تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     30-12-2020

سرخیاں، متن، ’’حرف کے روبرو‘‘ اور امجد بابر کی نظم

زرداری جانتے ہیں کہ جیل سے کیسے جان چھڑانی ہے: شیخ رشید
وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ ''زرداری جانتے ہیں کہ جیل سے کس طرح جان چھڑانی ہے‘‘ اور ان کی کمائی کے بالکل معمولی حصے کی قربانی ہی سے یہ سارا مسئلہ حل ہو سکتا ہے اس لیے انہیں چاہیے کہ اپنے اہل و عیال سمیت دیگر مصاحبین کو بھی اس نسخۂ کیمیا کے فوائد سے آگاہ کریں اور یہ سمجھ لیں کہ محض ٹیکس ادا کیا جا رہا ہے جبکہ اس کے برعکس شریف برادران چونکہ پورے کاروباری افراد ہیں‘ اس لیے وہ ٹیکس سے بچنے کے سارے حربے ڈھونڈ لیتے ہیں۔ آپ اگلے روز چیف کمشنر کے دورے کے بعد میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔
مریم مشرف کو بھگوڑا کہتی ہیں، اپنے والد کو کیوں نہیں: شبلی فراز
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ ''مریم مشرف کو بھگوڑا کہتی ہیں، اپنے والد کو کیوں نہیں‘‘ اگرچہ وہ بھاگ کر نہیں بلکہ آرام سے جہاز میں بیٹھ گئے تھے اور جاتے ہی مختلف پھلوں اور دیگر لوازمات سے لطف اندوز ہونے لگے تھے اور اگلی پچھلی ساری کسریں نکال دی تھیں کیونکہ وہ اپنے پلیٹ لیٹس کی مقدار بھی پوری کرنا چاہتے تھے البتہ انہیں واپس نہ آنے پر بھگوڑا ضرور کہا جا سکتا ہے جبکہ ہم جب جائیں گے تو بڑے سکون سے جائیں گے کیونکہ ایک تو ہمیں بھاگنا آتا ہی نہیں اور دوسرے کسی نے بھاگنے دینا بھی نہیں۔ آپ اگلے روز اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔
نواز شریف نے تسلیم کیا کہ پارلیمنٹ میں 
حلف اٹھا کر غلطی کی: مولانا فضل الرحمن
جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ ''نواز شریف نے تسلیم کیا کہ پارلیمنٹ میں حلف اٹھا کر غلطی کی‘‘ اور ہم اسی لیے منتخب نہیں ہوئے تھے اور جان بوجھ کر ہار گئے تھے تا کہ حلف اٹھانے کی غلطی نہ کر بیٹھیں، البتہ ابھی وہ بیانیے والی اپنی غلطی تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہیں جس نے ہم سب کو بھی مصیبت میں ڈال رکھا ہے اور اب نہ آگے جا سکتے ہیں نہ پیچھے اور صرف دھمکیوں پر ہی گزر اوقات کر رہے ہیں۔ آپ اگلے روز ٹانک میں ایک تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔
عالمی قوتوں نے اس حکومت کو مسلط کیا: احسن اقبال
سابق وفاقی وزیر داخلہ اور ن لیگ کے مرکزی رہنما چودھری احسن اقبال نے کہا ہے کہ ''عالمی قوتوں نے اس حکومت کو مسلط کیا‘‘ اور اہلِ وطن کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، اس لیے ہمارے قائد نے اس مسئلے پر جو ارشادات فرمائے ہیں، ہم اس پر معذرت خواہ ہیں اور قائد محترم کو بھی بتا دیا ہے کہ آپ پہلے ہی ایک سزا یافتہ قیدی ہیں جبکہ اس غلط بیانی کے بعد تو لوگ اور بھی آپ کا مذاق اڑائیں گے اس لیے جو بیان دینا ہو براہ ِکرم سوچ سمجھ کر اور شکم پروری سے پہلے ہی دے دیا کریں کیونکہ کھانا کھانے کے بعد کا جو بیان ہوتا ہے اس میں غنودگی کے اثرات بھی شامل ہوتے ہیں۔ آپ اگلے روز نارووال میں چند دیگر رہنمائوں کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔
جس کو برا بھلا کہتے تھے آج وہی پارلیمنٹ انہیں 
سنجیدہ لگنے لگی: مریم اورنگزیب
نواز لیگ کی ترجمان مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ ''جسے برا بھلا کہتے تھے آج وہی پارلیمنٹ انہیں سنجیدہ لگنے لگی‘‘ اور یہ جو ہمیں طعنہ دیا جاتا ہے کہ پھانسی پر ہماری جماعت نے مٹھائیاں بانٹیں تو اس کا تعلق کسی کی پھانسی سے ہرگز نہیں تھا اور مٹھائی چونکہ کھانے والی چیز اور ایک نعمت ہے اس لیے اس کا کفران کیسے کیا جا سکتا ہے اور جہاں تک بانٹنے کا تعلق ہے تو اس سلسلے میں عرض ہے کہ ہم شروع سے ہی مل بانٹ کر کھانے پر یقین رکھنے والے ہیں اور جو کچھ ہم نے آج تک کھایا ہے، مل بانٹ کر ہی کھایا ہے اور جن سے بانٹ کر کھایا ہے وہ ہم سے بھی زیادہ خوش ہیں۔ آپ اگلے روز ٹانک میں ایک تقریب سے خطاب کر رہی تھیں۔
حرف کے روبرو
یہ شاعرہ حمیدہ شاہین کے تنقیدی مضامین کا دوسرا مجموعہ ہے‘ اسے بھی پیس پبلی کیشنز لاہور نے شائع کیا ہے۔ انتساب ازکیٰ کے نام ہے جو بیٹی بھی ہے اور سہیلی بھی۔ پسِ سرورق مصنفہ کی تصویر ہے اور محمد حمید شاہد کی تحسینی رائے‘ جس کے مطابق: حمیدہ شاہین کے یہ تنقیدی مضامین پڑھتے ہوئے میں اس خوشگوار احساس سے سرشار ہوا ہوں کہ وہ شاعروں اور افسانہ نگاروں کی تخلیقی کائنات کے بہت اندر گھس کر اور اس جادوگری کائنات کے عین وسط میں پہنچ کر فن پاروں کو نہ صرف آنکتی رہی ہیں، انہوں نے کہیں کہیں اپنی تحریروں میں ''تخلیقِ نو‘‘ کے معجزے بھی دکھائے ہیں۔ ان کے قلم سے سر زد ہونے والے یہ تنقیدی مضامین کئی حوالوں سے اہم ہیں۔ ادبی تنقید کا یہ قرینہ، بقول کسے ''ان بھائی لوگوں‘‘ کے ہاتھ کیسے لگ سکتا تھا جو تنقیدی مباحث کو تخلیقی عمل سے کاٹ کر دیکھتے ہیں۔ اندرونِ سرورق ڈاکٹر نجیبہ عارفہ کی خوبصورت رائے ہے۔ عرض گزاری کے عنوان سے پیش لفظ مصنفہ کا قلمی ہے۔ اس کتاب سے پتا چلتا ہے کہ تنقید کو زیادہ سے زیادہ قابلِ مطالعہ کیسے بنایا جا سکتا ہے!
اور‘ اب آخر میں امجد بابر کی یہ نظم:
واللہ خیر الماکرین
پہلے دن سے
تیرے نام کا رس
میرے کانوں میں گھولا گیا
آشنائی کا مرحلہ
لفظوں کی زبان میں
دنیاوی قاعدے کی طرح پڑھا
میں جو
نیم خواندہ ماحول کی ریزگاری کا
کھوٹا سکہ تھا
شاید...تیرے اشارے سے
دنیا کے بازار میں چلا
دُکھوں کی دوپہریں
زمانے کی تیز دھوپ نے
مجھے کرکرا کر دیا
میں لوگوں کے مطابق بن سکتا تھا
لیکن تو نے مجھے بچا لیا
جیسے رزقِ حرام سے...
بُرے لمحات کی صحبت سے
میں جب کبھی، اپنے جائز خوابوں کے
جنازے دیکھتا ہوں
اور رات کی تنہائی میں
تجھے یاد کرتا ہوں
مجھے رونا نہیں آتا،کیوں کہ
میرے آنسو پونچھنے والا کوئی نہیں
آج کا مطلع
یہ میری اپنی ہمت ہے جو میں دنیا میں رہتا ہوں
مگرمچھ سے نہیں بنتی مگر دریا میں رہتا ہوں

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved