تحریر : جویریہ صدیق تاریخ اشاعت     28-01-2021

لال قلعے پر نشان صاحب

26جنوری کو بھارت کا یومِ جمہوریہ منایا جاتا ہے۔ کہنے کو تو بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے لیکن اصل میں یہ اقلیتوں کی سب سے بڑی جیل ثابت ہوا ہے۔ یہ محض ایک ہندو ریاست ہے‘ جہاں پر بیشتر آبادی بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہے، خاص طور پر اقلیتوں اور نچلی ذات کے ہندوئوں کے ساتھ جو سلوک یہاں روا رکھا جاتا ہے‘ وہ بیان سے باہر ہے۔مودی سرکار کی ساری توجہ جنگ و جدل اور اقلیتوں کی نسل کشی پر مرکوز ہے، وہ بھارت کو صرف ''ہندوستان‘‘ بنانا چاہتی ہے۔ بھارت کی موجودہ سیاسی قیادت میں زیادہ تر سیاست دان آر ایس ایس (راشٹریہ سویم سیوک سنگھ) کے تربیت یافتہ ہیں۔ یہ ایک بنیاد پرست ہندودہشت گرد تنظیم ہے جس کا کام غیر ہندوئوں سے دشمنی ہے۔ یہ بھارت سے ہندو مذہب کے علاوہ دیگر مذاہب کا خاتمہ کرنا چاہتی ہے۔ گاندھی کو قتل کرنے والا نتھورام گوڈسے بھی آر ایس ایس کا کارکن تھا۔ بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی بھی آر ایس ایس کے تربیت یافتہ ہیں۔ اجیت دوول ہوں یا امیت شاہ‘ سب اسی کے ایجنڈے کو لے کر چل رہے ہیں‘ جس کے باعث اقلیتوں کا سخت استحصال ہو رہا ہے۔ مسلمان ہوں، سکھ ہوں، عیسائی ہوں یا دلت‘ سبھی اس وقت بھارت میں ہندوتوا کے پیروکاروں کے مظالم کا شکار ہیں۔ اگر ہم مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں پر ظلم و ستم کی بات کریں تو شاید میرے الفاظ ختم ہو جائیں لیکن یہ باب ختم نہیں ہوگا۔ آٹھ‘ نو لاکھ فوجی اس وقت مقبوضہ وادی میں تعینات ہیں اور نہتے کشمیریوں پر ایسے ایسے مظالم ڈھائے جا رہے ہیں کہ دنیا کی کوئی اخلاقیات ان کی اجازت نہیں دیتی۔ ممنوعہ ہتھیار شہری آبادیوں پر استعمال کیے جا رہے ہیں،نوجوان نسل کو پیلٹ گنوں سے نابینا کیا جا رہا ہے، مائوں‘ بہنوں‘ بیٹیوں کی عصمت دری کی جا رہی ہے، چھوٹے چھوٹے بچوں کے سامنے ان کے والدین اور خاندان کا قتلِ عام کیا جا رہا ہے، نوجوانوں کو اغوا کیا جاتا ہے اور بعد میں انہیں دہشت گرد قرار دے کر جعلی مقابلوں میں مار دیا جاتا ہے۔ 5 اگست 2019ء کو مقبوضہ کشمیر کی جداگانہ تخصیصی آئینی حیثیت کو ختم کرکے کشمیر میں کرفیو لگایا گیا جو ابھی تک ہٹایا نہیں جا سکا، ڈیڑھ سال سے زائد عرصہ سے ہو چلا ہے کشمیر کا بیرونی دنیا سے رابطہ منقطع ہے۔ موبائل فون اور انٹرنیٹ کی سہولت نہایت محدود ہے جبکہ کرفیو کے باعث لاکھوں کشمیری بیروزگار ہو چکے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کو مودی سرکار نے دنیا کی سب سے بڑی جیل بنا دیا ہے، جہاں شہریوں کو گھر سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں‘ سکول و کالج، بازار یہاں تک کہ ہسپتال وغیرہ بھی بند ہیں۔
بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ تو زیادتیوں کا سلسلہ کافی عرصے سے جاری ہے لیکن سکھوں پر بھی کم مظالم نہیں ڈھائے گئے۔ تقسیم کے بعد فوج میں ان کی تنزلی کا سلسلہ شروع کیا گیااورانہیں کلیدی عہدوں سے ہٹا دیا گیا۔ کچھ آزادی پسند سکھوں نے برہمن کی نیت بھانپ لی اور بھارتی ہندوئوں کے مظالم سے تنگ آکر خالصتان کی بنیاد رکھ دی۔ سکھوں نے اپنے حقوق کیلئے آواز بلند کرنا شروع کی تو بھارتی حکومت نے چالیس ہزار سے زائد سکھوں کو بلاجواز گرفتار کر لیا۔ پھر اندرا گاندھی نے جو ضرب سکھوں پر لگائی وہ شاید سکھ تاقیامت نہیں بھول پائیں گے۔ آپریشن بلیو سٹار میں سکھوں کے سب سے مقدس دربار گولڈن ٹیمپل کی بے حرمتی کی گئی اور سکھوں کا وہ قتل عام ہوا کہ خدا کی پناہ! 1984ء کے اس سانحے کا نتیجہ یہ نکلا کہ 31 اکتوبر 1984ء کو بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی کو ان کے اپنے دو سکھ محافظوں ستونت سنگھ اور بینت سنگھ نے اندھا دھند فائرنگ کرکے قتل کر دیا۔ نتیجتاً سکھوں پر مظالم کا سلسلہ مزید دراز ہو گیا اور خالصتان کی تحریک کو جبر کے زور پر کچل دیا گیا، مزید چھ سے سات ہزار سکھ اس دوران قتل کر دیے گئے۔ جنرل جگجیت سنگھ اروڑا‘ جس نے سقوطِ ڈھاکا میں اہم کردار ادا کیا تھا‘ اور جو بھارت کا قومی ہیرو سمجھا جاتا تھا‘ اس وقت بھارتی پارلیمان کا ممبر تھا، اس نے سکھوں پر ہونے والے مظالم کی مذمت کی تو نوبت یہاں تک آ گئی کہ ایک سابق جنرل کو اپنی جان بچانے کے لئے کسی دوسرے ملک کے سفارت خانے میں پناہ لینا پڑی۔ اس سانحے کے بعد بہت سے سکھ بھارت سے یورپ، امریکا بالخصوص کینیڈا منتقل ہو گئے؛ تاہم انتقام کی آگ ابھی تک ٹھنڈی نہیں ہو سکی ۔ آپریشن بلیو سٹار کے وقت جنرل اے ایس ویدیا انڈیا کا آرمی چیف تھا‘ اس کو بھی دو برس بعد سکھوں نے قتل کر دیا۔ 1986ء میں اروڑ سنگھ اور سکھویندر سنگھ ببر نے ''خالصتان لبریشن فورس‘‘ نامی ایک عسکری تنظیم کی بنیاد رکھی، یہ خالصتان تحریک کی ایک بڑی فورس ہے۔ آج بھی سکھ اندرا گاندھی کو اپنا مجرم گردانتے ہیں اور بھارت کے سکھ اکثریتی علاقوں میں خالصتان بنانے کے خواہشمند ہیں۔
اِس وقت سکھوں کی بڑی تعداد بھارتی پنجاب میں آبادہے جن کا ذریعہ معاش زراعت سے وابستہ ہے۔ نومبر سے شمالی اور مشرقی بھارت سے تعلق رکھنے والے کسان بھارت کے دارالحکومت دہلی میں احتجاجی دھرنا دیے بیٹحے ہیں۔ ان کے مطالبات میں فصلوں کی قیمتوں میں اضافہ، نئے زرعی قانون کی منسوخی اور یوٹیلیٹی بلوں میں رعایت وغیرہ شامل ہیں۔ اس دوران کسانوں پر پولیس کی طرف سے تشدد بھی کیا گیا اور واٹر کینن اور آنسو گیس کے گولے بھی داغے گئے جس میں متعدد کسان زخمی ہوئے۔ اب تک کم از کم 21 کسان اس احتجاج میں اپنی جان سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ جب تک متنازع قوانین واپس نہیں لیے جائیں گے‘ وہ اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔ سخت سردی میں بھی کسانوں کا احتجاجی دھرنا جاری ہے۔
بھارت میں ہر سال پانچ سے چھ ہزار کسان غربت اور قرضوں کی وجہ سے خود کشی کر لیتے ہیں اور نئے زرعی قوانین ان کو مزید کنگال کر دیں گے۔ کسانوں‘ جو زیادہ تر سکھ ہیں‘ پر مودی سرکار نے یہ الزامات عائد کرنا شروع کر دیے کہ یہ خالصتان تحریک کے ممبران ہیں اور انہوں نے خالصتان زندہ باد کے نعرے لگائے ہیں جبکہ کسانوں کے مطالبات صرف زرعی قوانین سے متعلق ہیں۔ اب بھارت میں سکھوں کو غدار قرار دیا جا رہا ہے اور ان کی آواز دبانے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔ مودی سرکار پوری ڈھٹائی سے اپنی یکطرفہ زراعت پالیسی کو نافذ کرنا چاہتی ہے جس سے اس کے سرمایہ دار دوستوں کو فائدہ ہو گا اور غریب کسان تباہ ہو کر رہ جائیں گے۔ اسی لئے کسانوں کو باغی‘ غدار اور نجانے کیا کچھ ثابت کیا جا رہا ہے تاکہ ان کی عوامی حمایت کا خاتمہ کیا جا سکے۔ 26جنوری بروز منگل جو کچھ دہلی میں ہوا وہ مودی سرکار کیلئے لمحہ فکریہ ہونا چاہیے۔ کسان مودی سرکار کی اقلیت دشمنی سے اتنے نالاں ہے کہ انہوں نے بھارت کے یوم جمہوریہ پر وفاق سے علیحدگی اور آزادی کی طرف پہلا اشارہ دے دیا ہے۔ بھارتی کسانوں نے لال قلعہ ''فتح‘‘کرکے اس پر اپنا پرچم ''نشان صاحب‘‘ لہرا دیا۔ نشان صاحب سکھوں کا مقدس مذہبی پرچم ہے‘ عمومی طور پر یہ پرچم سکھوں کے گوردواروں پر لہرایا جاتا ہے۔ خالصتان کا پرچم بھی اس سے ملتا جلتا ہے؛ تاہم وہ چوکور شکل کا ہے تکونی نہیں۔ جو پرچم لال قَلعہ پر لہرایا گیا وہ تکونی نارنجی تھا جس پر سکھوں کی دو دھاری تلوار بنی ہوئی تھی؛ تاہم اس مذہبی پرچم کا بھی بھارت کے یومِ جمہوریہ پر اہم تاریخی عمارت لال قلعہ پر لہرایا جانا مودی سرکار کی ان پالیسیوں کی قلعی کھول دیتا ہے جو اس نے اقلیتوں کی نسل کشی کے لئے اپنا رکھی ہیں۔ اب ہندوتوا کا اصل چہرہ بے نقاب ہو چکا ہے اور کشمیریوں کے علاوہ دیگر اقلیتیں بھی مزاحمت پر اتر آئی ہیں۔ اگر مودی سرکار نے اسی طرح طاقت کے بل پر عوام کو کچلنے کی پالیسی جاری رکھی تو وہ دن دور نہیں جب مودی سرکار کا تختہ الٹ دیا جائے گا اور جہاں جہاں بھارت میں علیحدگی کی تحاریک چل رہی ہیں‘ وہاں آزاد ریاستیں قائم ہو جائیں گی جس کی ابتدا خالصتان سے ہو گی۔ یہ سب اسلحہ، ایٹمی میزائل، رافیل طیارے اُس وقت کسی کام کے نہیں رہتے جب عوام ریاست کے خلاف اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ مودی حکومت کو سقوطِ ماسکو سے سبق سیکھنا چاہیے اور یہ علم ہونا چاہیے کہ جب سوویت یونین ٹکڑوں میں تقسیم ہوا تو اس وقت وہ دنیا کی سپر پاور سمجھا جاتا تھا اور پوری دنیا میں سب سے زیادہ ایٹمی ہتھیاروں کا مالک تھا۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved