تحریر : منیر احمد بلوچ تاریخ اشاعت     26-12-2020

ایل این جی کا معاملہ

حکومت کے خلاف جس طرح ایل این جی اور گیس معاہدوں پر اپوزیشن جماعتیں تنقید اور الزام تراشیوں کا طوفان اٹھائے ہوئے تھیں اور اس کیلئے گزشتہ کئی ماہ سے ففتھ جنریشن وار کا ماہر ایک میڈیا ہائوس، سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، مریم اورنگزیب، احسن اقبال اور دوسرے اپوزیشن رہنما مل کر حکومت بالخصوص وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے پٹرولیم ندیم بابر پر پے درپے حملے کر رہے تھے‘ اس نے بہت سے لوگوں کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا تھا کہ کہیں واقعی دال میں کچھ کالا تو نہیں۔ یہ پروپیگنڈے کا وہی حربہ ہے جسے متعارف کروانے کا سہرا گوئبلز کے سر جاتا ہے کہ جھوٹ اس قدر سر چڑھ کر بولا جائے کہ ایک ا چھا بھلا انسان بھی اس پر یقین کرنے کو تیار ہو جائے کہ یہی سچ ہے۔ ایک اینکر تو گزشتہ کئی ماہ سے مسلسل ایل این جی اور گیس ڈیلز پر ہی پروگرام کر رہا تھا اور اس نے اپنے پروگرام میں الزامات کے وہ انبار لگا دیے کہ ہر شخص حکومت، وزیراعظم اور ندیم بابر پر انگلیاں اٹھانے لگا تھا۔ توانائی کے معاہدوں کے اس جھمیلے کو ایک طرف رکھتے ہوئے یہ حقیقت تسلیم کرنا ہو گی کہ پاکستان کیلئے ایل این جی کی اہمیت اسی طرح ہے جس طرح انسانی زندگی کیلئے مختلف اشکال میں خوراک کی ہوتی ہے۔ بدقسمتی ہمارے ملک اور اس کے عوام کی یہ ہے کہ ہماری ضروریات کیلئے لازمی اشیا کی فراہمی کیلئے دور کی منزلیں اور مہنگے داموں کا بوجھ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت لادا گیا، چاہے یہ بجلی کے معاہدے ہوں یا ایل این جی سمیت آٹے اور چینی کے مقامی اور بین الاقوامی سودے۔ گزشتہ حکومت نے ایران سے گیس پائپ لائن منصوبے پر پیش رفت کے بجائے قطر سے این ایل جی کاروبار بڑھانے کا فیصلہ اپنے اقتدار میں آنے سے پہلے ہی کر رکھا تھا اور اس کا اظہار مفتاح اسماعیل نے ایک ٹی وی ٹاک شو میں بھی کیا تھا۔
اگر کوئی سمجھتا ہے کہ ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبہ ایران کا تیار کردہ ہے تو ایسے حضرات کی معلومات حقیقت پر مبنی نہیں۔ ایران گیس پائپ لائن کی کہانی 1950ء میں شروع ہوتی ہے جب ملٹری کالج آف انجینئرنگ رسالپور کے ایک ذہین سول انجینئر ملک آفتاب احمد خان نے ''پرشین پائپ لائن‘‘ کے نام سے ایک مضمون میں ایران سے گیس درآمد کرنے کا منصوبہ پیش کیا۔ جب یہ مضمون سامنے آیا تو اسے بہت پذیرائی ملی۔ یہ تحریر ایران اور پاکستان کے سرکاری ریکارڈ کا حصہ تو بن گئی لیکن اسے عملی جامہ پہنانے کیلئے کوئی پیش رفت نہ ہو سکی۔ شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ اس وقت تک پاکستان میں گیس کا نام و نشان بھی نہیں تھا لیکن پھر 1952ء میں بلوچستان میں سوئی کے مقام پر گیس کی تلاش شروع ہوئی اور 1955ء میں پہلی بار پاکستان گیس کے نام سے متعارف ہوا لیکن ابتدائی طور پر یہ مقدار بہت کم تھی البتہ اس وقت تک اس کا استعمال بھی کم تھا۔ بعد ازاں 1950ء میں پیش کردہ پاکستانی سول انجینئر کا منصوبہ پرانی فائلیں جھاڑ کا باہر نکالا گیا اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے دوسرے اور آخری دورِ حکومت‘ 1995ء میں باہمی رضامندی سے ایران اور پاکستان کے مابین گیس پائپ لائن بچھانے کے معاہدے پر دستخط ہوئے۔
دہشت گردی اور بین الاقوامی قرضوں کے بوجھ کے بعد پاکستان کو اگر کسی سب سے بڑے مسئلے کا سامنا ہے تو وہ توانائی کا بحران ہے۔ ایران گیس پائپ لائن سے بے اعتنائی کی وجہ یہی سمجھ میں آتی ہے کہ ایک طرف امریکا، برطانیہ اور بعض عرب ممالک اس منصوبے کے مخالف ہیں تو دوسری طرف چین، روس اور ایران اس منصوبے کے زبردست حامی ہیں۔ 2700کلومیٹر طویل گیس پائپ لائن جو ایران کی گیس فیلڈ پارس سے شروع ہونی ہے‘ ایران میں گیارہ سو کلومیٹر اور پاکستان میں ایک ہزار کلومیٹر طویل ہو گی جبکہ بقیہ چھ سو کلومیٹر گیس پائپ لائن بھارتی علاقے سے گزرے گی۔ اگست 2008ء میں بھارت کو منصوبے سے باہر کرتے ہوئے چین نے اس منصوبے کا حصہ بننے کی خواہش ظاہر کی تو امریکا مزید سیخ پا ہو گیا۔
اس منصوبے کی کل لاگت کا تخمینہ اس وقت سات بلین ڈالر کے لگ بھگ تھا۔ یہ پائپ لائن 42 سے پچاس انچ ڈایا میٹرکی ہو گی جس پر پاکستان کے اخراجات کا تخمینہ 3.2 بلین ڈالر تھا، پاکستان جب اپنی معاشی بدحالی کی وجہ سے اس رقم کی فراہمی سے قاصر رہا تو چین نے آگے بڑھتے ہوئے 30 مارچ 2010ء کو اس منصوبے کیلئے 2.5 ملین ڈالر دینے کی ہامی بھر لی اور اس منصوبے میں با قاعدہ شامل ہونے کی خواہش کا اظہار کیا۔ چین کے بعد‘ 7 اپریل 2012ء کو روس نے بھی اس گیس منصوبے میں دلچسپی لیتے ہوئے پاکستان کو مکمل بیل آئوٹ پیکیج کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ روس کی سب سے بڑی گیس کمپنی GAZPROM کی معاونت سے پاکستان کو درپیش تمام تکنیکی اور فنانشل اخراجات برادشت کئے جائیں گے۔
ایران سے گیس پائپ لائن کا یہ منصوبہ اپنی ابتدا سے ہی کچھ طاقتوں کو کھٹکنا شروع ہو گیا تھا اور نومبر 1996ء میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی حکومت کے خاتمے کی جہاں اور بھی کئی وجوہات تھیں‘ یہ منصوبہ بھی اس کا بڑا سبب تھا۔ امریکا کی سابق وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے اسلام آباد میں میڈیا سے سوال و جواب کے دوران واضح الفاظ میں کہا تھا کہ امریکا ایران سے گیس منصوبے کی اجا زت نہیں دے گا۔ اس کے بعد جنوری 2010ء میں امریکا نے پاکستان کو با قاعدہ طور پر اس پروجیکٹ سے مکمل اور قطعی علیحدگی کا حکم جاری کیا اور بدلے میں پیشکش کی کہ امریکا پاکستان کو ایل این جی ٹرمینل کے علاوہ تاجکستان سے براستہ افغانستان سستی بجلی اور گیس مہیا کرائے گا۔ دوسری طرف ایک عرب ملک کی اہم شخصیت نے 15اپریل 2012ء کو پاکستان کو پیشکش کی کہ ایران سے گیس کے بدلے ہم پرائیویٹ کیش لون اور تیل کی سہولت پاکستان کو مہیا کریں گے جس پر یکم مئی 2012ء کو پاکستانی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے واضح کیا کہ پاکستان اس منصوبے سے ہاتھ نہیں کھینچے گا۔ آج جب عرب ممالک ہم سے تمام رعایات واپس لینے کے بعد بھارتی بلاک میں کھڑے نظر آتے ہیں تو ہمیں اپنا گھر اور اس کا مستقبل محفوظ کرنے کے لئے ایران سے گیس پائپ لائن منصوبے کو جلد از جلد مکمل کرنا ہو گا۔ کون نہیں جانتا کہ وقت کے ساتھ ساتھ پاکستان کی گیس اور توانائی کی ضروریات بڑھتی جا رہی ہیں اور ہماری آنے والی نسلیں اُس وقت امریکا اور اس کے حواریوں کے ساتھ ساتھ اس ملک کے حکمرانوں کو بھی کوسیںگی جب توانائی بحران کا اژدھا سب کو نگلنے کیلئے پوری قوت سے پھنکارنا شروع ہو جائے گا۔ ایران سے امریکا اور عرب ممالک کی چپقلش ڈھکی چھپی نہیں لیکن جب چین اور روس نے بھی اس منصوبے میں شمولیت کا اظہار کر دیا ہے تو پاکستان 200 سے500 ملین ڈالر سالانہ اس سے حاصل کر سکتا ہے جبکہ اس سے روزگار کے دروازے بھی کھلیں گے اور بیروزگاری کے طوفان پر قابو پانے میں بھی مدد ملے گی۔ویسے تو ایران پاکستان گیس پائپ لائن کا یہ منصوبہ دسمبر 2015ء میں مکمل ہونا تھا اور اس کی با قاعدہ تکمیل کے ابتدائی چند ماہ کے بعد پاکستان کو اس منصوبے سے پچیس سال تک 750 ملین کیوبک فٹ گیس ملنے کا امکان تھا لیکن ہماری معاشی بدحالی اور اوور سیز پاکستانیوں کی صورت میں ہماری مجبوریاں ہماری گردن کا طوق بن کر آڑے آ گئیں جس کا فائدہ اٹھانے کیلئے ایل این جی کے بیوپاری میدان میں اتر آئے۔ یہ تھا ایل این جی کی درآمد کا پس منظر۔ایل این جی مناظرے کی کہانی پھر سہی۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved