تحریر : ایم ابراہیم خان تاریخ اشاعت     19-02-2021

فکر ہو تو صرف وہاں کی

ذہن میں بہت کچھ گھر کرتا جاتا ہے اور فکری ساخت مستقل زیرِ اثر رہتی ہے۔ ہم نہ چاہیں تب بھی بہت کچھ غیر محسوس طور پر ہماری فکری ساخت کا حصہ بنتا جاتا ہے اور اگر خیال نہ رکھا جائے تو ذہن رفتہ رفتہ کباڑ خانے میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ ذہن اگر کباڑ خانے کی ہیئت اختیار کر جائے تو ہم ڈھنگ سے سوچنے کی صلاحیت کو بروئے کار لانے کے قابل نہیں رہتے۔
زندگی سی نعمت اس لیے عطا کی گئی ہے کہ سوچ سمجھ کر بسر کی جائے۔ اللہ نے ہمیں یہ نعمت عطا کرکے بہت کچھ کمانے کا موقع عطا کیا ہے۔ یہ کمائی اگلے جہان میں بھی کام آئے گی۔ یہ دنیا بھی ہمارے لیے ہے اور وہ دنیا بھی ہماری ہوگی مگر یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ یہ دنیا محض عارضی مسکن ہی نہیں، کمرۂ امتحان بھی ہے۔ شعور کی حالت میں ہم جب تک روئے ارض پر ہیں تب تک ہمیں لمحہ لمحہ امتحان کا سامنا ہے۔ خیر و شر میں سے ایک کو چننا ہے۔ عقلِ سلیم کا تقاضا ہے کہ خیر کو منتخب کرکے شر کے خلاف صف آرا ہوا جائے۔ یہی حقیقی کامیابی کی طرف لے جانے والا راستہ ہے۔ اللہ کے وجود اور صفات پر یقین رکھنے والے کسی بھی انسان کو زیبا نہیں کہ اپنے مقصدِ وجود کو بھول بیٹھے۔ دنیا کی رنگینیاں اپنی طرف صرف بلاتی نہیں بلکہ کھینچ بھی لیتی ہیں۔ جو دنیا کی رنگینیوں میں گم ہوا وہ روئے ارض پر زندگی سی نعمت کے ساتھ بھیجے جانے کا مقصد فراموش کرکے ابدی اذیت کو اپنا کر بیٹھا۔ دین سکھاتا ہے کہ ہمیں اِس دنیا میں چند روز ہی رہنا ہے۔ اِس کے بعد ہمیشگی کی زندگی ہے۔ بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی۔ دین یہ بھی بتاتا ہے کہ ہمیشگی کی زندگی سکون و راحت کی بھی ہوسکتی ہے اور پل پل اذیت کی بھی۔ یہ بھی ہمیں طے کرنا ہے کہ ہمیشگی کی یعنی اُخروی زندگی میں ہمیں کیا ملے، وہاں ہمیں کس طور رہنا ہے۔ دُنیوی زندگی کی بساط لپیٹے جانے کے بعد جب ہم اپنے خالق و مالک کے حضور پیش کیے جائیں گے تب حساب کتاب کے ذریعے طے ہوگا کہ ہمیں کیا اور کیوں ملنا چاہیے۔ ذہن نشین رہے کہ سوال صرف اعمال کا نہیں، نیتوں کا بھی ہے۔ اچھا یا بُرا صلہ صرف اعمال کا نہیں، نیتوں کا بھی ملے گا۔ دنیا میں گم ہوکر اپنے مقصدِ وجود کو بھلا بیٹھنا بہت آسان ہے۔ بیشتر کا یہی حال ہے۔ دنیا کی رنگینیاں ہیں ہی ایسی کہ اگر کوئی دل و دماغ کو ڈھیلا چھوڑ دے تو سمجھیے سب کچھ ہاتھ سے گیا۔ دُنیوی رنگینیوں کی چکاچوند انسان کی آنکھوں کو خیرہ کیے دیتی ہے۔ جس نے حواس کو ڈھیلا چھوڑا، عقل کا دامن تھام کر دانش کی منزل تک پہنچنے کی کوشش سے بے بہرہ رہا اُس نے اپنے لیے ابدی عقوبت کا سامان کیا۔
دانا کون ہے؟ صرف وہ جس نے اِس دنیا کو رین بسیرا سمجھا اور اس بات کے لیے تیار رہا کہ صبح ہو اور رختِ سفر باندھے۔ جہاں قیام ہے ہی یکسر عارضی وہاں دل کیا لگانا؟ دینی تعلیمات کا عرق یہ ہے کہ انسان روئے ارض پر اپنے قیام کی نوعیت سے بخوبی واقف ہو اور اپنے حقیقی خالق و مالک سے لَو لگائے۔ خالص انسانی عقل یا دانش بھی یہی کہتی ہے کہ ایسا کچھ نہ کیا جائے جس کی جوابدہی ضمیر کی شکل میں مستقل خلش کا سامان ہو۔ ذہن کے پردے پر سوال ابھر سکتا ہے کہ اگر اُخروی زندگی ہی سب کچھ ہے تو پھر اِس دنیا کا کیا؟ کوئی یہاں کیوں دل لگائے؟ جب دل ہی نہ لگایا جائے تو یہاں کے فکر و عمل کا کیا؟ اور حساب کتاب کس کھاتے میں؟ بس یہی وہ منزل ہے جہاں انسان غُچّہ کھا جاتا ہے۔ شیطان گام گام ساتھ چلتا ہے اور ہمیں دنیا و آخرت کے مابین فرق کے حوالے سے بھی ورغلاتا رہتا ہے۔ بہت سوں کو شیطان نے یہ کہتے ہوئے ورغلایا کہ جب اِس دنیا میں قیام کی کچھ حقیقت ہے ہی نہیں تو پھر یہاں کسی بھی انسان یا کسی بھی چیز سے دل کا لگانا کیا۔ یہ فکری کجی انسان کو رہبانیت یعنی ترکِ دنیا کی طرف لے جاتی ہے۔ دین ہمیں دنیا سے دل لگانے کے معاملے میں خبردار بھی کرتا ہے اور ترکِ دنیا سے بھی روکتا ہے۔ زندگی سب کے ساتھ، سب کے درمیان رہتے ہوئے گزارنی ہے۔
زندگی صرف گزارنی ہے؟ جی نہیں! اللہ کی طرف سے بخشی ہوئی سانسوں کی گنتی تو حیوانات بھی پوری کرتے ہیں۔ اُن میں شعور نہیں، صرف جبلّت ہے اِس لیے اُن سے کچھ نہیں پوچھا جائے گا۔ حساب کتاب کا مرحلہ تو ہمارے لیے ہے کیونکہ ہمیں محض سانسیں نہیں دی گئیں بلکہ حواس بھی عطا کیے گئے ہیں، حواس کی مدد سے حاصل شدہ معلومات کا تجزیہ کرنے والی عقل بھی دی گئی ہے اور ڈھنگ سے بروئے کار لائے جانے پر عقل ہمیں دانش کی منزل تک لے جاتی ہے جس کی مدد سے زندگی کا معیار بلند کرنا ممکن ہو پاتا ہے۔ شیطان کبھی سکون کا سانس نہیں لیتا، اُس کا کام صرف ورغلانا ہے۔ وہ انسان کو ہزار طریقوں سے ورغلاسکتا ہے۔ جو اُس کے دام میں آسانی سے آجائیں اُنہیں وہ اِس دنیا سے بھرپور تمتع پر مائل کرتا ہے اور پھر دنیا ہی کے پُرکشش پانیوں میں ڈبوکر مرتے دم تک ابھرنے نہیں دیتا۔ دنیا کو ایک طرف ہٹاکر دین کی راہ پر گامزن رہنے والوں پر شیطان کا التفات خصوصی نوعیت کا ہوتا ہے۔ دین کی راہ پر گامزن رہنے والوں کو بہکانے کا کوئی اور راستہ نہیں سُوجھتا تو شیطان اُنہیں علم و تقویٰ کے تکبر میں مبتلا کرکے خسارے کے گھاٹ اتارتا ہے اور واپسی کی گنجائش ختم کردیتا ہے۔
ہمیں لمحہ لمحہ، گام گام اس احساس کو زندہ رکھنا ہے کہ دُنیوی زندگی اگرچہ اپنی اصل کے اعتبار سے اپنے آپ میں کچھ بھی نہیں مگر سوچیے تو یہی وہ زندگی ہے جس کی بنیاد پر ہماری اُخروی زندگی کی حتمی نوعیت کا تعین ہوگا۔ روئے ارض پر خالص عارضی قیام کے دوران ہمیں ایک ایک پل اللہ کی اطاعت میں بسر کرنا ہے۔ بے دِلی یا بے حسی کے ساتھ جینے کی صورت میں ہم فکر و عمل کی یہ مہلت ضائع کر بیٹھیں گے۔ شیطان یہی چاہتا ہے۔ وہ ہمارے دل و دماغ کو کچوکے لگاتا رہتا ہے کہ یا تو دنیا میں گم ہو جاؤ یا پھر اِس دنیا کو بالکل ترک کردو۔ وہ ہمیں کسی ایک انتہا کی نذر کرنا چاہتا ہے۔ اِسی میں اُس کی کامیابی مضمر ہے۔ ہمیں توازن برقرار رکھنا ہے۔ جب تک ہم دنیا میں ہیں تب تک دنیا سے بیزار بھی نہیں ہونا اور دنیا کی رنگینیوں کے سامنے بے عقلی کے ساتھ ہتھیار بھی نہیں ڈالنے۔ بَین بَین چلنا ہے یعنی گناہوں سے بچنا بھی ہے اور نیکیوں کی طرف مائل ہونے کی گنجائش بھی برقرار رکھنی ہے۔
اللہ کی رضا کی خاطر ہمیں جو کچھ بھی کرنا ہے وہ اللہ کے بخشے ہوئے احکام کی روشنی ہی میں کرنا ہے۔ دنیا کو جہاں تک قبول کرنا ہے ذاتِ باری تعالیٰ کے لیے کرنا ہے اور جہاں تک ترک کرنا ہے صرف ذاتِ باری تعالیٰ ہی کے لیے کرنا ہے۔ اُخروی زندگی پر نظر رکھنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اِس دنیا سے بے نیازی برتی جائے یا اِسے بھلاکر ایک طرف ہٹادیا جائے۔ اس عارضی مسکن میں قیام کے دوران ہم جو کچھ سوچیں گے اور کریں گے اُسی کی بنیاد پر آخرت میں ہمارے لیے حتمی فیصلہ ہوگا۔ جب فیصلہ دُنیوی زندگی کے فکر و عمل کی بنیاد پر ہونا ہے تو اِس زندگی کو نظر انداز کرنے کی گنجائش کہاں رہتی ہے؟ جب تک اِس دنیا میں قیام ہے تب تک ہمیں پورے شعور کے ساتھ گناہوں سے بچنے کی کوشش کرنی ہے اور نیکیوں کی گنتی بڑھانا ہے۔ تیار رہیے کہ آپ کو اِس راہ سے ہٹانے کے لیے شیطان اپنی ساری چالیں چلے گا، سارے گھوڑے کھول دے گا۔ کسی کو اُس نے رہبانیت کے جال میں پھانس کر مارا ہے اور کسی کو تقویٰ کے تکبر کی چوکھٹ پر ''جھٹکا‘‘ کیا ہے۔ فکر وہاں کی ہونی چاہیے مگر اِس فکر کا تقاضا ہے کہ یہاں فکر و عمل کی کسوٹی پر کھرا اُترا جائے۔ یہاں کی کمائی ہی آخرت میں کام آنی ہے تو زیادہ سے زیادہ کمانے پر توجہ کیوں نہ دی جائے؟ عقلِ سلیم کا تو یہی تقاضا ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved