تحریر : خورشید ندیم تاریخ اشاعت     18-01-2021

مولانا فضل الرحمن اور وفاق المدارس

مولانا فضل الرحمن وفاق المدارس کی صدارت کے لیے امیدوار ہیں۔ اُن کا یہ فیصلہ دیوبندی مدارس کے لیے کتنا نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے‘میرا خیال ہے خود مولانا کوبھی اس کا اندازہ نہیں ہے۔
وفاق المدارس دیوبندی مدارس کا انتظامی بورڈ ہے جو نصاب‘ داخلہ‘ امتحان اور سندجیسے معاملات کا ذمہ دار ہے۔ پھر ہر مسلک کا اپنا مدرسہ بورڈ ہے۔ جماعت اسلامی نے جومدارس قائم کیے‘ان کا الگ بورڈ ہے۔ان کی اسناد کو سرکاری طور پر تسلیم کیاجا تا ہے۔
اب ہر مسلک کے لوگوں نے اپنی سیاسی جماعتیں بھی بنا رکھی ہیں؛ تاہم اس بات کی شعوری کوشش کی جا تی ہے کہ مدارس کو سیاست سے الگ رکھا جائے۔ اس میں ایک حکمت ہے ۔ الگ تنظیمی وجود کی وجہ سے مدارس سیاست کے اثرات سے محفوظ رہتے ہیں۔یوں معاشرہ اور ریاست‘دونوں مدارس کوان کی انفرادی حیثیت میں دیکھتے اور ان کے لیے اپنا دستِ تعاون دراز کیے رکھتے ہیں۔
مولانااگر وفاق المدارس کے صدربنتے ہیں تودیوبندی مدارس کو سیاسی کشمکش سے الگ رکھنا ممکن نہ ہو گا۔یوں اندیشہ ہے کہ یہ مدارس ریاست اور معاشرہ‘ دونوں کی نظر میں متنازع ہو جائیں گے اور اس تائید سے بڑی حد تک محروم ہو جائیں گے جوانہیں اس وقت میسر ہے۔ میں مولانا کے اس فیصلے کا کوئی فائدہ تلاش نہیں کر سکا جو مدارس کو پہنچ سکتا ہو۔
دارالعلوم دیوبند‘ برصغیر میں ہماری روایت کے دفاع کا ایک اہم مورچہ رہاہے۔وقت گزرنے کے ساتھ ‘یہ تعلیمی ادارہ ایک ہمہ جہت تبدیلی کی تحریک بن گیا۔علی گڑھ بھی تعلیمی ادارے سے بیداری کی ایک دوسری تحریک بنا جو اسی طرح ہمہ گیر تھی۔دیوبند کی اسی ہمہ گیریت نے اسے ہماری تاریخ کی سب سے مؤثر تحریک بنا دیا۔اس کامیابی کا راز تقسیمِ کار کا اصول ہے جو اس کے بانیوں نے ابتدا ہی میں اختیار کیا۔
تحریکِ دیوبند نے مسلم سماج کو تین حوالوں سے اپنا مخاطب بنایا: تعلیم‘ دعوت و تزکیہ اورسیاست۔تعلیم سے ان کی مراد درس وتدریس کی اس روایت کااحیا تھاجو انگریزوں کی آمد سے پہلے موجود تھی اور جسے انگریزی عہد میں متروک قراردے دیا گیا۔اس تعلیمی روایت میں دین بھی تھا اور دنیا بھی۔ جب دنیاوی معاملات کو انگریزوں نے نئی نہج پر استوار کیا تو مدرسہ کی تعلیم کا وہ حصہ غیر متعلق ہوگیا جو دنیاوی امورسے متعلق تھا۔اب اس کی افادیت صرف دینی و تہذیبی حوالے سے باقی تھی اور یہ بھی کچھ کم اہم نہیں تھا۔ دارالعلوم دیوبند کی حیثیت مادرِ علمی کی تھی۔ا س کے بچے مدارس کی صورت میں سارے برصغیر میں پھیل گئے۔یہاں افغانستان سے لے کر آسام تک ‘ ہر جگہ سے لوگ پڑھنے آتے تھے۔ فارغ التحصیل ہو کر یہ علما اپنے آبائی علاقوں کو لوٹتے اورمقامی آبادی کے تعاون سے مدرسہ قائم کر لیتے۔یوں یہ تعلیمی سلسلہ پورے خطے میں پھیل گیا۔یہ علمادین کے اسی فہم کو عام کرتے جو انہوں نے دارالعلوم سے حاصل کیا۔اس طرح تفہیمِ دین کا ایک ہی اسلوب چاروں اطراف پھیل گیا جس نے ایک فکری ہم آہنگی کو جنم دیا۔یہاں سے فارغ ہونے والے علما میں ایسے بھی تھے جو صوفیانہ مزاج رکھتے تھے۔انہوں نے مختلف علاقوں میں خانقاہوں کو آباد کر لیا۔یہ برصغیر کے تصوف کی روایت کے امین ٹھہرے جو دیوبندیوں اوربریلویوں میں یکساں جاری ہے۔
اس تحریک کادوسرامحاذدعوت تھا۔اس کے لیے تبلیغی جماعت قائم ہوئی۔ابتدا میں یہ میوات اورچند ملحقہ قصبات تک محدود تھی لیکن بعد میں اسے وسعت دے دی گئی۔ یہ پورے برصغیر میں پھیل گئی۔اس تحریک کے بانی بھی دارالعلوم دیوبند کے فضلا تھے۔ انہوں نے اس تحریک کو دین کی بنیادی باتوں کی دعوت تک محدود رکھا۔تیسرا محاذ سیاسی تھا۔ اس کے لیے جمعیت علمائے ہند قائم ہوئی۔جمعیت علمائے ہند کے سامنے ایک بڑا مقصد‘اس خطے کو انگریزوں کی غلامی سے نجات تھا۔اس لیے اس جماعت کو مسلمانوں کا وسیع البنیاد محاذ بنایا گیا۔تاہم وقت گزرنے کے ساتھ یہ مسلکِ دیوبند سے تعلق رکھنے والوں کی سیاسی جماعت بن گئی۔
تعلیم‘ تزکیہ‘ دعوت اور سیاست کے محاذوں پر بیک وقت کام کر نے سے مسلکِ دیوبند برصغیر کی سب سے بڑی تحریک بن گیا۔آج اس خطے میںکوئی دوسری ایسی فکری و مذہبی تحریک نہیں جو اپنے اثرات کے اعتبار سے ایسی ہمہ گیر ہو۔یہ روایت تقسیمِ ہند کے بعد بھی قائم رہی۔دیوبند مدارس اور خانقاہیں اسی طرح آباد رہیں۔ تبلیغی قافلے بھی اسی طرز پر رواں دواں رہے۔جمعیت علمائے ہند کی جگہ جمعیت علمائے اسلام نے لے لی۔
اس کامیابی کا راز تقسیمِ کار کا اصول ہے۔ سیاست‘ دعوت اور تعلیم و تزکیہ کے مطالبات ایک دوسرے سے مختلف اور بعض اوقات متصادم ہیں۔ ان کی الگ الگ تنظیم کا فائدہ یہ ہے کہ سب کاموں کی حکمتِ عملی ان کی رعایت سے اپنائی جا سکتی ہے اور ایک کام دوسرے کو متاثر نہیں کر تا۔مثال کے طور پر دین کی تعلیم ایک معاشرتی ضرورت ہے۔ ایک شہری جو اس کے بارے میں حساس ہے‘ وہ مدرسے کو باقی رکھنے کے لیے اس کو وسائل فراہم کرتا ہے۔ یہ شہری سیاسی اعتبار سے مسلم لیگی ہو سکتا ہے‘ پی ٹی آئی سے وابستہ ہو سکتا ہے یا کسی اور جماعت سے۔ وہ اپنی سیاسی وابستگی سے بے نیاز ہو کر مدرسے کی مدد کرتا ہے۔ جیسے ہی مدرسے کی باگ ایک سیاسی شخصیت کے ہاتھ میں دی جائے گی‘ اس شہری کا دستِ تعاون سمٹ جا ئے گا جو اس کے سیاسی مؤقف سے اختلاف رکھتا ہے۔ اسی طرح ایک داعی ہے جس کا مخاطب تمام معاشرہ ہے اوروہ سب کو دین کی طرف بلا رہا ہے‘اس کا حترام سیاسی وابستگی سے ماورا ہے۔جیسے ہی وہ اپنا وزن ایک سیاسی جماعت کے پلڑے میں ڈالتا ہے‘اس کی شخصیت متنازع ہونے لگتی ہے جس کا نقصان ان کی دعوت کو پہنچتا ہے۔ اس کی مثال مولانا طارق جمیل ہیں۔ انہوں نے عمران خان کی حمایت میں متحرک ہوکر‘خود کو اور دعوت کو بہت نقصان پہنچایا۔شوکت خانم ہسپتال بھی اسی طرح کی ایک مثال ہے۔لوگ سیاسی وابستگیوں سے بے نیاز ہو کر اس کے لیے تعاون کرتے تھے۔جیسے ہی عمران خان سیاست میں آئے‘اس کی پہلی زد اس ہسپتال پر پڑی۔اب ایک مسلم لیگی اس ادارے کی مدد کس دل سے کرے گا جس کے لیڈر کو خان صاحب صبح شام صلواتیں سناتے ہوں؟
یہ مثالیں بتاتی ہیں کہ تقسیمِ کار کے اصول میں کیا حکمت ہے۔مولانا وفاق المدارس کا صدر بن کر اس اصول سے انحراف کریں گے۔ وہ ایک سیاست دان ہیں اور ہر سیاست دان کی طرح متنازع۔جس دن وہ وفاق المدارس کے صدر بنیں گے‘وفاق المدارس بھی متنازع ہو جائے گا۔ اب تحریکِ انصاف کا ایک کارکن ‘مدرسے کو ضروری سمجھنے کے باوجود‘اس مدرسے کو کیوں چندہ دے گا جس کا سربراہ صبح و شام اس کی جماعت کی حکومت کو ختم کرنے کے لیے سرگرداں ہے؟
وفاق المدارس کامفاد تقاضا کرتا ہے کہ اس کی سربراہی مولانا تقی عثمانی یا مولانا زاہد الراشدی جیسی کسی علمی شخصیت کے پاس ہو۔مولانا ایک سیاسی رہنما ہیں۔ ان سے اختلاف رکھنے والے بہت سے دیوبندی وفاق سے وابستہ ہیں کیونکہ وفاق کامولانا کی سیاست سے براہ راست کوئی تعلق نہیں۔جیسے دارالعلوم حقانیہ ‘اکوڑہ خٹک۔قاری حنیف جالندھری صاحب ایک متحرک شخصیت ہیں اور بطور ناظمِ اعلیٰ وفاق کے مفادات کا بخوبی تحفظ کر رہے ہیں۔ان کے ساتھ ایک عالمِ دین کی صدارت وفاق کے لے زیادہ موزوں ہے۔اگر مولانا نے اپنے فیصلے پر اصرار کیا تومیرااحساس ہے کہ ان کا یہ فیصلہ وفاق المدارس میں تقسیم کی بنیاد رکھ دے گا۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved