تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     12-01-2021

سرخیاں، متن اور حسین مجروح کی شاعری

ہماری حکومت ہاتھی ہے جسے گھوڑا
بنانے کی ضرورت ہے: فواد چودھری
وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد احمد چودھری نے کہا ہے کہ ''ہماری حکومت ہاتھی ہے جسے گھوڑا بنانے کی ضرورت ہے‘‘ اور ہاتھی بھی سفید ہاتھی، جو صرف کھاتا ہے اور کسی کام کاج کا نہیں ہوتا اور اس کے صرف دانت کارآمد ہوتے ہیں جو کھانے کے نہیں بلکہ دکھانے کے ہوتے ہیں لیکن یہی دانت گھوڑے کو بھی لگوائے جا سکتے ہیں اور اس حوالے سے وزارتِ سائنس اور ٹیکنالوجی کس دن کام آئے گی اور ہاتھی تو دوڑ بھی نہیں سکتا جبکہ گھوڑے کا تو کام ہی دوڑنا ہے جس کے جوہر وہ گھڑ دوڑ میں دکھاتا رہتا ہے جبکہ ہاتھی کا تو پاؤں ہی اتنا بڑا ہوتا ہے کہ اس میں سب کا پاؤں آ جاتا ہے۔ آپ اگلے روز ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں شامل تھے۔
بدقسمتی سے ہمیں اپوزیشن ملی تو
وہ بھی عقل سے پیدل: فردوس عاشق
وزیراعلیٰ پنجاب کی معاونِ خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ ''بدقسمتی سے ہمیں اپوزیشن ملی تو وہ بھی عقل سے پیدل‘‘ حالانکہ اپنی عقل کے لئے یہ کسی چھوٹی موٹی سواری مثلاً رکشے وغیرہ کا تو بندوبست کر ہی سکتی تھی لیکن یہ بیچاری سڑکوں پر ہی ماری ماری پھر رہی ہے اور اسے شاید کوئی لفٹ تک نہیں دیتا اور کم عقل ہونے کی اس سے بڑی دلیل اورکیا ہو سکتی ہے کہ سڑکوں پر اتنی خوار ہونے کے باوجود ایک مہنگائی زدہ حکومت کو رخصت نہیں کر سکی حالانکہ اصولی طور پر حکومت کو خود ہی رخصت ہو جانا چاہئے تھا لیکن اگر ہم اصولوں پر عمل کرتے تو یہ دن کیسے دیکھتے۔ آپ اگلے روز سوشل ویلفیئر کمپلیکس کا دورہ کر رہی تھیں۔
ن لیگ مجرم کی بیماری پر سیاست کر رہی ہے: فیاض چوہان
وزیرجیل خانہ جات پنجاب فیاض الحسن چوہان نے کہا ہے کہ ''ن لیگ ایک مفرور کی بیماری پر سیاست کر رہی ہے‘‘ حالانکہ ابھی تک، اور ہماری تمام تر کوششوں کے باوجود اس کے پاس ابھی ایسے کافی افراد موجود ہیں جو مجرم تو ہو سکتے ہیں لیکن مفرور ہرگز نہیں؛ چنانچہ ن لیگ کو چاہیے کہ ان بچے کھچے لوگوں پر جتنی سیاست ہو سکتی ہے کر لے‘ کیونکہ ایف اے ٹی ایف کے دباؤ کی وجہ سے ہمیں ان میں سے زیادہ تر کو سزا یافتہ قراردلوانا ہے تاکہ ہم بلیک لسٹ میں جانے سے بچ جائیں جبکہ ایسے مواقع بھی کسی کسی کو ہی نصیب ہوا کرتے ہیں اور خوش قسمت ہی ان سے فائدہ اٹھایا کرتے ہیں۔ آپ اگلے روز مچھ واقعہ پر اپوزیشن کے بیانات پر اپنے خیالات کا اظہار کر رہے تھے۔
19فروری کو پھر شیر ہی دھاڑے گا: مریم نواز
مستقل نااہل اور سزا یافتہ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے کہا ہے کہ ''19فروری کو پھر شیر ہی دھاڑے گا‘‘ حالانکہ شیروں کے ساتھ ساتھ اب گیدڑوں کو بھی دھاڑنا چاہیے کیونکہ ان کی زندگی شیرکے مقابلے میں سو سالہ ہے جبکہ ہم محاورے میں شیر کی ایک روزکی زندگی سے ویسے بھی بہت پریشان ہیں کیونکہ ہر بار محاورے کے لیے نیا شیر لانا پڑتا ہے جبکہ شیروں کی تعداد ویسے بھی دنیا میں ختم ہونے کے قریب پہنچ چکی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ بالآخر ہمیں کاغذی شیروں پر ہی گزر اوقات کرنا پڑے گی البتہ ان کی جگہ دھاڑ ہم خود لیا کریں گے کہ شیروں میں رہ کر ہم خود بھی شیر ہو چکے ہیں۔ آپ اگلے روز جاتی امرا میں وفد سے ملاقات کر رہی تھیں۔
قومی وطن پارٹی کے ساتھ ہمارے کوئی 
مذاکرات نہیں ہو رہے: فیصل کریم کنڈی
پیپلز پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ ''قومی وطن پارٹی کے ساتھ ہمارے کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے‘‘ کیونکہ جس سے ا صل مذاکرات ہونا تھے ہم نے کر لئے ہیں اور ہمیں ایک طرح سے گرین سگنل بھی مل گیا ہے اور ہم نے ایک واضح موقف بھی اختیار کر لیا ہے جس سے پی ڈی ایم حیران و پریشان ہو کر ہماری طرف دیکھ رہی ہے؛ اگرچہ ن لیگ والوں نے اعلان کر دیا ہے کہ وہ ضمنی انتخاب میں ہمارے امیدواروں کے خلاف اپنے امیدوار کھڑے نہیں کریں گے، اس امید پر کہ ہم بھی ایسا ہی کریں گے لیکن ہم اس کے اس چکر میں نہیں پڑیں گے کیونکہ ہمارا اصل مقابلہ اُسی کے ساتھ ہے۔ آپ اگلے روز اسلام آباد سے ایک وضاحتی بیان جاری کر رہے تھے۔
اپوزیشن میں ہمت ہے تو پنڈی کا رُخ کر کے دکھائے: شیخ رشید
وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ ''اپوزیشن میں ہمت ہے تو پنڈی کا رُخ کر کے دکھائے‘‘ کیونکہ پنڈی کا رخ کرنے کا مطلب وہ بھی اچھی طرح سے سمجھتی ہے اور وہاں میرے ساتھ ان کا پالا پڑے گا اورمیں انہیں چھٹی کا دودھ یاد دلا دوں گا، اگرچہ یہ آج تک معلوم نہیں ہو سکا کہ یہ پانچویں یا چھٹی کا دودھ کیا ہوتا ہے اور اسے یاد کرنے سے آدمی پر کوئی بُرے اثرات کیسے مرتب ہو سکتے ہیں کیونکہ دودھ تو آخر دودھ ہے یہ اگر آدمی کو میسر آ جائے تو اسے اور کیا چاہیے جبکہ اس میں بھی دودھ کا دودھ ہوتا ہے اور پانی کا پانی اور اس لئے ہم ملک میں دودھ کی نہریں بہانے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ ساری قوم دودھوں نہائے اور پوتوں پھلے۔ آپ اگلے روز اسلام آباد میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کر رہے تھے۔
اور‘ اب آخر میں حسین مجروح کی شاعری:
ہم اُس نگر بھی گئے کارِ دلبری کے لئے
جہاں گدا بھی تھے بیتاب زرگری کے لئے
زمانہ کب مرے قامت تلک پہنچتا تھا
مجھی کو جھکنا پڑا اُس کی ہمسری کے لئے
عذابِ شامِ سہولت، سرابِ صبحِ مفاد
مصر ہے چشمِ قناعت کی بے گھری کے لئے
خیال و خواب کے چہرے پر راکھ مل کے جہاں
مشاعرے بھی ہوں بس کارِ مسخری کے لئے
ضمیرِ آدمی شاید غنودہ سر ہے ابھی
کہ نرم گوشہ ہے اس کا سکندری کے لئے
ہم اُس نصابِ خجالت کا فخر ہیں مجروحؔ
کہ جس میں شرطِ اطاعت ہے خود سری کے لئے
٭......٭......٭
اندھیری شب میں ستاروں کے بیج بوتے ہوئے
غنی بنے مرے جگنو فقیر ہوتے ہوئے
خضر ہے گردشِ دوراں کہ زندگی کی کمر
چٹخ رہی ہے زمانوں کا بوجھ ڈھوتے ہوئے
مال اُس کا ہو امرت کہ زہر، اس دل نے
کبھی نہ سوچا پھٹے دودھ کو بلوتے ہوئے
سنورتا رہتا ہوں تسبیح ِشوق میں اکثر
کسی خیال کی بے راہ روی پروتے ہوئے
حسد کا تیر کہ تیغِ مفاد تھی جس سے
لہو لہان ہوئے ہم ہدف نہ ہوتے ہوئے
عجیب مہرباں صیاد ہے کہ دامِ قفس
بچھا رہا ہے نمِ لطف سے بھگوتے ہوئے
گزر گئی کہ گزاری ہے زندگی مجروحؔ
سنبھل کے گرتے، کبھی جاگتے میں سوتے ہوئے
آج کا مطلع
شبہ سا رہتا ہے کہ یہ زندگی ہے بھی کہ نہیں
کوئی تھا بھی کہ نہیں تھا کوئی ہے بھی کہ نہیں

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved