تحریر : منیر احمد بلوچ تاریخ اشاعت     16-02-2021

پرچم کی سربلندی دیکھئے

ہمارا پرچم...یہ پیارا پرچم...یہ پرچموں میں عظیم پرچم... عطائے ربِ کریم پرچم۔
یہ سبز ہلالی پرچم جب کھیلوں کے میدان یا کسی بھی فیلڈ میں لہرایا جاتا ہے، پاکستان کو ٹاپ پوزیشنز ملنے پر دنیا کے مختلف ممالک کی سر زمین پر یہ پرچم بلند ہوتا اور قومی ترانہ گایا جاتا ہے تو یہ منظر دیکھنے والے ہر اُس پاکستانی کا سر فخر سے بلند ہو جاتا ہے جس کے اندر پاکستان بستا ہے۔ پاکستان کے اندر بسنے والوں کا دل قومی پرچم کی سربلندی دیکھ کر ضروری نہیں کہ اسی طرح خوش ہو جس طرح ایسے افراد کا دل خوشی سے نہال ہو جاتا ہے جن کے اندر پاکستان بستا ہے۔ یہی وہ بنیادی فرق ہے جو سیاست، تجارت اور معاشرت کے میدان میں بھی ایسے لوگوں کی تفریق کر دیتا ہے کہ کون پاکستان میں بستا ہے اور کن کے اندر پاکستان بستا ہے۔ افسوس کہ آج پاکستان یعنی ملک سے محبت کا معیار لوگوں کی پسندیدہ دھڑے بندیوں اور سیاست کی فرقہ واریت کی نذر ہو چکا ہے۔ بد قسمتی دیکھئے کہ صورت حال یہ ہو چکی ہے کہ اگر کسی کے پسندیدہ لیڈر کے مقابلے میں مخالف سیاستدان یا لیڈر کے عرصۂ اقتدار میں پاکستان سے متعلق کوئی اچھی خبر سننے یا دیکھنے کو ملے تو سب سے پہلے تو کوشش یہ ہوتی ہے کہ اس خبر کو جھوٹ ثابت کر دیا جائے اور اگر ہر زاویے سے یہ خبر درست ہو تو وہ ا س طرح منہ بسور کر بیٹھ جاتے ہیں جیسے یہ کوئی بری خبر ہو۔
ذوالفقار علی بھٹو کے دورِ حکومت میں پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی بنیاد استوار کی گئی، جنرل ضیاء الحق کے دور میں پاکستان ایٹم بم کی صلاحیت حاصل کرنے میں کامیاب ہوا اور میاں نواز شریف کے دوسرے دور کو ایٹمی دھماکے کرنے کا اعزاز ملا۔ اب پاکستان کے ایٹمی قوت ہونے کا کریڈٹ اپنے مخصوص پسندیدہ سیاستدانوں کو دیا جاتا ہے جیسے محض انہی افراد کی وجہ سے ہم ایٹمی قوت بنے ہیں حالانکہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام پاکستان کے ہر حکمران کی دن رات کی محنت اور عوام کی قربانیوں کا مرہونِ منت ہے اور اگر اس کا کریڈٹ دینا ہے تو ان گمنام سپاہیوں کو بھی یاد کیجیے جنہوں نے اپنی جان پر کھیل کر اس پروگرام کی حفاظت کی اور جو اس کے لیے ضروری چیزوں کی ترسیل کے دوران تاریک راہوں میں مارے گئے۔
اس وقت پاکستان کو درپیش سیاسی، سماجی اور معاشی مسائل اور مشکلات کے با وجود بین الاقوامی شہرت رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر بننے والے تاثرات اور درجہ بندیوں کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ اس وقت پاکستان کی صورت حال میں بہت بہتری آ رہی ہے۔ سرمایہ کاری کے ماحول کے حوالے سے پاکستان کا 130ویں درجے سے اوپر اٹھ کر 72ویں مقام تک پہنچ جانا کیا ملک کے نوجونوں کیلئے اچھی اور حوصلہ افزا خبر نہیں ہے؟ عالمی بینک کی حال ہی میں جاری کی گئی رپورٹ اس کی تصدیق کرتے ہوئے سب کو بتا رہی ہے کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کا ماحول اس قدر بہتر اور سازگار ہو چلا ہے کہ جنوبی ایشیا میں پاکستان دوسرے نمبر پر جبکہ دنیا بھر میں 72ویں نمبر پر ہے اور اگر عالمی ریکارڈ چیک کیا جائے تو پاکستان کو یہ پوزیشن دو‘ چار سال نہیں بلکہ 30 برسوں بعد نصیب ہوئی ہے۔ کیا یہ ہم سب کیلئے نعمتِ خداوندی نہیں کہ ہمارے اعمال کی جانب دیکھنے کے بجائے اللہ نے ہم پر اتنا بڑا کرم کر دیا ہے کہ دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کو پاکستان کا رخ کرنے کی ترغیب کوئی عام شخص یا ادارہ نہیں بلکہ عالمی بینک دے رہا ہے۔
ممکن ہے کہ اسے معمولی بات سمجھ کر نظر انداز کر دیا جائے یا اس پر بھی کوئی ہنسی اڑانا شروع کر دے لیکن دوسری طرف بھی حالات دیکھیں کہ 20 برسوں بعد کراچی کی سرکلر ریلوے کی بحالی ہو رہی ہے، سات برسوں سے پاکستان سٹیل ملز جو پوری معیشت پر بوجھ بن چکی تھی، اس کے سیاسی رشوت کے طور پر بھرتی کئے گئے لاتعداد ملازمین سمیت ہزاروں ہنرمندوں اور دوسرا عملہ جو جسٹس افتخار چودھری کی جانب سے اس کی نجکاری منسوخ کیے جانے کی وجہ سے کبھی تین تو کبھی چار چار ماہ تک تنخواہوں کا انتظار کرتا رہتا تھا‘ اب ان تمام ملازمین کو ان کے ہر قسم کے واجب الادا واجبات کی ادائیگی کر دی گئی ہے۔ تیرہ برس بعد پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری‘ جو جزوی طور پر کام تو کر رہی تھی لیکن ملک کے اندر حالات سازگار نہ ہونے کی وجہ سے دنیا بھر میں بکھر چکی تھی‘ اب نہ صرف بھرپور طریقے سے کام کرنے لگ گئی ہے بلکہ اس سے کثیر زرمبادلہ کے علاوہ روزگار کا سلسلہ بھی بحال ہوا ہے۔ گزشتہ آٹھ برسوں کا ریکارڈ اور شواہد دیکھیں تو ان کے مقابلے میں عمران خان کے ڈھائی سالہ دورِ حکومت میں پاکستان کا ایکسپورٹ گروتھ ریٹ زیادہ رہا ہے۔ وہ ملک جو اس سے پہلے تیزی سے درآمدات کی منڈی بنتا جا رہا تھا‘ اب برآمدات کے حوالے سے ابھر کر سامنے آ رہا ہے۔ 20 برسوں کے بعد ہی سہی‘ قدرت نے یہ اعزاز بھی پاکستان کے نام کر دیا کہ کرنٹ اکائونٹ خسارہ ختم ہو گیا ہے۔ یہ ساری باتیں کوئی کہانی یا فسانہ نہیں ہیں بلکہ گوگل پر ان کی تصدیق کی جا سکتی ہیں۔
وزیراعظم عمران خان کی سربراہی میں رواں مالی سال کے پہلے چھ ماہ میں برطانیہ کو پاکستان کی ایکسپورٹ ریکارڈ 1.2 بلین پائونڈز تک جا پہنچیں۔ یہ بھی جان لیجئے کہ اس حوالے سے کوئی گزشتہ ریکارڈ نہیں ٹوٹا بلکہ یہ اعزاز پاکستان کو 74 برسوں میں پہلی بار نصیب ہوا ہے۔ اس وقت جس طرح مسئلہ کشمیر پر بھارت دنیا بھر کے سامنے ایکسپوز ہو رہا ہے‘ وہ گزشتہ تیس برسوں میں نہیں ہو سکا تھا۔ 15 برسوں سے بھارت جعلی آئی ڈیز، جعلی این جی اوز، برسوں پہلے رخصت ہو جانے والی مشہور بین الاقوامی شخصیات کے ناموں کو ڈھٹائی اور فراڈ سے بین الاقوامی فورمز پر استعمال کرتے ہوئے پاکستان اور اس کے اداروں کے خلاف جھوٹی اور جعلی پروپیگنڈا مہم چلا رہا تھا، اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اس کی برسوں سے کی جانے والی ان تمام جعل سازوں کا یورپی ممالک کے ہاتھوں پردہ چاک کروا کر دنیا بھر کے سامنے اس کی رسوائی کا سامان کر دیا اور اب اسے منہ چھپانے کو جگہ نہیں مل رہی۔ اس سلسلے میں یورپی یونین ڈس انفو لیب نے بدنام زمانہ انڈین کرونیکلز کے عنوان سے جاری کردہ رپورٹ میں پاکستان کے خلاف وقفے وقفے سے چلائے گئے من گھڑت قصے بوسیدہ اوراق میں تبدیل کر کے رکھ دیے ہیں۔ اندرونِ ملک بھی اس کا نیٹ ورک خاصا کمزور پڑ چکا ہے اور کئی لوگ اپنے ضمیر کے بوجھ کے سبب یہ اعتراف کر چکے ہیں کہ وہ ماضی میں بھارت کے ہاتھوں میں کھیلتے رہے۔
نیب نے موجودہ حکومت کے دو برسوں میں 389 ارب روپوں کی ریکارڈ ریکوری کی ہے جبکہ گزشتہ دو حکومتوں کے دس سالہ عرصہ اقتدار میں صرف 104 ارب روپے ریکور ہو سکے تھے۔ پنجاب اینٹی کرپشن میں ہونے والی انقلابی تبدیلیوں کی بات نہ کی جائے تو یہ زیادتی ہو گی کیونکہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ اداروں کو سیاسی جوڑ توڑ کے بجائے قومی اداروں کی حیثیت سے کام کرنے کا ٹاسک دیا گیا ہے۔ 27 ماہ میں اس ادارے نے ریکارڈ 206 ارب روپوں کی ریکوری کی ہے۔ اس سے پہلے گزشتہ بیس برسوں میں صرف 43 کروڑ روپے ریکور ہو پائے تھے۔
لاہور کو بھی ایک عالمی اعزاز حال ہی میں نصیب ہوا ہے، امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اس شہر کو دنیا کے 52 بہترین سیاحتی مقامات کی فہرست میں شامل کر لیا ہے۔ گلوبل فائر پاور جیسے کنسورشیم اور تھنک ٹینک نے2021ء کے جاری کردہ انڈیکس میں انٹرنیشنل ملٹری سٹرینتھ کی درجہ بندی کا تعین کرتے ہوئے پاکستان کو اس سال دنیا کے دسویں طاقتور ملک کا درجہ دیا ہے جبکہ اس سے پہلے پاکستان اس درجہ بندی میں 15ویں پوزیشن پر تھا۔ یہ اعزاز بھی پاکستان کو تیس برسوں کے بعد حاصل ہوا ہے۔ پاکستان کے بائیس کروڑ عوام کو اللہ کے عطا کردہ ہر انعام پر اس کا شکر گزار ہونا چاہئے اور سیاسی اختلافات کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے اس پرچم کی سربلندی پر نظر ڈالنی چاہئے کہ جو دنیا بھر میں ہماری پہچان کا واحد ذریعہ ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved