تحریر : ایم ابراہیم خان تاریخ اشاعت     16-01-2021

چھینٹے

حالات کو دوراہا بہت پسند ہے۔ جب حالات کے بس میں کچھ نہیں رہتا اور یہ معاملات کو درست کرنے کی سکت سے محروم ہونے لگتے ہیں تو انسان کو دو راہے پر لے آتے ہیں۔ ہر انسان کا یہی مسئلہ اور مخمصہ ہے۔ ہم بھی خیر سے انسان ہیں اس لیے حالات نے ہمیں بھی بہت سے معاملات میں دوراہے پر لاکر یوں چھوڑا کہ ع 
پھر اِس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی
مرزا تنقید بیگ انسان تو ہیں ہی مگر انسان سے بڑھ کر وہ دو راہا بھی ہیں! حالات کی ستم ظریفی کا یہ انداز ہمیں کبھی پسند نہیں آیا۔ آئے بھی کیسے؟ خسارے کا سودا کسی کو پسند آتا ہے؟ جب کبھی حالات کی سمجھ میں کچھ نہیں آتا تب وہ ہمیں مرزا کی چوکھٹ تک پہنچاکر غائب ہو جاتے ہیں۔ کل شام کی چائے پر مرزا سے ملاقات ہوئی تو باتوں ہی باتوں میں ؎ 
ذکر جب چھڑ گیا قیامت کا ؍ بات پہنچی تِری جوانی تک
کے مصداق بات مرزا کی ''ہمہ دانی‘‘ تک پہنچ گئی۔ مرزا نے بہت سے معاملات اپنے طور پر طے کرلیے ہیں۔ اُن کے ذہن میں ایک ''خنّاس‘‘ شروع سے رہا ہے ، یہ کہ وہ جینئس ہیں! آپ سوچیں گے مرزا بے چارے تو بالکل بے قصور ہیں، یہ خنّاس بھلا کس کے ذہن میں نہیں پایا جاتا! کسی حد تک آپ کی سوچ بھی درست ہے۔ آج باقی دنیا کی طرح پاکستان میں بھی قدم قدم پر جینئس ملتے ہیںبلکہ اب تو ہم جینیس کی فاضل پیداوار کی منزل تک پہنچ چکے ہیں!
نظریات کے معاملے میں بھی مرزا خاصی نمایاں حد تک خود کفیل واقع ہوئے ہیں۔ بہت سے معاملات میں وہ کوئی رائے قائم کرتے ہیں، اُسے پختہ کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں اور پھر‘ اپنی سہولت کے مطابق‘ اُسے نظریے کا درجہ دے کر دوسروں کو اس بات کا پابند کرتے ہیں کہ اُس نظریے کو تسلیم کیا جائے۔ بہت سوں کو اُنہوں نے اپنے نام نہاد نظریات کی دہلیز تک لاکر یوں پچھاڑا کہ پھر وہ مرزا کے نزدیک دکھائی نہیں دیے! ایک دور تھا کہ مرزا کچھ پڑھے بغیر ہی خود کو جینئس قرار دے بیٹھے تھے۔ نظریات کی تخلیق و تشکیل کا بھی کچھ ایسا ہی معاملہ تھا۔ تب اگر ''مرزا ساختہ‘‘ نظریے پر کوئی اعتراض کرتا تھا تو مرزا کو تھوڑی بہت سُبکی کا سامنا کرنا پڑتا تھا مگر پھر بہت کچھ ایسا بدلا کہ معاملات اُن کے حق میں چلے گئے۔ وہ جو کہتے ہیں نا کہ نصیب سے کوئی جیت نہیں سکتا تو مرزا کے معاملے میں بھی ایسا ہی ہوا۔ شکر خورے کو کہیں نہ کہیں سے شکر مل ہی جاتی ہے۔ مرزا ہی کو نہیں بلکہ اُن کی سی فکری ساخت رکھنے والے ہر انسان کو شکر مل گئی۔ اس شکر کو عرفِ عام میں سوشل میڈیا کہتے ہیں! یہ سوشل میڈیا ہی کی ''برکت‘‘ ہے کہ مرزا جیسے لوگ اب ذہن کے پردے پر ابھرنے والا ہر نکتہ حرفِ آخر کے طور پر بیان کرتے ہیں اور کسی بھی موضوع پر یوں گرمِ گفتگو رہتے ہیں گویا حق بیانی کا حق ادا کرتے ہوئے قلم توڑ دیا ہے!
کل مرزا سے ملاقات میں ہم نے عرض کیا کہ سوشل میڈیا نے بہت سے ایسے بونوں کو قد آور بنادیا ہے جو ڈھنگ سے بونے بھی نہیں ہیں! اور پھر ہمارے منہ سے نکل گیا ''اب یہی دیکھیے کہ آپ ...‘‘ بس اِتنا سننا تھا کہ مرزا کے ہوش و حواس کا چراغ گل ہوگیا۔ آن کی آن میں یوں بپھرے جیسے کوئی آٹھ دس من کا بیل بد دماغ ہوکر کھونٹا اکھاڑنے پر تُل جائے! ہم نے بہت کہا کہ ہماری پوری بات تو سُن لیجیے مگر وہ مرزا ہی کیا جو کسی کی بات تحمل سے سُنیں۔ جب وہ سُننے ہی پر آمادہ نہیں ہوتے، سمجھنا تو بہت آگے کی منزل ہے! ہم یہ کہنا چاہتے تھے کہ جب سے سوشل میڈیا کے بیل نے رَسّی تُڑائی ہے تب سے معاملات تہس نہس ہوکر رہ گئے ہیں۔ یومیہ بنیاد پر تین چار گھنٹے سوشل میڈیا کی دہلیز پر سَر بسجود رہنے والا ہر انسان خود کو جینئس کے درجے پر فائز کرنے سے کم کی نہیں سوچتا۔ اس روش پر گامزن رہنے کا نتیجہ یہ برآمد ہوا ہے کہ ''مان نہ مان، میں تو ہوں جانکار‘‘ کے مصداق قدم قدم پر نابغے پائے جاتے ہیں۔ اور پھر یوں بھی ہے کہ اِن میں سے ہر ایک خود کو عقلِ کل اور باقی سب کی عقل کو ناقص و ناپختہ گرداننے پر بضد رہتا ہے۔ مرزا کا بھی یہی معاملہ ہے۔ جب وہ کسی معاملے پر رائے دینے کا عمل شروع کرتے ہیں تو فریقِ ثانی کے دماغ کو اچھا خاصا ''پروسیس‘‘ کر ڈالتے ہیں۔ ہم نے بارہا اُن سے محض دس پندرہ منٹ کی گفتگو کے بعد محسوس کیا ہے کہ دماغ کی چُولیں تھوڑی سی ہل گئی ہیں! مرزا کا تازہ ترین نظریہ یہ ہے کہ اب کسی بھی شعبے میں ماہرین کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہی۔ اُن کا اِصرار ہے کہ سوشل میڈیا نے انسان کو اس قابل بنادیا ہے کہ کسی سے خصوصی طور پر رہنمائی پائے بغیر وہ اپنے طور پر بھی بہت کچھ جان سکتا ہے، بہت سے معاملات میں درست فیصلے کرسکتا ہے۔ ہمارا بنیادی استدلال یہ ہے کہ سوشل میڈیا کا معاملہ انتہائی ناپختہ ہے اس لیے خطرناک بھی ہے۔ کسی بھی معاملے میں بہت سی متضاد و غیر مستند آرا پڑھنے‘ سُننے کی صورت میں ذہن کچھ پاتا نہیں بلکہ الٹا خلفشار کا شکار ہوکر اپنی رہی سہی سکت سے بھی محروم ہو جاتا ہے، بلکہ ممبئی کی بھاشا میں ''دماگ ‘‘ کی ''واٹ‘‘ لگ جاتی ہے۔
مرزا ہمارے دماغ کی واٹ لگانے پر کمر بستہ ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ سوشل میڈیا نے عام آدمی کو اس قابل بنادیا ہے کہ وہ اپنے علم میں اضافہ کرکے عملی سطح پر بہت کچھ کر گزرے۔ ہماری رائے یہ ہے کہ سوشل میڈیا کے غیر ضروری اور انتہائی نوعیت کے استعمال نے عام آدمی کے ذہن کو کباڑ خانے میں تبدیل کردیا ہے۔ وہ معلومات کو علم سمجھ بیٹھا ہے۔ مرزا اور اُن کی قبیل کے دوسرے بہت سے لوگوں کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ نشانِ راہ کو منزل سمجھ بیٹھے ہیں۔ کہیں کہیں چند قطرے برس جائیں، چند چھینٹے پڑ جائیں تو اُسے بارش نہیں کہا جاسکتا۔ بوندا باندی سے زمین سیراب نہیں ہوتی، کسی چیز کو ڈھنگ سے اگانے کے قابل نہیں ہو پاتی۔ ذہن بھی اُسی وقت زرخیز ہو پاتا ہے جب اُسے ڈھنگ سے سیراب ہونے کا موقع ملتا ہے۔ مختلف موضوعات پر بوندا باندی یا چھینٹوں جیسی معلومات سے ذہن توانا یا سیراب نہیں ہو پاتا بلکہ اُس کی پیاس بڑھ جاتی ہے۔ یہ پیاس اُسی وقت بجھ سکتی ہے جب اُسے متعلقہ موضوع پر مستند آرا سے نوازا جائے۔ سوشل میڈیا پر، سوچے سمجھے بغیر، بہت کچھ پڑھنے والے بالعموم معلومات کے مرحلے میں اٹک کر رہ جاتے ہیں۔ علم کی منزل تک پہنچ کر دانائی کا حصول یقینی بنانا بہت آگے کی منزل ہے۔ مرزا یہ سمجھتے ہیں کہ ''نیٹ‘‘ کی مدد سے بہت کچھ پڑھا اور سیکھا جاسکتا ہے۔ اُن کی رائے کو درست کیسے مان لیا جائے؟ کیا انٹر نیٹ پر طب کی مستند ترین کتابیں پڑھ کر اور آپریشن کی وڈیوز دیکھ کر کوئی ڈاکٹر اور سرجن بن سکتا ہے؟ طیاروں کے مکینزم کے بارے میں تمام بنیادی باتیں پڑھ کر کوئی گھر بیٹھے پائلٹ بن سکتا ہے؟ محض گانے سُن سُن کر کوئی اچھا گلوکار بن سکتا ہے؟ ان تمام سوالوں کا جواب نفی میں ہے اور ہونا ہی چاہیے۔ سوشل میڈیا کی پوسٹس پڑھ کر اگر کوئی خود کو کسی شعبے کا ماہر سمجھ بیٹھے تو اُس کی بے عقلی کا ماتم کیا جانا چاہیے۔ آج ہماری بہت سی فکری و عملی پیچیدگیوں کا بنیادی سبب یہی ادھورا پن ہے جو سوشل میڈیا سے نامناسب انداز سے استفادے کی صورت میں پیدا ہوا ہے۔ کسی بھی معاملے میں اپنی رائے کو پختہ کرنا ہے تو انسان کو متعلقہ ماہرین کی مستند آرا سے مستفید ہونا ہی پڑے گا۔ ذہن کی زمین کو سیراب کرنا ہے تو بارش کا سہارا لیجیے تاکہ تشنگی باقی نہ رہے۔ جو کام بارش کرسکتی ہے وہ چھینٹوں سے کسی طور نہیں لیا جاسکتا۔ مرزا اور ہم نواؤں کیلئے اِتنا ہی ع 
شاید کہ ترے دل میں اُتر جائے مری بات

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved