نہیں کرتا اور واپس آ کر مقدمات فیس کرنے کے بجائے یہاں لندن میں چھپا بیٹھا ہوں اور سیاست جیسی معزز اور اعلیٰ چیز کے نام کو چار چاند لگا رہا ہوں اور مجھے کبھی خیال نہیں آیا کہ تاریخ میں میرا ذکر کن الفاظ میں کیا جائے گا جبکہ میرا سیاسی انجام بخیر ہونے کے ہرگز کوئی امکانات نہیں ہیں۔آپ اگلے روز لندن میں صحافیوں سے بات چیت کر رہے تھے۔
لوٹ مار قصۂ پارینہ ہے، کسی کو اس کی اجازت
نہیں دیں گے: وزیراعلیٰ عثمان بزدار
وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے کہا ہے کہ ''لوٹ مار قصۂ پارینہ ہے، کسی کو اس کی اجازت نہیں دیں گے‘‘ کیونکہ اگر راز داری سے چار پیسے بنائے جا سکتے ہوں تو لوٹ مار جیسے انتہائی اقدام کی کیا ضرورت ہے کیونکہ لوٹ مار کا پیسہ آخر واپس کرنا پڑتا ہے اور اگر یہ کام ذرا زیادہ سلیقے سے کیا جائے تو پکڑے جانے کا بھی کوئی احتمال نہیں ہوتا اور اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ یہ کام خود کرنے کے بجائے کسی فرنٹ مین سے کرایا جائے؛ اگرچہ فرنٹ مینوں کے پکڑے جانے کی اطلاعات بھی ملتی رہتی ہیں، خاص طور پر جو بالکل فرنٹ پر ہوں۔ آپ اگلے روز سینئر صحافی عبدالحمید چھاپرا کی وفات پر گہرے دکھ کا اظہار کر رہے تھے۔
مریم کو عنقریب لینے کے دینے پڑ جائیں گے: فردوس عاشق
معاونِ خصوصی وزیراعلیٰ پنجاب ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ ''مریم نواز ہاتھ پائوں مار رہی ہیں، عنقریب ان کو لینے کے دینے پڑ جائیں گے‘‘ کیونکہ ہاتھ اور پائوں اکٹھے چلانے سے مشکلات پیدا ہوتی ہیں اس لیے مثبت نتائج حاصل کرنے کے لیے انہیں علیحدہ علیحدہ چلانا چاہیے یعنی ایک وقت میں ایک چیز ہی چلائی جاتی ہے جیسا کہ ہم کر رہے ہیں جبکہ پہلے تو ہمیں نہ ہاتھ چلانا آتے تھے نہ پائوں۔ اس لیے یہ پتا ہی نہ تھا کہ انہیں اکٹھے چلانا ہے یا الگ الگ، لیکن اب ہم کافی حد تک سیکھ گئے ہیں اور اگر کوئی کسر رہ گئی ہو تو وہ بھی بہت جلد دور ہو جائے گی جبکہ سب سے پہلے تو وفاقی قیادت سیکھے گی، اس کے بعد جلد ہی ہماری باری بھی آ جائے گی۔ آپ اگلے روز ٹویٹ سے ایک بیان جاری کر رہی تھیں۔
حکومت کا تختہ الٹانے تک چین 
سے نہیں بیٹھیں گے: مولانا فضل الرحمن
جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ ''حکومت کا تختہ الٹانے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے‘‘ کیونکہ چین سے بیٹھنا تو پہلے ہی مفقودد ہوچکا ہے بلکہ چین سے کھڑے ہونے کی بھی کوئی گنجائش نہیں رہی ، اب صرف چل سکتے ہیں۔ اس لیے لانگ مارچ کا ڈول ڈالا جا رہا ہے جبکہ ہمیں یہ بھی اچھی طرح سے معلوم ہے کہ حکومت کا تختہ تو ہم پورا زور لگا کر بھی نہیں الٹا سکتے لیکن آخر کہنے میں کیا حرج ہے جبکہ خواب میں اپوزیشن یہ تختہ ہرر ات کئی بار الٹاتی ہے اور پھر ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھتی ہے اور باقی رات اسی بے چینی میں گزار دیتی ہے۔ خدا ہماری حالت پر رحم کرے ۔ آپ اگلے روز مردان مارچ سے خطاب کر رہے تھے۔
پریاں اترتی ہیں
یہ منفرد نظم نگار ڈاکٹر وحید احمد کا مجموعۂ کلام ہے جسے رومیل ہائوس آف پبلی کیشنز راولپنڈی نے شائع کیا ہے۔ کتاب کا انتساب مومنہ وحید کے نام ہے۔ کتاب کا کوئی دیباچہ نہیں ہے جو شاعر کی خود اعتمادی کی دلیل ہے۔ کتاب کا آغاز رومی کے اس شعر سے کیا گیا ہے ؎
بزیر کنگرہ کبریاش مرد انند
فرشتہ صید و پیمبر شکار و یزداں گیر
کمپوزنگ اور سرورق خاوری کا مرہونِ منت ہے۔ پسِ سرورق شاعر کی تقریباً قدِ آدم تصویر شائع کی گئی ہے۔ شروع میں ہی تخلیقی سفر کا حوالہ بھی موجود ہے، جس کے مطابق تصنیفات‘ شفافیاں (نظم)، ہم آگ چراتے ہیں (نظم)، زینو (ناول) اور مندری والا (ناول) شائع ہو چکی ہیں۔ عجیب بات یہ ہے کہ ڈاکٹر ابرار احمد اور ڈاکٹر وحید احمد دونوں فزیشن ہیں اور دونوں اعلیٰ پائے کے نظم گو بھی۔
اور‘ اب آخر میں اسی مجموعے میں سے یہ نظم:
وہ مٹّی ہو گئی ہے
'میں بستر دینے آیا ہوں‘
''جی ! دیجیے‘‘
'لیجیے‘
''لیکن یہ بستر تو نیا ہے
میٹریس بھی خوب ہے
تکیے بھرے ہیں
اور ان کی نرم پوشش سانس لیتی ہے
تو آپ اس خوب بستر کو
اگر چاہیں‘ بتائیں کس لیے عطیے میں دینا چاہتے ہیں؟‘‘
'آپ اس بستر کو لے لیجیے‘
''مگر کیوں‘‘
'اس لیے پیارے۔۔۔!
کہ جو بستر پہ ہوتی تھی وہ مٹّی ہو چکی ہے
جو میرے ساتھ سوتی تھی
وہ مٹی اوڑھ کر گہری زمین میں سو گئی ہے
میں سوتا ہوں
تو میری نیند گدراتی ہے
بستر راستا دیتا ہے
نیچے کی زمین پھٹتی ہے
اور ہر صبح۔۔۔۔
میں کفنائے خوابوں سے چھنے
کافور کو پانی سے دھوتا ہوں
میں ہر دم عالمِ برزخ میں ہوتا ہوں
مرا کمرہ غبار آلود رہتا ہے
میں مٹی جھاڑتا رہتا ہوں بستر سے
مرا کچھ کیجیے!
یہ بستر لیجیے!!!‘
آج کا مقطع
آنکھوں میں سرخیوں کا سفر رک گیا‘ ظفرؔـ
دیکھا تو ہم اسیر تھے نیلے گلاب کے

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved