تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     25-06-2013

سرخیاں اُن کی، متن ہمارے

کراچی سے خنجراب تک جدید ریلوے ٹریک بنایا جائے…نواز شریف وزیراعظم محمدنواز شریف نے کہا ہے کہ ’’کراچی سے خنجراب تک جدید ریلوے ٹریک بنایا جائے‘‘ کیونکہ ملک کی دوسری جگہوں پر بھی صرف ٹریک ہی رہ گیا ہے جبکہ انجنوں کے نہ ہونے کی وجہ سے گاڑیوں کی آمدورفت پہلے ہی بند ہوچکی ہے چنانچہ موجودہ ٹریک کے کسی بہتر استعمال کے لیے تجاویز طلب کرلی گئی ہیں تاکہ اس جدید ٹریک کو بھی کسی بہتر استعمال میں لایا جائے، یا فالتو ہونے کی وجہ سے موجودہ ٹریک اکھاڑ کر جدید ٹریک بنالیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ ’’اس سے خطے میں معاشی استحکام پیدا ہوگا‘‘ جوکہ دیگر ذرائع سے پیدا ہونے کے کچھ زیادہ امکانات نظر نہیں آرہے کیونکہ وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھاتے ہی اتنے چیلنجز سامنے آگئے ہیں جن کا پہلے کچھ اندازہ ہی نہیں تھا حالانکہ یہ پرلے درجے کی بزدلی ہے کیونکہ ان چیلنجز کو خم ٹھونک کر پہلے ہی سامنے آجانا چاہیے تھا لیکن ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے سلیمانی ٹوپی پہن رکھی تھی؛ چنانچہ سب سے پہلے ملک میں سلیمانی ٹوپیوں کی تیاری پر پابندی لگانے کے بارے میں سوچنا ہوگا جب کہ سوچنے اور غوروخوض کا کام قوم نے سارے کا سارا میرے ذمے لگارکھا ہے۔ آپ اگلے روز اسلام آباد میں خصوصی راہداریوں سے متعلق ایک اجلاس سے خطاب کررہے تھے ۔ حالیہ انتخابات میں عوام نے طاقت کا بھرپور مظاہرہ کیا …فخرالدین جی ابراہیم چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ فخرالدین جی ابراہیم نے کہا ہے کہ ’’حالیہ انتخابات میں عوام نے اپنی طاقت کا بھرپور مظاہرہ کیا‘‘ جس میں پولیس اور انتخابی عملے کی طاقت کا بھرپور مظاہرہ بھی شامل تھا کیونکہ کوئی بھی بڑا کام مل جل کر ہی کیا جاسکتا ہے جو مشہور ومعروف مفاہمتی پالیسی ہی کی ایک ترقی یافتہ شکل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’حالیہ انتخابات زیادہ شفاف تھے‘‘ حتیٰ کہ ان کے آرپار سارا کچھ صاف دکھائی دے رہا تھا لیکن کسی میں دم مارنے کی ہمت نہیں تھی چنانچہ سارا کام بخیروخوبی سرانجام پایا۔ انہوں نے کہا کہ ’’ملکی تاریخ میں پہلی بار الیکشن کمیشن تمام تر مخالفتوں اور مشکلات کے باوجود امیدواروں کو غیرجانبدار میدان مہیا کرنے میں کامیاب ہوا‘‘ اور، شاید یہ آخری بار بھی ہو کیونکہ قوم ایسی غیرجانبداری کی مزید تاب نہیں لاسکتی اور آئندہ اپنی آنکھیں اچھی طرح کھلی رکھے گی اور ایسے میدان میں داخل ہونے سے پہلے ہزار مرتبہ سوچے گی۔ انہوں نے کہا کہ ’’انتخابات کے کامیاب انعقاد کے لیے تمام افسروں کی محنت قابل ستائش ہے ‘‘ اگرچہ اس محنت کی تفصیل بیان نہیں کی جاسکتی کیونکہ یہ ماشاء اللہ کافی حیران کن ہے۔ آپ اگلے روز پنجاب آفس کا دورہ اور خطاب کررہے تھے۔ شفاف انتخابات سے فخرو بھائی نے قومی ذمہ داری پوری کردی…شہباز شریف وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ ’’شفاف انتخابات سے فخرو بھائی نے قومی ذمہ داری پوری کردی‘‘ جبکہ یہ اس قدر شفاف تھے کہ ہارنے والے تمام امیدوار بھی اس کی تعریفوں کے پُل باندھ رہے ہیں، جو ان پُلوں سے کسی طور کم نہیں ہیں میں نے لاہور میں بنابناکر جن کے ڈھیر لگادیئے ہیں اور بعض شرپسند عناصر جن پر انگلیاں بھی اٹھاتے رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’میں اس پر فخرو بھائی کو مبارکباد پیش کرتا ہوں‘‘ کیونکہ انہی کی مساعیٔ جمیلہ کی وجہ سے ہم بھی مبارکباد یں وصول کرنے کے قابل ہوئے ہیں، اور، ساتھ ساتھ میں انتخابی عملے کو بھی مبارکباد پیش کرتا ہوں جنہوں نے غیرجانبداری کے جھنڈے گاڑ کر رکھ دیئے اور جواب تک ہرانتخابی حلقے پر لہرا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’آئی ایم ایف پنجے گاڑنے کے لیے چکر لگارہا ہے ‘‘ لہٰذا اس کے ساتھ تعاون کرنا ہی پڑے گا کیونکہ گھر آئے مہمان کی اتنی خاطر مدارات تو ہونی ہی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ’’قرض کی زندگی ذلت کے سوا کچھ نہیں‘‘ لیکن جب خدا کو بھی یہی منظور ہے تو کیا کیا جاسکتا ہے۔ آپ اگلے روز لاہور کے ایک مقامی ہوٹل میں اجلاس سے خطاب کررہے تھے۔ کسی کے پاس جادو کی چھڑی نہیں کہ کراچی کے حالات ٹھیک کردے …شرجیل میمن سندھ کے وزیراطلاعات شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ ’’کسی کے پاس جادو کی چھڑی نہیں ہے کہ کراچی کے حالات دو ماہ میں ٹھیک کردے‘‘ البتہ جادو کی چھڑی کی تلاش میں پوری سرگرمی سے حصہ لیتے ہوئے ایک کمیٹی قائم کردی ہے کہ جہاں سے بھی ہوسکے، حکومت کو وہ چھڑی مہیا کردی جائے البتہ جس چھڑی کے سہارے وزیراعلیٰ قائم علی شاہ صاحب چلتے ہیں، تھوڑی کوشش کرکے اسے بھی جادو کی چھڑی میں تبدیل کیا جاسکتا ہے جس کے لیے بعض نامور عامل حضرات کی خدمات الگ سے حاصل کی جارہی ہیں ۔چنانچہ خدا نے چاہا تو جلدازجلد یہ مسئلہ حل کرلیا جائے گا کیونکہ دنیا میں کوئی بھی کام ناممکن نہیں ہے یعنی ع محنت کرے انسان تو کیا ہو نہیں سکتا انہوں نے کہا کہ’’وفاقی حکومت ہم سے تعاون کرے اور ہمیں معلومات فراہم کرے‘‘ جس میں جادو کی چھڑی کے متعلق معلومات بھی شامل ہوسکتی ہیں جبکہ وفاقی حکومت اس سلسلے میں اپنے چھوٹے جن کے تعاون سے بھی خاصی پیش رفت کرسکتی ہے۔ آپ اگلے روز کراچی میں صحافیوں سے بات چیت کررہے تھے۔ ن لیگ کے انتخابی وعدوں پر عمل ہوتا نظر نہیں آرہا …محمودالرشید پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمودالرشید نے کہا ہے کہ ’’ن لیگ کے انتخابی وعدوںپر عمل ہوتا نظر نہیں آرہا‘‘ جس کے لیے ہم نے دوربین لگاکر بھی دیکھا ہے لیکن اس کے آثار کہیں دکھائی نہیں دیئے جبکہ ہم نے اپنی بینائی بھی چیک کروائی ہے کہ اس میں ہی کوئی نقص نہ ہو جس کے باعث یہ عمل ہمیں نظر نہیں آرہا، ویسے یہ انتخابی وعدے کم بخت ہوتے ہی ایسے ہیں کہ ان پر اول تو عمل ہوتا ہی نہیں، اور، اگر ہوجائے تو کسی کو نظر ہی نہیں آتا کیونکہ اگر ہماری حکومت قائم ہوجاتی تو بھی یہ عمل کسی کو نظر نہیں آنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ’’مہنگائی اور بے روزگاری میں ہرروز اضافے سے عام آدمی کی زندگی متاثر ہورہی ہے‘‘ اگرچہ یہ پہلے ہی موت سے بدتر ہے اور اس کے اب مزید متاثر ہونے کی گنجائش بھی نہیں ہے لیکن آخر کہنے میں کیا ہرج ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ’’حکومت آئی ایم ایف کی بجائے حالات سامنے رکھ کر فیصلے کرے‘‘ اگرچہ حالات سامنے رکھے جائیں تو آئی ایم ایف کے علاوہ بھی کئی جگہ دست سوال کرنا پڑے گا۔ اس لیے یہی بہتر ہوگا کہ حالات سے بے نیاز ہوکر ہی فیصلے کرلیے جائیں۔ آپ اگلے روز لاہور میں میڈیا سے گفتگو کررہے تھے: آج کا مطلع تیری طرف روانہ ہوں، ڈر راستے میں ہے اب اور کیا کہوں، مراگھر راستے میں ہے

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved