تحریر : مفتی منیب الرحمٰن تاریخ اشاعت     06-02-2021

رخصت وعزیمت… (2)

گزشتہ کالم میں آپ پڑھ چکے ہیں کہ شریعتِ اسلامیہ نے اپنے پیروکاروں اور ماننے والوں کی سہولت و آسانی اور ناقابلِ برداشت صعوبت و مشقت سے بچائو کی خاطر متعدد احکامات میں رخصت کا پہلو رکھا ہے۔ رخصت کا تعلق بندگانِ خدا کی مجبوریوں اور اَعذار کے ساتھ ہے، نیز شرعی احکام میں رخصت عطا کرنے کا مقصد بندوں کو تخفیف و سہولت پہنچانا ہے، اس کی مختلف صورتیں ہیں: (۱) یعنی کسی حکم کو بالکل ہی ساقط اور معاف کر دیا جائے جیسا کہ بیماری و بعض دیگر اَعذار کی وجہ سے باجماعت نماز کے وجوب کا ساقط ہونا یاجو شخص کسی بھی صورت میں کھڑے ہوکر یا بیٹھ کر یا اشارے سے نماز ادا کرنے پر قادر نہ ہو، اس سے نماز کی ادا کا ساقط ہونا، (۲) واجب کی مقدار میں کمی کر کے رخصت دی جائے، مثلاً: چار رکعت والی نماز کو سفر میں دو پڑھنا، (۳) ایک حکم کی جگہ دوسرا آسان حکم دے کر رخصت فراہم کرنا، جیسے پانی پر قدرت نہ ہونے کی وجہ سے وضو اور غسل کی جگہ تیمم کا حکم یا قیام سے عاجز شخص کو بیٹھ کر نماز پڑھنے کی رخصت اور جو بیٹھ کر سجدہ کرنے سے عاجز ہو، اُسے اشارے سے سجدہ کرنے کی رخصت، (۴) کسی کام کو اس کے مقررہ وقت سے موخر کرنے کی رخصت، مثلاً: مریض یا مسافر کے لیے رمضان کے چھوٹے ہوئے روزوں کی بعد میں قضا کی رخصت۔
چونکہ رخصت کا تعلق اَعذار اور مجبوریوں کے ساتھ ہے اور اَعذارکی مختلف اقسام ہیں، سو اس بنا پر رخصت کی بھی متعدد اقسام ہیں، البتہ بنیادی اعتبار سے رخصت کی دو قسمیں ہیں: (۱) بقائے حرمت کے ساتھ فعل کی رخصت، (۲) تغیرِ صفت کے ساتھ فعل کی رخصت۔ بقائے حرمت کے ساتھ رخصتِ فعل کا مطلب یہ ہے کہ جس فعل کو شریعت نے عام اور معمول کے حالات میں حرام و ناجائز قرار دیا ہے، مجبوری اور عذر کی صورت میں بھی اُس فعل کی حرمت اپنے حال پر باقی رہے، لیکن اس کے باوجود شریعت نے اس فعل کے ارتکاب کی رخصت و اجازت دی ہو، لہٰذا اگر کوئی شخص شرعی عذر اور مجبوری کی حالت میں اس فعل کا ارتکاب کر لیتا ہے تواس پر کوئی گناہ اور مواخذہ نہیں ہو گا، لیکن اگر رخصت کے باوجود کوئی شخص عزیمت پر عمل کرتے ہوئے اس فعل حرام کا ارتکاب نہ کرے اور اس بنا پر اُسے جانی یا مالی نقصان سے دوچار ہونا پڑے تو ایسا شخص اللہ تعالیٰ کے ہاں اجر و ثواب کا حق دار ہوگا، مثلاً: کسی شخص کو کلمہ کفر کہنے پر اس حد تک مجبور کیا گیا کہ انکار کی صورت میں اُسے اپنی جان یا اپنے کسی عضو کے تلف ہو جانے کا ظنِّ غالب ہو تو ایسے شخص کو شریعت نے یہ اجازت دی ہے کہ وہ محض زبان سے کلمہ کفر کہہ دے؛ البتہ قلبی طور پر ایمان پر ثابت وقائم رہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ''جس نے ایمان لانے کے بعد اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ کفر کیا، ماسوائے اس کے کہ اُسے مجبور کیا گیا ہو، جبکہ اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو‘‘ (النحل:106)۔ اِس آیت کے شانِ نزول کے متعلق مفسرینِ کرام نے لکھا ہے: ''مشرکین نے حضرت عمار، اُن کے والد حضرت یاسر، والدہ حضرت سُمیّہ، حضرت صہیب، حضرت بلال، حضرت خباب اور حضرت سالم رضی اللہ عنہم کو پکڑ کر انہیں بدترین ظلم و ستم اور تشدد کا نشانہ بنایا، بوڑھی اور کمزور حضرت سمیہؓ کی ٹانگوں کو دو اونٹوں کے ساتھ باندھ کر اُنہیں مخالف سَمت میں دوڑایا اور اُن کے نازک اعضا میں نیزہ گھونپ کر اُنہیں شہید کر دیا، حضرت یاسرؓ کو بھی شہید کر دیا، یہ دونوں اسلام کے پہلے شہید تھے۔
قتادہؓ بیان کرتے ہیں: مغیرہ کے بیٹوں نے عمارؓ کو پکڑا اور اُن کو بئر میمون میں ڈالا اور کہا: محمد(ﷺ) کا انکار کرو، وہ ظلم کو برداشت نہ کر سکے اور اِکراہ کے ساتھ یہ کلمات کہے۔ رسول اللہﷺ کو اطلاع ملی کہ عمار نے کفر کیا ہے، آپﷺ نے فرمایا: ہرگز نہیں! عمارؓ سر کی چوٹی سے لے کر پائوں کے تلووں تک ایمان سے معمور ہے، ایمان اُن کے گوشت اور خون میں رچا بسا ہے۔ اس دوران عمارؓ روتے ہوئے رسول اللہﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے، آپﷺ نے فرمایا: عمار تمہارے پیچھے کیا ہے؟ انہوں نے عرض کی: یارسول اللہﷺ! بہت برا ہے۔ آپﷺ نے فرمایا: تمہارے دل کی کیفیت کیا ہے؟ انہوں نے عرض کی: ایمان پر مطمئن ہے۔ نبی کریمﷺ نے اُن کے آنسو پونچھے اور فرمایا: اگر دوبارہ ایسی صورتِ حال کا سامنا ہو، تو ناگواری کے ساتھ اسی رخصت پر عمل کرنا‘‘ (تفسیر مظہری، ج:5، ص:376)۔ پس حضرت یاسرؓ اور حضرت سمیہؓ نے عزیمت کی راہ منتخب فرمائی اور صاحبانِ عزیمت کے لیے منارہ نور بن گئے، حضرت عمارؓ نے رخصت کی راہ اختیار فرمائی اور کم ہمت لوگوں کے لیے رخصت کی صورت نکل آئی۔
صفتِ تغییر کے ساتھ فعل کی رخصت کا مطلب یہ ہے کہ جس فعل کو شریعت نے عام اور معمول کے حالات میں حرام قرار دیا ہے، اضطرارکی صورت میں اس کی صفت تبدیل ہو جائے اور وہ فعلِ حرام حلال و مباح ہو جائے، مثلاً عام حالات میں مُردار، بہتے خون اور خنزیر کی حرمت قرآنِ مجید کی نصِ قطعی سے ثابت ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ''اللہ نے تم پر صرف مردار، (ذبح کے و قت رگوں سے بہنے والا) خون، خنزیر کا گوشت اور وہ جانور جو غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا گیا ہو، حرام کیا ہے، لیکن جو بھوک سے مجبور ہو، نہ وہ چاہت سے کھائے اور نہ (بقائے جان کی حد سے) تجاوز کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں، بے شک اللہ بہت بخشنے والا مہربان ہے‘‘ (البقرۃ:173)۔
پس اگر کوئی شخص انتہائی درجے میں بھوک اور پیاس میں مبتلا ہے، اُسے اپنی ہلاکت کا ظنِّ غالب ہے اور اُس کے پاس شراب، خنزیر یا مردار کے علاوہ کوئی ایسی حلال شے موجود نہیں کہ جس سے اپنی بھوک و پیاس مٹا کر بقائے حیات کا اہتمام کر سکے، تو ایسے شخص کے حق میں ان کی حرمت ساقط ہے اور اُس کے لیے جان بچانے کی حد تک شراب یا خنزیر و مردار کے ذریعے اپنی پیاس بجھانا اور بھوک کو مٹانا مباح ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص عزیمت پر عمل کرتے ہوئے ان چیزوں کو استعمال نہ کرے اور بھوک و پیاس کی شدت سے مر جائے تو وہ گناہ گار ہوگا اور اس کا یہ فعل خودکشی کے مترادف ہو گا، کیونکہ یہ چیزیں اس کے حق میں مباح ہو چکی ہیں اور مباح چیزوں کے ذریعے جان بچانا یعنی رخصت پر عمل کرنا فرض ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ''اپنے آپ کوقتل نہ کرو، بیشک اللہ تعالیٰ تم پر بہت مہربان ہے‘‘ (النساء :29)۔
اِسی طرح رمضان کا روزہ فرض ہے، لیکن اگر کسی شخص کو روزہ رکھنے کی وجہ سے مرض لاحق ہونے یا اُس کے بڑھ جانے کا ظنِّ غالب ہو تو اس کے لیے روزہ رکھنا ممنوع ہے اور اگر وہ روزہ رکھے تو گناہ گار ہو گا۔ ایک مرتبہ دورانِ سفر نبی کریمﷺ نے کچھ لوگوں کی بھیڑ دیکھی، آپﷺ نے دیکھا ایک شخص بے خود پڑا ہے اورکچھ لوگوں نے اس پر سایہ کر رکھا ہے۔ آپﷺ نے پوچھا: اِسے کیا ہوا ہے؟ صحابہ نے بتایا: یہ روزے کی حالت میں ہے اور اس پر روزہ دشوار ہو گیا ہے۔ یہ سن کر آپﷺ نے فرمایا: سفر میں روزہ رکھنا کوئی نیکی نہیں ہے‘‘ (بخاری:1946)۔ حضرت جابرؓ بیان کرتے ہیں: ''رسول اللہﷺ فتحِ مکہ کے سال مکّہ معظمہ جانے کے لیے روانہ ہوئے، آپﷺ نے کراع الغمیم (نامی جگہ) پہنچنے تک روزہ رکھا اور صحابہ نے بھی آپﷺ کے ساتھ روزہ رکھا۔ نبی کریمﷺ سے عرض کی گئی: صحابہ پر روزہ دشوار ہو گیا ہے، وہ آپﷺ کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ کیا کرتے ہیں، پس آپﷺ نے عصر کے بعد پانی کا پیالہ منگوایا اور پی لیا لوگ آپﷺ کو دیکھ رہے تھے۔ بعض لوگوں نے تو روزہ توڑ دیا اور کچھ روزے سے ہی رہے۔ پس آپﷺ کو یہ اطلاع پہنچی کہ کچھ لوگ روزے سے ہیں، آپﷺ نے فرمایا: وہ لوگ نافرمان ہیں‘‘ (صحیح مسلم:1114)، ایک اور حدیث میں ہے، آپﷺ نے فرمایا: ''آج روزہ چھوڑنے والے روزہ رکھنے والوں پر اجر کمانے میں سبقت لے گئے‘‘ (بخاری:2890)۔ آپﷺ نے روزہ رکھنے والوں پر یہ عتاب اس لیے فرمایا کہ یہ جہاد کا سفر تھا اوردشمن سے تصادم کا امکان تھا، ایسے میں مجاہد کا تازہ دم رہنا ضروری ہے۔
جہاں تک رخصت کے اسباب کا تعلق ہے تو قطعیت کے ساتھ ان کی تعیین نہایت دشوار امر ہے، البتہ فقہائے کرام نے بعض ایسے اسباب و عوارض بیان کیے ہیں جو عمومی طور پر شرعی احکام میں رخصت و سہولت کا سبب بنتے ہیں، اُن میں سے ایک بڑا سبب مرض ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ''نہ نابینا پر کوئی حرج ہے، نہ معذور پر اور نہ بیمار پر کوئی حرج ہے‘‘ (النور:61)۔ مرض کی وجہ سے عبادات و دیگر احکام میں رخصت و سہولت پیدا ہو جاتی ہے، (۱) اگر مرض کی وجہ سے کوئی شخص پانی کے استعمال سے قاصر ہو، وضو یا غسل کرنے کی صورت میں اُسے جان جانے یا کسی عضو کے ناکارہ ہو جانے کا ظنِّ غالب ہو تو ایسی صورت میں وضو کے بجائے تیمم کرنے کی رخصت و اجازت ہے۔ (۲) اگر کسی عضو کے ٹوٹنے یا زخمی ہونے کی وجہ سے اس پر پٹی بندھی ہو تو وضو یا غسل میں اُس عضو کو دھونے کے بجائے اُس پر مسح کرنے کی رخصت ہے۔ (۳) جو شخص بیماری کی وجہ سے کھڑے ہو کر نماز اداکرنے سے قاصر ہے تو اُس سے قیام کی فرضیت ساقط ہے، اُسے بیٹھ کر نماز پڑھنے کی رخصت ہے، اگربیٹھ کر نماز پڑھنے سے بھی عاجز ہو تو اشارے کے ساتھ رکوع و سجدہ کرکے نماز پڑھے اوراشارے سے بھی نماز پڑھنے سے عاجز ہو تو اُس کے ذمے سے نمازکی ادا ساقط ہے۔ (۴) رمضان کا روزہ فرض ہے، لیکن جو شخص بیمار ہے یا روزہ رکھنے کی صورت میں مرض کے بڑھنے کا اندیشہ ہے تو اُسے روزہ چھوڑنے کی رخصت ہے، صحت کے بعد اس کی قضا کرنا ہو گی۔ (۵) ایسا معمر شخص جو روزہ رکھنے سے عاجز ہو، اس سے روزہ ساقط ہے، وہ روزوں کے بدلے فدیہ ادا کرے۔ (۶) جس شخص پر حج فرض ہو چکا ہو اور وہ بیماری یا معذوری کی وجہ سے حج ادا کرنے سے عاجز ہو جائے تو اُسے یہ رخصت حاصل ہے کہ خود حج پر نہ جائے، اپنی طرف سے کسی کو بھیج کر حج بدل کرائے۔ (۷) حج و عمرے کی نیت سے احرام باندھنے کے بعد کسی بیماری کا شکار ہو جائے اور حج و عمرہ ادا کرنے سے عاجز ہو جائے تو اُسے یہ رخصت حاصل ہے کہ اپنی طرف سے حرم میں قربانی کرانے کے بعد احرام کی پابندیوں سے آزاد ہو جائے، البتہ بعد میں قضا لازم ہوگی۔ (۷) کسی بیماری کی وجہ سے ممنوعات کا ارتکاب کرنے پر فدیہ ادا کرنے سے اس کی تلافی ہو جاتی ہے۔ (۸) علاج کی غرض سے طبیب کا مرد یا عورت کے پوشیدہ حصوں کو بقدرِ ضرورت دیکھنا۔ (۹) ایک قول کے مطابق‘ بیماری کی وجہ سے خدا ترس ڈاکٹر کے مشورے پر حرام و نجس اشیا سے علاج کرانے کی بھی رخصت ہے، بشرطیکہ علاج کے لیے کوئی حلال چیز میسر نہ ہو۔
رخصت کا ایک سبب سفر ہے، اس کی وجہ سے کئی احکامات میں سہولت و آسانی پیدا ہوتی ہے، مثلاً: (۱) حالتِ سفر میں چار رکعت والی نماز میں قصر کی رخصت، (۲) دورانِ سفر چلتی سواری پر نفل نماز کا جواز، خواہ رخ کسی بھی طرف ہو، (۳) مسافر پر نمازِ جمعہ کی فرضیت ساقط ہے، اُسے رخصت ہے کہ نمازِ جمعہ ادا کرے یا ظہر کی نماز پڑھے، (۴) حالتِ سفر میں روزہ نہ رکھنے کی رخصت، ان اسباب کے علاوہ ضرورت، دفعِ حرج اور جہل و نسیان بھی ایسے عوارض ہیں جن کی وجہ سے بعض احکامات میں تخفیف وآسانی پیدا ہوجاتی ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved