تحریر : علامہ ابتسام الہٰی ظہیر تاریخ اشاعت     24-02-2021

خیر خواہی

عصری معاشروں کا ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ خود غرضی اپنی پوری انتہا پر پہنچ چکی ہے اور خیر خواہی تقریباً مفقود ہوتی جا رہی ہے۔ لوگوں کی اکثریت فقط ذاتی مفادات پر نظر رکھتی اور دوسروں کے حقوق کو یکسر نظر انداز کر دیتی ہے۔ اسی طرح جماعتی اور گروہی معاملات ہیں۔ جماعتیں اور گروہ ملک وملت کے مفادات کے بجائے جماعتی اور گروہی مفادات کو ترجیح دیتے ہیں۔ ایثار،خلوص اور بھائی چارہ معدوم ہوتا جا رہاہے۔ عصری معاشرے ان رویوں کی وجہ سے جہاں پر اخلاقی انحطاط کا شکار ہے ہیں وہیں پر ان رویوں نے نفسیاتی عارضوں کو بڑھانے میں بھی کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
ہمارا سماجی ڈھانچہ اس حد تک اخلاقی گروٹ کا شکار ہو چکا ہے کہ سگے بہن بھائی بھی اکثروبیشتر ایک دوسرے کی خیر خواہی کے بجائے اپنے ذاتی اغراض و مقاصد کو ترجیح دیتے ہیں۔ انہی رویوں کی وجہ سے بہت سے خانگی مسائل اور تنازعات بھی جنم لیتے ہیں۔ مسلمانوں کو ان معاملات میں اللہ اور اس کے رسولﷺ کے احکامات کو سمجھنا چاہیے اور کسی دوسرے کو نقصان پہنچا کے اپنے ذاتی مفاد کو پورا کرنے کے بجائے جائز اور درست طریقے سے اپنے حق کے حصول کی جستجو کرنی چاہیے۔ اگر معاشرے میں خیرخواہی عام ہو جائے توجہاں پر خاندانی اور گھریلو جھگڑوں اور تنازعات پر قابو پایا جا سکتا ہے وہیں پر سیاسی اور سماجی سطح پر بھی بگاڑ کا خاتمہ کرنے میں معاونت بھی حاصل ہو سکتی ہے۔ اس حوالے سے کتاب وسنت کی تعلیمات بالکل واضح ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن مجید کے مختلف مقامات پر دوسرے انسانوں کے حقوق کی ادائیگی کا حکم دیا ہے۔ اس حوالے سے قرآن مجید کے چند اہم مقام درج ذیل ہیں:
اللہ تبارک وتعالیٰ سورہ نساء کی آیت نمبر 36 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''اور تم عبادت کرو اللہ تعالیٰ کی اور نہ تم شریک بناؤ اُس کے ساتھ کسی کو اور والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو اور قرابت والوں اور یتیموں کے ساتھ اور مسکینوں اور قرابت والے (رشتے دار) ہمسائے اور اجنبی ہمسائے اور پہلو کے ساتھی اور مسافر اور جس کے مالک بنے ہیں تمہارے داہنے ہاتھ (تمہارے غلام)(ان سب کے ساتھ حسن سلوک کرو)‘‘۔ اسی طرح اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورہ بقرہ میں جہاں اپنی عبادت کا ذکر کیا وہیں پر دوسرے انسانوں کے حقوق کا بھی ذکر کیا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورہ بقرہ کی آیت نمبر 83میں ارشاد فرماتے ہیں: ''اور جب ہم نے لیا بنی اسرائیل سے پختہ عہد (کہ) نہیں تم عبادت کرو گے مگر اللہ کی اور والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو گے اور قریبی رشتہ داروں اور یتیموں اور مساکین سے (بھی) اور لوگوں سے اچھی بات کہنا اور نماز قائم رکھنا اور زکوٰۃ دیتے رہنا، پھر تم پھر گئے (اپنے قول سے) مگر تھوڑے سے تم میں سے (جو اپنے قول پر قائم رہے) اور تم ہو ہی پھر جانے والے‘‘۔
اسلام میں دوسروں کے ساتھ خیر خواہی اور ان کے حقوق کی پاسداری کو اس حد تک اہمیت دی گئی ہے کہ نماز کے بعد زکوٰۃ کو اہل ایمان پر لازم کیا گیا ہے۔ اس رکن کا بنیادی مقصد معاشرے کے محروم اور مفلوک الحال طبقات سے خیرخواہی کا اظہار کرنا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے زکوٰۃ کی فرضیت کے ساتھ ساتھ انفاق فی سبیل اللہ کی بالعموم رغبت دلائی ہے اور اس حوالے سے معاشرے کے تمام محروم طبقات کے حقوق کی ادائیگی کا حکم دیا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورہ بقرہ کی آیت نمبر 215میں ارشاد فرماتے ہیں: ''وہ آپ سے پوچھتے ہیں کیا خرچ کریں‘ کہہ دیجئے کہ جو تم خرچ کرو مال میں سے تو وہ والدین کے لیے ہے اور قریبی رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہے اور جو (بھی) تم کرتے ہو کوئی بھلائی تو بے شک اللہ اس کو خوب جانتا ہے‘‘۔ اسی طرح اللہ تبارک وتعالیٰ سورہ معارج کی آیت نمبر 24 تا 25 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''اور (وہ) جن کے مالوں میں حق (حصہ) مقرر ہے مانگنے والے کا اور محروم (نہ مانگنے والے) کا‘‘۔
اسلام میں انفاق فی سبیل اللہ کے ساتھ ساتھ دیگر حوالوں سے بھی خیر خواہی کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے۔ گھریلو سطح پر بھی لوگوں کو اس بات کی تلقین کی گئی کہ وہ اپنے اہل و عیال بالخصوص اہلیہ کے ساتھ اچھائی والا معاملہ کریں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورہ نساء کی آیت نمبر 19میں ارشاد فرماتے ہیں: ''اور زندگی بسر کرو اُن کے ساتھ اچھے طریقے سے پھر اگر تم ناپسند کرو اُن کو تو ہو سکتا ہے کہ تم ناپسند کرو کسی چیز کو اور رکھ دی ہو اللہ نے اُس میں بھلائی۔‘‘
انسانوں کے ساتھ خیر خواہی کو اسلام میں اس قدر اہمیت حاصل ہے کہ شریعت میں اُس شخص کو بہترین انسان قرار دیا گیا ہے جو دوسروں کو نفع پہنچاتا ہے۔ اس حوالے سے ایک اہم حدیث درج ذیل ہے: ترغیب و ترھیب میں حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوا، اور عرض کی: اے اللہ کے رسولﷺ، اللہ کے ہاں محبوب ترین کون ہے؟ اور کون سے اعمال اللہ کو زیادہ پسند ہیں؟ آپﷺ نے فرمایا: اللہ کے نزدیک محبوب ترین وہ ہے، جو لوگوں کو زیادہ فائدہ پہنچانے والا ہے، (لوگوں کی) مشکل دور کرتاہے، قرض ادا کردیتاہے، بھوک مٹاتاہے اور کسی شخص کی ضرورت پوری کرنے کے لیے اس کے ساتھ چلنا، مجھے مسجد نبوی میں ایک ماہ کے اعتکاف سے بھی زیادہ پسند ہے۔
اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورہ حشر میں انصار صحابہ کرامؓ کی تحسین فرمائی ہے۔ اس لیے کہ انہوں نے مہاجر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے لیے اپنے گھروں کے دروازوں کو کھول دیا تھا اور ان کے ساتھ ہر طرح کا ایثار کرنے پر آمادہ وتیار ہو گئے تھے۔ جب ہم احادیث کا مطالعہ کرتے ہیں تو زندگی کے تمام معاملوں میں خیر خواہی کے حوالے سے بیش قیمت معلومات حاصل ہوتی ہیں۔ اس حوالے سے چند اہم احادیث درج ذیل ہیں:
1۔صحیح بخاری میں حضرت جریر ؓبن عبداللہ سے روایت ہے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بات کی شہادت پر کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ اور نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ دینے اور (اپنے مقررہ امیر کی بات) سننے اور اس کی اطاعت کرنے پر اور ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کرنے کی بیعت کی تھی۔
2۔صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ''جب غلام اپنے آقا کی خیر خواہی کرے اور اپنے رب کی عبادت تمام حسن و خوبی کے ساتھ بجا لائے تو اسے دوگنا ثواب ملتا ہے‘‘۔
3۔صحیح مسلم میں حضرت تمیم داری ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: ''دین خیر خواہی کا نام ہے‘‘۔ ہم نے پوچھا: کس کی (خیر خواہی؟) آپﷺ نے فرمایا: ''اللہ کی، اس کی کتاب کی، اس کے رسول کی، مسلمانوں کے امیروں کی اور عام مسلمانوں کی (خیرخواہی)۔‘‘
4۔صحیح بخاری میں حضرت معقل بن یسار ؓسے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہﷺ سے سنا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا ''جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کو کسی رعیت کا حاکم بناتا ہے اور وہ خیر خواہی کے ساتھ اس کی حفاظت نہیں کرتا تو وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں پائے گا‘‘۔
5۔جامع ترمذی کی روایت ہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر رسول صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم نے فرمایا: سنو! عورتوں کے ساتھ خیر خواہی کرو۔ اس لیے کہ وہ تمہارے ماتحت ہیں۔ تم اس (صحبت اور اپنی عصمت اور اپنے مال کی امانت وغیرہ) کے علاوہ اور کچھ اختیار نہیں رکھتے (اور جب وہ اپنا فرض ادا کرتی ہوں تو پھر ان کے ساتھ بدسلوکی کا جواز کیا ہے) ہاں! اگر وہ کسی کھلی ہوئی بے حیائی کا ارتکاب کریں (تو پھر تمہیں انہیں سزا دینے کا اختیار ہے) پس اگر وہ ایسا کریں تو انہیں بستروں سے علیحدہ چھوڑ دو اور اگر انہیں ماروتو وہ اذیت ناک مار نہ ہو، اس کے بعد اگر وہ تمہاری مطیع ہو جائیں تو پھر انہیں سزا دینے کا کوئی اور بہانہ نہ تلاش کرو‘‘۔
6۔جامع ترمذی میں حضرت عبداللہؓ بن مسعودسے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ''اللہ اس شخص کو تروتازہ رکھے جو میری بات کو سنے اور توجہ سے سنے، اسے محفوظ رکھے اور دوسروں تک پہنچائے، کیونکہ بہت سے علم کی سمجھ رکھنے والے علم کو اس تک پہنچا دیتے ہیں جو ان سے زیادہ سوجھ بوجھ رکھتے ہیں۔ تین چیزیں ایسی ہیں جن کی وجہ سے ایک مسلمان کا دل دھوکا نہیں کھا سکتا، (۱) عمل خالص اللہ کے لیے (۲) مسلمانوں کے آئمہ کے ساتھ خیر خواہی (۳) اور مسلمانوں کی جماعت سے جڑ کر رہنا، کیونکہ دعوت ان کا چاروں طرف سے احاطہ کرتی ہے‘‘۔
7۔سنن نسائی میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''مومن کے مومن پر چھ حق ہیں: جب وہ بیمار ہو جائے تو اس کی بیمار پرسی کرے، جب وہ فوت ہو جائے تو (اس کے کفن، دفن اور جنازے میں) شریک ہو، جب وہ دعوت دے تواس کی دعوت قبول کرے، جب وہ اسے ملے تو سلام کہے، جب اسے چھینک آئے تو اسے دعا دے اور اس کی خیر خواہی کرے چاہے وہ غائب ہو یا موجود‘‘۔
مذکورہ بالا احادیث مبارکہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ مسلمانوں کو مسلمانوں اور اپنے اہل خانہ کے ساتھ خیر خواہی والا معاملہ کرنا چاہیے اور خود پسندی سے بچ کر دیگر لوگوں کے حقوق کو پورا کرنے کی جستجو کرنی چاہیے تاکہ معاشرے میں خیر اور فلاح کو عام کیا جا سکے اور معاشرے کو اخلاقی انحطاط سے بچایا جا سکے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کو خودغرضی سے بچا کے دوسروں کے ساتھ خیر خواہی والا معاملہ کرنے کی توفیق دے۔ آمین !

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved