تحریر : آصف عفان تاریخ اشاعت     08-03-2021

فصل تیار ہے !

یہ کیا تماشا ہے؟ اس خطے میں بسنے والوں کے نصیب میں ابھی اور کیا کچھ دیکھنا لکھا ہے؟ نسل در نسل رُلتے یہ بندے کہاں جائیں‘کہاں جاکر سر پھوڑیں‘ کس کے آگے دہائی دیں‘ کس سے فریاد کریں اور کس سے منصفی چاہیں؟ ان پر کیسے کیسے حکمران مسلط ہوئے ‘ جن کے بہروپ ہی ختم ہونے میں نہیں آتے۔ ایک چہرے پہ کتنے چہرے سجائے کس بے حسی سے ہر دور میں اللہ کی مخلوق کو کھلا دھوکہ دیتے چلے آرہے ہیں۔ ان کے نصیب کی سیاہی آخر کب ختم ہوگی؟ بابائے قوم کی روح بھی اس خطے میں جاری اس تماشے کو دیکھ کر مسلسل بے چین اور یقینا تڑپتی ہوگی۔ پون صدی ہونے کو آئی مگر بدقسمتی سے اس کے طول و عرض میں کوئی ایک مائی کا لعل نصیب نہیں ہو سکا جو بابائے قوم کی خاکِ پاکے برابر ہو۔ ایوانوں سے لے کر سرکاری دفاتر تک میں بابائے قوم کی آویزاں تصویر تلے حکمران ہوں یا افسر شاہی کے بابو‘ سبھی ان کے ویژن‘ ان کی تعلیمات‘ ان کے فرمودات اور طرزِ حکمرانی کے وہ سبھی سنہری اصول دھول کی طرح اُڑائے چلے جا رہے ہیں‘ جن پر عمل کرنے کی تلقین وہ کر کے گئے تھے۔
عین قیامِ پاکستان کے وقت سے بڑھ کر نازک موڑ اور کیا ہوگا؟ کیسے کیسے چیلنجز اور آزمائشیں بابائے قوم کو درپیش تھیں۔ مہاجرین کی آبادکاری سے لے کر روزگار کے انتظام و انصرام تک‘ انفراسٹرکچر سے لے کر استعدادِ کار تک‘ مالی مشکلات سے لے کر وسائل کی ناپیدی تک‘ اَن گنت کٹھن مرحلے قیامِ پاکستان کے وقت ملک و قوم کو درپیش رہے مگر قائد نے تو عوام سے ہرگز نہیں کہا کہ مجھے حالات کی نزاکت اور خرابی کا اندازہ نہ تھا کہ ایسی صورتحال سے نبردآزما ہونا پڑے گا جبکہ قائد کو اس سے قبل امور حکومت چلانے کا کوئی تجربہ بھی نہ تھالیکن انہوں نے مشکل حالات سے فرار اختیار کرنے کے لیے نہ کوئی جواز گھڑے اور نہ ہی کوئی توجیہات پیش کیں۔ انہوں نے اپنے انہی اقوال اور بیانیوں کا پاس رکھا جو وہ قیام پاکستان سے قبل بیان کیا کرتے تھے۔ ویژن‘ کردار اور نیت ہی بابائے قوم کی شخصیت کا خاصہ تھے۔ ان اوصاف کے بغیر بھلے کوئی روٹی کپڑا مکان کا نعرہ لگائے یاکوئی اقتصادی اصلاحات اور قرض اتارو ملک سنوارو سے لے کر ایٹمی دھماکوں کا چورن بیچنے کے علاوہ ووٹ کو عزت دلانے تک کے لیے کتنی ہی قلا بازیاں کھا کر کرتب دکھاتا رہے‘ سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ ہو یا جمہوریت بہترین انتقام کا ڈھکوسلہ‘ تبدیلی کا سونامی ہو یا سماجی انصاف اور کڑے احتساب کا بیانیہ‘ یہ سبھی شعبدہ بازیاں اور سیاسی سرکس کے آئٹمز کے سوا کچھ نہیں۔
یہ کیسا نازک موڑ ہے جو ختم ہونے میں نہیں آتا‘ یہ کیسی نحوست ہے‘ یہ کون سا آسیب ہے جو ہر دور میں نازک موڑ بن کر عوام کی سیاہ بختی میں اضافے کا باعث بنتا چلا آرہا ہے۔ ہر آنے والا حکمران عوام کو یہی نوید سناتا ہے کہ سابق حکمرانوں نے ملک کو تباہی سے دوچار کر ڈالا ہے اسی لیے ملک انتہائی نازک موڑ پر ہے۔ عوام سے وعدہ خلافیوں اور بد عہدیوں کے علاوہ اپنی بد ترین طرزِ حکمرانی کا ذمہ دار بھی سابق حکمرانوں ہی کو ٹھہراتے ہیں اور کہتے ہیں کہ حالات اس قدر ابتر ہو چکے تھے کہ اگر ہم برسر اقتدار نہ آتے تو عوام کو نجانے مزید کتنی بربادیوں کا سامنا کرنا پڑتا۔ بابائے قوم کے بعد سیاہ بختی کا شروع ہونے والا دور ختم ہونے میں نہیں آرہا۔ روزِ اول سے لمحۂ موجود تک عوام کو کیسے کیسے جھانسے اور کیسے کیسے دھوکے دے کر ان سبھی نے عوام کو کب نہیں لوٹا؟ خوشحالی اور مستقبل کے سہانے خوابوں کی ایسی بھیانک تعبیریں دکھائی ہیں کہ عوام اب خواب دیکھنے سے بھی ڈرتے ہیں۔
حصولِ اقتدار سے لے کر طولِ اقتدار تک یہ سماج سیوک نیتا کسی بھی حد تک جانے سے گریز نہیں کرتے۔ بھلے گراوٹ کے کتنے ہی ریکارڈ کیوں نہ توڑنے پڑیں‘ وہ بے دریغ توڑے چلے جاتے ہیں۔ اخبارات کا ڈھیر سامنے پڑا منہ چڑا رہا ہے کہ ہماری سرخیاں بھی وہی ہیں اور شہ سرخیاں بھی وہی‘ سماج سیوک نیتاؤں کے بیانات بھی وہی ہیں اور بلندبانگ دعوے بھی وہی‘ خبریں بھی وہی بُری ہیں‘ اداریوں اور کالموں میں گورننس اور عوام کی حالتِ زار کا ماتم بھی وہی‘چہروں اور کردار کی تبدیلیوں کے ساتھ آج بھی وہ سب کچھ ا سی طرح شائع ہو رہا ہے جو کئی دہائیوں سے شائع ہوتا چلا آرہاہے‘ صرف نام بدلتے ہیں یا مقام بدلتے ہیں‘ کبھی برسرِ اقتدار ہوتے ہیں تو کبھی اپوزیشن میں بیٹھ کر شعلہ بیانیاں کر کے عوام کے درد میں مرے جانے کا ڈھونگ رچاتے ہیں۔ غرض یہ کہ بدلتے چہرے ہوں یا بدلتے کردار‘ یہ حزبِ اقتدار میں ہوں یا حزب اختلاف میں‘ ان کی نیت کے اثرات سے عوام کسی دور میں محفوظ نہیں رہے۔
آج کا منظر نامہ ہی لیجئے... تبدیلی کا سونامی گمنامی کا اشتہار بن چکا ہے۔ یہ کیسی تبدیلی ہے کہ کچھ بھی تبدیل نہیں ہوا۔ بھاشن اور بیانیوں سے لے کر طرزِ حکمرانی تک سبھی کچھ تو مزید بگاڑ اور خرابیوں کے ساتھ اُسی طرح‘ جوں کا توں جاری ہے جیسے دہائیوں سے چلا آیا ہے۔ ایک دوسرے کو چور ثابت کرنے والے غداری کے الزامات لگانے سے بھی نہیں چوکتے۔ ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے سے لے کر زبان درازی تک‘ کردار کشی سے لے کر بہتان لگانے تک خود کو دودھ کا دھلا سمجھ کر مخالفین کو عوام دشمن اور سکیورٹی رسک قرار دینے والے سبھی سماج سیوک نیتا مفادات کے جھنڈے تلے یوں اکٹھے ہوتے ہیں گویا ان کے درمیان کبھی کوئی اختلاف تھا ہی نہیں۔ ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے ایک دوسرے پہ یوں واری واری جاتے ہیں جیسے رواداری اور خیر سگالی کے سارے میڈلز انہوں نے ہی جیت رکھے ہیں۔
حکمرانوں کی طرزِ حکمرانی ملکی وسائل کی بربادی سے لے کر اقربا پروری اور بندر بانٹ کو ہدف بنا کر تنقید کے نشتر برسانے والے آج برسرِ اقتدار آکر ماضی کے سبھی ادوار کی بدترین حکمرانی کے تمام ریکارڈز ریکارڈ مدت میں یوں توڑتے چلے آرہے ہیں گویا بہت جلدی میں ہوں یا ان کے پاس وقت کم ہو یا پھر آج کا کام کل پر چھوڑنے کے قائل نہ ہوں‘ یعنی جو خرابی آج اور ابھی کر سکتے ہیں وہ کل پر کیوں ڈالیں۔ برسرِ اقتدار ہو کر بھی سرکاری اداروں کو تنقید کا نشانہ بنانے سے باز نہیں آتے تو الیکشن کمیشن کو بے اختیار کہنا پڑتا ہے کہ ہمیں اپنا کام کرنے دیں۔
وزیراعظم عمران خان دو ووٹوں کے اضافے کے ساتھ ایوان کا اعتماد تو حاصل کر چکے ہیں لیکن شو آف ہینڈ کی وجہ سے واپس لوٹ آنے والے اپنے ہی ارکان پر نالاں ہونے کے ساتھ ساتھ بے بس بھی دکھائی دیتے ہیں۔ غصے اور پشیمانی میں لپٹی بے بسی ان کی جارحانہ شعلہ بیانیوں میں بخوبی دیکھی جاسکتی ہے۔ حالیہ تقریر میں یوں لگتا ہے کہ وہ ایوان میں نہیں بلکہ آج بھی کنٹینر پر کھڑے ہوں۔ پارلیمنٹ کے باہر لیگی رہنماؤں پر جوتا اچھالنے سے لے کر پٹائی اور دھکم پیل کے علاوہ مریم اورنگزیب کا گھیراؤ کرنے تک سبھی اقدامات بدحواسیوں کا کھلا اشارہ دیتے ہیں۔ انتخابی نتائج پر اثرانداز ہونے کے لیے ریاست کے استعمال سے لے کر سیاسی مخالفین پر عرصہ حیات تنگ کرنے کے تمام ہتھکنڈے اپنانے تک‘اپنی ناکامیوں اور نالائقیوں کا ذمہ دار سابق حکمرانوں کو ٹھہرانے سے لے کر اپنے دعووں‘ وعدوں اور ذمہ داریوں سے انحراف تک وہ سبھی کچھ مزید اضافوں کے ساتھ جاری رکھے ہوئے ہیں جن پر کبھی یہ خود تنقید کیا کرتے تھے۔ دو پارٹی نظام سے تنگ اور ستائے ہوئے عوام نے تیسری سیاسی قوت کو مینڈیٹ اس لیے دیا تھا کہ وہ برسرِ اقتدار آکر ماضی کے بھیانک مناظر جوں کے توں جاری رکھے؟ ایسے میں تو لگتا ہے کہ دوپارٹی نظام کی جو فصل کٹنے میں کئی دہائیاں لگی تھیں انصاف سرکار کی وہ فصل اقتدار کی نصف مدت میں ہی تیار ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved