تحریر : خورشید ندیم تاریخ اشاعت     14-01-2021

کالم اور قاری

سیاست ہو، مذہب ہو یا کوئی اور مضمون، قاری ایک نقطہ نظر کے ساتھ کالم پڑھتا ہے۔ لکھنے والا اگر اس کا ہم خیال ہو تواس کے پسندیدہ کالم نگاروں کی فہرست میں شامل ہو جاتا ہے۔ اگر کوئی دوسرا نقطہ نظر رکھتاہو تو پھراس کے دل اور دماغ میں اس کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ پھر وہ بددیانت ہے اورکم نظربھی۔ یہ خام خیالی کے سوا کچھ نہیں کہ کالم نگار عوام کے نظریات پراثر انداز ہوتا ہے۔ پچیس سال ہونے کو ہیں، کالم لکھتے۔ اس خامہ فرسائی کا حاصل بس یہی ہیں۔
یہ کالم نگار کی سادہ لوحی ہوگی اگر وہ خود کو نظریہ سازوں میں شمار کرے۔ قلم خیالات کو بدلتا ہے مگر وہ کالم نگار کے ہاتھ میں نہیں ہے۔ ممکن ہے وہ کسی عالم کے جیب میں دھرا ہو۔ کسی سکالر کے کان پر رکھا ہو یا کسی فلاسفر کی انگلیوں میں آراستہ ہو۔ کالم لوگ دو اسباب سے پڑھتے ہیں۔ اپنے نقطہ نظر کے حق میں مزید دلائل کی تلاش کے لیے یا پھر حظ اٹھانے کے لیے۔ کوئی اسلوب انہیں پسند آ جاتا ہے یا کوئی تحریر انہیں لطف دے جاتی ہے۔
ایسا کیوں ہے؟ میرا خیال ہے کالم نگاریہ باورکرانے میں ناکام رہا ہے کہ کالم سنجیدہ موضوعات کا کوئی فورم ہے۔ اخبار کے تصور میں ارتقا ہوا ہے۔ کبھی یہ خبر کے ساتھ زبان اور ادب سیکھنے کا ایک ادارہ بھی تھا۔ ادیب اور شاعر صحافت کا پیشہ اپناتے تھے۔ کالم نگار بھی ادیب ہوتے تھے۔ پھر ادب اور صحافت میں طلاق ہو گئی۔ اب اخبارخبر کاایک ذریعہ تھا اور بس۔ تیسرا دور وہ تھا جب اخبار کو کاروباری مقاصد کے لیے استعمال کیا جانے لگا۔ چوتھے مرحلے میں صحافت خود کاروبار بن گئی۔
اخبار کے مقاصد تبدیل ہوئے تو اس کی ہیئت اور ضروریات بھی بدل گئیں۔ ایڈیٹر کا وجود غیر ضروری ہوگیا۔ کالم اور مضمون نگاری کے لیے ایسے لوگوں کو ترجیح دی گئی جو عوامی ذوق پر پورا اترتے ہوں کہ اب اخبار جنسِ بازار تھی اور لازم تھا کہ بازار کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو۔ بازار کی ضرورت نے لکھنے والوں کی ایک نئی پود کوجنم دیا۔ بلند آہنگ اور، زبان و بیان کے مطالبات اور تہذیبی تقاضوں سے بے نیاز۔ پوسٹ ماڈرنزم کے دور میں یہی ہونا تھا۔ اب سکینڈلز کی قیمت تھی اور بدتہذیبی کی۔ لکھاری کا معاوضہ اور شہرت ان دو خصوصیات سے مشروط ہو گئے۔
اس کے نتیجے میں اخبار سنجیدہ قاری سے محروم ہوگیا۔ اس نے جان لیاکہ اخبار میں اس کے لیے کچھ نہیں رکھا۔ نہ علم نہ معرفت۔ اخباروقت گزاری کا ایک مشغلہ بن گیا یا اہلِ سیاست کے بیانات اور کارناموں کی تشہیر کا ایک ذریعہ۔ سیاست دان یہ سمجھتا ہے کہ حجام کی دکان یا ریڑھی پہ پڑے اخبار کے صفحات پر جب اس کی تصویر دکھائی دیتی ہے تو عوام اس کی موجو دگی کو محسوس کرتے ہیں۔ ٹی وی چینلز نے اس کی ضرورت کو کم کر دیا لیکن اس کے باوجود وہ حرفِ مطبوعہ کی اثرات کا پوری طرح منکر نہیں ہوا۔
میڈیا جب سیاست دان کا ایک ہتھیار بنا تواس نے ایک نیا طبقہ پیدا کیا جو ان کے حق میں لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی اور ان کے خلاف قلم چلانے والوں کی گوشمالی کرے۔ یہ طبقہ اصلاً سوشل میڈیا کے لیے وجود میں آیا لیکن اخبار بھی چونکہ اب آن لائن ہیں، اس لیے کالم نگار بھی اس طبقے کا مخاطب بنے۔ اب وہ دشنام اورگالیوں کاہدف بن گئے۔ محترم اظہارالحق صاحب جیسے شرفا پریشان ہوگئے کہ جن الفاظ سے کان ساری زندگی ناآشنا رہے، اب سننا پڑتے ہیں اور پڑھنا بھی۔
آج ایک کالم نگار کو تین طرح کے قاری میسر ہیں۔ ایک پرانی وضع کے جو آج بھی اخبار کو خبر کا سب سے مستند ذریعہ سمجھتے ہیں اور جنہوں نے اخبار بینی کا آغاز اس دور میں کیا جب صحافت، روزنامہ اور ہفت روزہ ہوا کرتی تھی۔ ادیبوں اور شاعروں کا پیشہ۔ یہ طبقہ سنجیدہ تحریریں بھی پڑھ لیتا ہے۔ قارئین کی یہ جنس اب کمیاب ہے۔
اخبار پڑھنے والوں کا دوسرا طبقہ وہ ہے جوعام آدمی ہے۔ اس کے لیے یہ وقت گزاری کا ایک مشغلہ ہے۔ سنجیدہ علمی اور فکری موضوعات سے اسے کوئی دلچسپی نہیں۔ وہ فلم اور کھیلوں کی خبریں پڑھتا ہے یا کوئی مزاحیہ کالم یا پھر سکینڈل پر مبنی تحریر۔ تیسرا سوشل میڈیا کے وہ گروپ جو سیاسی جماعتوں نے تشکیل دے رکھے ہیں اور سب سے موثر ہیں۔
میں نے جب کالم نگاری کا آغاز کیا تو یہ غلط فہمی تھی کہ اس کی بنیاد پر فکری تبدیلی کی ایک تحریک اٹھائی جا سکتی ہے۔ سماج، سیاست اور مذہب کے باب میں معاشرے کو ایک نیانظامِ فکردیا جاسکتا ہے۔ نوجوانی میں، میں سوچتا تھا کہ اگر ارشاد احمد حقانی مرحوم کی طرح کسی قومی روزنامے میں ہفتے کے چھ دن مسلسل کالم لکھنے کا موقع ملے تو یہ نظامِ فکرایک سال میں، موضوعِ بحث بن جائے۔ 
مولانا ابوالکلام آزاد اور مولانا مودودی جیسے دبستانِ شبلی کے زعما کو پڑھ کر اس قریے کا رخ کیاتھا۔ پڑھ رکھا تھاکہ مولانا آزاد نے 'الہلال‘ میں جو کچھ لکھا، اس نے ایک نئی فکری دنیاکو جنم دیا۔ مولانا مودودی نے 'تحریکِ آزادیٔ ہند اور مسلمان‘ کے عنوان سے جوکچھ لکھا اس نے ایک نئی فکری تحریک اٹھا دی۔ سوچا تھاکہ ان کی خوشہ چینی کے صدقے کچھ کام توہم بھی کرگزریں گے۔ اپنی علمی بے مائیگی کا پورا احساس تھا مگر خیال ہوتا تھاکہ ایسی شخصیات کے نقوشِ قدم پر دو چار قدم چلنا بھی بہت ہے۔
دوعشروں کی ریاضت سے معلوم ہواکہ ہم جہاں صدا لگاتے رہے، وہاں ہماری بھاشا کو سمجھنے والا کوئی نہیں تھا۔ اخبار کا کالم وہ جگہ ہی نہیں ہے جہاں سے سنجیدہ مباحث کواٹھایا جا سکتا ہے۔ ہم صحرا میں تکبیربلند کرتے رہے۔ صحرا میں تکبیر، مسلسل ہوتو بھی بے نتیجہ رہتی ہے۔ اخبار کا کالم ایک دوسری دنیا ہے۔ موضوعات الگ، قارئین الگ۔ یہاں تو وہی کچھ لکھا جا سکتا ہے جس کی طلب میں لوگ اخبار کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ جنہیں سنجیدہ مباحث سے دلچسپی ہے، وہ کتاب پڑھتے ہیں یا تحقیقی مجلات۔
ہم انسان کے تہذیبی قافلے سے بچھڑے ہوئے لوگ ہیں۔ ابن آدم حیاتیاتی ارتقا سے گزرا ہو یا نہ گزرا ہو، اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ڈیڑھ دو عشروں میں تہذیبی اور ذہنی ارتقا کے بہت سے مراحل سے گزرچکا۔ اس کا فکری ڈھانچا یکسر تبدیل ہوگیا ہے۔ ہم اس طرح کاکوئی موضوع اخباری کالم میں نہیں چھیڑ سکتے۔ قارئین کا دائرہ ایک دم سمٹ جائے گا۔
جس ملک میں ریاست آج بھی جبر کے صدیوں پرانے نسخے سے نظامِ مملکت چلانا چاہتی ہو، جہاں کا سیاسی پیشوا آج بھی کسی ارطغرل کی راہ دیکھتا اور دکھاتا ہو، جہاں مذہبی رہنما آج بھی دارالاسلام اور دارالکفر کی ذہنی تقسیم میں جیتے ہوں، وہاں اخبارات کے کالم ایسے موضوعات کے متحمل نہیں ہو سکتے جن میں ایک نئی دنیا کی خبر ہو۔ علامہ اقبال نے ایک صدی پہلے آب روانِ کبیرکے کنارے جو خواب دیکھا تھا، ہم آج تک اس خواب کے فہم سے بھی محروم ہیں۔یو ٹیوب پہ پیر نصیرالدین نصیر کی ایک تقریر موجود ہے جس میں وہ فارسی شعرا کے اشعار عالمِ بے خودی میں پڑھتے اور سر دھنتے ہیں۔ بطور خطیب وہ جانتے ہیں کہ اُن کی یہ خوش ذوقی سامعین کے کسی کام کی نہیں‘ اس لیے وہ حاضرین کو اپنے مخصوص پوٹھوہاری انداز میں مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ شعر میں نے تم لوگوں کے لیے نہیں، اپنے لیے پڑھے ہیں۔ تمہاری بلا سے کہ عرفی کون تھا؟
کالم نگاری بھی اسی طرح ہے۔ کبھی عرفی کا شعر سنانے کو دل چاہے تو خود کو قاری سمجھ کر لکھ لینا چاہیے۔ ورنہ کالم بھی ویساہی ہوناچاہیے جیسے پیر نصیرالدین صاحب کی عوامی تقریر۔ آج کالم کا ذہن سازی میں کوئی حصہ نہیں جیسے خطیب کی تقریر کا کوئی حصہ نہیں۔ لوگ اس سے حظ اٹھاتے ہیں یا اپنے نقطہ نظر کے حق میں دلیل تلاش کرتے ہیں۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved