تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     21-02-2021

سرخیاں، متن، ’’ایک چہرہ، کئی چہرے‘‘ اور ابرار احمد

عوام نے مسلط شدہ حکومت کو مسترد کر دیا: نواز شریف
مستقل نا اہل، سزا یافتہ اور اشتہاری سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ ''عوام نے مسلط شدہ نا اہل حکومت کو مسترد کر دیا‘‘ لیکن اتنا ہی کافی نہیں ہے، جب تک وہ میری حمایت میں گھروں سے باہر نہ نکلیں گے میں یہیں پردیس میں پڑا رہوں گا، کیونکہ اگر میری سزا یابی اور نا اہلی اسی طرح ساتھ رہتی ہے تو میں واپس آ کر قوم کو تیز رفتار ترقی سے کیسے ہم کنار کر سکتا ہوں جس کے طور طریقے مجھے اچھی طرح سے یاد ہیں اور میرے ہاتھوں میں جس لیے خارش ہوتی رہتی ہے۔ آپ اگلے روز لندن میں میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔
ہر ضلع میں جا کر عوامی مسائل حل کر رہا ہوں: بزدار
وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان احمد بزدار نے کہا ہے کہ ''ہر ضلع میں جا کر عوامی مسائل حل کر رہا ہوں‘‘ جبکہ اس سے میرا اولین مقصد اضلاع کو ان آنکھوں سے دیکھنا بھی ہے کیونکہ وزیراعلیٰ بننے سے پہلے میں صرف اپنے ضلع ہی کا دیدار کر چکا تھا ۔ ویسے بھی جب تک ان اضلاع کو ایک نظر دیکھ نہ لیا جائے وہاں کے عوام کے مسائل کیونکر حل کیے جا سکتے ہیں اور میرے جانے ہی سے ہر ضلع کے رہائشیوں کی خوشی کی کوئی انتہا نہیں رہتی اور یہی ان کے مسائل کا حل بھی ہے کیونکہ ہم نے ایک دوسرے کو پہلے کبھی دیکھا ہی نہ تھا۔ آپ اگلے روز لاہور میں ایک وفد سے ملاقات کر رہے تھے۔
تمام مسائل کے حل کیلئے مارچ میں مارچ کرناہو گا: بلاول
چیئر مین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ''تمام مسائل کے حل کیلئے مارچ میں مارچ کرنا ہو گا‘‘ اور یہ بیان اس لیے دے رہا ہوں تا کہ پی ڈی ایم والوں کو یقین ہو جائے کو ہم ان کے ساتھ ہیں جبکہ پہلے ہم الیکشنوں کے بائیکاٹ اور پھر استعفوں سے انکار کر کے ان کے غبارے سے کافی ہوا نکال چکے تھے کیونکہ یہ سب کو نظر آ رہا ہے کہ حکومت کے گرنے کا اگر کوئی فائدہ ہوا تو نواز لیگ ہی کو ہوگا ۔ آپ اگلے روز عبدالباری پتافی سے ملاقات کر رہے تھے۔
جہانگیر ترین حفیظ شیخ کی جیت کیلئے کوشاں ہیں: شبلی فراز
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ ''جہانگیر ترین حفیظ شیخ کی جیت کیلئے کوشاں ہیں‘‘ جبکہ ہماری اصل پاور جہانگیر ترین ہی ہیں لیکن‘ محض اخلاقی دبائو ڈال کر ارکان اسمبلی کو قائل کریں گے اور اگر مزید اخلاقی مدد کی ضرورت ہوئی تو عبدالعلیم خان صاحب کو زحمت دی جا سکتی ہے تا کہ وہ بھی اخلاقی دبائو کے ذریعے رہی سہی کسر نکال سکیں۔ آپ اگلے روز اسلام آباد میں صحافیوں سے بات چیت کر رہے تھے۔
اپوزیشن سینیٹ الیکشن جیت گئی تو وزیراعظم
کے خلاف عدم اعتماد ہوگا: چودھری منظور
پیپلز پارٹی پنجاب کے جنرل سیکرٹری چودھری منظور احمد نے کہا ہے کہ ''اپوزیشن سینیٹ الیکشن جیت گئی تو یہ وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد ہوگا‘‘ اس لیے لانگ مارچ وغیرہ کی نوبت بھی نہیں آئے گی، اگرچہ عدم اعتماد دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس ہی میں پیش اور منظور کیا جا سکتا ہے، لیکن چونکہ عقلمند کیلئے اشارہ ہی کافی ہوتا ہے اور وزیراعظم چونکہ کافی عقلمند واقع ہوتے ہیں اس لیے امید ہے کہ وہ یہ اشارہ سمجھ جائیں گے۔ آپ اگلے روز لاہور میں صحافیوں سے بات چیت کر رہے تھے۔
ایک چہرہ، کئی چہرے
نامور امریکی صدر ابراہام لنکن صدر منتخب ہونے سے پہلے نہ صرف ہر چھوٹا بڑا الیکشن ہارتے چلے آ رہے تھے اور اپنی اہلیہ سے مار کھانے میں مشہور تھے، وہ ایک نہایت کرخت چہرے کے بھی مالک تھے۔ الیکشن مہم کے دوران ان کے حریف نے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا:بھائیو! ابراہام لنکن سے ہوشیار رہنا، اس کے کئی چہرے ہیں۔اس کے جواب میں لنکن نے ایک جلسے سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا: خواتین و حضرات ! انصاف سے بتائیے کہ اگر میرے پاس کئی چہرے ہوتے تو کیا میں یہی چہرہ استعمال کرتا؟
اور، اب آخر میں ابرار احمد کی یہ نظم:
بات کیا تجھ سے کروں
بات کیا تجھ سے کروں
دن۔۔۔۔!
کہ مرے ماتھے پر
تیری دستک کی سیاہی میں بجھے جاتے ہیں
کتنی راتوں کی اداسی میں سلگتے ہوئے
لفظوں کے اجالے جو چھپا رکھے تھے
اپنی سانسوں میں تری رہ پہ بجھانے کے لیے
دن۔۔۔۔۔!
کہ جلا ڈالے ہیں
اپنے تپتے ہوئے ہاتھوں کی کڑی سختی میں
تو نے وہ لوگ
جو کملائی جبینوں پہ اٹھا لائے تھے
ترے جھُلسے ہوئے چہرے کے لیے رنگ
ترے پائوں میں دھرنے کے لیے
دن۔۔۔۔! کہ اجالے نے ترے
کیسا اندھیر مچا رکھا ہے
بات کیا تجھ سے کروں رات
کہ آنچل میں ترے، منہ چھپائے ہوئے
گھر سوتے ہیں
شہ نشینوں پہ تری چاپ کے ساتھ
کتنی آنکھیں مرے سینے میں اُبھر آتی ہیں
تیری بے انت خاموشی کے گھنے جنگل میں
کتنے خوابوں کے خنک چاند اتر جاتے ہیں
وہ شاخوں سے تری
کوئی مہکار تلک آتی نہیں
تری آواز مجھے بھاتی نہیں
بات کیا تجھ سے کروں...۔۔۔!
کہ تھک جاتا ہوں
اور نمناک منڈیروں سے تری
میرے دن رات پھسل جاتے ہیں
تیری ممتا بھری چھاتی کی دُکھن
میرے ریشوں میں اتر جاتی ہے
اور اُڑتے ہوئے بالوں میں ترے
میری آواز بھٹک جاتی ہے
آج کا مقطع
آسماں پر کوئی تصویر بناتا ہوں، ظفرؔ
کہ رہے ایک طرف اور لگے چاروں طرف

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved